Article

متنازعہ شہریت بل
مودی حکومت نے 2019 کے انتخابات کو ذہن میں رکھ کر جو اہم اقدامات کیے ہیں انھی میں ایک قدم متنازعہ شہریت بل کا لوک سبھا سے منظور کرا لینا بھی ہے۔ اسے اب راجیہ سبھا میں بھیجا جائے گا اور اگر وہاں بھی یہ منظور ہوگیا تو مذہب کی بنیاد پر تیار کیا گیا ایک انتہائی متنازعہ بل قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔ شہریت ترمیمی بل 2016 کا مقصد 1955 کے شہریت قانون کو کالعدم کرکے ایک نیا قانون نافذ کرنا ہے۔ اس نئے قانون کی رو سے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے ہندوستان آنے والے ہندوؤں، سکھوں، عیسائیوں، بودھوں، جینیوں اور پارسیوں کو یہاں کی شہریت مل جائے گی۔ ان کے پاس قانونی دستاویز ہوں یا نہ ہوں۔ بس شرط صرف اتنی ہے کہ وہ 2014 سے قبل یہاں آگئے ہوں۔ماہرین کے مطابق یہ قانون ہندوستان کے آئین کے منافی اور سیکولرزم کے خلاف ہے۔ آئین مذہب کی بنیاد پر کسی کو شہریت دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مذکورہ تینوں ملکوں میں اقلیتوں پر مظالم ہوتے ہیں اور چونکہ ان کے سامنے ہندوستان کے علاوہ کسی اور ملک میں جانے کا کوئی متبادل نہیں ہے اس لیے ہندوستان ان کو شہریت دے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک بہانہ ہے۔ حکومت کا مقصد ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانا ہے۔ ورنہ صرف انھی تینوں ملکوں کی اقلیتوں کو کیوں شہریت دی جا رہی ہے۔ سری لنکا، میانمار اور نیپال سے آنے والوں کو کیوں نہیں۔اگر اقلیتوں کو شہریت دینی ہے تو ان تینوں ملکوں کی اقلیتوں کو بھی دی جانی چاہیے۔ لیکن اگر ایسا کیا گیا تو روہنگیا مسلمانوں کو بھی شہریت دینی ہوگی۔ لہٰذا مسلمانوں کو اس سے الگ رکھا گیا ہے۔ حالانکہ اگر حقیقت پسندی کی نگاہ سے دیکھا جائے تو اس وقت روہنگیا دنیا کی سب سے زیادہ ستائی ہوئی اقلیت ہیں۔ خود اقوام متحدہ نے اس بات کو تسلیم کیا ہے اور میانمار میں ان کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے اس کے خلاف بطور احتجاج متعدد ملک آنگ سان سوچی کو دیئے گئے امن انعامات واپس لے رہے ہیں۔بی جے پی کے بعض لیڈروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ بل قانون نہیں بنا تو آسام میں پانچ سال کے اندر ہندو اقلیت میں آجائیں گے اور اگر قانون بن گیا تو مسلمانوں کو اکثریت میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے گا۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو 17 اسمبلی حلقوں کو متاثر کرنے کی طاقت مسلمانوں میں ہے اور اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو اے یو آئی ڈی ایف کے رہنما مولانا بدر الدین اجمل ریاست کے وزیر اعلیٰ بن جائیں گے۔ یہ ذہنیت اس بات کی چغلی کھا رہی ہے کہ ہندوستان کو ایک سیکولر ملک سے ایک ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس بل کے خلاف شمال مشرقی ریاستوں آسام، میزورم، میگھالیہ، تری پورہ اور ناگالینڈ میں زبردست احتجاج ہو رہا ہے۔ سب سے زیادہ آسام میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔ وہاں کے باشندوں کا کہنا ہے کہ اس سے ان کی نسلی شناخت ختم ہو جائے گی۔ خیال رہے کہ این آر سی میں چالیس لاکھ شہریوں کے نام کی عدم شمولیت سے بھی ایک ہنگامہ برپا ہے۔ ان تمام لوگوں کو غیر ملکی قرار دیا جا رہا ہے۔ عدالت نے اگر چہ اپنے ناموں کو رجسٹر کرنے کی تاریخ میں توسیع کی تھی لیکن یہ معاملہ اب بھی تشویشناک بنا ہوا ہے۔اس متنازعہ شہریت بل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے این ڈی اے کے ایک حلیف آسام گن پریشد نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ جبکہ میزورم میں میزو نیشنل فرنٹ، میگھالیہ میں این پی پی، تری پورہ میں پیپلز فرنٹ آف تری پورہ اور ناگالینڈ میں نیشنل ڈیموکریٹک پروگریسیو پارٹی نے بھی اس کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں بی جے پی کے ساتھ نہیں ہیں۔ ان ریاستوں میں سے کچھ میں بی جے پی برسراقتدار ہے اور کچھ میں اس کی حلیف جماعتیں اقتدار میں ہیں۔ہندوستانی آئین کے معماروں نے اس ملک کو ایک سیکولر ملک بنایا تھا۔ آئین کے مطابق ہندوستان میں ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تشہیر کرنے کا حق ہے۔ لیکن آر ایس ایس کے بانیوں اور دوسرے رہنماوں کا کہنا تھا کہ یہ ملک ہندو ملک ہے اور یہاں کے ہر شہری کو ہندو کہا جانا چاہیے۔ متعدد سنگھی رہنماوں کا خیال ہے کہ اس ملک سے مسلمانوں کو باہر کر دیا جانا چاہیے کیونکہ مذہب کی بنیاد پر پاکستان بنا تھا لہٰذا مسلمانوں کو وہاں جانا چاہیے۔ایسے لوگوں کو شاید یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ مسلمانوں کی اکثریت مذہب کی بنیاد پر تقسیم ملک کے خلاف تھی۔ جبکہ بہت سے ہندووں نے بھی تقسیم ملک کی حمایت کی تھی اور اس کی راہ ہموار کی تھی۔ مسلمانوں کی اکثریت قوم پرست رہی ہے اور اسی وجہ سے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد پاکستان منتقل نہیں ہوئی۔ انھوں نے ہندوستان ہی کو اپنا ملک سمجھا اور یہیں جینے مرنے کو ترجیح دی۔ لہٰذا یہ ملک جتنا دوسروں کا ہے اتنا ہی مسلمانوں کا بھی ہے۔ لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ یا تو مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کی بات کی جاتی ہے یا ان سے اپنی وفاداری ثابت کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ حالانکہ مسلمانوں نے دوسروں سے کہیں زیادہ اپنی وفاداری ثابت کی ہے اور بار بار کی ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو اب اپنی وفاداری ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔جہاں تک مذکورہ متنازعہ بل کا تعلق ہے تو حکومت نے اگر چہ اس کی بنیاد پر ہندوؤں کے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کا یہ داوالٹا بھی پڑ سکتا ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں میں اس بل کے خلاف جو غصہ اور ناراضگی ہے وہ بی جے پی کے تابوت میں ایک اور کیل ثابت ہو سکتی ہے۔ بی جے پی الیکشن جیتنے کے لیے ہڑبڑاہٹ میں جو مذہبی کارڈ کھیل رہی ہے وہ اسی کے گلے کی ہڈی بن جائے گی۔

Uqab News Paper

Enjoy this blog? Please spread the word :)

Follow by Email1k
Facebook
Facebook
Google+
http://dailyuqab.com/article">
Twitter
YouTube
LinkedIn