جموں اور پونچھ میں کرفیو نافذ 

دو درجن سے زیادہ گاڑیاں خاکستر ،متعدد گاڑیوں کی توڑ پھوڑ ،فورسز کی اضافی کمپنیاں تعینات ، فوج تیاری کی حالت میں ، صورتحال تشویشناک 
، صورتحال تشویشناک
جموں، 15 فروری (یو ا ین آئی) مندروں کا شہر کہلائے جانے والے جموں میں جمعہ کو ہجوم کے ہاتھوں مسلم آبادی والے گوجر نگر اور پریم نگر میں کم از کم دو درجن گاڑیاں جلادی گئیں، دیگر کئی درجن گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا اور متعدد رہائشی مکانات کے شیشے چکنا چور کردیے گئے۔ طرفین کے مابین پتھراؤ اور پولیس کاروائی میں قریب ایک درجن افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ انتظامیہ نے حالات کی سنگینی کے پیش نظر پورےضلع جموں میں کرفیو نافذ کردیا ہے۔ شہر میں سیکورٹی فورسز کی اضافی کمپنیوں کی تعیناتی کے علاوہ فوج کو تیار حالت میں رہنے کے لئے کہا گیا ہے۔ شہر میں گاڑیوں پر نصب لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے کرفیو کا اعلان کیا گیا۔ ہجومی تشدد کے یہ واقعات جمعہ کو اُس وقت پیش آئے جب جموں شہر میں ہلاکت خیز پلوامہ خودکش حملے کے خلاف ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کئے جارہے تھے۔ دریں اثنا ضلع پونچھ کے اعلیٰ پیر علاقہ میں بھی ہجوم کے ہاتھوں متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس کے علاوہ کئی رہائشی مکانات کے شیشے چکنا چور کئے گئے۔ تاہم اس سے پہلے کہ حملہ آوروں کا یہ گروپ ایک مخصوص طبقے کی دکانوں پر دھاوا بولتا ریاستی پولیس نے آنسو گیس کے گولوں کا استعمال کرکے صورتحال پر قابو پالیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق جموں شہر میں احتجاجی مظاہرین کے ایک گروپ جس میں سخت گیر ہندو تنظیموں سے وابستہ افراد کی ایک بڑی تعداد شامل تھی، نے مسلم آبادی والے گوجر نگر اور پریم نگر پر دھاوا بول دیا۔ اس مشتعل ہجوم نے سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں کو آگ لگانا شروع کردیا اور رہائشی مکانات کو پتھروں سے نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق ہجوم نے کم از کم دو درجن گاڑیوں کو آگ لگادی، کئی درجن دیگر گاڑیوں کو لاٹھیوں، لوہے کی راڈوں اور پتھروں سے شدید نقصان پہنچایا۔ اس کے علاوہ کئی رہائشی مکانات کے شیشے چکنا چور کردیے۔ ہجومی تشدد کی اطلاع ملتے ہی ریاستی پولیس کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور بلوائیوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغے۔ ہجومی تشدد کے اس واقعہ میں قریب ایک درجن افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ریاستی پولیس نے ہجومی تشدد کے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں کی جانب سے 15 سے 20 گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ علاقہ میں بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی نفری تعینات کرکے صورتحال پر قابو پالیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ طرفین (حملہ آوروں اور مقامی لوگوں) کے درمیان پتھراؤ کے بعد پولیس کو آنسو گیس کے گولوں کا استعمال کرنا پڑا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آئی جی پی جموں ایم کے سنہا بذات خود جائے وقوع پر پہنچ گئے اور صورتحال پر قابو پانے تک وہیں موجود رہے۔ حملہ آوروں کا الزام ہے کہ شہر میں احتجاجی مارچ کے دوران ان پر پتھراؤ کیا گیا، تاہم متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے کوئی اشتعال انگیز کاروائی نہیں کی گئی۔ متاثرین نے بتایا کہ ہجوم نے بغیر کسی اشتعال کے گاڑیوں کو آگ لگانا شروع کردیا اور مکانوں کی توڑ پھوڑ شروع کردی۔ ضلع مجسٹریٹ جموں رمیش کمار نے پورے جموں شہر میں کرفیو نافذ کرنے کے باضابطہ احکامات جاری کردیے ہیں۔ اس حوالے سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کرفیو کا نفاذ موجودہ لاء اینڈ آڈر صورتحال اور آتشزنی، گاڑیوں پر حملوں، جان و مال کے نقصان کے خدشے کے پیش نظر عمل میں لایا گیا ہے۔ شہر میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو معطل کی گئی تھیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق جمعہ کو ہڑتال کے دوران مختلف جماعتوں بشمول بی جے پی، وی ایچ پی، راشٹریہ بجرنگ دل اور آر ایس ایس سے وابستہ کارکن جموں شہر کی سڑکوں پر نکل آئے اور پلوامہ حملے کے خلاف احتجاج کرنے لگے۔ احتجاجیوں نے اپنے ہاتھوں میں ترنگے اٹھا رکھے تھے۔ دریں اثنا جموں کے جانی پور ہاؤسنگ کالونی میں رہائش پذیر کشمیریوں نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں کیونکہ مشتعل ہجوم ان کے مکانوں پر پتھراؤ کررہے ہیں۔ وادی کے ایک انگریزی روز نامے کو جانی پور میں رہائش پذیر ایک خوف زدہ کشمیری نے اپنی روداد بیان کرتے ہوئے کہا ‘ہم یہاں بچوں، خواتین اور عمر رسیدہ افراد خانہ کے ہمراہ ٹھہرے ہیں لیکن مشتعل ہجوم کی طرف سے ہماری رہائش گاہوں پر پتھراؤ کی وجہ سے ہم خوف زدہ ہیں، ہماری زندگیاں خطرے میں ہیں۔ اگر پولیس ہمیں تحفظ فراہم نہیں کرسکتی تو وہ ہمیں اپنے گھر روانہ کریں’۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہماری حفاظت کے لئے مامور کی گئی پولیس کہیں نظر نہیں آرہی ہے۔ پلوامہ خودکش حملے کے خلاف جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے جمعہ کو ’جموں بندھ‘ کی کال دی تھی۔ مختلف تنظیموں بشمول بار ایسوسی ایشن جموں، ٹرانسپورٹروں، ٹیم جموں، پنتھرس پارٹی اور نیشنل کانفرنس نے اس ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ جموں شہر میں جمعہ کو دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر معطل رہی۔ ہڑتال کے دوران مختلف تنظیموں کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے اور پاکستان کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرے کئے۔ مظاہرین کو یہ نعرے لگاتے ہوئے سنا گیا : ’دیش کے غداروں کو گولی مارو ۔۔۔۔۔کو، پاکستان ہائے ہائے، پاکستان مردہ باد، بھارت ماتا کی جے، انڈین آرمی زندہ باد، خون کا بدلہ خون سے لیں گے‘۔ احتجاجیوں نے شہر میں جگہ جگہ گاڑیوں کے ٹائر جلا رکھے تھے جبکہ کئی مقامات پر پاکستان کے پتلے پھونکے گئے۔ جموں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جموں کی تمام عدالتوں بشمول ہائی کورٹ میں عدالتی کام کاج معطل رکھا گیا۔ وکلاء کی جانب سے ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی۔ بی جے پی سے وابستہ کارکنوں جن کی قیادت ریاستی صدر رویندر رینہ کررہے ہیں، نے مصروف ترین توی دریا پر بنے پل پر بیٹھ کر دھرنا دیا۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر کویندر گپتا نے اس موقع پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ ایک فوجی کے بدلے دس کو مارا جائے گا۔ انہوں نے کہا ’ایک کے بدلے دس کو مارا جائے گا یہ طے ہے۔ جو ہوا بہت برا ہوا۔ اس کا بدلہ لیا جائے گا۔ پورا دیش فوجی جوانوں کے ساتھ ہے‘۔ سویم پنڈو نامی ایک احتجاجی نے پاکستان کے ساتھ جنگ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ’مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ پاکستان کے ساتھ جنگ شروع کی جائے۔ بہت بات چیت ہوگئی۔ ہم سب قوم پرست ہیں۔ ہمارا یہ احتجاج صرف پاکستان کے خلاف نہیں ہے، بلکہ دیش میں رہنے والے ان غداروں کے خلاف بھی ہے، جو سوشل میڈیا پر بھارت کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ کل وہاں (کشمیر میں) خوشیاں منائی گئیں۔ ہم ان غداروں کے خلا ف احتجاج کررہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا ’کشمیری کھاتے بھارت کا ہے لیکن پاکستان کے گیت گاتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کا نام و نشان مٹا دیا جائے۔ کشمیر میں تمام اینٹی نیشنلز پر پی ایس اے عائد کیا جائے‘۔ واضح رہے کہ لیتہ پورہ پلوامہ میں جمعرات کو ایک ہلاکت خیز خودکش آئی ای ڈی دھماکے میں قریب 50 سی آر پی ایف اہلکار ہلاک جبکہ قریب ایک درجن دیگر زخمی ہوگئے۔ یہ وادی میں 1990 کی دہائی میں شروع ہوئی مسلح شورش کے دوران اپنی نوعیت کا سب سے بڑاخودکش حملہ ہے۔ جنگجوؤں کی جانب سے یہ تباہ کن خودکش دھماکہ ایک کار کے ذریعے کیا گیا۔ پاکستانی جنگجو تنظیم جیش محمد نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ یو این آئی 

Please follow and like us:
1000

آئی ایس آئی تنخواہ داروں کی سیکورٹی واپس لی جائے ؍راجناتھ 

فورسز کانوائے کے وقت سویلین گاڑیوں کی نقل وحرکت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ
فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو زک پہنچانے والوں کیخلاف کاروائی کا بھی کیااعلان 
سرینگر؍فورسز کانوائے کے دوران سویلین گاڑیوں کی نقل وحرکت پر پابندی کا بگل بجاتے ہوئے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے گورنر انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ ریاست میں موجود سرحد پار سے رقومات حاصل کرنے والے عناصر کی سیکورٹی واپس لی جائے ۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ پلوامہ فدائین حملے کے تناظر میں جموں وکشمیر سمیت ملک میں فرقہ وارانہ فسادات اور امن وامان بگاڑنے والوں کیخلاف انتظامیہ کو سخت کاروائی عمل میں لانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں ۔وزیر داخلہ نے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہاکہ سیکورٹی ایجنسیوں کا مورال بلند ہے اور پورا ملک مہلوک فوجیوں کے متاثرین کے ساتھ ہے اور عالمی برداری بھی ہمارے ساتھ اس جنگ(بقیہ نمبر4)
میں کھڑی ہے ۔الفا نیوز سروس کے مطابق پلوامہ حملے میں مارے گئے فورسز اہلکاروں کی فورسز اہلکاروں کو شردانجلی پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے خود ان فورسز اہلکاروں کی نعشوں کوکاندھا دیا جس کے بعد انہیں اپنے آبائی علاقوں کو روانہ کر دیا گیا ہے ۔ چنانچہ ہمہامہ میں منعقد ہ اس تقریب میں مارے گئے فورسز اہلکاروں کو ڈائریکٹر جنرل سی آر پی ایف اور ڈائریکٹر جنرل پولیس اور انتظامیہ وسیکورٹی کے افسران کی موجودگی میں راجناتھ سنگھ نے نم آنکھوں سے انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا جس کے بعدگورنر ستیہ پال ملک کی موجودگی میں انتظامیہ ،سیکورٹی ایجنسیوں ،فوجی افسران کیساتھ راجناتھ سنگھ نے اہم ترین سیکورٹی میٹنگ منعقد کی جس میں اس حملے کے بعد پیداشدہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا جس کے بعد راجناتھ سنگھ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اس حملے اور بعدمیں پیش آنے والے حالات پر بات کرتے ہوئے خبردار کیا کہ سرحد پار سے کشمیر کے اندر امن خراب کرنے کی کوششیں ماضی میں ہوتی رہی ہیں اور آج بھی سرحد پار سے جموں وکشمیر کے اندر دہش گردی پھیلانے والی طاقتیں موجود ہیں اور لیکن ان کے عزائم کو کسی بھی قیمت پر کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا ۔انہوں نے کہاکہ اس حملے کے محرکات چاہئے کچھ بھی ہو لیکن سیکورٹی فورسز اہلکاروں کامورال بلند ہے ۔انہوں نے مزید کہاکہ اس سلسلے میں انہوں نے ذاتی طور پر ایک سیکورٹی کی میٹنگ طلب کی جس میں گورنر ستیہ پال ملک کے علاوہ چیف سیکریڑی ، گورنر کے مشیر اور دیگر پولیس اعلیٰ افسران بھی موجود تھے ، مرکزی وزیر داخلہ نے اس بات کاانکشاف کیا ہے کہ ریاست میں ایسے عناصر موجود ہیں جو کہ سرحد پار سے فنڈنگ حاصل کر رہے ہیں اور رقومات حاصل کرکے یہاں امن وامان کو بگاڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ پاکستان سے رقومات حاصل کرنے والوں کی سیکورٹی واپس لینے کی ایجنسیوں اور انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے ۔ الفا نیوز سروس کے مطابق انہوں نے کہاکہ اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ پاکستان کی آئی ایس آئی کشمیر کے اندر کچھ عناصر کیساتھ ملی بھگت کر رہے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف گہری سازشوں میں یہ لوگ ملوث رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میری جموں وکشمیر کے عوام سے گذارش ہے کہ وہ ایسے عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں کیونکہ ایسے لوگ جموں وکشمیر کے عوام کیساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں اور ایسے میں نوجوانوں کیساتھ بھی وہ کھلواڑ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی طاقتوں کو کمزور کرنے کا وقت آگیا ہے جو کہ پاکستان سے رقومات حاصل کرکے یہاں دہشت گردی پھیلانے کی کوششوں میں ملوث ہیں۔ راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کے پاکستان اور اس کی آئی ایس آئی سے مراسم پائے جائیں گے ان کی سیکورٹی کو واپس لیا جائیگا اور انتظامیہ کو اس سلسلے میں احکامات دیئے گئے ہیں۔راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ سیکورٹی کی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ فورسز کی کانوائے کے گذر کے موقعے پر سویلین گاڑیوں کو چلنے کی اجازت نہیں ہوگی ،انہوں نے عوام سے کہا کہ اس سے ہمارے عوام کو کسی حد تک مشکلات ضرور ہونگی لیکن احتیاطی اور سیکورٹی نکتہ نگاہ سے ایسا کرنا لازمی بن گیا ہے لہذا وہ بھی اس سلسلے میں سیکورٹی ایجنسیوں سے تعاون کریں تاکہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں ۔ راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ جس روٹ پر کانوائے چلے گی اس وقت عام لوگوں یا سویلین گاڑیوں کے چلنے یا نقل وحرکت پر پابندی عائد رہیگی ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے لوگوں کو کچھ وقت کیلئے مشکلات ہونگے لیکن اس معاملے پر تعاون ضروری ہے ۔ راجناتھ سنگھ نے جموں میں پیش آنے والے واقعات اور کرفیو کے نفاذ کے حوالے سے خبردار کیا کہ اس موقعے پر جب پورا ملک سوگ میں ڈوب گیا ہے اس میں روایتی بھائی چارے کو نقصان پہنچانے والوں کیخلاف سخت کاروائی کی ہدایات دی گئی ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ اس نازک مرحلے پر بھی کچھ عناصر ریاست میں آپسی بھائی چارے اور ملک میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے کی کوشش کریں گے ان کیخلاف سختی سے پیش آیا جائیگا کیونکہ جموں وکشمیر سمیت پورے ملک میں کسی بھی طور پر آپسی بھائی چارے کو زک پہنچانے کی کسی بھی وقت کو ناکام بنایا جائیگا ۔انہوں نے ریاستی عوام سے امن شانتی بنائے رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت ہمیں آپسی بھائی چارے کی جھلک کو یقینی بنانا ہوگا ۔ دہشت گردی کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ ہم دہشت گردی کوجڑ سے اکھاڑنے میں کامیاب ہونگے اور پورا دیش اس میں ہمارے ساتھ ۔انہوں نے کہاکہ میں جموں وکشمیر کے عوام کویقین دلاتا ہوں کہ سرحد پار سے جو طاقت ریاست میں دہشت گردی پھیلانے کے عزائم رکھتے ہیں ان کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا ۔ الفا نیوز سروس کے مطابق آئی ایس آئی اور علیحدگی پسند طاقتیں سرحد پار ہیں ان کیساتھ کچھ عناصر یہاں بھی شامل ہیں۔ ایسے لوگ عوام کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے بلکہ وہ جموں وکشمیر کے نوجوانوں کے بھروسے کیساتھ بھی کھلواڑ کر رہے ہیں۔میں یہ بھی کہنا چاہوں گا ،پاکستان اور آئی ایس آئی سے پیسہ لینے والے بھی عناصر موجود ہیں ۔ایسے لوگ جو پاکستان سے پیسہ لیتے ہیں آئی ایس آئی سے منسلک ہیں ان کی سیکورٹی واپس لی جائے ۔ میں پورے دیش کی جنتا سے اپیل کرتا ہوں ایسے عناصر بھی ہیں جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو توڑنے کی کوشش کریں گے ۔لیکن ایسے جب بھی حادثات پیش آتے ہیں تو پورا ملک چاہئے وہ کسی بھی فرقہ سے ہوں وہ ایک جٹ ہو کر اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کیخلاف پورا ملک ایک ہے اور ایسے میں عالمی برداری بھی ہمارے ساتھ ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی اس سانحے میں پوری عالمی برادری ہمارے ساتھ ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ لیتہ پورہ فدائین حملے کی تحقیقات عمل میں لائی جارہی ہے اور این اائی اے کی ٹیم اس سلسلے میں اپنی تحقیقات شروع کر چکی ہے ۔

Please follow and like us:
1000

پاکستان بھارت کو تباہ کرنیکاخواب دیکھنا چھوڑ دے ؍ وزیراعظم 

ہمارے پڑوسی نے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ یقیناًاسکوتباہی کی طرف لے جائے گا
سرینگر؍وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کو تباہ کرنے کا خواب دیکھنا چھوڑ دے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اگر یہ سوچتا ہے کہ وہ انڈیا کو بدحال کر سکتا ہے تو اس کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہو گا۔انھوں نے کہا کہ ’پاکستان انڈیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے جس طرح کی سازشیں کرتا رہتا ہے وہ سوچتا ہے کہ وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہو جائیگا۔ وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔‘انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سیکورٹی فورسز پر جمعرات کے روز دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ جنھوں نے اس حملے کا ارتکاب کیا ہے انہیں اس کی بھاری قیمت ادا کرنی ہو گی۔ سیکوریٹی فورسز کو اپنا کام کرنے کی پوری آزادی دی گئی ہے۔انھوں نے دلی میں ایک تقریب میں حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہمارے پڑوسی نے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ یقیناً تباہی کی طرف لے جائے گا۔ ہم نے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ ترقی کا راستہ ہے۔ ترقی کے راستے کو اور مضبوط کر کے ہم ان جوانوں کی روح کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔انھوں نے دنیا کی تمام ’انسانیت پسند طاقتوں‘ سے اپیل کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متحد ہو جائیں جب سبھی ممالک مفاہمت کے ساتھ دہشت گردی کا قلع قمع کریں گے تبھی اس کا خاتمہ ہو پائیگا۔یاد رہے کہ جمعرات کو کشمیر میں تعینات پیرا ملٹری پولیس اہلکاروں پر ہونے والے حملے میں کم ازکم ۴۴ اہلکار ہلاک ہو گئے۔۱۹۸۹ کے بعد فورسز پر کشمیر میں ہونے والا یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔ اس حملے پر پورا ملک سکتے میں ہے۔وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں قومی سلامتی سے متعلق کابینہ کی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر داخلہ، وزیر دفاع، وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیرکے علاوہ تینوں افواج کے سربراہان نے شرکت کی۔وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں قومی سلامتی سے متعلق کابینہ کی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر داخلہ، وزیر دفاع، وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیرکے علاوہ تینوں افواج کے سربراہان نے شرکت کی۔وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے ایک میٹنگ کے بعد کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ہر ممکن سفارتی اور اقتصادی دباؤ بنایا جائے گا۔ارون جیٹلی کا کہنا تھا کہ بھارت وہ تمام ممکنہ سفارتی اقدامات کرے گا جن کے تحت پاکستان کو بین الاقوامی برادری سے الگ کیا جا سکے۔انھوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کو بھارت کی جانب سے دیا گیا موسٹ فیورڈ نیشن کا تجارتی درجہ واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں نے کل کے بہیمانہ حملے کا ارتکاب کیا ہے اور جو لوگ اس کے پیچھے ہیں انہیں اس حملے کی بھاری قیمت ادا کرنی ہو گی‘ اس میں کشمیر کی صورتحال اور مستقبل کی عسکری اور سفارتی حکمت عملی پر غور کیا گیا ہے۔

Please follow and like us:
1000

سرحدوں پر زبردست کشیدگی 

دونوں اطراف سے فوجی جماو میں اضافہ
جانبین نیجنگ کیلئے استعمال ہونیوالے سازو سامان کو سرحدوں پر روانہ کیا
سرینگر؍لیتہ پورہ حملے کے بعد حد متارکہ اور بین الاقوامی کنٹرول لائن پر سخت کشیدگی پائی جارہی ہے اور دونوں ملکوں کے افواج ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال رہے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول سے متصل فوجی ہوائی اڈے کو پاکستان نے فعال کیا جبکہ وہاں ایف 16طیاروں کو تیاری کی حالت میں رکھا گیا ہے۔ ادھر بھارت کی مرکزی حکومت نے لائن آف کنٹرول کی اور آرٹیلری کو روانہ کیا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ امکانی سرجیل اسٹرائیک کو مد نظر رکھتے ہوئے سرحدوں پر اضافی اہلکاروں کو بھیج دیا گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق لیتہپورہ میں ہوئے فدائین حملے کے بعد پاک بھارت افواج کے درمیان سرحدوں پر زبردست کشیدگی پائی جارہی ہے۔ نمائندے نے بتایا کہ لائن آف کنٹرول اور حد متارکہ پر دونوں اطراف سے فوجی جماو میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ لڑائی کے دوران استعمال ہونے والے اسلحہ وگولہ بارود کو بھی سرحدوں پر پہنچادیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سرحدی ضلع کپواڑہ میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک تعینات اہلکاروں کو مستعد رہنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں جبکہ اضافی اہلکاروں کو بھی سرحد کی اور روانہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نپٹا جاسکے۔معلوم ہوا ہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں پاکستان کی وفاقی حکومت نے فوجی ہوائی اڈے کو فعال کیا ہے اور وہاں پر ایف 16لڑاکا طیاروں کو تیاری کی حالت میں رکھا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے فوجی چیف کی سربراہی میں روالپنڈی میں تینوں فوجیوں کے سربراہان کی ایک ہنگامی میٹنگ منعقد ہوئی جس دوران کسی بھی حملے کو ناکام بنانے کیلئے فوج کو چوبیس گھنٹے متحرک رہنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ 

Please follow and like us:
1000