سرزمین کشمیرپرتشددکالامتناعی سلسلہ:6برسوں میں1300سے زیادہ جانیں تلف

امسال ابتک200سے زیادہ جنگجوجاں بحق،2013سے اب تک300سے زیادہ اہلکاراورتقریباً150شہری بھی ازجان
سرینگر؍کشمیروادی میں سال2016سے ملی ٹنسی کی وارداتوں اوردیگرپُرتشددواقعات میں تیزی کیساتھ اضافہ درج کئے جانے کے بیچ سال2017میں 213عساکرکے ازجان ہونے کے بعدرواں سال یعنی2018میں ابتک9کمانڈروں سمیت200سرگرم جنگجوجاں بحق ہوچکے ہیں ۔کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کے پاس دستیاب اعدادوشمارکے مطابق سال2013سے 13نومبر2018تک کشمیروادی کے مختلف علاقوں میں ہوئی خونین معرکہ آرائیوں ،انکاؤنٹرمخالف مظاہروں ،دراندازی کی کوششوں اوردیگرپُرتشددواقعات کے دوران 1300سے زیادہ مقامی وغیرمقامی سرگرم جنگجو،سیکورٹی ایجنسیوں کے افسرواہلکاراورعام شہری مارے گئے ۔اس دوران سال2017کی طرح ہی امسال بھی جنگجوگروپوں کوکافی نقصان اُٹھاناپڑاکیونکہ 9سینئرواعلیٰ تعلیم یافتہ کمانڈرو ں سمیت200سرگرم عسکریت پسندامسال ابتک جاں بحق ہوگئے ۔سیکورٹی ذرائع نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ منگل کے روزشمالی کشمیرکے کیرن سیکٹرمیں دراندازی کی ایک ناکام کوشش کے دوران2جنگجومارے گئے ،اوراس طرح سے رواں سال ابتک جاں بحق ہونے والے جنگجوؤں کی تعداد200تک پہنچ گئی ۔ذرائع کاکہناتھاکہ رواں برس لشکرطیبہ ،حزب المجاہدین اورجیش محمدسمیت سبھی جنگجوتنظیموں کوکئی سینئر اوراعلیٰتعلیم یافتہ کمانڈروں سے محروم ہوناپڑا۔انہوں نے کہاکہ رواں برس 9جنگجوکمانڈرخونین معرکہ آرائیوں کے دوران مارے گئے ،جن میں ابومتین ،ابوحماس،سمیرٹائیگر،صدام پڈر،ابوقاسم،ابومعاویہ ،منان وانی ،معراج الدین بنگرؤاورسبزاراحمدصوفی بھی شامل ہے۔ذرائع نے بتایاکہ امسال13نومبرتک جو200جنگجومارے گئے ،اُن میں سے109جنگجوجنوبی کشمیراور45سرگرم جنگجوشمالی کشمیرمیں جھڑپوں کے دوران ازجان ہوگئے ۔انہوں نے کہاکہ وسطی کشمیرکے ساتھ ساتھ لائن آف کنٹرول کے نزدیک ہوئی جھڑپوں کے دوران بھی متعددجنگجومارے گئے ۔ذرائع نے بتایاکہ سال2018کے دوران50سرگرم جنگجوؤں کوگرفتارکیاگیاجبکہ5مقامی جنگجوؤں نے خودسپردگی کی ۔سیکورٹی ذرائع نے بتایاکہ ابھی بھی کئی جنگجوکمانڈرسرگرم ہیں جن میں ذاکرموسیٰ،ریاض نائیکو،زینت الاسلام اورنویدجاٹ شامل ہیں ،اوراُن کی تلاش جاری رکھی گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق یہ سبھی جنگجوکمانڈرA+اورA++کیٹگری میں رکھے گئے ہیں ۔اس دوران سیکورٹی ذرائع نے گزشتہ 5برسوں کے دوران خونین معرکہ آرائیوں ،دراندازی کی کوششوں اوردیگرپُرتشددواقعات کے دوران ہوئی ہلاکتوں کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایاکہ سال2017کے دوران333جانیں تلف ہوئیں جن میں213جنگجو،80سیکورٹی افسرواہلکاراور40عام شہری بھی شامل ہیں جبکہ اس دوران سال2017میں ملی ٹنسی سے جڑی 342وارداتیں رونماہوئیں ۔ذرائع کامزیدکہناتھاکہ سال2016بھی سیکورٹی ایجنسیوں کیلئے کامیاب ثابت ہواکیونکہ اُس برس 150سرگرم جنگجومارے گئے جبکہ اس دوران82سیکورٹی اہلکاراور15عام شہری بھی اپنی جانیں گنوابیٹھے ۔ذرائع کے مطابق سال2016میں کل247جانیں تلف ہوئیں جبکہ اُس سال ملی ٹنسی سے جڑے 322واقعات پیش آئے ۔خیال رہے سال2016میں 8جولائی کوحزب کمانڈربرہان وانی کے ایک جھڑپ کے دوران ایک ساتھی سمیت جاں بحق ہوجانے کے بعدبپاہوئی گرمائی ایجی ٹیشن کے دوران ہوئے پُرتشددمظاہروں کے دوران90عام شہری اور2سیکورٹی اہلکاربھی ازجان ہوگئے تھے۔ذرائع نے بتایاکہ سال2015میں ملی ٹنسی سے جڑی2018وارداتیں رونماہوئیں اوراُس سال108جنگجو،39فورسزاہلکاروافسراور17عام شہری تشددکی بینٹ چڑھ گئے جبکہ سال2014کے دوران تشددیاملی ٹنسی سے جڑی222وارداتیں رونماہوئیں اوران وارداتوں کے دوران کل185جانیں تلف ہوئیں جن میں 110جنگجو،سیکورٹی ایجنسیوں کے47افسرواہلکاراور28عام شہری بھی شامل ہیں ۔ سیکورٹی ذرائع کامزیدکہناتھاکہ سال2013میں بھی 170پُرتشددواقعات رونماہوئے ۔ذرائع کے مطابق سال2013میں ملی ٹنسی سے جڑی وارداتوں اوردیگرپُرتشددواقعات کے دوران135افرادازجان ہوئے ،جن میں 15عام شہری،53سیکورٹی اہلکاراور67جنگجوشامل ہیں ۔ذرائع نے بتایاکہ رواں برس خونین معرکہ آرائیوں اوردراندازی کی کوششوں کے دوران200جنگجوؤں کے علاوہ متعددسیکورٹی اہلکاربھی مارے گئے جبکہ انکاؤنٹرمخالف مظاہروں اوردیگرواقعات کے دوران کئی عام شہری بھی اپنی جانیں گنوابیٹھے ۔ذرائع نے بتایاکہ سال2013سے اکتوبر2018تک1300سے زیادہ افرادمارے جاچکے ہیں ،جن میں 850کے لگ بھگ جنگجو،300سے زیادہ فوجی ،فورسزوپولیس اہلکاراور150کے لگ بھگ عام شہری بھی شامل ہیں ۔

Please follow and like us:
1000

وادی میں بارشیں اور برفباری ،درجہ حرارت میں گراوٹ 

سیاحتی مقام گلمرگ میں 3.5فٹ برف ریکارڑ،معمولات زندگی میں خلل
سرینگر؍ٹنل کے آر پار موسمی تبدیلی کے بیچ پہاڑی و نشیبی علاقوں میں کئیں ہلکی برف باری تو کہیں بارشیں ہوئیں جس کے نتیجے میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ادھر سیاحتی مقام گلمرگ میں 3.5فٹ برف باری ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے میں یہاں بیرون ممالک سے آئے ہوئے سیاحوں سے مسرت کا اظہار کیا ہے۔ ادھر محکمہ موسمیات میں جمعرات تک موسم میں کسی بھی تبدیلی کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے بتایا کہ جمعہ سے موسمی حالات میں کمی آنے کا امکان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست جموں وکشمیر میں یکم اکتوبر سے 7نومبر تک 83.5ملی میٹر بارشیں ریکارڈ کی گئیں جو کہ معمول کی بارشوں کے مطابق کہی زیادہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے بتایا کہ گزشتہ رات سرینگر میں درجہ حرارت 5.2، پہلگام 1.3اور سیاحتی مقام گلمرگ میںمنفی 3ریکارڈ کیا گیا۔ ادھر میدانی علاقوں میں بارشوں کی وجہ سے سڑکیں ندی نالوں میں تبدیل ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں کو چلنے پھرنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق ٹنل کے آر پار بدھوار کو موسمی حالات نے کروٹ لی جس کے نتیجے میں پہاڑی علاقوں میں کہیں کہیں ہلکی برف باری ہوئی جبکہ میدانوں علاقوں میں دن بھر وقفے وقفے سے بارشیں ہوتی رہیں جس کے نتیجے میں وادی کے سبھی اضلاع میں درجہ حرات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ جواہر ٹنل کے آر پار پہاڑی علاقوں میں ہلکی برف باری اور میدانی علاقوں میں متواتر بارشوں کے نتیجے میں سرنگر جموں شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت مسدود ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں یہاں سینکڑوں مسافر گاڑیوں کے علاوہ سینکڑوں مال بردار گاڑیوں درماندہ ہوکر رہ گئی ہیں۔ سادھنا ٹاپ، فرکیاں گلی کے اُوپری حصے میں بھی ہلکی برف باری ہوئی ہے جس دوران یہاں گاڑیوں کی آوا جاہی میں خلل واقع ہوا کیوں کہ برف باری اور مسلسل بارشوں کے نتیجے میں یہاں شاہراہ پر پھسلن پیدا ہوئی ہے۔اس دوران محکمہ موسمیات نے جموں، کشمیر اور لداخ کے کئی بالائی و میدانی علاقوں میں کہیں ہلکی برف باری تو کہیں تیز بارشوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جمعرات تک موسم میں کسی بھی تبدیلی کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آنے والے جمعہ سے موسمی حالات میں تبدیلی واقع ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں یکم اکتوبر سے 7نومبر تک 83.5ملی میٹر بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں جو کہ معمول کی بارشوں کے مقابلے میں کہی زیادہ ہے۔ محکمہ کے ڈائریکٹر سونم لوٹس نے کشمیر نیوز سروس کو بتایا کہ جمعرات کی شام سے موسم میں واضح تبدیلی آنے کے قوی امکان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جمعرات تک بالائی علاقوں کے ساتھ ساتھ چند میدانی علاقوں میں بھی ہلکی برف باری کا امکان ہے البتہ اس کے واقع ہونے میں بہت کم امیدیں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس دوران ریاست میں مطلع ابرآلود رہے گا جبکہ جمعرات کی شام تک کہیں کہیں مطلع صاف بھی ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ یکم اکتوبر سے 7نومبر تک 83.5ملی میٹر بارشیں ریکارڈ کی گئیں جو کہ معمول کی بارشوں4736ملی میٹر سے کہی زیادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات سرینگر میں درجہ حرات 5.2ریکارڈ کیا گیا جبکہ سیاحتی مقامات پہلگام اور گلمرگ میں بالترتیب 1.3اور منفی3ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ صوبہ لداخ کے کرگل ضلع میں گزشتہ رات انتہائی سرد ترین رات ریکارڈ کی گئی جس دوران یہاں منفی 7ڈگری سلیشن درحہ حرارت ریکارڈ ہوا۔اسی طرح لیہہ ضلع میں بھی منفی 1.4ڈگری درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جموں میں گزشتہ رات 15.2، کٹرا 11.7، بٹوٹ 7.4،بانہال 0.5 اور بھدرواہ 4.2ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ادھر سیاحتی مقام گلمرگ میں 3.5فٹ برف باری ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے میں یہاں بیرون ممالک سے آئے ہوئے سیاحوں سے مسرت کا اظہار کیا ہے۔نمائندے کے مطابق سیاحتی مقام گلمرگ میں گزشتہ رات سے جاری برف باری کے نتیجے میں اب تک یہاں 3.5فٹ برف باری جمع ہوئی ہے جس کے نتیجے میں یہاں سڑکوں پر برف کی موٹی موٹی پرت جم جانے کے نتیجے میں لوگوں کے عبور و مرور میں مشکلات آئی ہیں۔ تازہ برف باری کے نتیجے میں بیرون ممالک سے آئے ہوئی سیاحوں نے برف کاآنکھوں دیکھا نظارہ کرتے ہوئے مسرت کا اظہار کیا ہے۔ بدھوار دن بھر یہاں سیاحوں کی بڑی تعداد کو برف سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھناگیا ۔ اس دوران میدانی علاقوں میں ہوئی بارشوں کے نتیجے میں سردی کی شدید لہر نے لوگوں کو گھیر ا ہے جس کے نتیجے میں بدھوار کو لوگ دن بھر تواریخی بازاروں میں کشمیر کی روایتی کانگڑی کو خریدتے ہوئے دیکھا گیا۔ نمائندے کے مطابق دن بھر جاری رہنے والی بارشوں کے نتیجے میں شہر سرینگر کی بیشتر سڑکیں ندی نالوں میں تبدیل ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے یہاں راستوں پر چلنا انتہائی دشوار بن گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کی نموشی، بتہ مالو، جہانگیر چوک، ہرسنگھ ہائی اسٹریٹ، امیر کدل، پولو ویو، گونی کھن ، مہاراجہ بازار سمیت متعدد علاقوں میں عام لوگوں کو چلنے پھر نے میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کی بیشتر سڑکوں پر کھڈ ے واقع ہونے سے بارشوں کی وجہ سے سڑکیں ندی نالوں میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بدھوار دن بھر مسلسل بارشوں کے نتیجے میں شہر سرینگر میں ٹریفک جام کے بڑے بڑے مناظر دیکھنے کو ملے جس دوران یہاں مسافروں کا کافی سارا وقت گاڑیوں میں ضائع ہوا۔

Please follow and like us:
1000

پنزگام پلوامہ میں فوج ،فورسزاورپولیس کی مشترکہ کارروائی

حزب المجاہدین سے وابستہ2جنگجوہتھیاروگولی بارودسمیت گرفتار
سرینگر؍ فوج ،فورسزاورریاستی پولیس کے اہلکاروں نے ایک مشترکہ کارروائی عمل میں لاکرجنوبی ضلع پلوامہ کے ڈوگری پورہ پنزگام علاقہ سے2مقامی جنگجونوجوانوں کوکچھ اسلحہ وگولی بارودسمیت گرفتارکرلیا۔کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کوپولیس ذرائع نے بتایاکہ کچھ جنگجوؤں کی نقل وحرکت سے متعلق مصدقہ اطلاع ملتے ہی55آرآر،سی آرپی ایف کی185ویں بٹالین اورریاستی پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ سے وابستہ اہلکاروں نے منگل کوشام دیرگئے تقریباًساڑھے 9بجے پنزگا م پلوامہ کے نزدیک کچھ جنگجوؤں کودیکھاجوگرفتاری سے بچنے کیلئے نزدیکی گاؤں ڈوگری پورہ کی جانب بھاگ گئے تاہم سیکورٹی اہلکاروں نے دونوں کاتعاقب کرتے ہوئے اُنھیں راستے میں ہی گرفتارکرلیا۔ذرائع کاکہناتھاکہ اس کارروائی کے دوران کوئی فائرنگ نہیں ہوئی ۔انہوں نے کہاکہ گرفتارشدہ جنگجوجان محمدشیخ ولدعبدالعزیز ساکنہ کوینی ڈوگری پورہ پلوامہ اورناصرالاسلام ولدشبیراحمدشاہ ساکنہ پنزگام پلوامہ کاتعلق حزب المجاہدین سے ہے ۔ذرائع نے بتایاکہ گرفتارحزب جنگجوؤں سے موقعہ پرہی ایک یوبی جی ایل تھروؤر،2ہتھ گولے اوراے کے رائفل کی گولیاں برآمدکی گئیں ۔پولیس ذرائع کے مطابق حزب المجاہدین سے وابستہ دونوں مقامی جنگجوؤں کیخلاف جنگجوئیانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے سلسلے میں باضابطہ طورپر متعلقہ قوانین کے تحت ایک کیس پولیس تھانہ اونتی پورہ میں درج کیاگیا،اوردونوں سے مزیدپوچھ تاچھ جاری ہے۔

Please follow and like us:
1000

جنگجوؤں کا ساتھ دینے والوں کو بخشا نہیں جائیگا

جنگجویت کے خلاف جاری جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے: رام مادھو 
کشتواڑ ، 13نومبر (یو ا ین آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی جنرل سکریٹری رام مادھو نے کہا کہ جموں وکشمیر میں جنگجویت کے خلاف جاری جنگ کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنگجوؤں کو تو ختم کیا جائے گا لیکن جو لوگ ان کا ساتھ دیں گے، انہیں بھی بخشا نہیں جائے گا۔ رام مادھو نے کہا کہ جنگجوؤں کی تعلیمی قابلیت پر بحث سے جنگجوؤں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور سیاسی رہنماؤں کو جنگجوؤں کے خلاف بولنے کی ہمت پیدا کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک جنگجوؤں کا ساتھ دینے کا سلسلہ بند نہیں ہوگا تب تک جنگجویت کے خلاف لڑائی کامیاب نہیں ہوگی۔ رام مادھو منگل کو یہاں بی جے پی کے سابق ریاستی سکریٹری آنجہانی انیل پریہار اور ان کے بھائی آنجہانی اجیت پریہار کو خراج عقیدت پیش کرنے کے سلسلے میں منعقدہ تقریب کے شرکاء سے خطاب کررہے تھے۔ تقریب سے مرکزی وزیر صحت جگت پرکاش نڈا اور ریاستی بھاجپا صدر رویندر رینہ نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ اس موقع پر وزیر اعظم دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ سمیت بھاجپا کے متعدد لیڈران موجود تھے۔ قصبہ کشتواڑ میں یکم نومبر کو نا معلوم بندوق برداروں نے بی جے پی کے ریاستی سکریٹری اور ان کے بھائی کو گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا۔ رام مادھو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’پریہار برادران جنگجویت کے شکار ہوئے ہیں۔ اس (جنگجویت) کو ختم کرنے کے ہم وعدہ بند ہیں۔ کشمیر میں اسے ختم کرنے کی بھرپور کوشش جاری ہے‘۔ انہوں نے کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ جنگجوؤں کی تعلیمی قابلیت پر بحث سے جنگجوؤں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’کوئی جنگجو مارا جاتا ہے تو نیتا لوگ یہ بحث شروع کرتے ہیں کہ مارا جانے والا پی ایچ ڈی تھا یا ماسٹرس ڈگری رکھنے والا۔ اس طرح کی بحث سے جنگجویت کو فروغ مل جاتا ہے۔ جب جنگجوؤں کے خلافکھل کر بولنے کی نیتا لوگوں میں ہمت کم ہوجاتی ہے تو نتیجتاً جنگجویت کی حوصلہ افزائی ہوجاتی ہے‘۔ رام مادھو نے کہا کہ ریاست میں جنگجویت کے خلاف جاری جنگ کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا ’جنگجویانہ کاروائی انجام دینے والا چاہے وہ بھارت یا پاکستان کا رہنے والا ہو، اس کو چائے پلانے والا، راستہ دکھانے والا ، اس کی مدد کرنے والا یہاں ہمارے بیچ میں ہی ہوتے ہیں۔ جب تک جنگجوؤں کا ساتھ دینے کا سلسلہ بند نہیں ہوگا تب تک جنگجویت کے خلاف لڑنے کا کام کامیاب نہیں ہوگا۔ ہمارا عزم جنگجویت کے خلاف جاری جنگ کو اپنے اختتام تک لے جانا ہے۔ میری سب سے اپیل ہے کہ ہمیں سب کو مل کر جنگجویت سے لڑنا چاہیے۔ انتظامیہ کا اس میں کلیدی کردار بنتا ہے‘۔ مسٹر مادھو نے کہا کہ جنگجوؤں کو تو ختم کیا جائے گا لیکن جو لوگ ان کا ساتھ دیں گے، انہیں بھی بخشا نہیں جائے گا۔ ان کا کہنا تھا ’یہاں (کشتواڑ میں) سیکورٹی کے لئے درکار تمام اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ جنگجوؤں کو تو ختم کیا جائے گا، لیکن جو ان کا ساتھ دیتے ہیں ان کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔ یہ جموں کا ضلع ہے۔ ہم یہاں کشمیر جیسی صورتحال پیدا نہیں ہونے دیں گے‘۔ مرکزی وزیر صحت جگت پرکاش نڈا نے بھی کہا کہ ریاست میں جنگجوؤں کے خلاف جاری لڑائی کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا ’وقت وقت پر ہلاکت کے ایسے واقعات پیش آئے ہیں۔ لیکن ہم پارٹی کی طرف سے آپ کو بھروسہ دلانا چاہتے ہیں کہ لڑائی کو منطقی انجام تک لے جایا جائے گا۔ جنگجویت نہ پنپے ، اس کو جڑ سے اکھاڑنے کا ہم نے عزم کرلیا ہے۔ وادی میں جنگجوؤں پر جو دباؤ بڑھا ہے، اس سے وہ بوکھلاہٹ کے شکار ہیں۔ یہ بوکھلاہٹ ہمیں وقت وقت پر دیکھنے کو ملتی ہے۔ کچھ روز قبل یہاں کے لوگوں کی وزیر داخلہ اور وزیر دفاع سے ملاقات ہوئی۔ آج رام مادھو جی یہاں کے چیف سکریٹری سے ملیں گے۔ ساری باتیں عوامی سطح پر نہیں کی جاتیں، لیکن آپ سب کو بہت جلد تبدیلی نظر آئے گی‘۔ بتادیں کہ قصبہ کشتواڑ میں یکم نومبر کی شام دیر گئے نا معلوم بندوق برداروں نے بی جے پی کے ریاستی سکریٹری انیل پریہار اور ان کے بھائی اجیت پریہار کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔اس واقعہ کے بعد قصبہ کشتواڑ میں صورتحال کشیدہ رخ اختیار کرگئی تھی اور مشتعل لوگوں بالخصوص بی جے پی کارکنوں نے اسپتال میں توڑ پھوڑ کی تھی، پولیس تھانہ اور پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا تھا اور مقامی ایس ایس پی راجندر گپتا اور پولیس تھانہ کشتواڑ کے ایس ایچ او سمیر جیلانی پر مبینہ طور پر حملہ کیا تھا جس کے باعث دونوں کو چوٹیں آئی تھیں۔ انتظامیہ نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے یکم نومبر کی رات دیر گئے قصبہ کشتواڑ میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ اگلے روز یعنی 2 نومبر کو پڑوسی قصبوں ڈوڈہ اور بھدرواہ کو بھی کرفیو کے دائرے میں لایا گیا تھا۔ اس دوران کرفیو کو سختی سے نافذ کرنے کے لئے ریاستی پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ساتھ ساتھ فوجی کی تعیناتی بھی عمل میں لائی گئی تھی۔ فوج نے 2 نومبر کو کشتواڑ، بھدرواہ اور ڈوڈہ قصبوں میں فلیگ مارچ بھی کیا تھا۔ قصبہ کشتواڑ سے تین روز بعد یعنی 5 نومبر کو دن کا کرفیو ہٹالیا گیا۔ کشتواڑ کے پڑوسی قصبوں ڈوڈہ اور بھدرواہ سے کرفیو 3 نومبر کو ہٹالیا گیا ۔ پولیس انتظامیہ نے بھاجپا ریاستی سکریٹری اور ان کے بھائی کی ہلاکت کے اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے رکھی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے انیل پریہار اور ان کے بھائی اجیت پریہار کے قتل کے لئے جنگجوؤں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ رویندر رینہ نے دعویٰ کیا کہ انہیں ایک ماہ قبل کچھ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایک رپورٹ دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ جنوبی کشمیر سے جنگجوؤں کا ایک گروپ کشتوار منتقل ہوا ہے

Please follow and like us:
1000

کریم آباد اور دربگام پلوامہ میں جنگجو مخالف آپریشن کے دوران تشدد بھڑک اُٹھا 

دیر رات تک مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ، ساونڈ شیلوں سے گاؤں دہل اُٹھے
؂سرینگر؍کریم آباد اور دربگام پلوامہ میں درمیانی رات کو جنگجو مخالف آپریشن کے دوران تشدد بھڑک اُٹھا ، مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولوں کے ساتھ ساتھ ساونڈ شیلوں کا استعمال کیا گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق صبح چار بجے تک سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ جے کے این ایس کے مطابق عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد 55آر آر ، 182,183بٹالین سی آر پی ایف اور ایس او جی پلوامہ نے کریم آباد اور دربگام پلوامہ کو محاصرے میں لے کر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا۔ معلوم ہوا ہے کہ رات گیارہ بجے کے قریب سیکورٹی فورسز نے کریم �آباد اور دربگام پلوامہ کو محاصرے کیا اور جونہی فورسز نے گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی اس دوران لوگ مشتعل ہوئے اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی کی ۔ مقامی ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز نے نعرے بازی کر رہے نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور اشک آور گیس کے گولے رداغے جس پر لوگ مزید مشتعل ہوئے اور پتھراو کرنا شروع کیا۔ معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا جس دوران ساونڈ شیلوں کا بھی استعمال کیا گیا۔ نمائندے نے مقامی لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اگر چہ سیکورٹی فورسز نے کریم آباد اور دربگام پلوامہ میں جگہ جگہ خصوصی جنریٹر بھی نصب کئے تاہم اس کے باوجود بھی لوگوں نے مزاحمت جاری رکھی اور صبح چار بے تک شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ ٹھٹھرتی سردی میں سیکورٹی فورسز نے جنگجو مخا لف آپریشن شروع کرنا چاہا تاہم لوگوں نے اس پر اعتراض اُٹھا جس کے نتیجے میں دوبدو جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔دفاعی ذرائع نے کریم آباد اور دربگام پلوامہ میں درمیانی رات کو جنگجو مخالف آپریشن شروع کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ کئی گھنٹوں تک گاؤں کی تلاشی لی گئی جس دوران عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان آمنا سامنا نہیں ہوا۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ نوجوانوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان معمولی خشت باری کا واقع رونما ہوا جس کے بعد حالات دوبارہ معمول پر آئے۔ 

Please follow and like us:
1000

سید علی شاہ گیلانی کو صدمہ 

داماد جہان فانی سے رخصت 
سرینگر //بزرگ رہنما سید علی شاہ گیلانی کا سب سے بڑا داماد غلام حسن مخدومی ساکنہ ڈورو سوپور آج دوپہر ا س جہان فانی سے کوچ کرگیا ۔وہ معدے کے کینسر کی بیماری میں مبتلا تھے اور صورہ میڈیکل انسٹچیوٹ میں زیر علاج تھے جہاں انہوں نے آخری سانس لی ۔حریت (گ)کے چیرمین سید علی شاہ گیلانی کو پہونچنے والے اس صدمہ جانکاہ کے موقعے پر حریت (گ ) کے علاوہ تمام سیاسی سماجی اور دینی تنظیموں نے ان سے تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔اس موقعے پر ادارہ عقاب بھی ان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اللہ سے دست بدعا ہے کہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلےٰ مقام حاصل ہو اور لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا ہو ۔

Please follow and like us:
1000

سنٹرل یونیورسٹی میں تیسرے روز بھی گرفتار طلبا کے حق میں احتجاج 

16نومبر تک درس و تدریس کے کام کاج کو معطل کرنے کا فیصلہ 
سرینگر؍سینٹرل یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبا نے مسلسل تیسرے روز بھی گرفتار طلاب کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا اور شاہراہ پر آکر دھرنا دیا۔ ادھر یونیورسٹی ترجمان نے بتایا کہ 14,15اور 16نومبر کو سینٹرل یونیورسٹی میں درس و تدریس کا کام کاج نہیں ہوگا۔ جے کے این ایس کے مطابق پولیس کی جانب سے سینٹرل یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالب علموں کی گرفتاری کے خلاف آج مسلسل تیسرے روز بھی زیر تعلیم طلبہ وطالبات نے یونیورسٹی احاطے اور شاہراہ پر آکر دھرنا دیا۔ طلبا کے مطابق جرم بیگناہی کے الزام میں دو طالب علموں کو گرفتار کیا گیا ہے اور جب تک انہیں رہا نہیں کیا جاتا یونیورسٹی میں درس و تدریس کا کام کاج نہیں ہوگا۔ یونیورسٹی احاطے میں طالبات نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جمہوریت میں ہر کسی کو اپنی بات سامنے رکھنے کا حق ہے اگر اپنے جذبات کا اظہار کرنا گناہ ہے تو سبھیطلبا کو گرفتار کرکے انہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جائے۔ طلبا کے مطابق گرفتار طالب علموں کا کسی بھی تنظیم کے ساتھ دور دور تک کا واسط نہیں تاہم قانون نافذ کرنے والے دارے انہیں جعلی کیسوں میں پھنسا رہے ہیں جو ناقابل برداشت ہے۔ نمائندے کے مطابق ہاتھوں میں بینر لئے طلبا نے کئی گھنٹوں تک احتجاجی مظاہرئے کئے اور بعد میں پُر امن طورپر منتشر ہوئے۔ دریں اثنا مسلسل احتجاج کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے 14,15اور 16نومبر کو یونیورسٹی میں درس و تدریس کے کام کاج کو معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یونیورسٹی ترجمان کے مطابق تین روز تک درس وتدریس کا کام کاج نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ پولٹیکل سائنس کے دو طلبا جن کی شناخت سہیل احمد ساکنہ شوپیاں اور اسماعیل ساکنہ بارہ مولہ کے بطور ہوئی ہے کو سیکورٹی فورسز نے چھاپہ مار کارروائی کے دوران نوگام سے گرفتار کیا تھا۔ 

Please follow and like us:
1000

وادی میں بجلی کی آواجاہی اور بے ضابطہ کٹوتیاں،امتحانات میں مصروف طلاب پریشان

بانڈی پورہ ،ترال اورکئی دیہات میں بجلی صارفین کے زورداراحتجاجی مظاہرے
سرینگر؍حالیہ برف باری کے نتیجے میں بجلی کے ترسیلی نظام کوپہنچے نقصان کے بعدشمال وجنوب کشمیروادی میں متعدددیہات ودُوراُفتادہ علاقے برقی رؤکی سہولت سے محروم ہیں جبکہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ امتحانات میں مصروف طلباء اور طالبات کوسب سے زیادہ پریشانی کاسامناکرناپڑرہاہے۔کے این این کے مطابق محکمہ بجلی کے اعلیٰ انجینئروں اورسیول حکام کے بلندبانگ دعوؤں کے باوجودابھی بھی کشمیروادی میں درجنوں علاقوں میں بجلی سپلائی بحال نہیں کی گئی ہے ،جسکے نتیجے میں قبل ازوقت شروع ہوئی شدیدسردی ک ایام میں متاثرہ علاقوں کے لوگوں بالخصوص طلاب کوسخت مشکلات جھیلنے پڑرہے ہیں ۔بجلی سپلائی کی مسلسل عدم فراہمی کولیکربانڈی پورہ ،گریزشاہراہ پرکئی متاثرہ دیہات کے لوگوں نے بجلی محکمہ کیخلاف احتجاجی مظاہرے کئے ۔مانتری گام،دھرمہاما،گزربل،شیخ پورہ اورنزدیکی دیہات کے بجلی صارفین نے این ایچ پی سی دفترواقع دھرمہاماکے نزدیک احتجاجی دھرنادیکربانڈی پورہ ،گریز شاہراہ کوآواجاہی کیلئے بندکردیا۔انہوں نے محکمہ بجلی اورمتعلقہ انجینئروں کیخلاف سخت غم وغصہ ظاہرکرتے ہوئے الزام لگایاکہ ماہانہ بجلی فیس وصول کرنے کے باوجودمتعلقہ محکمہ بجلی صارفین کومشکلات سے دوچارکرنے کاباربارمرتکب ہوجاتاہے۔ناراض بجلی صارفین نے کہاکہ متاثرہ دیہات کوشیڈول کے مطابق بجلی فراہم کرنے کے بجائے من مانے طریقے سے برقی رؤفراہم کی جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ بجلی کے آنے اورواپس جانے کاکوئی وقت یاشیڈول مقررنہیں رکھاگیاہے بلکہ بجلی سپلائی کوصارفین کیلئے ایک عذاب بنادیاگیاہے ۔صارفین نے کہاکہ ہمارے بچے بچیاں امتحانات دینے میں مصروف ہیں ،اوربجلی کی آنکھ مچولی کی وجہ سے انکی امتحانی تیاریاں بھی متاثرہوجاتی ہیں ۔ دھرمہاماے بجلی صارفین کاکہناتھاکہ اس گاؤں میں نصب بجلی ٹرانسفارمرمیں کوئی خرابی پیداہوئی ہے لیکن اسکی مرمت کرانے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ متاثرہ دیہات کے بجلی صارفین نے دھمکی دی کہ اگربرقی رؤکی سپلائی میں بہتری نہیں لائی گئی تووہ غیرمعینہ عرصہ کیلئے احتجاجی مہم چھیڑدیں گے ،اوراگراس دوران انتظامیہ یاعوام کوکوئی مشکل درپیش آئی تواس کیلئے بجلی انجینئرذمہ دارہونگے ۔اسبارے میں محکمہ پی ڈی ڈی ڈویژن بانڈی پورہ کے ایگزیکٹوانجینئرغلام قادرنے بتایاکہ متاثر ہ دیہات میں بغیرخلل بجلی سپلائی کویقینی بنانے کیلئے کوششیں جاری ہیں ۔انہوں نے کہاکہ دھرمہاماگاؤں میں بدھ کے روزنیابجلی ٹرانسفارمرنصب کرکے بجلی سپلائی بحال کرائی جائیگی ۔اس دوران سوپورکے کئی نواحی دیہا ت کے لوگوں نے بھی الزام لگایاکہ حالیہ برف باری کے بعدسے اُنکے یہاں بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے جبکہ کئی بستیوں میں ابتک بجلی سپلائی بحال نہیں کی گئی ہے۔اُدھرجنوبی کشمیرکے متعددعلاقوں میں اب بھی برقی رؤکی سپلائی بحال نہیں کرائی گئی ہے جسکے نتیجے میں متاثرہ دیہات وعلاقہ جا ت کے بجلی صارفین کوسخت پریشانیوں کاسامناکرناپڑرہاہے ۔ضلع پلوامہ کے ترال قصبہ میں بجلی کی عدم فراہمی کیخلاف ہڑتال کی گئی جبکہ منگل کے روزیہاں بجلی صارفین نے محکمہ پ ڈی ڈی کیخلاف ایک زورداراحتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ترال کے ناراض صارفین نے کہاکہ اُنھیں بجلی فراہم کرنے کاکوئی شیڈول نہیں ہے بلکہ بجلی انجینئراورملازم من مانے طورپرکبھی بجلی سپلائی بحال کرتے ہیں ،اورجب مرضی ہوئی توبجلی سپلائی منقطع کردی جاتی ہے۔انہوں نے بجلی محکمہ کیخلاف نعرے بلندکرتے ہوئے مانگ کی کہ بجلی سپلائی میں بہتری لانے کیساتھ ساتھ اس لازمی سروس کی فراہمی کیلئے ایک شیڈول بنایاجائے اوراسبارے میں مقامی آبادی کومطلع کیاجائے ۔ناراض صارفین نے ترال،ڈاڈسرروڑپراحتجاجی دھرنادیکرگاڑیوں کی آمدورفت مسدودکرکے رکھدی ۔

Please follow and like us:
1000

احتشام بلال کی دولت اسلامیہ میں شمولیت کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے: بھٹ 

آل آوٹ نام کا کوئی آپریشن نہیں ، مقامی نوجوان چاہیں تو آپریشن کے دوران بھی خودسپردگی اختیار کرسکتے ہیں
بارہمولہ ، (یو ا ین آئی) فوج کی 15 ویں کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) لیفٹیننٹ جنرل انیل کمار بھٹ نے کہا کہ خانیار سری نگر کے جواں سال طالب علم احتشام بلال صوفی کی دولت اسلامیہ (اسلامک اسٹیٹ) میں شمولیت کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقائق جاننے کی کوشش جاری ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل بھٹ نے دعویٰ کیا کہ کشمیر میں جنگجوؤں کے خلاف آل آوٹ نام کا کوئی آپریشن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی مسلح نوجوان چاہیں تو آپریشن کے دوران بھی خودسپردگی اختیار کرسکتے ہیں۔ 15 ویں کور کے جی او سی پیر کے روز یہاں حیدربیگ پٹن میں قائم 10 سیکٹر ہیڈکوارٹر میں واقع زورآور ہال میں منعقدہ آرمی گڈ)ول اسکولوں کی ایک مشترکہ تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات کررہے تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل بھٹ نے اترپردیش کے گریٹر نوئیڈا علاقہ سے لاپتہ ہوئے شاردا یونیورسٹی کے کشمیری طالب علم احتشام بلال جنہوں نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی آڈیوز اور ایک تصویر کے مطابق اسلامک اسٹیٹ جموں وکشمیر نامی جنگجو تنظیم میں شمولیت اختیار کی ہے، کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا ’پہلی بات تو یہ ہے کہ احتشام کی اسلامک اسٹیٹ میں شمولیت کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ اس نے آئی ایس جے کے میں شمولیت اختیار کی ہے یا نہیں، اس کی تصدیق ہونا باقی ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہے۔ میری کشمیر کے نوجوانوں کے لئے ہمیشہ یہ اپیل ہوتی ہے کہ آپ اپنا مستقبل سنوارنے کے لئے انڈیا کے قومی دھارے میں شامل ہوجائیں۔ بھارت آگے بڑھ رہا ہے اور انہیں بھی ہمارے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر آگے بڑھنا چاہیے‘۔ لیفٹیننٹ جنرل بھٹ نے شاردا یونیورسٹی میں 4 اکتوبر کو احتشام سمیت دو کشمیری طالب علموں کے ساتھ پیش آئے زدوکوب کے واقعہ پر کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں زیر تعلیم کشمیری طلباء کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا ’میں آپ کی بات سے بالکل اتفاق رکھتا ہوں۔ ریاست کے گورنر (ستیہ پال ملک) نے وہاں کے وزیر اعلیٰ(یوگی ادتیہ ناتھ) سے بات کی تھی۔ میری بھی یہ اپیل ہے کہ ہندوستان میں جہاں کہیں بھی ہمارے کشمیر کے بچے پڑھ رہے ہیں، ان کا خاص خیال رکھا جائے‘۔ لیفٹیننٹ جنرل بھٹ نے دعویٰ کیا کہ کشمیر میں جنگجوؤں کے خلاف آل آوٹ نام کا کوئی آپریشن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ’میں اس بات کی وضاحت کرنا چاہوں گا کہ آل آوٹ نام کا کوئی آپریشن نہیں ہے۔ جہاں کہیں بھی نوجوان ہتھیار اٹھائے گا ، ہم اسے برباد کریں گے۔ ساتھ ہی میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ کشمیری نوجوان اگر آپریشن کے دوران بھی خودسپردگی اختیار کرنا چاہیں گے انہیں وہ موقع دیا جائے گا‘۔ چنار کور کے جی او سی نے کہا کہ سرحدوں پر جنگجوؤں کی دراندازی کو روکنے کے لئے ہر طرح کی کاروائی کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’جب بھی پاکستان جنگجوؤں کو سرحد کے اس پار بھیجنے کی کوشش کرتا ہے، تو ان کو دراندازی سے روکنے کے لئے ہم ہر طرح کی کاروائی کرتے ہیں۔ اس دوران جب وہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہیں، تو ہم بھی جوابی کاروائی کرتے ہیں‘۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا سرحدوں پر برف باری سے دراندازی کے واقعات میں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا ’برف باری سے دراندازی میں کمی آئے گی یا اضافہ ہوگا، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ لیکن میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ابھی دراندازی کی کوششیں جاری ہیں‘۔ لیفٹیننٹ جنرل بھٹ نے کہا کہ پنچایتی انتخابات کے کامیاب انعقاد کو یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا ’انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کی ہماری کوششیں مسلسل جاری ہیں‘۔ اے کے بھٹ نے 10 سیکٹر ہیڈکوارٹر میں میں منعقدہ آرمی گڈول اسکولوں کی مشترکہ تقریب کے بارے میں کہا ’جس طرح کی تعلیم یہاں بچوں کو مل رہی ہے اور جس طرح وہ اس سے مستفید ہورہے ہیں، یہ اس بات کا عکاس ہے کہ ہمارے بچوں کا مستقبل بہت اچھا ہوگا۔ ساتھ ہی یہاں پر میں یہ بتانا چاہوں گا کہ ہمارے کچھ بچے جنہوں نے ارجنٹائن میں ہونے والے کک باکسنگ مقابلوں میں حصہ لیا، وہ وہاں سے تین میڈل لے کر آئے ہیں۔ ان بچوں نے کشمیر اور انڈیا کا نام اونچا کیا ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا ’ہم گڈول اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے علاوہ دوسری تعلیمی اداروں بالخصوص سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلباء کے لئے مختلف نوعیت کے پروگراموں کا انعقاد کرتے ہیں۔ انہیں بھارت درشن پر بھیجتے ہیں۔ ان کے لئے ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کرتے ہیں۔ ہم بچوں کے ساتھ اپنا بھرپور لگاؤبنائے رکھیں گے‘

Please follow and like us:
1000

نقشبند صاحب آستانے پر روایتی اور تاریخی ’’خواجہ دگر ‘‘۔ہزاروں کی شمولیت 

ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال حد درجہ سنگین اور تکلیف دہ(میر واعظ
سرینگر؍ ، 12نومبر (یو ا ین آئی) حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین اور اور متحدہ مجلس علماء جموں وکشمیرکے امیر اعلیٰ میرواعظ مولوی عمر فاروق نے پیغمبر اسلام (ص) کے اسوۂ کاملہ کی پیروی کو نہ صرف عالم اسلام بلکہ پوری نوع انسانی کے جملہ مسائل اور مشکلات کا حل قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج اگر مقامی اور بین الاقوامی سطح پر مسلمان ایک پر آشوب حالات اور مختلف قسم کی سیاسی اور سماجی مسائل میں گھرے ہوئے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ اللہ تعالیٰ اور اس کے آخری رسول (ص) کی تعلیمات سے دوری ہے ۔ میرواعظ پیر کے روز پائین شہر کے خواجہ بازار میں واقع آستان عالیہ حضرت نقشبند صاحب (رح) میں تاریخی خوجہ دگر کے موقع پر عقیدتمندوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے اس موقعہ پراظہار خیال کرتے ہوئے جموں وکشمیر کی تازہ ترین سیاسی صورتحال کو حد درجہ سنگین اور تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مزار شہداء نقشبند صاحب1931 ء کے ہمارے وہ جیالے شہداء مدفون ہیں جنہوں نے سب سے پہلے یہاں ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے اپنی جانیں نچھاور(بقیہ نمبر13)
کی ہیں اور تب سے لیکر آج تک اپنے حق کے حصول کے لئے کشمیری عوام قربانیوں کی تاریخ رقم کررہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ہندہمارے حق و انصا ف کی آواز کو دبانے کے لئے ظلم و جبر کی ایک نئی تاریخ رقم کررہی ہے۔ نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کرنے کے ساتھ ساتھ رہائشی مکانات اور بستیوں کوبارود کے ڈھیر میں تبدیل کیا جارہا ہے اور یہ سب کچھ مسئلہ کشمیر کے حل کے تئیں حکومت ہند کی چشم پوشی کی جارحانہ پالیس دھونس، دباؤ اور ہٹ دھرمی اور طاقت کے بل پر نوجوانوں کو چن چن کر قتل کرنے کے سبب اب ہمارے پڑھے لکھے نوجوان بھی ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو رہے ہیں جو ہر لحاظ سے باعث تشویش ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ ہم حق و صداقت کے موقف پر ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ ظلم و جبر سے حق و صداقت کی عوامی تحریک کوہرگز دبایا نہیں جاسکا ہے۔انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ جب تک دیرینہ مسئلہ کشمیر کو حق خودارادیت کی بنیاد پر حل کرنے کے لئے اقدامات نہیں اٹھائے جاتے علاقے میں سیاسی غیر یقینیت ، عدم استحکام اور قتل و غارتگری کا بازار گرم رہے گا اور خون خرابہ جاری رہے گا۔ میرواعظ نے کہا کہ کشمیری عوام اور قیادت نے اب یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک وہ بھارتی آئین اور قانون کے تحت کسی بھی طرح کے الیکشن اور انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیں گے کیونکہ اس لاحاصل مشق سے حکومت ہند کو مسئلہ کشمیرکے حوالے سے عالمی سطح پر منفی اور گمران کن پروپیگنڈے کا موقعہ ہاتھ آتا ہے ۔ انہوں نے عوام سے تلقین کی کہ وہ حالیہ بلدیاتی انتخابات کی طرح پنچایتی چناؤ کے عمل سے بھی مکمل طور پر الگ رہ کر خون سے سینچی ہوئی عوامی تحریک اور شہداء کے مقدس نصب العین کے ساتھ اپنی غیر متزلزل وابستگی کا مظاہرہ کریں۔ ماہ ربیع الاول کی آمد کے موقع پر معروف ولی کامل اور عظیم روحانی پیشوا حضرت خواجہ بہاؤ الدین نقشبندی(رح) کے عرس پاک کے سلسلے میں ان کی زیارت گاہ نقشبند صاحب کی خانقاہ فیض پناہ میں خوجہ دگر کے موقعہ پر منعقدہ ایک روحانی اور پروقار مجلس کے دوران ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے اس عظیم ولی کامل کی زندگی ، ان کی عظیم تعلیمات اور انسانی سماج کے تئیں انکی خدمات کے نتیجے میں گرانقدر اثرات پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اللہ اور اسکے رسول (ص) کے ہدایات اور اولیائے کرام اور بزرگان دین کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا عملی حصہ بنانے سے ہی ہم موجودہ نفسانفسی کے عالم ،مادیت کی وبا اور سماجی برائیوں کے انسداد کی ہمہ گیر اصلاحی مہم کو نتیجہ خیز بناسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حضرت خواجہ صاحب نہ صرف تصوف کے چاروں سلسلے میں سے ایک اہم’’ سلسلہ نقشبندیہ ‘‘کے بانی و مبانی ہیں بلکہ بذات خود ایک انتہائی بلند پایہ صوفی اور خدا دوست ولی کامل ہیں جن کی پوری زندگی تصوف اور سلوک کی راہ طے کرنے میں گذری اور ان کی ذات گرامی سے خلق خدا کو بیحد نفع اور فیض پہنچا۔ میرواعظ نے کہا کہ ایک اسلامی اور فلاحی معاشرے کی تعمیر محض زبانی جمع خرچ اور نعروں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے قرآن و سنت کو بنیاد بنا کر ایک ہمہ گیر اصلاحی اور دعوتی مہم جوئی کی ضرورت ہے اور ایک دیندار معاشرہ وجود میں لانے کے لئے اجتماعی کوششیں ایک ناگزیر امر ہے اور اس کے لئے جناب پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) کی لافانی تعلیمات جنہیں اولیائے کرام اور صوفیائے عظام نے پوری دنیا میں اپنے اپنے دور میں پھیلانے کی کوششیں کیں ان پر صدق دلی سے عمل بیحد ضروری ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ دین اسلام بنیادی لحاظ سے تبلیغ اور تعلیم کا دین ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ تبلیغ اور تعلیم کے نتیجے میں ہی یہ آفاقی دین دنیا کے بیشتر گوشوں کو منور کرنے لگا اس دین میں کوئی جبر اور زور زبردستی نہیں ہے اور اس کی تعلیمات میں تمام مذاہب اور مسالک کی عزت کرنا اور بلا امتیاز انسانیت کا احترام شامل ہے۔ انہوں نے کہا آج کے پُر آشوب حالات میں صوفیائے اسلام کی خدا پرستی، انسان دوستی اور حب الوطنی کی تعلیمات کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی اشدضرورت ہے کیونکہ صوفیائے اسلام نے اپنے اپنے وقت میں انسانیت کو جوڑنے کا کام کیا ہے اور اپنی بے نفسی اور خدمت خلق کے عظیم جذبے کے تحت ہر دور میں انسانیت کو فلاح اور امن و آشتی سے ہمکنار کیا ہے۔ آخر میں اجتماعی طور پر حضرت نقشبند صاحب کے تئیں منقبت خوانی کی گئی اور غلبہ اسلام، اولیائے کرام کے مشن کی آبیاری ، شہدائے جموں وکشمیر کے درجات کی بلندی اور آزادی وطن کے لئے بارگاہ خداوندی میں خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ میرواعظ نے مشہور خواجہ دگر یعنی نماز عصر کی بھاری جماعت میں بھی شرکت کی

Please follow and like us:
1000