نیشنل کانفرنس سبھی خطوں کو علاقائی خودمختاری دینے کی وعدہ بند

بھاجپا دھوکہ باز جماعت، دنیا کی سب سے بڑی مورتی تو بنالی رام مندر کیوں نہیں بنایا: عمر عبداللہ 
جموں ، 10 نومبر ( یو این آئی ) نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کی جماعت ریاست کے سبھی خطوں کو علاقائی خودمختاری دینے کی وعدہ بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں باسیوں کی حمایت کے بغیر نیشنل کانفرنس کا اقتدار میں آنا ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو موجودہ دلدل سے نکالنے کے لئے صوبہ جموں کو اپنا نمایاں کردار ادا کرنا ہوگا۔ عمر عبداللہ نے بی جے پی کو دھوکہ باز جماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات قریب آتے ہی اس جماعت کو مذہب یاد آگیا ہے۔ انہوں نے رام مندر کی تعمیر کے معاملے پر بی جے پی کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ جب آپ دنیا کی سب سے بڑی مورتی بناسکتے ہیں تو مندر کیوں نہیں بنایا۔ ان کا اشارہ گجرات میں تعمیر ہونے والے سردار ولبھ بھائی پٹیل کے دنیا کے سب سے طویل القامت مجسمے کی طرف تھا۔ عمر عبداللہ پیر کے روز یہاں شیر کشمیر بھون میں منعقدہ نیشنل کانفرنس کی ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر کانگریس کی خاتون لیڈر اور سابق ممبر اسمبلی سورن لتا نے نیشنل کانفرنس میں باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کرلی۔ پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفی کمال، صوبائی صدور دیویندر سنگھ رانا (جموں)، ناصر اسلم وانی ( کشمیر) اور دیگر متعدد لیڈران تقریب میں موجود 
تھے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ریاست کے لئے علاقائی خودمختاری ضروری ہے اور بقول ان کے تب ہی ریاست کے سبھی خطوں اور طبقوں کے ساتھ انصاف ہوپائے گا۔ انہوں نے کہا ’ نیشنل کانفرنس والے کئی سالوں سے کہہ رہے ہیں کہ جموں وکشمیرکوعلاقائی خودمختاری دینا ضروری ہے ، اس سے ہی ریاست کے ہر خطے اور طبقے کے ساتھ انصاف ہو پائے گا ۔ مختلف سوچ اور مختلف مذہب کے لوگوں کے ساتھ انصاف کرنے کا یہی طریقہ ہے‘۔ عمر عبداللہ نے بی جے پی کو دھوکے باز جماعت قرار دیتے ہوئے کہا ’ساڑھے چار سال تک فیل ہونے کے بعد اب انہیں مذہب یاد آگیا ہے۔ جب آپ نے دنیا کی سب سے بڑی مورتی (سردار ولبھ بھائی پٹیل کا مجسمہ) بنائی ، اگر آپ وہ مورتی بناسکتے ہیں تو جس مندر کی آپ بات کررہے ہیں تو وہ کیوں نہیں بنایا؟ چھوٹا ہی صحیح۔ کون کہتا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا مندر بناؤ۔ نہیں بنایا۔ ساڑھے چار سال تک نہیں کیا، لیکن اب ڈھنڈورہ پیٹ رہے ہیں۔ اب جلوس نکال رہے ہیں۔ جب آپ کو اپنی ہار کی بو آئی تو یہ حربے۔ یہ حربے کام نہیں آئیں گے، وہ دن گئے جب لوگ جذبات کی بنیاد پر ووٹ ڈالتے تھے‘۔ انہوں نے کہا ’بھارتیہ جنتاپارٹی نے جموں کے عوام کو ایک بار نہیں دوبار دھوکا دیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جموں کے لوگ اب دھوکا کھانے کے لئے تیار نہیں ہیں ، تبھی تویہ لوگ( بی جے پی) اسمبلی انتخابات سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں ،ان میں ایک بھی نہیں ہے جو لوگوں کے سامنے جانے کو تیار ہو‘۔عمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی والوں نے لوگوں سے جو وعدے کئے وہ پورے کرنے میں پوری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا ’ بی جے پی نے جموں کو لیڈر شپ دینے کی بات کہی تھی ،کشمیری پنڈتوں کو کشمیر واپس بھیجنے کی بات کہی تھی اور لداخ کو یونین ٹریٹری بنانے کی بات کہی تھی لیکن کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کر پائے ۔بی جے پی والے پوری طرح ناکام ہونے کے بعد نئے نئے حربے استعما ل کررہے ہیں ، اسمبلی نشستوں کی ریزرویشن کو بدلنا چاہتے ہیں اور راج بھون کے پیچھے چھپ کر انتخابات کا سامنا کرنا چاہتے ہیں ‘۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا نے کہا کہ بی جے پی والے علاقائی سیاست کرتے ہیں لیکن میں ان کو چیلنج کرتاہوں کہ آئندہ اسمبلی انتخابا ت میں بی جے پی کا وزیر اعلیٰ امید وار کون ہوگا ،کس کو کرسی پربٹھائیں گے‘۔انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ ریاست مخلوط سرکار گرنے کے بعد ریاست میں ایسے فیصلے لئے جا رہے تھے جس کے دور رس تنایج برآمد ہوں گے،کوشش کی جا رہی تھیں کہ جموں اورکشمیر کو آپس میں لڑوایاجائے ،جموں وکشمیر میں جو بھائی چارہ ہے اس کو زک پہنچایا جائے اور کوشش تھی کہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو کمزور کیا جائے ۔ تبھی نیشنل کانفرنس نے پی ڈی پی کو باہر سے حماعت دینے کا فیصلہ لیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کو حمایت دینے پر نیشنل کانفرنس پر الزام لگایا کہ سرکار بنانے کا فیصلہ لند ن میں پاکستان کے اشارے پر لیاگیا ۔ عمر عبداللہ نے بی جے پی قومی جنرل سکریٹری رام مادھو کا نام لئے بغیر کہا ’ جب میں نے الزام لگانے والے سے کہا کہ آپ اس کو ثابت کر و تو اس نے اپنے الفاظ واپس لے لئے ‘۔انہوں نے کہاجو لوگ حکومت میں سامنے کے دروازے سے داخل ہوکر کچھ حاصل نہیں کرسکتے وہ چوروں کی طرح پیچھے کے دروازے سے گھسنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ 

Please follow and like us:
1000

کمسن جنگجو ساتھی سمیت سپرد خاک 

ہزاروں کی شرکت ،شمالی قصبہ حاجن اُبل پڑا ،مظاہرین اور فورسزمیں جھڑپیں 
حاجن ؍دارلحکومت سرینگر کے مضافات میں واقع مجہ گنڈ علاقے میں ایک خونین معرکہ آرائی کے دوران جاں بحق ہوئے 2کمسن جنگجوؤں کی آخری رسومات ایک ساتھ آبائی قصبہ حاجن بانڈی پورہ میں انجام دی گئیں جبکہ مہلوک جنگجوؤں کی 2مرتبہ نما زجنازہ ادا کی گئی ،تاکہ لوگوں کی شرکت یقینی بن سکے۔دونوں کمسن مہلوک جنگجو ؤں کو جذباتی مناظر کے بیچ سپردلحد کیا گیا ۔ ان دنوں کے ساتھ جاں بحق ہونے والے غیر مقامی جنگجو کو شمالی ضلع بارہمولہ کے مخصوص قبرستان میں پولیس کی موجودگی میں سپرد لحد کیا گیا ۔ادھر شمالی قصبہ اُس وقت اُبل پڑا جب کمسن مہلوک جنگجوؤں کو سپرد لحد کرنے کے بعد مظاہرین نے مشتعل ہو کر فورسز پر پتھراؤ کیا ،جوابی کارروائی میں فورسز نے ٹیر گیس شلنگ کی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق سرینگر ۔بانڈی پورہ شاہراہ پر مجہ گنڈ علاقے میں 18گھنٹوں جاریرہنے والی جھڑپ میں2ساتھی سمیت جاں بحق ہونے والے اب تک کے کم عمر14سالہ جنگجو کی آخری رسومات انجام دی گئیں ۔موصولہ تفصیلات کے مطابق شمالی قصبہ حاجن میں 14 سالہ مدثر رشید پرے اور17سالہ ثاقب بلال شیخ ساکنان حاجن،نامی جاں بحق جنگجوؤں کے جلوسِ جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ۔عینی شاہدین نے بتایا کہ حاجن اور اسکے مضافاتی گاؤں سے لوگوں کی کثیر تعداد نے دونوں کمسن جاں بحق جنگجوؤں کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور لوگوں کی شرکت کو یقینی بنانے کیلئے 2مرتبہ نما زجنازہ ادا کردی گئی ۔بتایا جاتا ہے کہ دونوں مہلوک جنگجوؤں کے جلوسِ جنازہ قصبہ حاجن سے برآمد ہوا ،جس میں مرد وزن کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور یہ تعداد ایک اندازے کے مطابق ہزاروں تھی ۔عینی شاہدین کے مطابق دونوں جاں بحق جنگجو ؤں کا جلوسِ جنازہ ،حاجن کے ہر ایک علاقے سے گزرا ،جس میں شامل شرکاء آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کررہے تھے ۔بعد میں دونوں مہلوک جنگجوؤں کا جلوسِ جنازہ حاجن عیدگاہ میں اختتام کو پہنچا ،جہاں دونوں جاں بحق جنگجوؤں کی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ ایکساتھ جنگجوئیت کی راہ پر چل پڑے14سالہ مدثر رشید پرے اور17سالہ ثاقب بلال شیخ ساکنان حاجن،ایکساتھ جاں بحق بھی ہوئے ۔دونوں مقامی جنگجوؤں کو انتہائی جذباتی مناظر کے بیچ مزارِ شہدا ء حاجن میں سپرد لحد کیا۔اْن کے ہمراہ پولیس کے مطابق ایک پاکستانی جنگجو بھی جاں بحق ہوا تھا،جسے شمالی ضلع بارہمولہ کے ایک مخصوص قبرستان میں پولیس کی ایک ٹیم کی موجودگی میں دوران شب سپرد لحد کیا گیا ۔ادھر معلوم ہوا ہے کہ حاجن میں سوموار کو دو جاں بحق کمسن جنگجوؤں کی آخری رسومات ادا کرنے کے بعد قصبہ میں فورسز اور مظاہرین کیخلاف جھڑپیں ہوئیں۔بتایا جاتا ہے کہ فلک شگاف نعرے بازی اور آہوں و سسکیوں کے بیچ جونہی دونوں جنگجوؤں کی آخری رسومات اختتام کو پہنچیں تو سینکڑوں نوجوان مظاہرین نے قصبہ میں تعینات فورسز اہلکاروں پر سنگباری کی جنہوں نے جواب میں اْن پر آنسو گیس کے گولے داغے۔یہ سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ،جس دوران فورسز کو ہوا میں گولیوں کے چند راؤنڈ بھی چلانے پڑے جبکہ چھروں والی بندوق کا بھی استعمال کیا ۔قصبہ حاجن میں صورتحال انتہائی کشیدہ بنی ہوئی ہے ۔

Please follow and like us:
1000

مجھ گنڈجھڑپ ، دو جنگجو جاں بحق 

فورسز کے پانچ اہلکار زخمی ۔ چار مکان دھماکوں سے اڑادئیے گئے 
سرینگر 09؍ ڈسمبر (عقاب نیوز )جنگجووں اور فورسز کے درمیان آج شام ایک زبردست جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب جنگجووں کی موجودگی کی اطلاع پاکر فورسز نے گھاٹ محلہ مجہ گنڈ نامی علاقے کا محاصرہ کرنے کے بعد تلاشیاں شروع کردیں ۔ تلاشیوں کے دوران فورسز پر جنگجووں کی طرف سے شدید فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں دوفورسز اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جن میں سے ایک ایس او جی ، اور ایک فوجی اہلکاربتایا جاتا ہے ۔ اس کے بعد علاقے میں خوفناک دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جن سے دور دور تک کی آبادی دہل گئی ۔ مقامی لوگوں کی اطلاع کے مطابق کم سے کم چار مکانات کو بارودی دھماکوں سے اڑا دیا گیاتاہم سرکا ری طور اس کی تصدیق نہیں ہوئی بعد میں دو جنگجووں کی لاشیں ملبے سے برآمد کی گئیں ۔ جھڑپ کے دوران مظاہرین نے جنگجو مخالف آپریشن میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے مظاہرے گئے اور جائے واقعہ تک پہونچنے کی بھی کوشش کی لیکن فورسز نے مزید کمک طلب کرنے کے بعد مظاہرین کو جائے واقعہ تک پہونچنے سے روکا اس دوران کئی افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے ۔پولیس ذرائع نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہدو جنگجووں کی لاشیں ملبے سے نکالی جاچکی ہیں تاہم ان کی شناخت ہونا ابھی باقی ہے ۔فورسز کو یہاں پر دو سے تین جنگجووں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی ۔آپریشن ابھی ختم نہیں کیا گیا ہے ۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملبے سے مرید کسی لاش کے برآمد ہونے کیلئے تلاش کا کام جاری ہے ۔پورے علاقے میں خوف و دہشت کا عالم ہے اور لوگ اپنے گھروں میں سہم کر رہ گئے ہیں ہونچنے کی بھی کوشش کی لیکن فورسز نے مزید کمک طلب کرنے کے بعد مظاہرین کو جائے واقعہ تک پہونچنے سے روکا اس دوران کئی افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے ۔پولیس ذرائع نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملبے سے کسی جنگجو کی لاش ابھی تک نہیں ملی ہے تاہم محاصرہ جاری ہے اور تلاشیاں بھی جاری ہیں ۔فورسز کو یہاں پر دو سے تین جنگجووں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی ۔آپریشن ابھی ختم نہیں کیا گیا ہے تاہم فائرنگ کی آوازیں بھی تھم گئی ہیں ۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملبے سے جنگجووں کی لاشیں تلاش کی جارہی ہیں ۔پورے علاقے میں خوف و دہشت کا عالم ہے اور لوگ اپنے گھروں میں سہم کر رہ گئے ہیں ۔

Please follow and like us:
1000

المناک حادثہ :14 جانیں تلف

مرنے والوں میں شیر خوار بچے ،4خواتین بھی شامل ،13زخمی،مسافر بس گہری کھائی میں جاگری 
گور نر ،سابق وزرا ئے اعلیٰ سمیت تمام مین اسٹریم لیڈران کا اظہارِ رنج وغم
پونچھ:خطہ پیر پنچال کے پہاڑی وسرحدی ضلع پونچھ میں سنیچر کی صبح اُس وقت قیامت صغریٰ بپا ہوئی جب ایک مسافر بس گہری کھائی میں جاگرنے کے نتیجے میں شیر خواربچے ، 4خواتین سمیت14مسافر جاں بحق اور13دیگر مسافر زخمی ہوئے جن میں سے کئی ایک کی حالت نازک بنی ہوئی جبکہ اموات میں اضافہ کا خدشتہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔اس دوران سڑک حادثے میں انسانی جانوں کے اتلاف پر گور نر ستیہ پال ملک ،سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی ،عمر عبداللہ ،ڈاکٹر فاروق عبد اللہ ،کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر سمیت تمام مین اسٹریم لیڈران نے اظہار رنج وغم کا کرتے ہوئے غمزدہ خاندانوں کے ساتھ تعزیتی وہمدر دی کی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق پونچھ میںاُس وقت سنیچر کو کم سے کم 3خواتین سمیت14مسافر جاں بحق جبکہ13دیگر زخمی ہوگئے ، جب ایک مسافر گاڑی حادثے کا شکارہوئی۔یہ دلدوز حادثہ پونچھ کے تحصیل منڈی میں سنیچر کی صبح9بجے قریب اْس وقت پیش آگیا جب ایک مسافر گاڑی سڑک سے لڑھک کر ایک گہری کھائی میں جاگری۔پونچھ سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق مسافر گاڑی زیر نمبر JK02W/0445 لوران سے پونچھ کی طرف جارہی تھی اور جونہی یہ لوران سے3کلو میٹر دور پلیرا منڈی علاقے میں صبح سوا 9بجے پہنچی تو اس کو حادثہ پیش آگیا۔بتایا جاتا ہے کہ42سیٹوں پر مشتمل مسافر بس میں قریب30مسافر سوار تھے ۔عینی شاہدین کے مطابق مذکورہ زیر تجدید ومرمت ہے اور موڑ کاٹنے کے دوران ڈرائیور بس پر قابو کھو بیٹھا ،جسکی وجہ سے یہ گہرے کھائی میں جاگری ۔بتایا جاتا ہے کہ کھائی میں گرنے سے قبل بس چٹانوں سے ٹکرا گئی ،جسکی وجہ سے گاڑی کے پرکچے اڑ گئے اور اس میں سوار مسافر دور دور تک گر گئے ۔معلوم ہوا ہے کہ موقعے پر ہی 6مسافروں کی موت ہوگئی جبکہ اسپتال لیجانے کے دوران مزید 3مسافروں کی موت ہوگئی ۔معلوم ہوا ہے کہ اسپتال میں زیر علاج رہنے کے دوران مزید5مسافر زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے ۔زخمیوں میں سے اب بھی کئی ایک کی حالت نازک بناتی جارہی ہے ،جسکی وجہ سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ زخمیوں کو فوری طور سب ضلع اسپتال منڈی پہنچایا گیا۔بلاک میڈیکل آفیسر پونچھ سید مشتاق حسین نے کہا کہ 14مسافر جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ13زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ ان میں سے 5 شدید زخمیوں کو ضلع اسپتال پونچھ پہنچایا گیا ہے۔کے این این کے پاس دستیاب محکمہ صحت کی ایک فہرست کے مطابق مرنے والوں کی شناخت32سالہ اعجاز احمد ولد محمد رمضان ساکنہ سب ،2سالہ معصوم عفیہ پروین دختر محمد رشید ساکنہ لویال بیلا ،35سالہ پروین اختر دختر محمد رشید ،72سالہ ولی محمد ساکنہ برا چار ،52سالہ غلام حسین ولد نور محمد ساکنہ چکری ،38سالہ بشیر احمد ولد فٹح پرے ساکنہ لوران،40سالہ شریفہ بی ساکنہ لوران ،17سالہ نازیہ اختر ساکنہ لوران ،21سالہ گلشن اختر ساکنہ لوران ،26سالہ محمد یوسف ساکنہ لوران ،50سالہ بشیر احمد ،45سالہ عبد الرشید ساکنہ لوران ،55سالہ محمد راشدساکنہ برا چار اور 10سالہ محمد یاسر ساکنہ لویال بیلا کے بطور ہوئی ۔زخمیوں کی شناخت ربینہ ،محمد ایاز ،محمد حفیظ ،پروین اختر ،مکسوم حسین ،محمد رشید ،اسام جان ،نسیم اختر ،محمد زاہد ،مختیار حسین،تاج محمد ،محمد رمضان ،پرویندر سنگھ (ڈرائیور )کے بطور ہوئی ۔معلوم ہوا ہے کہ بس کو حادثہ پیش آنے کی خبر پھیلتے ہی لوگوں کی ایک خاصی تعداد جائے حادثہ پر پہنچ گئی ،جنہوں نے حادثے کے شکار افراد کو گہری کھائی سے نکالنے کیلئے پولیس ،فائر اینڈ ایمرجنسی اور دیگر ریسکیو ذرائع کے بچاؤ وراحت رسانی آپریشن میں مددکی ۔معلوم ہوا ہے کہ انسانی زنجیر بنا کر حادثے کے شکار افراد کو گہری کھائی سے نکالا گیا اور اُنہیں اسپتال منتقل کیا گیا ۔اس ددوران پونچھ کے تمام صحت مراکز اور اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ۔یاد رہے جمعہ کو کشتواڑ میں ایک سڑک حادثے میں دو لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ یہاں ایک ٹینکر گہری کھائی میں گر گیا تھا۔ یہ حادثہ کشتواڑ کے باہر واقع ہستی پل میں پیش آیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ حادثہ تیز رفتاری کی وجہ سے پیش آیا، ڈرائیور نے ایک خطرناک موڑ پر بھی بس کی رفتار کو کم نہیں کیا جس کے باعث مسافر بس بے قابو ہو کر کھائی میں گر گئی۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیم اور پولیس کے تاخیر سے پہنچنے کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ ہوا جب کہ حادثہ ڈرائیور کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے پیش آیا۔ کھائی گہری ہونے کی وجہ سے بھی ریسکیو کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔اس دوران سڑک حادثے میں انسانی جانوں کے اتلاف پر گور نر ستیہ پال ملک ،سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی ،عمر عبداللہ ،ڈاکٹر فاروق عبد اللہ ،کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر سمیت تمام مین اسٹریم لیڈران نے اظہار رنج وغم کا کرتے ہوئے غمزدہ خاندانوں کے ساتھ تعزیتی وہمدر دی کی ۔مین اسٹریم لیڈران نے سڑک حادثے میں انسانی جانوں کے اتلاف کو بڑا المیہ قرار دیا ۔انہوں نے گور نر انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ مرنے والے افراد کے لواحقین کے حق میں معقول معاوضہ واگزار کر ے جبکہ زخمیوں کو مفت علاج ومعالجہ کی سہولیت دستیاب رکھی جائے ۔اس دوران ڈاکٹرفاروق عبداللہ( رکن پارلیمان) اور نائب صدر عمر عبداللہ نے پلارہ پونچھ میں ایک دلدوز اور المناک سڑک حادثہ میں قیمتی جانوں کی زیاں پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے اور اس ناقابل برداشت سانحہ پر مرحومین کے جملہ سوگواراں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے روحوں کی سکون کے لئے دعاکی اور پسماندگان کو یہ صدمہ عظیم برداشت کرنے کی دعاکی ۔لیڈران نے اس بات پر افسوس کا اظہارکیا کہ سڑک حادثات معمول بن گیا ہے اور ہم نے بار بار وقت کے حکمرانوں کو آگاہی کرتے رہے کہ وہ سڑک حادثات روکنے میں اپنا فرض نبھانے میں کوئی بھی دقیقہ فرو گزاشت نہ کریں ۔ لیڈران نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ اس سڑک حادثہ میں جو قیمتی جانیں تلف ہوئیں ہے ان کے سوگواراں اورپسماندگان کو معقول مالی امدادفراہم کی جائے اور ایک درجن سے زائد زخمیوں کی علاج ومعالج کے لئے مناسب طبی خدمات فراہم کی جائیں ادھر پارٹی کے صوبائی صدر شری دیویندر سنگھ رانا صوبائی صدر یوتھ اعجاز احمد جان ، سینئر لیڈران خالد نجیب سہروردی ، سجاد احمد کچلو نے بھی سڑک حادثہ میں جاں بحق ہوئے خاندانوں کے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں صبر جمیل عطا کرنے کی دعا کی ۔ ادھرسی پی آئی ایم کے سینئر رہنما محمد یوسف تاریگامی نے پونچھ کے منڈی علاقے میں رونما ہوئے سڑک حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیاہے جس میں کئی قیمتی جانیں تلف ہوئی ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں ۔ اپنے ایک بیان میں تاریگامی نے کہاکہ انہیں بس حادثے پر گہرا دکھ پہنچاہے جس کے نتیجہ میں علاقے میں ماتم کا ماحول ہے اور وہ دکھ کی اس گھڑی میں لواحقین کے ساتھ برابر کے شریک ہیں ۔انہوں نے گورنر انتظامیہ پر زور دیاکہ مرنے والوں کے لواحقین کو ایکس گریشیاء ریلیف اور مضروبین کے بہتر سے بہتر علاج کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔تاریگامی نے کہاکہ بدقسمتی سے حکومت کی طرف سے دور دراز اور پہاڑی علاقوں ان حادثات پر روک تھام کیلئے کوئی اقدام نہیں کیاجاتا۔ انہوں نے کہاکہ ان کی قیادت میں کئی سال قبل بننے والی ہاؤس کمیٹی کی رپورٹ بھی نہ جانے کہاں دھول چاٹ رہی ہے ،اس رپورٹ میں سڑک حادثات کی روک تھام کیلئے جامع سفارشات پیش کی گئی تھیں ۔انہوں نے کہاکہ سڑک حادثات پر افسوس کے بجائے ان کی روک تھام کیلئے سنجیدگی سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔

Please follow and like us:
1000

پنچایتی انتخابات کاآٹھویں مرحلہ،2633 پولنگ مراکز

جموں /ریاست میں کل منعقد ہونے والے پنچائتی انتخابات کے آٹھویں مرحلے کے دوران 2633 پولنگ مراکز پر ووٹنگ ہو گی جن میں سے کشمیر صوبے کے550 اور جموں صوبے کے 2083 پولنگ مراکز شامل ہیں ۔ پولنگ کا عمل صبح آٹھ بجے شروع ہو کر2بجے تک جاری رہے گا ۔ سی ای او جے اینڈ کے شالین کابرا کے مطابق 361 پولنگ مراکز کو انتہائی حساس زمرے میں رکھا گیا ہے جن میں سے کشمیر صوبے کے 171 اور جموں صوبے کے 190 پولنگ مراکز شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آٹھویں مرحلے میں 331 سرپنچ اور 2007 پنچ حلقوں کیلئے6340 اُمیدوار میدان میں ہیں جبکہ43 سرپنچوں اور681 پنچوں کو پہلے ہی بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا جا چکا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آٹھویں مرحلے کے دوران 515121 ووٹر سرپنچ حلقوں اور 419775 ووٹر پنچ حلقوں کیلئے
ووٹ ڈالیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ووٹروں میں پہلے ہی فوٹو ووٹر سلپ تقسیم کئے جا چکے ہیں ۔ سی ای او نے کہا کہ ریاست میں 7مرحلوں کے پنچایتی انتخابات کے دوران مجموعی طور پر 73.8 فیصد ووٹنگ درج کی گئی اور پہلے 7مرحلوں میں کشمیر صوبے میں 44.4فیصد جبکہ جموں صوبے میں 83.2 فیصد ووٹروں نے ووٹ ڈالیں ۔ انہوں نے کہا کہ یکم دسمبر کو منعقد ہوئے پنچایتی انتخابات کے چھٹے مرحلے میں ریاست میں 76.9 فیصد ووٹنگ درج کی گئی جس میں سے 84.6فیصد ووٹنگ جموں صوبے جبکہ 17.3فیصد ووٹنگ کشمیر صوبے میں ریکارڈ کی گئی۔کابرانے کہا کہ 29؍نومبر کو پنچایتی انتخابات کے پانچویں مرحلے کے دوران مجموعی طور پر ریاست میں 71.1فیصد ووٹنگ درج کی گئی جس میں کشمیر صوبے میں 33.7 فیصد جبکہ جموں صوبہ میں 85.2فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔انہوں نے کہا کہ پنچایتی انتخابات کے چوتھے مرحلے کے دوران ریاست میں مجموعی طور پر 71.3 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی جبکہ اس مرحلے کے دوران جموں صوبے میں 82.4 اور کشمیر صوبے میں 32.3 فیصد ووٹنگ درج کی گئی ۔ اسی طرح تیسرے مرحلے کے دوران ریاست میں 75.2 فیصد ووٹنگ درج کی گئی اس مرحلے میں کشمیر صوبے میں 55.7 جبکہ جموں صوبے میں 83 فیصد ووٹروں نے اپنی حقِ رائے دہی کا استعمال کیا ۔ 20 نومبر 2018 کو منعقد ہوئے دوسرے مرحلے کے دوران مجموعی طور پر ریاست میں 71.1 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی اس مرحلے کے دوران جموں صوبے میں 80.4 اور کشمیر میں 52.2 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ۔ شالین کابرا نے کہا کہ 17 نومبر 2018 کو منعقد ہوئے پہلے مرحلے کے دوران ریاست میں 74.1 ووٹنگ درج کی گئی جس میں سے 64.5 فیصد کشمیر صوبے جبکہ 79.4 فیصد ووٹنگ جموں میں ریکارڈ کی گئی ۔سی ای او نے کہا کہ متعلقہ ریٹررننگ افسروں نے ان حلقوں کے نتایج کا اعلان کیا ۔ کابرا نے کہا کہ مختلف شکائتی معاملات اور عدالتی احکامات کے تناظر میں مناسب احکامات صادر کئے گئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر الیکشن شیڈول دوبارہ مرتب کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن بھی جاری کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکمنامے اور نوٹیفکیشن سی ای او جموں کشمیر کی ویب سائیٹ پر دستیاب ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تمام مراکز پر کم سے کم بنیادی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔سی ای او نے کہا کہ پنچائتی انتخابات 2018 کے احسن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے جنرل ابزرور تعینات کئے گئے ہیں علاوہ ازیں اُمیدواروں کے اخراجات پر نظر رکھنے کیلئے ایکسپنڈیچر ابزرور بھی تعینات کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور سے انتہائی حساس پولنگ مراکز پر مائیکرو ابزرور تعینات کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ زونل اور سیکٹر مجسٹریٹ بھی تعینات کئے گئے ہیں ۔ سی ای او نے کہا کہ ریاست کے تمام ضلعوں میں جانکاری فراہم کرنے کیلئے کنٹرول روم قائم کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی سمیت تمام انتظامات مکمل کئے جا چکے ہیں ۔ سی ای او نے کہا کہ حکومت نے چناؤ ہونے والے علاقوں میں پولنگ کے دن چھٹی کا اعلان کیا ہے تا کہ ووٹر ووٹ ڈال سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ جن ملازمین کو دیگر علاقوں میں ووٹ ڈالنے جانا ہو گا اُن کے حق میں خصوصی کیجول لیو منظور کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی دفاتر رہنما خطوط کے مطابق بند نہیں ہوں گے تا ہم ان دفاتر کے جو ملازمین اپنی حقِ رائے دہی کا استعمال کرنا چاہتے ہوں انہیں یہ سہولیت فراہم کی جائے گی ۔ سی ای او نے ووٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی حقِ رائے دہی کا استعمال کرنے کیلئے آگے آئیں تا کہ اُن کے مقامی مسائل حل کئے جا سکیں ۔ 

Please follow and like us:
1000

گورنر ہنگامی طور دہلی روانہ 

چیف سیکریٹری بھی ساتھ گئے 
سرینگر؍ گورنر ستیہ پال ملک ہنگامی طور پر دہلی روانہ ہوئے ہیں جبکہ انہیں آج شیر کشمیر انسٹچیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ کی سالانہ تقریب میں حصہ لینے کے لئے سرینگر روانہ ہونا تھا ۔ اچانک انہوں نے اپنا یہ پرو گرام تبدیل کردیا اور نئی دہلی کے لئے روانہ ہوئے ۔ سرکاری ذرائع نے اس کی تصدیق کی ہے ۔ ان کے ساتھ چیف سیکریٹری بی وی آر سبھرامنیم بھی دہلی روانہ ہوئے جبکہ گورنر کے مشیروں بی بی ویاس اوروجے کمار اور کے کے 
شرما جو پہلے ہی سرینگر پہونچے تھے نے صورہ میڈیکل انسٹچیوٹ کی سالانہ تقریب میں شمولیت کی ۔ یہ تقریب شیخ محمد عبداللہ کے جنم دن پر ہر سال انسٹچیوٹ میں منعقد کی جاتی ہے ۔ گورنر کے پروگرام کی تبدیلی کے بارے میں مزید کچھ معلوم نہیں ہوسکا ہے ۔

Please follow and like us:
1000

مرحوم شیخ محمد عبداللہ کا 113واں یوم پیدائش، مقبرہ پر تعزیتی تقریب 

ڈاکٹر فاروق عبداللہ ،عمر عبداللہ اور دیگر زعماء نے گلباری اور فاتحہ خوانی ادا کی 
سرینگر:مرحوم شیخ محمد عبداللہ کے 113ویں یوم پیدایش پر اُن کے مقبرہ واقعہ نسیم باغ حضرت بل میں سخت سردی کے باوجود کارکنان نیشنل کانفرنس ، مختلف سیاسی ، سماجی اور دینی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مرحوم کے مرقد پر گُلباری اور فاتحہ خوانی ادا کی گئی ، جبکہ صبح 9بجے سے قرآن خوانی کی مجلس آراستہ ہوئی جس میں مختلف ایمہ مسجد، نعت خوان اور علمائے کرام نے شرکت کی۔ پارٹی کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے صبح 11بجے ہی مزار قائد پر آکر فاتحہ خوانی اور گلباری انجام دی۔ اس کے بعد مرحوم کے مرقد پر اجتماعی فاتحہ خوانی ادا کی گئی، جس میں پارٹی کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ،ناب صدر عمر عبداللہ ، جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال اور صوبائی صدر ناصر اسلم وانی ، سینئر لیڈران عبدالرحیم راتھر، چودھری محمد رمضان، شریف الدین شارق، مبارک گل، محمد اکبر لون، نذیر احمد خا 
ن گریزی، میر سیف اللہ، قیصر جمشید لون، عرفان احمد شاہ، پیر آفاق احمد، شمیمہ فردوس، سکینہ ایتو، الطاف احمد کلو، عبدالمجید لارمی، علی محمد ڈار، محمد یوسف ٹینگ، کفیل الرحمن، ڈاکٹر بشیر احمد ویری، غلام محی الدین میر، حاجی عبدلاحد ڈار، ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، شبیر احمد میر، صبیہ قادری، جگدیش سنگھ آزاد، ایڈوکیٹ عباس ڈار، غلام نبی بٹ، حاجی غلام رسول صوفی، میر غلام رسول ناز، تنویر صادق،عمران نبی ڈار، احسان پردیسی، مدثر شہمیری کے علاوہ تمام سرکردہ لیڈران، عہدیداران، ضلع اور بلاک صدور نے فاتحہ خوانی اور گُلباری میں شرکت کی جبکہ یوتھ اور خواتین ونگ کے لیڈران بھی موجود تھے۔ اِس سے قبل مرحوم کے تاریخ ساز سیاسی، سماجی خدمات پر روشنی ڈالی گئی۔ جبکہ صبح سویرے سے ہی ریاست کی مختلف مساجد، زیارتگاہوں ، خانقاہوں میں مرحوم رہنما کے حق میں کلمات ، دعائے مغفرت اور قرآن خوانی ادا کی گئی۔ اس سے قبل پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر اور سینئر لیڈر شریف الدین شارق نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اُن کی تاریخ ساز اور ناقابل فراموش تحریک حریت کشمیر کے سلسلے میں مرحوم کی عظیم قربانیوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اِن کی کوششوں کی بدولت طویل جدوجہد اور بے پناہ مشکلات کی بدولت اہل کشمیر کو شخصی راج سے نجات ملا، ۸۰ فیصدی دیہی آبادی کو زمین پر مالکانہ حقوق حاصل ہوئے، مفت تعلیم، پریس پلیٹ فارم کی آزدی ، مذہبی آزادی اور ووٹ پرچی کا حاصل ہوا۔جبکہ سود خواری ، چکداری، بے گاری اور کشمیریوں کو نجات ملی اور مرحوم کی عظیم قربانیاں تا قیامت اہل کشمیر کے دلوں میں یاد رہی گی۔ شیر کشمیر بھون جموں، پیرپنچال، چناب ، لیہہ ، کرگل اور ریاست کے دیگر صدر اور تحصیل مقامات پر مرحوم بابائے قوم شیخ محمد عبداللہ کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ ادھرنیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر (ایڈوکیٹ) نے اپنے پیغام میں ریاستی عوام خصوصاً اُن تمام لوگوں بالخصوص پارٹی سے وابستہ کارکنوں کا تہیہ دل سے شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے سردی کے باوجود مرحوم شیخ محمد عبداللہ کے 113ویں سالگرہ پر اپنا خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے اُن کے مرقد پر حاضری دینے کیلئے پارٹی عہدیداران اور کارکنوں خصوصاً عوام کا شکریہ ادا کیا۔ اُنہوں نے کہا ،کہ پارٹی عہدیداران اور کارکنوں نے صبح صادق مزار پر حاضری دیکر اپنا فرض انجام دیا۔ ساگر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ایک تحریک کا نام ہے اور ہمیشہ سے ریاست کی سالمیت ، فرقہ وارانہ اتحاد اور عوامی مفادات کو تحفظ دینے کیلئے کام کرتی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا عوام تا قیامت شیر کشمیر کی عظیم اور پاک قربانیاں فراموش نہیں کرسکتے ہیں۔ 

Please follow and like us:
1000

سانبورہ اور وچھورہ پلوامہ میں جنگجو مخالف آپریشن 

وچھورہ پلوامہ میں نوجوان کی ہڈی پسلی ایک کردی گئی ،کئی نوجوان گرفتار 
سرینگر؍جنوبی کشمیر میں شبانہ جنگجو مخالف آپریشن جاری سانبورہ اور وچھورہ پلوامہ میں سیکورٹی فورسز نے گھر گھر تلاشی لی جبکہ وچھورہ پلوامہ میں ایک نوجوان کی ہڈی پسلی ایک کردی گئی ۔ادھر شوپیاں میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران کئی نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد سیکورتی فورسز نے درمیانی رات کو سانبورہ پلوامہ میںجنگجو مخالف آپریشن شروع کیا جس دوران گھر گھر تلاشی لی گئی ۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے تلاشی کے دوران مکینوں سے پوچھ تاچھ بھی کی ۔ ذرائع نے بتایا کہ فوج ، پولیس اور سی آر پی ایف کی مشترکہ ٹیم نے کئی گھنٹوں تک تلاشی لی تاہم اس دوران کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔ ادھر فورسز نے پلوامہ کے ہی وچھورہ گاؤں کو محاصرے میں لے کر تلاشی لی جس دوران طاریق احمد شیخ نامی نوجوان کے گھر پر چھاپہ ڈالا گیا ۔ لواحقین نے الزام لگایا کہ فورسز اہلکاروں نے طاریق احمد کی ہڈی پسلی ایک کردی جس کو زخمی حالت میں صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ منتقل کرنا پڑا۔ لواحقین کا مزید کہنا تھا کہ فورسز اہلکاروں نے طاریق احمد کی کئی گھنٹوں تک مارپیٹ کی جس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو گیا ۔ ادھر شوپیاں میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران کئی نوجوانوں کو گرفتار کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ شوپیاں کے شگن گاؤں میں سیکورٹی فورسز نے تلاشی کے دوران کئی مشتبہ نوجوانوں کو حراست میں لے کر اُن سے پوچھ تاچھ شروع کی ہے۔دفاعی ذرائع کے مطابق عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے سانبورہ اور وچھورہ پلوامہ گاؤں میں جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا تاہم اس دوران کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔ وچھورہ پلوامہ میں نوجوان کو ہڈی پسلی ایک کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دفاعی ذرائع نے بتایا کہ لواحقین کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات من گھڑت اور حقیقت سے بعید ہے۔ 

Please follow and like us:
1000

جملہ حقوق سلب کرنے کی پالیسی اختیار:مزاحمتی قیادت 

حکمرانوں کے کشمیر دشمن عزائم عیاں ، انسانی حقوق پامالیوں میں اضافہ 
سرینگر؍مشترکہ مزاحمتی قائدین سید علی گیلانی ، میرواعظ ڈاکٹرمولوی عمر فاروقاور اسیر زندان محمد یاسین ملک نے اپنے مشترکہ بیان میں جموں وکشمیر میں حقوق انسانی کی بدترین پامالیوں میں روز افزوں اضافے کو حکمرانوں کی عوام کُش پالیسیوں کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمران طبقے میں کشمیر میں تمام مسلمہ جمہوری ، اخلاقی اور انسانی قدروں کو بالائے طاق رکھ کر جس طرح یہاں کے عوام کو ہر طرح سے مصائب میں مبتلا کرنے اور طاقت کے بل پر ان کے جملہ حقوق سلب کرنے کی پالیسی اختیار کررکھی ہے وہ نہ صرف ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے بلکہ اس طرح کے اقدامات سے حکمرانوں کے کشمیر دشمن عزائم کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔قائدین نے کہا کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے انسانی حقوق کے حوالے سے رواں ہفتے میں جوپر امن تقریبات منانے کا اعلان کیا ہے اس کا مقصد صرف دنیا بھر کے مہذب اقوام اور حقوق انسانی کے عالمی اداروں کی جموں وکشمیر میں ہو رہی حقوق انسانی کی پامالیوں کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے ۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہیومن رائٹس ڈے پوری مہذب دنیا میں انسانی حقوق کو اجاگر کرنے کے حوالے سے منایا جاتا ہے اور اسی تناظر میں قیادت نے جموں وکشمیر میں یہ دن منانے کا فیصلہ کیا تاہم قیادت کی جانب سے دیئے گئے حقوق انسانی ہفتے کے پر امن پروگراموں حتیٰ کہ موم بتیاں جلا کر جذبات کے خاموش اظہار کو بھی جس طرح طاقت کے بل پر ناکام بنانے کیلئے آمرانہ ہتھکنڈے استعمال کئے گئے مزاحمتی تحریک سے وابستہ قائدین اور کارکنوں جن میں جناب نور محمد کلوال، شوکت احمد بخشی، شیخ عبدالرشید، محمد یاسین بٹ، اور دیگر کارکن شامل ہیں اور جو صرف موم بتیاں جلا کر پر امن طور کشمیر میں حقوق انسانی کی پامالیوں کی جانب مہذب دنیا کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کررہے تھے کو شبانہ چھاپوں کے دوران گھروں سے گرفتار کرکے تھانوں میں مقید کردیا گیا جبکہ اس دوران مزاحمتی قائدین سید علی گیلانی اور میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق تحریک حریت کے چیرمین جناب محمد اشرف صحرائی اور بلال صدیقی کو گھروں میں نظر بند جبکہ سینئر مزاحمتی رہنما محمد یاسین ملک کو گزشتہ کئی روز سے تھانے میں مقید رکھا گیا ہے وہ حکمرانوں کی صریحا بوکھلاہٹ اور فسطائی سوچ کی عکاسی کرتی ہے ۔قائدین نے کہا کہ جب بھی مزاحمتی قیادت نے ہڑتال سے ہٹ کر اپنے زخمی جذبات کے اظہار کیلئے پر امن راستہ اختیار کیا حکمرانوں نے روایتی آمریت کا مظاہرہ کرکے ان پروگراموں کو ناکام بنانے کیلئے طاقت اور تشدد کا سہارا لیا ۔ مزاحمتی قیادت کیلئے سیاسی مکانیت کو مسدود کردیا جبر و استبداد ، ظلم و جبر اور انسانیت سوز مظالم کیخلاف آواز اٹھانے پر پابندی عائد کردی ۔ لوگوں کے جملہ حقوق سلب کر لئے گئے اور ان سے جینے کا حق بھی چھین لیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان ظالمانہ ہتھکنڈوں کے ردعمل میں یہاں کے عوام خاص کر نوجوان جب اپنے جذبات کے اظہار کیلئے ہر طرف راستوں کو مسدودپاتے ہیں تو تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق عسکریت کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور یہ صرف اور صرف حکمرانوں کی ہٹ دھرمی اور عوام دشمن پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ یہاں کی نوجوان نسل مزاحمت کیلئے جان لیوا راستہ اختیار کررہے ہیں۔قائدین نے واضح کیا کہ گرفتاریوں، قدغنوں اور جبر و استبداد سے نہ ہماری پر امن تحریک آزادی کو ختم کیا جاسکتا ہے اور نہ مظالم اور جبر و ظلم کے خلاف ہماری آواز کو خاموش کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کشمیر کے حریت پسند عوام سے اپیل کی کہ وہ قیادت کی جانب سے دیئے گئے حقوق انسانی ہفتے کی تقریبات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور دنیا کو کشمیر کی سنگین صورتحال سے واقف کرانے کیلئے اپنی آواز بلند کریں۔قائدین نے دنیا بھر کے انصاف پسند اقوام و ممالک خاص طور پر اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن (UNHCR) ، Amnesty international, Asia Watch, ICRC اور دیگر حقوق البشر کی مستند تنظیموں سے کشمیر میں ہو رہی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی طرف اپنی توجہ مبذول کرنے کی اپیل دہراتے ہوئے کہا کہ جس طرح طاقت کے بل پر یہاں کے مظلوم عوام کے جملہ حقوق چھین کر ان سے جینے کا حق بھی چھینا جارہا ہے اس کا سنجیدہ نوٹس لیکر بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ کشمیری عوام کیخلاف جاری جارحانہ اور عوام کُش پالیسیوں پر قدغن لگانے کیلئے موثر اور کارگر اقدامات اٹھائیں اور نہتے کشمیریوں کو امن اور تحفظ فراہم کریں۔

Please follow and like us:
1000

پنچایتی انتخاب کے ساتویں مرحلے ووٹنگ 

سرپنچ حلقوں کیلئے475865 ووٹر جبکہ پنچ وارڈوں کیلئے 345880 رائے دہندگان 
جموں /ریاست میں کل منعقد ہونے والے پنچائتی انتخابات کے ساتویں مرحلے کے دوران 2714 پولنگ مراکز پر ووٹنگ ہو گی جن میں سے کشمیر صوبے کے576 اور جموں صوبے کے 2138 پولنگ مراکز شامل ہیں ۔ پولنگ کا عمل صبح آٹھ بجے شروع ہو کر دو بجے تک جاری رہے گا ۔ سی ای او جے اینڈ کے شالین کابرا کے مطابق 892 پولنگ مراکز کو انتہائی حساس زمرے میں رکھا گیا ہے جن میں سے کشمیر صوبے کے 428 اور جموں صوبے کے 464 پولنگ مراکز شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ساتویں مرحلے میں 341 سرپنچ اور 1798 پنچ حلقوں کیلئے5575 اُمیدوار میدان میں ہیں جبکہ 85 سرپنچوں اور912 پنچوں کو پہلے ہی بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا جا چکا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ساتویں مرحلے کے دوران 475865 ووٹر سرپنچ حلقوں اور 345880 ووٹر پنچ حلقوں کیلئے ووٹ ڈالیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ووٹروں میں پہلے ہی فوٹو ووٹر سلپ تقسیم کئے جا چکے ہیں ۔ سی ای او نے کہا کہ ریاست میں 6مرحلوں کے پنچایتی انتخابات کے دوران مجموعی طور پر 73.6 فیصد ووٹنگ درج کی گئی اور پہلے 6مرحلوں میں کشمیر صوبے میں 46.1فیصد جبکہ جموں صوبے میں 82.8 فیصد ووٹروں نے ووٹ ڈالیں ۔ انہوں نے کہا کہ یکم دسمبر کو منعقد ہوئے پنچایتی انتخابات کے چھٹے مرحلے میں ریاست میں 76.9 فیصد ووٹنگ درج کی گئی جس میں سے 84.6فیصد ووٹنگ جموں صوبے جبکہ 17.3فیصد ووٹنگ کشمیر صوبے میں ریکارڈ کی گئی۔کابرانے کہا کہ 29؍نومبر کو پنچایتی انتخابات کے پانچویں مرحلے کے دوران مجموعی طور پر ریاست میں 71.1فیصد ووٹنگ درج کی گئی جس میں کشمیر صوبے میں 33.7 فیصد جبکہ جموں صوبہ میں 85.2فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔انہوں نے کہا کہ پنچایتی انتخابات کے چوتھے مرحلے کے دوران ریاست میں مجموعی طور پر 71.3 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی جبکہ اس مرحلے کے دوران جموں صوبے میں 82.4 اور کشمیر صوبے میں 32.3 فیصد ووٹنگ درج کی گئی ۔ اسی طرح تیسرے مرحلے کے دوران ریاست میں 75.2 فیصد ووٹنگ درج کی گئی اس مرحلے میں کشمیر صوبے میں 55.7 جبکہ جموں صوبے میں 83 فیصد ووٹروں نے اپنی حقِ رائے دہی کا استعمال کیا ۔ 20 نومبر 2018 کو منعقد ہوئے دوسرے مرحلے کے دوران مجموعی طور پر ریاست میں 71.1 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی اس مرحلے کے دوران جموں صوبے میں 80.4 اور کشمیر میں 52.2 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ۔ شالین کابرا نے کہا کہ 17 نومبر 2018 کو منعقد ہوئے پہلے مرحلے کے دوران ریاست میں 74.1 ووٹنگ درج کی گئی جس میں سے 64.5 فیصد کشمیر صوبے جبکہ 79.4 فیصد ووٹنگ جموں میں ریکارڈ کی گئی ۔سی ای او نے کہا کہ متعلقہ ریٹررننگ افسروں نے ان حلقوں کے نتایج کا اعلان کیا ۔ کابرا نے کہا کہ مختلف شکائتی معاملات اور عدالتی احکامات کے تناظر میں مناسب احکامات صادر کئے گئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر الیکشن شیڈول دوبارہ مرتب کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن بھی جاری کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکمنامے اور نوٹیفکیشن سی ای او جموں کشمیر کی ویب سائیٹ پر دستیاب ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تمام مراکز پر کم سے کم بنیادی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔سی ای او نے کہا کہ پنچائتی انتخابات 2018 کے احسن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے جنرل ابزرور تعینات کئے گئے ہیں علاوہ ازیں اُمیدواروں کے اخراجات پر نظر رکھنے کیلئے ایکسپنڈیچر ابزرور بھی تعینات کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور سے انتہائی حساس پولنگ مراکز پر مائیکرو ابزرور تعینات کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ زونل اور سیکٹر مجسٹریٹ بھی تعینات کئے گئے ہیں ۔ سی ای او نے کہا کہ ریاست کے تمام ضلعوں میں جانکاری فراہم کرنے کیلئے کنٹرول روم قائم کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی سمیت تمام انتظامات مکمل کئے جا چکے ہیں ۔ سی ای او نے کہا کہ حکومت نے چناؤ ہونے والے علاقوں میں پولنگ کے دن چھٹی کا اعلان کیا ہے تا کہ ووٹر ووٹ ڈال سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ جن ملازمین کو دیگر علاقوں میں ووٹ ڈالنے جانا ہو گا اُن کے حق میں خصوصی کیجول لیو منظور کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی دفاتر رہنما خطوط کے مطابق بند نہیں ہوں گے تا ہم ان دفاتر کے جو ملازمین اپنی حقِ رائے دہی کا استعمال کرنا چاہتے ہوں انہیں یہ سہولیت فراہم کی جائے گی ۔ سی ای او نے ووٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی حقِ رائے دہی کا استعمال کرنے کیلئے آگے آئیں تا کہ اُن کے مقامی مسائل حل کئے جا سکیں ۔ 

Please follow and like us:
1000

جنگجوؤں کے مبینہ معاونین اورسنگبازوں کیخلاف کریک ڈاؤن

۔30نوجوان چھاپوں کے دوران گرفتار
ہتھیارچھیننے کامنصوبہ ناکام:8افرادگرفتار:ایس ایس پی بارہمولہ
سرینگر؍ریاستی پولیس نے فوج اورفورسزکے اشتراک سے جنگجوؤں کے معاونین ،بالائی زمین ورکروں اورجنگجومخالف کارروائیوں کے دوران سنگباری کرنے والے نوجوانوں کیخلاف پوری وادی میں بڑی پیمانے پرکریک ڈاؤن شروع کردیاہے ۔ترال،سوپور،بارہمولہ ،ٹنگمرگ اورسری نگرمیں الگ الگ چھاپوں کے دورا ن لگ بھگ30نوجوان گرفتارکے گئے تاہم پولیس نے2درجن نوجوانوں کومختلف نوعیت کی خلاف قانون سرگرمیوں میں ملوث یاسرگرم ہونے کی پاداش میں گرفتارکئے جانے کی تصدیق کی ۔ایس ایس پی 
بارہمولہ امتیازحسین نے کہاکہ بارہمولہ ،ٹنگمرگ اورسری نگرمیں گرفتارکئے گئے8نوجوان اس بناء پرحراست میں لئے گئے کیونکہ وہ جنگجوؤں کے قائم کردہ اُس گروپ یانیٹ ورک سے وابستہ تھے جن کوپولیس وفورسزاہلکاروں سے ہتھیارچھین لینے کام سونپاگیاتھا۔کشمیرنیوزسروس(کے این ایس)کوپولیس ذرائع نے بتایاکہ ترال اورکھریوپانپورمیں حزب المجاہدین اورجیش محمدنامی جنگجوتنظیموں کے دونیٹ ورک کاسراغ لگاکر10ایسے افرادکی گرفتاری عمل میں لائی گئی جوجنگجوؤں کے قریبی معاون تھے ۔انہوں نے کہاکہ پولیس وفورسزکی ایک خصوصی ٹیم نے ترال میں الگ الگ چھاپوں کے دوران یونس نبی ملک ولدغلام نبی ساکنہ پنگلش،فیاض وانی ولدغلام محی الدین ساکنہ ریشی پورہ ،ریاض احمدگنائی ولدمحمدرمضان ساکنہ نگین پورہ اوربلال احمدراتھرولد غلام رسول کوحراست میں لیاجبکہ اُنکی تحویل سے قابل اعتراض چیزیں بھی برآمدکی گئیں ۔ذرائع نے بتایاکہ گرفتارشدگان کے بارے میں ایسے شواہدملے ہیں کہ وہ ترال میں مختلف مقامات پرہوئے جنگجوئیانہ حملوں وسرگرمیوں سے واسطہ رکھتے تھے ۔پولیس ترجمان نے بتایاکہ اسی نوعیت کی کارروائی کھریوپانپورمیں بھی عمل میں لائی گئی ،اوریہاں جنگجوؤں کے جن معاونین کوگرفتارکیاگیا،اُن میں جاویداحمدپرے ولدمحمدسبحان ساکنہ بیتھان کھریو،یاسربشیروانی ولدبشیراحمدوانی ساکنہ باباپورہ کھریو،طاہریوسف لون ولدمحمدیوسف ساکنہ کھریو،رفیق احمدبٹ ولدغلام احمدساکنہ شارشالی کھریو،جاویداحمدگنائی ولدغلام احدکھانڈے ساکنہ کھریواورعمران نذیرولدنذیراحمدنجارساکنہ منڈک پال کھریوشامل ہیں ۔ترجمان نے کہاکہ گرفتارشدگان سے گرینیڈاوربارودی سرنگ دھماکوں کیلئے استعمال میں لائے جانے والامواداوردیگرسامان برآمدکیاگیا۔اس دوران شمالی قصبہ سوپوراوراسکے نواحی علاقوں میں الگ الگ کارروائیوں کے دوران پولیس نے فورسزکے اشتراک سے متعددنوجوانوں کوحراست میں لیا۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ سوپور،نوپورہ اورآرم پورہ میں چھاپوں کے دوران ایک درجن نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تاہم پولیس ذرائع نے صرف نصف درجن افرادکوحراست میں لئے جانے کی تصدیق کی ۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ سوپورمیں مختلف علاقوں سے جن نصف درجن نوجوانوں کوگرفتارکیاگیا،وہ سنگباری کے واقعات میں ملوث ہیں ،اوراُن کیخلاف پہلے ہی کیس درج تھے ۔دریں اثناء بارہمولہ پولیس نے فورسزکے اشتراک سے بارہمولہ ،ٹنگمرگ اورسری نگرمیں الگ الگ چھاپوں کے دوران8نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں لائی ۔ایس ایس پی بارہمولہ امتیازحسین نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ جنگجوگروپوں نے مختلف علاقوں میں پولیس وفورسزاہلکاروں سے ہتھیارچھین لینے کامنصوبہ بنایاتھا،اوراس منصوبے کی عمل آوری کیلئے کئی نوجوانوں کومتحرک کیاگیاتھا۔انہوں نے کہاکہ ہتھیارچھین لینے کیلئے قائم کردہ نیٹ ورک میں شامل نوجوانوں کے بارے میں مصدقہ اطلاعات ملنے کے بعدپولیس وفورسزکی الگ الگ پارٹیوں نے بارہمولہ ،ٹنگمرگ اورسری نگرمیں کئی مقامات پرچھاپے ڈالے۔ایس ایس پی بارہمولہ کاکہناتھاکہ جنگجوؤں کے گرفتارکئے گئے سبھی8معاونین کیخلاف پولیس تھانہ ٹنگمرگ میں ایف آئی آرزیرنمبر102/2018زیردفعہ18،38یواے (پی)ایکٹ کے تحت کیس درج کیاگیا،اورملزمان کیخلاف تحقیقات شروع کی گئی ۔ایس ایس پی بارہمولہ میر امتیازحسین نے مزیدکہاکہ گرفتارشدگان کی نشاندہی پرکچھ اسلحہ وگولی بارودبھی برآمدکیاگیا ۔

Please follow and like us:
1000

پی آر سی قوانین میں تبدیلی خطے کی متنازعہ حیثیت کو زک پہنچانا

عوام اپنے پیدائشی اور بنیادی حق سے ایک انچ بھی ہٹنے کو تیار نہیں:مزاحمتی قیادت 
سرینگر؍ مزاحمتی قیادت بشمول سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے پشتینی باشندگان سرٹیفکیٹ سے متعلق میڈیائی رپورٹوں کے تناظر میں کہا کہ اس طرح کی کوششیں نئی دہلی کی اُن پالیسیوں کا حصہ ہے جس کے تحت وہ ریاست جموں وکشمیر میں پی آر سی قوانین کو تبدیل کرکے یہاں آبادی کے تناسب کو بگاکر متنازعہ خطے کیحیثیت کو مسخ کرنا چاہتے ہیں۔ کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت بشمول سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے سٹیٹ سبجیکٹ سرٹفکیٹ کے حوالے سے میڈیا میں آئے حالیہ رپورٹ کے تناظر میں کہا کہ اس طرح کے اقدامات نئی دلی کی اُن کاوشوں کا حصہ ہے جس کے تحت وہ جموں کشمیر میں سٹیٹ سبجیکٹ قوانین کو تبدیل کر کے یہاں کے آبادی کے تناسب کو بگاڑ کر اس ریاست کی متنازعہ ہیت و حیثیت کو مسخ کرنے کے درپے ہے۔ قیادت نے کہا کہ ڈوول ڈاکٹرائن جو در اصل اسرائیل سے مستعار لیا گیا ہے کا مقصد کشمیریوں کی ذہنی، جسمانی، نفسیاتی اور معاشی غرض زندگی کے ہر شعبے پر ضرب لگا کر اُن پر شدید دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ تھک ہار کر اپنے جائز جد وجہد سے دستبردار ہوجائیں۔ لیکن نئی دلی اس حقیقت سے انکار کرتی نظر آتی ہے کہ بھارت نواز پارٹیوں اور گروپوں کی شکل میں اُن کے چاہے کتنے بھی ایسے حلیف یہاں موجود ہو ں جو اقتدار کی لالچ میں اُ ن کا ساتھ دیتے ہے لیکن کشمیر کے عوام ایک دو سال نہیں بلکہ پچھلی 3 دہائیوں سے ہندوستان کے انتہائی ظلم و ستم کا نہایت عزم و استقلال کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں اور وہ اپنے بنیادی حق سے ایک انچ بھی ہٹنے کو تیار نہیں ہیں ۔کچھ بھی ہو وہ اپنے اس عزم پرقائم و کاربند ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ علاقی حلیف جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو ہندوستان کے اشاروں پر ناچتے ہیں لیکن جب اقتدار سے باہر ہوجاتے ہے توبالکل مختلف بولی بولتے ہیں اور عوامی جذبات کا استحصال کرکے انتخابی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کشمیر کے عوام سیاسی طور بالغ ہیں اور وہ جانتے ہے کہ نئی دلی کے ان حربوں کا کیسے مقابلہ کیا جاتا ہے۔بھارت کے وزیر داخلہ کے بیان کہ ’’جموں کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے‘‘ کے بارے میں مشترکہ قیادت نے کہا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ اپنے بے تحاشہ فوجی قوت کے بل پر وہ ریاست جموں کشمیر کے علاقے پر تسلط جمائے ہوئے ہے لیکن وہ باخبر ہیں کہ عوامی رائے اس کے بالکل برعکس ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ جموں کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت کے بارے میں دئے گئے اپنے وعدے پر عمل کرنے سے انکاری ہیں اور اس بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ کو حل کرنے سے کتراتے ہیں۔ قیادت نے کہا کہ اٹوٹ انگ کی کتنی بھی گردان کی جائے مسئلہ کشمیر کی بنیادی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ دریں اثنا مشترکہ قیادت نے عوا م کے سبھی طبقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف احتجاج کے ہفتے جو آج سے شروع ہوکر 9 دسمبر تک جاری رہے گا، کے دوران بھر پور طریقے سے اپنا احتجاج درج کریں۔

Please follow and like us:
1000

رہبر تعلیم اساتذہ کا سرینگر اور جموں میں احتجاج

ساتویں پے کمیشن کی فوری واگذاری کا مطالبہ 
سرینگر، 3 دسمبر (یو ا ین آئی) جموں وکشمیر میں رہبر تعلیم اساتذہ کی جانب سے پیر کے روز ریاست کے دونوں دارالحکومتوں سری نگر اور جموں میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کیا گیا۔ یہ اساتذہ جن کی تعداد ہزاروں میں ہے، ساتویں پے کمیشن کی فوری واگذاری اور تنخواہوں کو سٹیٹ سیکٹر کے ساتھ منسلک کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ رہبر تعلیم اساتذہ نے دھمکی دی ہے کہ 10 دسمبر تک مطالبات پورے نہیں کئے گئے تو وہ جموں میں غیرمعینہ عرصے تک جاری رہنے والا احتجاجی دھرنا دیں گے۔ پریس کالونی میں احتجاج کرنے والے رہبر تعلیم اساتذہ کی جانب سے ’ہماری مانگیں پوری کرو، محنت ہماری لوٹ تمہاری نہیں چلے گی نہیں چلے گی‘ جیسے نعرے لگائے گئے۔ اس موقع پر ایک احتجاجی ٹیچر نے نامہ نگاروں کو بتایا ہم اپنے جائز مطالبات کے حق میں مسلسل احتجاج کررہے ہیں۔ لیکن ریاستی انتظامی کونسل ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے۔ سابق وزیر این این ووہرا نے ایک اعلیٰ اختیار والی کمیٹی بنائی تھی۔ ریاستی انتظامی کونسل کو مزید کسی تاخیر کے رہبر تعلیم اساتذہ کے حق میں ساتویں پے کمیشن کی سفارشات لاگو کرنی چاہیں۔ ہم سرکار کو 10 دسمبر تک وقت دیتے ہیں۔ اگر 10 دسمبر تک ہمارے مسئلے کو حل نہیں کیا گیا تو ہم جموں میں غیرمعینہ وقت کے لئے دھرنا دینے کے لئے مجبور ہوجائیں گے‘۔ سرمائی دارالحکومت جموں میں احتجاج کرنے والوں کی جانب سے ’لاگو کرو لاگو ساتویں کمیشن لاگو کرو، قوم کے معماروں کو عزت دو عزت دو‘ جیسے نعرے لگائے گئے۔ اس موقع پر ایک خاتون ٹیچر نے نامہ نگاروں کو بتایا ’ہماری تنخواہ واگذار نہیں کی جارہی ہے۔ ہماری گورنر صاحب سے اپیل ہے کہ ایک تو ہماری تنخواہ واگذار کی جائے، دوسرا ہماری تنخواہیں ریاستی بجٹ سے واگذار کی جائیں۔ ہم نہیں چاہتے ہیں کہ بچوں کا نقصان ہو۔ اگر گورنر انتظامیہ چاہتی ہے کہ یہاں کے اسکول معمول کے مطابق چلیں تو انہیں ہمارے مطالبات پورے کرنے ہوں گے‘۔ بتادیں کہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے 40ہزار سے زائد اساتذ ہ ساتویں تنخواہ کمیشن کا مطالبہ کر رہے ہیں جوتاحال سرکار کی جانب سے منظور نہیں کیا گیا ہے۔ ایس ایس اے اور رمسا کے تحت اساتذہ ، ہیڈ ٹیچرس اور ماسٹرس ساتویں پے کمیشن کے اطلاق اور اُن کی تنخواہوں کو سٹیٹ سیکٹر کے ساتھ منسلک کرنے کے حق میں سری نگر اور جموں میں مسلسل احتجاج کررہے ہیں

Please follow and like us:
1000

نیلورہ میں فورسز پر فائرنگ، شہری زخمی 

پورے علاقے میں خوف ماحول،آس پاس کے علاقے محاصرے میں ، جنگجو مخالف آپریشن شروع 
سرینگر؍نیلورہ پلوامہ میں جنگجو مخالف آپریشن کے دوران گولیوں کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک شہری زخمی ہوا جس کو فوری طورپر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا۔ ایس ایس پی پلوامہ نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تلاشی آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں نے فورسز پر فائرنگ کی چنانچہ کراس فائرنگ میں ایک عام شہری زخمی ہوا ہے ۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق نیلورہ پلوامہ میں اُس وقت سنسنی اور خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا جب عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا۔ ذرائع نے بتایا کہ جونہی سیکورٹی فورسز کی گشتی پارٹی نیلورہ کے نزدیک پہنچی تو تاک میں بیٹھے جنگجوؤں نے اُس پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی جس کی وجہ سے علاقے میں خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے آس پاس علاقوں کو محاصرے میں لے کر بڑے پیمانے پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا ۔ یو پی آئی نے اس ضمن میں جب ایس ایس پی پلوامہ چندن کوہلی کے ساتھ رابط قائم کیا تو انہوں نے کہاکہ عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد جونہی فورسز نے نیلورہ پلوامہ گاؤں کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا اس دوران جنگجوؤں نے فورسز پر فائرنگ کی ۔ ایس ایس پی کے مطابق حفاظتی عملے نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کی اور کراس فائرنگ میں ایک عام شہری زخمیہوا ہے۔ ایس ایس پی کے مطابق آس پاس علاقوں کو پوری طرح سے سیل کرکے بڑے پیمانے پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا ہے۔ ضلع اسپتال پلوامہ میں تعینات ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ زخمی نوجوان کو گولی چھو کر نکلی ہے اور اُس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ 

Please follow and like us:
1000

صنف نازک کو جنگی ہتھیار کے بطور استعمال کیا جارہا ہے: گیلانی

کشتوار پولیس کی طرف سے جنگجو کی ما ں اور بہنوں کو گرفتار کرنا مذموم عمل
سرینگر؍حریت کانفرنس (گ) چیرمین سید علی گیلانی نے کشتوار پولیس کی طرف سے ایک عسکریت پسند کی ماں اور دو بہنوں کو گرفتار کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر میں صنف نازک کو جنگی ہتھیار کے طور استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے جنگجوؤں کی نماز جنازہ میں شامل لوگوں پر طاقت کے بے تحاشا استعمال کو سرکاری دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست پولیس اسٹیٹ میں تبدیل ہوچکی ہے۔ کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کو موصولہ بیان کے مطابق حریت کانفرنس (گ) چیرمین سید علی گیلانی نے کشتواڑ میں پولیس کی جانب سے ایک عسکریت پسند کی ماں اور دو بہنوں کو گرفتار کرنے کیشدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر میں صنف نازک کو جنگی ہتھیار کے طور استعمال کیا جاتا ہے۔ حریت بیان میں کہا گیا کہ کشواڑ میں گزشتہ ماہ بے جے پی لیڈرا ور اس کے بھائی کی نامعلوم افراد کے ہاتھوں ہوئی ہلاکت کے بعد وہاں کی پولیس نے ایک مقامی عسکریت پسند کی ماں اور اس کی دو بہنوں تحمین جاوید اور تحمیمہ جاوید ساکن دچھن کشتواڑ کو 3؍نومبر کو گرفتار کرلیا۔ گرفتاری کے بعد اگرچہ ان کی ماں کو رہا کردیا گیا، مگر ان دو بہنوں کو بھارت کی تحقیقاتی ایجنسی کے حوالے کردیا گیا جنہوں نے ان کو دہلی لے لیا۔ حریت راہنما نے ان معصوم بچیوں کو دہلی لے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اہل خانہ خصوصاً صنفِ نازک سے انتقام لینا غیر انسانی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بار بار کہا ہے اور ہماری غیر مبہم پالیسی رہی ہے کہ سیاسی بنیاد پر کسی بھی شخص کو قتل کرنا جائز نہیں ہے چاہے اس کے نظریات اور خیالات مختلف کیوں نہ ہوں۔حریت راہنما نے کہا کہ اگر مان بھی لیا جائے کہ ان افراد کی ہلاکت کے پیچھے کسی عسکریت پسند کا ہاتھ ہوسکتا ہے تو اس کے بدلے اس کی ماں اور بہنوں کو انتقام کا نشانہ بنانے کا کیا جواز ہے؟ اگر جرم کسی اور نے کیا ہے تو اس کی سزا کسی اور کو دینا قانون اور انصاف کا خون ہے۔ انہوں نے خواتین کے حقوق کے متعلق کام کرنے والی مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں سے دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے کہ ان معصوم بچیوں کی رہائی کو ممکن بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس دوران گیلانی نے معراج الدین ساکن سوپور کی نماز جنازہ میں شامل لوگوں پر طاقت کے بے تحاشا استعمال کے نتیجے میں درجنوں لوگوں کو زخمی کرنے کی قابض فورسز کی کارروائی کو سرکاری دہشت گردی جموں کشمیر کو ایک پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کردیا گیا ہے، جہاں عملاً قانون نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ ایک طرف جموں کشمیر کے مظلوم عوام کو انتہائی بے دردی کے ساتھ قتل کیا جاتا ہے اور دوسری طرف اس پر ماتم کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ انہوں نے فورسز اور پولیس کی اس غنڈہ گردی اور طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے لوگوں کو سانس لینے پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔

Please follow and like us:
1000

کشمیرکی سنگین صورتحال ، 3تا 9دسمبر حقوق انسانی ہفتہ منایا جائے: مزاحمتی قیادت

تمام مکتبہ ہائے فکر صدائے احتجاج بلند کرکے انسانیت سوز مظالم کی جانب عالمی توجہ مبذول کرائیں
سرینگر؍ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کشمیریوں کے تئیں حکومت ہند کی عوام کش پالیسیوں کو کھلی آمریت قرار دیتے ہوئے سماج کے تمام مکتبہ ہائے فکر سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ اس ماردھاڑ اور قتل و غارت گری کے خلاف اپنی اپنی سطح پر صدائے احتجاج بلند کرکے ان انسانیت سوز مظالم کارروائیوں کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائیں۔قائدین نے کشمیر کی سنگین انسانی صورتحال کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور عالمی برادری اور مہذب اقوام کی توجہ کشمیر کی روز افزوں بگڑتی صورتحال کی جانب مبذول کرانے کیلئے3 سے 9 دسمبر2018 تک حقوق انسانی کا ہفتہ منانے کی اپیل کرتے ہوئے کشمیر کے حریت پسند عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس پورے ہفتے کے دوران روزانہ نماز مغرب کے بعد اپنے اپنے محلوں، قصبوں اور دیہاتوں میں مساجد کے سامنے اور سڑکوں پر Candle light اور مشعل روشن کرکے بازؤں پر کالے بلے اور سیاہ جھنڈے اٹھا کر کشمیر کی سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں کی جانب اقوام عالم کی توجہ مبذول کرائیں۔ کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قائدین سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروقاور محمد یاسین ملک نے اپنے مشترکہ بیان میں جموں وکشمیر کے مظلوم و محکوم عوام کے تئیں حکومت ہندوستان کی عوام کُش پالیسیوں ، مار دھاڑ، قتل وغارتگری سے عبارت پالیسیوں کو جمہوریت کے دعویداروں کی جانب سے کھلی آمریت کا مظاہرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر میں جس طرح بھارت اور اس کے ریاستی حواری بڑی بے 
دردی کے ساتھ بے پناہ فوجی قوت کے بل پر یہاں کے مظلوم عوام کی منظم نسل کشی کے منصوبوں پر عمل پیرا ہیں وقت آگیا ہے کہ ان مظالم اور چیرہ دسیتیوں کیخلاف زندگی کے ہر مکتب فکر سے وابستہ افراد اپنی اپنی سطح پر صدائے احتجاج بلند کرکے ان مظالم اور انسانیت سوز کارروائیوں کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائیں۔قائدین نے کہا کہ کشمیر میں تعینات لاکھوں بھارتی فوج اور فورسز جس ڈھٹائی کے ساتھ اور تمام مسلمہ اخلاقی اور جمہوری حدود کو پھلانگ کر جنوبی کشمیر ، شمالی کشمیر اور وسطی کشمیر میں تلاشی کے بہانے گھروں کی توڑ پھوڑ ، املاک کی تباہ کاری، بزرگوں کی مارپیٹ ، خواتین کا قتل حتیٰ کہ ۱۸ ماہ کی معصوم بچی کو بھی پیلٹ گن کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کررہی اور مظلوم عوام کو روز اپنے نوجوانوں کے جنازے اٹھانے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔اس سے ایسا لگ رہا ہے کہ بھارت کشمیری عوام پرسنگین مظالم ڈھا کر خوشی محسوس کررہا ہے جبکہ اس مظلوم قوم کا صرف اتنا ہی قصور ہے کہ وہ اپنے اس پیدائشی حق ، حق خودارادیت کا مطالبہ کررہی ہے جس کا وعدہ خود بھارت کے قائدین اور عالمی برادری نے ان سے کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے طول و عرض میں مار دھاڑ اور قتل و غارت کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے ، حقوق انسانی کی بدترین پامالیاں اپنی انتہا کو چھو رہی ہیں۔ تلاشی آپریشنوں کی آڑ میں بے گناہ نوجوانوں کی گرفتاریاں ، مزاحمتی قائدین کی پر امن سرگرمیوں پر آئے روز قدغنیں، گرفتاریاں اور ان جیسے دیگر واقعات کشمیر کی حقوق انسانی کے حوالے سے سنگین صورتحال کی عکاسی کررہی ہے اور حالات و واقعات کا تقاضا ہے کہ کشمیر کے تمام مکاتب فکر سے وابستہ لوگ اپنی خاموشی کو توڑیں کیونکہ یہ ہماری بقا کا مسئلہ بن گیا ہے اور ان بدتر واقعات پر زیادہ دیر خاموش نہیں رہا جاسکتا۔قائدین نے کشمیر کی سنگین انسانی صورتحال کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور عالمی برادری اور مہذب اقوام کی توجہ کشمیر کی روز افزوں بگڑتی صورتحال کی جانب مبذول کرانے کیلئے3 سے 9 دسمبر2018 تک حقوق انسانی کا ہفتہ منانے کی اپیل کرتے ہوئے کشمیر کے حریت پسند عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس پورے ہفتے کے دوران روزانہ نماز مغرب کے بعد اپنے اپنے محلوں، قصبوں اور دیہاتوں میں مساجد کے سامنے اور سڑکوں پر Candle light اور مشعل روشن کرکے بازؤں پر کالے بلے اور سیاہ جھنڈے اٹھا کر کشمیر کی سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں کی جانب اقوام عالم کی توجہ مبذول کرائیں۔قائدین نے کشمیر کی سول سوسائٹی ، بار ایسو سی ایشن، چیمبر آف کامرس، ٹریڈرس فیڈریشن، ملازم تنظیموں ، سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعتوں ، کاروباری انجمنوں، ٹرانسپورٹرس اور دیگر جملہ طبقوں سے اپیل کی کہ وہ اس پورے ہفتے کے دوران اپنی اپنی سطح پر ایک ایک دن صدائے احتجاج بلند کرکے دنیا کو کشمیری عوام کی مظلومی اور محکومی کا احساس دلائیں اور یہاں کے عوام پر ہو رہے مظالم اور زیادیتوں کیخلاف اپنی زبانیں کھولیں اور عالمی ضمیر کو جنجھوڑنے کی بھر پور کوشش کریں۔قائدین نے ائمہ مساجد، علمائے کرام، ائمہ جمعہ و الجماعت اور مذہبی عمائدین سے اپیل کی کہ چونکہ ظلم کیخلاف خاموشی اور ظالم کے مظالم پر چُپ رہنا گناہ ہے لہٰذا وہ روزانہ کے نمازوں اور جمعہ اجتماعات کے دوران اپنے اپنے خطابات میں کشمیر کی سنگین صورتحال اجاگر کرکے اپنا ملی اور منصبی فریضہ انجام دیں اور اس قوم پر ڈھائے جارہے مظالم کو عالمی ایوانوں تک پہنچانے اور حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیموں کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔قائدین نے دنیا کے امن پسند اقوام ، حقوق انسانی کے موقر اداروں اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن (UNHCR) ، Amnesty international, Asia Watch, ICRC اور دیگر حقوق البشر کی تنظیموں سے کشمیر میں ہو رہی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی طرف اپنی توجہ مبذول کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ جس طرح طاقت کے بل پر یہاں کے مظلوم عوام کے جملہ حقوق چھین کر ان سے جینے کا حق بھی چھینا جارہا ہے اس کا سنجیدہ نوٹس لیکر بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ کشمیری عوام کیخلاف جاری جارحانہ اور عوام کُش پالیسیوں پر روک لگا دے۔

Please follow and like us:
1000

جموں کی سکھ لڑکی کا مسلمان سہیلی کو گردہ پیش کرنے کا اعلان 

مجھے کسی چیز کا ڈر نہیں بلکہ مجھے ڈر ہے کہ انسانیت نہ مر جا ئے:منجیت سنگھ 
سرینگر؍ جموں کے ادھم پور سے تعلق رکھنے والی ایک سکھ لڑکی نے اپنی بیمار مسلم سہیلی کو اپنا گردہ عطیہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ادھر سکھ فرقے کی اس لڑکی کے اس انسان دوست اور منفرد قربانی کو عوامی حلقوں میں بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔اس دوران عطیہ دینے والی لڑکی نے بتایا مجھے کسی چیز کا ڈر نہیں بلکہ مجھے ڈر ہے کہ انسانیت نہ مر جا ئے ۔ جہاں ایک 
طرف دلی میں ٹیلی ویژن چنلوں کے اسٹیڈیوزمیں بیٹھ کر کچھ لوگ کشمیر ی سکھ،ہندو مسلم بھائی چارے کے خلاف پرپگنڈہ چلایا جا رہا ہے وہی دوسری جانب صوبہ جموں کے ادھم پور سے تعلق رکھنے والی سکھ فرقے کی ایک لڑکی نے ضلع راجوری سے تعلق رکھنے والی اپنی بیمار مسلم سہیلی کو اپنا ایک گردہ پیش کر نے کا علان کرتے ہوئے انسانیت کی عظیم مثال پیش کرکے سکھ مسلم بھائی چارے کے رشتے کومذید مضبوط کیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ جموں کے ضلع راجوری سے تعلق رلکھنے والی ایک مسلمان لڑکی ثمرینہ اختر کا ایک گردہ ناکارہ ہوا ہے جہاں وہ گزشتہ6ماہ سے سرینگر کے سلمزصورہ میں زیر علاج ہے جہاں ڈاکڑوں نے زبردست کوششوں کے بعد ثمرینہ کے والدین کو بتایا کہ لڑکی کا گردہ تبدیل کرنا ہے جس کے بعدمزکورہ لڑکی کی والدہ نے بیٹی کو اپنا ایک گردہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اس دوران معلوم ہوا جب والدہ کو اس سلسلے میں ضروری ٹسٹ کئے گئے ہیں تو 22سالہ ثمرینہ کے والدین کی امیدیں اس وقت معدوم ہوئے جب ان کے گردی کو غیر موزون قرار دیا ہے ۔اور اس سلسلے میں مزکورہ کنبہ زبردست پریشان ہوا ہے ۔خاندانی ذرائع کے مطابق اس کے بعدنے اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے پوسٹ کیا ہے تاہم کوئی بھی رشتہ دار یا دیگر کوئی شخص سامنے نہیں آیا ۔اس دوران بیمار لڑکی کے ایک غیر مسلم سکھ سہلی منجیت سنگھ کوہلی نے فوری طوری اپنی سہیلی کے والدین کے ساتھ رابطہ قائم کر کے اپنا گردہ عطیہ دینے کا اعلان کیاہے ۔ایک اخبار کے مطابق منجیت سنگھ کوہیلی کے والدین اور خاندان اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں تاہم لڑکی نے بتایا میں ایک بالغ لڑکی ہوں مجھے یہ اختیار ہے کہ میں کوئی فیصلہ خود لے سکتی ہوں ۔معلوم ہوا منجیت سنگھ جموں کے ایک رشوت مخالف ،اور انسانی حقوق تنظیم رضا کار تنظیم کی چیرمین ہیں ۔ادھر جب اس حوالے سے ایک ویڈیو سماجی میڈیا پر وائرل ہوا تو اس ویڈیو کو بڑے پیمانے پر شیر کیا جا رہا ہے جہاں اس سکھ فرقے کی اس نوجوان لڑکی کے اس کے اس رول کی بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا پر سراہا جا رہا ہے۔اس دوران سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں23سالہ منجیت سنگھ کوہلی نے بتایا ’’ میرے اس اقدام سے میرا خاندان اس بڑے فیصلے سے خوش نہیں ہے انہوں نے کہا میرے گھر والوں کو میرے صحت کے حوالے سے تشویش لاحق ہوا ہے تاہم انہوں نے کہا میں اپنا گردہ دینے سے نہیں ڈرتی ہوں بلکہ میرا صرف تشویش یہ ہے کہ انسانیت ختم نہیں ہونا چاہے منجیت ایک بین الاقوامی اخبار کو بتایا اس اقدام سے مذہبی بھائی چارے میں مذید مضبوطی ہو جائے گی ۔انہوں نے کہا انسانیت میں میرا مضبوط یقین ہے جو مجھے حوصلہ افزائی کرتا ہے انہوں نے کہا اگر میرے خاندان نے میری مدد کی تو مجھے بہت خوشی ہوئی گی۔انہوں نے کہا میں ایک بالغ لڑکی ہوں اس لئے میں یہ فیصلہ لے سکتی ہوں اور کوئی قانون اس کے عضو کو عطیہ کرنے کے لئے پابند نہیں کرتا۔بتایا جاتا ہے منجیت اور سمرن گزشتہ4سال سے دوست ہیں اور انہوں نے چند سال قبل ایک پروگرام میں ملاقات کی اور تب سے آج تک ان کے دوستی کا سلسلہ جاری ہے جہاں ان کی یہ دوستی ثمرینہ کے جان بچ جانے کا ذریعہ بن گیا ہے ابیمار ثمرینہ ، جو ہسپتال میں باقاعدگی سے ڈائلیزس سے گزرتی ہے نے منجٹ کا شکریہ ادا کیا ہے۔

Please follow and like us:
1000

بھاجپا کو باہر کا راستہ دکھانے کیلئے عوام یک جٹ ہوجائیں

کسانوں کے تئیں آنکھیں موند کر بیٹھنا جمہوری نظام کے شایانِ شان نہیں: ڈاکٹر فاروق 
سرینگر؍ نیشنل کانفرنس صدر اور رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے نئی دہلی میں کسانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اُن کے مطالبات اور جائز مانگوں کو حل کرنے کی مانگ کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ بھاجپا کو باہر کا راستہ دکھانے کے لیے متحد ہوجائیں۔ کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق نیشنل کانفرنس کے صدر اور رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے نئی دلی کے رام لیلا میدان میں بھاری اجتماع میں کسانوں کیساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اُن کےمطالبات اور مانگوں کو مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ بھاجپا کو باہر کا راستہ دکھانے کیلئے ایک جُٹ ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی میں بیٹھی موجودہ بھاجپا حکومت کسانوں اور دیگر پسماندہ طبقوں کو راحت پہنچانے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔ انتخابات کے وقت پر بھاجپا جذباتی معاملات اُٹھاتی ہے اور سماج کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرتی ہے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ بھاجپا کو حکومت سے باہر کا راستہ دکھایا جائے اور ملک کے سیکولر کردار کو از سرنو بحال کیا جائے۔ این سی صدر نے کہا کہ جموں وکشمیرکے عوام کسانوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں ، ہم سب آپ کے مصائب اور مشکلات سے مکمل طور پر باخبر ہیں، ہمیں معلوم ہے جب آپ اپنا سب کچھ اپنے کھیت پر لگا دیتے ہیں اور جب آپ کوصحیح Minimum Support Price نہیں ملتا ہے تو آپ کو فاقہ کشی کرنی پڑتی ہے۔ نئی دلی میں کسانوں کی عظیم ریلی مرکزی حکومت کو خواب غفلت سے جگانے کی کوشش ہے۔کسانوں کی مکمل حمایت کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ کسان ہمارے ملک کی ریڈ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہے۔انہوں نے حکومت ہند پر زور دیا کہ وہ کسانوں کے MSPمیں اضافہ کرے۔ایک ملک کیلئے اپنے کسانوں کے مشکلات اور مصائب کے تئیں آنکھیں موند کر بیٹھنا جمہوری نظام کے شایانِ شان نہیں۔ ایک کسان صبح 4بجے اُٹھ کر فصل تیار کرنے کیلئے کام کرتا ہے اور اسی فصل سے ملک چلتا ہے ۔ لیکن آئے روز کسانوں کی خودکشیوں سے بھی مرکزی میں بیٹھی بھاجپا حکومت کا ضمیر نہیں جھاگ پایا ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ کسانوں کے قرضوں کو معاوف کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر نے سیکولر بھارت کیساتھ مشروط الحاق کیا ہے ، اور ملک کا یہ کردار قائم رہنا چاہئے جس کیساتھ ہم جڑے ہیں۔ بھاجپا ماحول کو آلودہ کرنے کیلئے ہر ایک حربہ اپنا رہی ہے لیکن ہمیں اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ آپ کی تشویش ہماری تشویش ہے، چلئے بھاجپا کو باہر کا راستہ دکھانے کیلئے متحد ہوجائیں۔

Please follow and like us:
1000