جملہ حقوق سلب کرنے کی پالیسی اختیار:مزاحمتی قیادت 

حکمرانوں کے کشمیر دشمن عزائم عیاں ، انسانی حقوق پامالیوں میں اضافہ 
سرینگر؍مشترکہ مزاحمتی قائدین سید علی گیلانی ، میرواعظ ڈاکٹرمولوی عمر فاروقاور اسیر زندان محمد یاسین ملک نے اپنے مشترکہ بیان میں جموں وکشمیر میں حقوق انسانی کی بدترین پامالیوں میں روز افزوں اضافے کو حکمرانوں کی عوام کُش پالیسیوں کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمران طبقے میں کشمیر میں تمام مسلمہ جمہوری ، اخلاقی اور انسانی قدروں کو بالائے طاق رکھ کر جس طرح یہاں کے عوام کو ہر طرح سے مصائب میں مبتلا کرنے اور طاقت کے بل پر ان کے جملہ حقوق سلب کرنے کی پالیسی اختیار کررکھی ہے وہ نہ صرف ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے بلکہ اس طرح کے اقدامات سے حکمرانوں کے کشمیر دشمن عزائم کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔قائدین نے کہا کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے انسانی حقوق کے حوالے سے رواں ہفتے میں جوپر امن تقریبات منانے کا اعلان کیا ہے اس کا مقصد صرف دنیا بھر کے مہذب اقوام اور حقوق انسانی کے عالمی اداروں کی جموں وکشمیر میں ہو رہی حقوق انسانی کی پامالیوں کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے ۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہیومن رائٹس ڈے پوری مہذب دنیا میں انسانی حقوق کو اجاگر کرنے کے حوالے سے منایا جاتا ہے اور اسی تناظر میں قیادت نے جموں وکشمیر میں یہ دن منانے کا فیصلہ کیا تاہم قیادت کی جانب سے دیئے گئے حقوق انسانی ہفتے کے پر امن پروگراموں حتیٰ کہ موم بتیاں جلا کر جذبات کے خاموش اظہار کو بھی جس طرح طاقت کے بل پر ناکام بنانے کیلئے آمرانہ ہتھکنڈے استعمال کئے گئے مزاحمتی تحریک سے وابستہ قائدین اور کارکنوں جن میں جناب نور محمد کلوال، شوکت احمد بخشی، شیخ عبدالرشید، محمد یاسین بٹ، اور دیگر کارکن شامل ہیں اور جو صرف موم بتیاں جلا کر پر امن طور کشمیر میں حقوق انسانی کی پامالیوں کی جانب مہذب دنیا کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کررہے تھے کو شبانہ چھاپوں کے دوران گھروں سے گرفتار کرکے تھانوں میں مقید کردیا گیا جبکہ اس دوران مزاحمتی قائدین سید علی گیلانی اور میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق تحریک حریت کے چیرمین جناب محمد اشرف صحرائی اور بلال صدیقی کو گھروں میں نظر بند جبکہ سینئر مزاحمتی رہنما محمد یاسین ملک کو گزشتہ کئی روز سے تھانے میں مقید رکھا گیا ہے وہ حکمرانوں کی صریحا بوکھلاہٹ اور فسطائی سوچ کی عکاسی کرتی ہے ۔قائدین نے کہا کہ جب بھی مزاحمتی قیادت نے ہڑتال سے ہٹ کر اپنے زخمی جذبات کے اظہار کیلئے پر امن راستہ اختیار کیا حکمرانوں نے روایتی آمریت کا مظاہرہ کرکے ان پروگراموں کو ناکام بنانے کیلئے طاقت اور تشدد کا سہارا لیا ۔ مزاحمتی قیادت کیلئے سیاسی مکانیت کو مسدود کردیا جبر و استبداد ، ظلم و جبر اور انسانیت سوز مظالم کیخلاف آواز اٹھانے پر پابندی عائد کردی ۔ لوگوں کے جملہ حقوق سلب کر لئے گئے اور ان سے جینے کا حق بھی چھین لیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان ظالمانہ ہتھکنڈوں کے ردعمل میں یہاں کے عوام خاص کر نوجوان جب اپنے جذبات کے اظہار کیلئے ہر طرف راستوں کو مسدودپاتے ہیں تو تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق عسکریت کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور یہ صرف اور صرف حکمرانوں کی ہٹ دھرمی اور عوام دشمن پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ یہاں کی نوجوان نسل مزاحمت کیلئے جان لیوا راستہ اختیار کررہے ہیں۔قائدین نے واضح کیا کہ گرفتاریوں، قدغنوں اور جبر و استبداد سے نہ ہماری پر امن تحریک آزادی کو ختم کیا جاسکتا ہے اور نہ مظالم اور جبر و ظلم کے خلاف ہماری آواز کو خاموش کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کشمیر کے حریت پسند عوام سے اپیل کی کہ وہ قیادت کی جانب سے دیئے گئے حقوق انسانی ہفتے کی تقریبات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور دنیا کو کشمیر کی سنگین صورتحال سے واقف کرانے کیلئے اپنی آواز بلند کریں۔قائدین نے دنیا بھر کے انصاف پسند اقوام و ممالک خاص طور پر اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن (UNHCR) ، Amnesty international, Asia Watch, ICRC اور دیگر حقوق البشر کی مستند تنظیموں سے کشمیر میں ہو رہی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی طرف اپنی توجہ مبذول کرنے کی اپیل دہراتے ہوئے کہا کہ جس طرح طاقت کے بل پر یہاں کے مظلوم عوام کے جملہ حقوق چھین کر ان سے جینے کا حق بھی چھینا جارہا ہے اس کا سنجیدہ نوٹس لیکر بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ کشمیری عوام کیخلاف جاری جارحانہ اور عوام کُش پالیسیوں پر قدغن لگانے کیلئے موثر اور کارگر اقدامات اٹھائیں اور نہتے کشمیریوں کو امن اور تحفظ فراہم کریں۔

Please follow and like us:
1000

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *