عام شہریوں کی ہلاکتوں سے اجتناب کی ضرورت :گورنر

طریقہ کار پر سختی سے کاربند رہنے اورجنگجو مخالف کاروائیوں کے دوران نرمی برتنے پر زور
سرینگرجنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں سے اجتناب برتنے پر ریاستی انتظامیہ نے سیکورٹی فورسز کو حالات سے نمٹنے کے دوران نرمی برتنے کی ہدایت جاری کردی۔ کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق وادی کشمیر میں سیکورٹی فورسز کی طرف سے جاری جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں سے اجتناب برتنے پر ریاستی انتظامیہ نے سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ حالات کے ساتھ نمٹتے وقت نرمی اختیار کریں۔ خیال رہے حال ہی میں جنوبی ضلع پلوامہ کے سرنو علاقے میں جنگجو مخالف کارروائی کے دوران عوامی مظاہرین پرفورسز کارروائی کے دوران7عام شہری جاں بحق ہوگئے جس کے بعد وادی میں حالات نے(بقیہ نمبر8)
کشیدہ رخ اختیار کرتے ہوئے 3روزہ ماتمی ہڑتال کی گئی جبکہ اس دوران بیرون ریاست بھی عام شہریوں کی ہلاکتوں پر کافی ہنگامہ کھڑا ہوا اور فورسز کو معیاری عملیاتی طریق کار کو پامال کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ ریاستی انتظامیہ نے پلوامہ جیسے سانحات کو دوبارہ نہ دہرانے کے لیے سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ افسران کو ہدایت کرتے ہوئے اپنی کارروائیوں میں نرمی اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔خفیہ ذرائع نے کشمیر نیوز سروس کو بتایا کہ پلوامہ میں فورسز کارروائی کے نتیجے میں 7عام شہریوں کی ہلاکت کے بعد گورنر ستیہ پال ملک اور اُن کے سیکورٹی صلاح کار وجے کمار نے سیکورٹی ایجنسیوں کو سرزنش کرتے ہوئے ایسے حالات کے ساتھ ڈیل کرتے وقت نرمی اختیار کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔ذرائع کے مطابق گورنر ستیہ پال ملک نے سیکورٹی ایجنسیوں کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگجو مخالف کارروائیوں اور عوامی بھیڑ کے ساتھ نمٹتے وقت معیاری عملیاتی طریق کار پر سختی سے کاربند رہیں تاکہ کسی بھی عام شہری کو دوران کارروائی گزند نہ پہنچے۔انہوں نے کہا کہ گورنر کے علاوہ اُن کے سیکورٹی صلاح کار وجے کمار نے جموں میں سیکورٹی ایجنسیوں کیساتھ علیحدہ میٹنگ کرتے ہوئے انہیں اپنی کارروائیوں کے دوران قواعد و ضوابط پر من و عن عمل کرنے کی ہدایت کی۔ذرائع نے بتایا کہ سرنو واقعے کے بعد جملہ سیکورٹی ایجنسیاں اس بات پر فکر مند دکھائی دے رہے ہیں کہ کس طرح یہاں ایسے حالات پیدا ہوئے جس کے نتیجے میں عام شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ادھر سیکورٹی ایجنسیوں نے بہ اتفاق رائے یہ فیصلہ لیا ہے کہ وہ وادی میں امن و قانون کی صورتحال میں مزید بہتری لانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تال میل بڑھانے میں کسی بھی سطح پر کمپرومائز نہیں کریں گے۔ سیکورٹی ایجنسیوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جنگجو مخالف کارروائیوں کے دوران کسی بھی عام شہری کو جائے جھڑپ کے نزدیک جانے کی اجازت نہیں دیں گے اور اس کے لیے سختی سے قواعد و ضوابط پر عمل کیا جائے گا۔ سیکورٹی کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اُٹھائے جائیں گے تاکہ کوئی بھی عام شہری حادثے کی بھینٹ نہ چڑھ جائے۔سیکورٹی افسر نے مزیدکہا کہ پلوامہ سانحہ کے بعد پولیس، فوج اور سی آر پی ایف کے اعلیٰ افسران نے مختلف سطحوں پر میٹنگوں کا انعقاد کیا جس دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کے ساتھ ساتھ فورسز کارروائی میں نرمی برتی جائے گی تاکہ عام شہریوں کی ہلاکتوں سے بچا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ میٹنگ کے دوران یہ بات طے پائی کہ جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کے لیے جائے جھڑپ کے ارد گرد مختلف دائروں پر مبنی سیکورٹی کور کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ کوئی بھی شہری جائے جھڑپ کے قریب جانے کی کوشش نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ میٹنگ کے دوران یہ فیصلہ لیا گیا کہ آپریشنوں کے دوران صرف اُسی صورت میں مکان کو بارودی مواد سے زمین بوس کیا جائے گا جب مکان کے اندر موجود جنگجو فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

Please follow and like us:
1000

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *