Editorial

۔22جنوری 2019ء بروزمنگلوار 
ایک ڈاکٹر ہی نہیں محکمہ صحت ذمہ دار ہے 
یہ خبر واقعی بہت اندوہناک تھی کہ لل دید ہسپتال کے باہر دور دراز علاقے کلاروس کی ایک عورت نے بچے کو سرراہ جنم دیا ۔یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح آناً فاناً ہر جگہ پھیل گئی خبر کا اندوہناک اورشرمناک پہلو یہ تھا کہ درد زہ میں مبتلا اس خاتون کو کپوارہ ہسپتال سے فوری طور پر سرینگر جانے کے لئے کہا گیا تھا اور بڑی مشکلوں سے سرینگر پہونچ کر اس نے لل دید ہسپتال کا رخ کیا ۔ خبر کے مطابق ہسپتال میں اسے داخلہ نہیں دیا گیا اور جب یہ ہسپتال سے باہر آئی تو اس نے بچے کو جنم دیا جو دنیا میں آتے ہی موت کے منہ میں چلا گیا ۔یہ ایک لرزہ طاری کرنے والی خبر تھی جس کا عوامی سطح پر انتہائی شدید ردعمل ہوا اور فوری طور پر معاملے کی تحقیقات کا حکم صادر کردیا گیا اور اس روز ڈیوٹی پر مامور ڈاکٹر کو تحقیقاتی رپورٹ آنے تک معطل کیا گیا ۔ ہسپتال انتظامیہ اورڈاکٹروں نے واقعے کی اور ہی تصویر پیش کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی پر مامور لیڈی ڈاکٹر نے خاتون کا معائنہ کیا اور اسے کچھ ٹیسٹ کرانے کیلئے کہا ۔ ٹسٹ رپورٹ آنے کے بعد یہ صاف ہوا کہ خاتون کو بچہ جننے میں ابھی ایک مہینہ باقی ہے چنانچہ اسے ڈسچارج کردیا گیا ۔یہ بیان ڈاکٹر اور ہسپتال عملے کو بری الزمہ قرار دینے کیلئے کافی ہے لیکن پھر بھی یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ اگر ٹسٹ رپورٹ دکھارہے تھے کہ خاتون کے بچہ جننے میں ابھی ایک مہینے کا وقت باقی ہے تو پھر اس نے ہسپتال سے باہر آتے ہی بچہ کیسے جنا ۔ بہر حال یہ ایک تحقیقات طلب معاملہ ہے جس کا کچا چٹھا تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا لیکن جو سوال اس سے زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ کپوارہ کے ہسپتال سے جہاں خاتون کو سب سے پہلے لے جایا گیا تھا کیسے سرینگر ریفر کیا گیا اور کیوں جبکہ کپوارہ میں بھی اور بارہمولہ میں بھی ایسی تمام سہولیات موجود ہیں جو سرینگر میں ہیں پھر اسے اتنی دور کیوں بھیجا گیا ۔ ہوسکتا ہے کہ عجلت میں اتنی دور کا سفر طے کرنے سے ہی اس نے وقت سے پہلے بچے کو جنم دیا ہو ۔اس لحاظ سے یہ واقعہ محکمہ صحت کے پورے نظام پر ہی کئی سوال کھڑے کردیتا ہے اور یہ وقت ہے کہ اس پورے نظام کے نقائص کو گہرائی کے ساتھ جانچا جائے تاکہ اس طرح کے مزید کوئی واقعہ رونما نہ ہونے پائے ۔کلاروس کیسے دور دراز علاقے کی خواتین کو سرینگر کیوں ریفر کیا جائے ۔ ایسے علاقوں کیلئے نزدیک ہی ہسپتال میں اس طرح کی تمام سہولیات اور سینئر ڈاکٹر موجود ہونے چاہیں تاکہ ہنگامی صورتحال میں خواتین کو سرینگر پہونچانے کی نوبت نہ آنے پائے ۔کپوارہ میں خاص طور پر لل دید ہسپتال کی ہی ایک شاخ قائم کی جاسکتی ہے تاکہ گرد و نواح کی وسیع آبادی کو طبی سہولیات آسانی کے ساتھ حاصل ہوسکے ۔ یہ محکمہ صحت اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کے انتظامات کرے اور اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو اس کے لئے وہی ذمہ دار ہیں ۔ کلاروس کی خاتون کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا اس کے لئے ایک ڈاکٹر یا کئی افراد کو ذمہ دار قرار دیکر ان کے خلاف ایکشن لینے سے کچھ نہیں ہوسکتا ہے ۔ کل اسی طرح کا کوئی اور واقعہ بھی رونما ہوگا اس لئے پورے سسٹم کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی ایسا واقعہ رونما ہی نٓہ ہو ۔ ایک عورت کے لئے درد زہ کا وقت کس قیامت کا وقت ہوتا ہے یہ وہی جان سکتی ہے ۔ ہم سب کو اسی طرح سے ماوں نے جنم دیا ہے اور ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ ماوں کو ایسی حالت میں بہتر سے بہتر طبی سہولیات مہیا کرانے کیلئے جو کچھ بھی کیا جاسکے کیا جائے ۔ ہم سب کو اس کے لئے جدوجہد کرنی ہوگی ۔ ایک واقعہ کا رونا لیکر بیٹھ جانے سے ہی وہ مقصد پورا نہیں ہوسکتا جو کہ وقت کی سب سے بڑی اور اہم ضرورت ہے ۔ دور دراز کے علاقوں کی خواتین کو اسی حالت میں طبی سہولیات مہیا نہ ہونے سے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اس لئے جدید طرز کے زنانہ ہسپتالوں کو دور دراز علاقوں میں قائم کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے ۔ اس لئے عوام کو حکومت پر زور دینا چاہئے اور حکومت کو یہ معاملہ سنجیدگی سے لینا چاہئے ۔

Uqab News Paper

Enjoy this blog? Please spread the word :)

Follow by Email1k
Facebook
Facebook
Google+
http://dailyuqab.com/editorial">
Twitter
YouTube
LinkedIn