Editorial

۔21مارچ 2019ء بروز جمعرات 
حراستی قتل : کیا تحقیقات ہوگی ؟
پلوامہ کے استاد کا قتل کشمیر کے بے شمار سانحوں میں ایک اور سانحہ ہے۔ موت سے تین روز پہلے اسے گرفتار کرلیا گیا تھا اس پر الزام تھا کہ جنگجووں کے ساتھ اس کا رابطہ ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کی گرفتاری جماعت اسلامی کے خلاف کریک ڈاون کا حصہ تھی جو اس جماعت پر پابندی کے بعد اس کے خلاف شروع کیا گیا ۔ اب تک اس سے وابستہ سینکڑوں افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔جن میں سے اکثرکے خلاف پی ایس اے عاید کردیا گیا اورانہیں کورٹ بلوال کے علاوہ ملک کے کئی قید خانوں میں مقید کردیا گیا ہے ۔اگرچہ جماعت پر پابندی کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی دو بار اس جماعت پرپابندی عاید کردی گئی ہے تاہم ہر پابندی کے بعد یہ جماعت پہلے سے زیادہ مضبوط ہوکر ابھری ۔ اب کی بار اگرچہ پابندی انتہا ئی سخت ہے اور اتنی بڑی تعداد میں اس کے ارکان کو گرفتار کیا گیا ہے اور بتایا جاتا ہے ایک اور فہرست بھی تیار کی گئی ہے جس کے تحت مزید دوسو سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جانا ہے جن میں زیادہ تر اساتذہ شامل ہوں گے ۔اس طرح سے بظاہر جماعت کی قوت کو پوری طرح سے تہس نہس کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اس کے باوجود بھی جماعت اسلامی کو ختم کیا جاسکتا ہے ۔جماعت اسلامی محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک نظریاتی جماعت ہے اور جماعت کو تو ختم کیا جاسکتا ہے تاہم اس کے نظریات کو کیسے ختم کیا جاسکے گا ۔ اس کے نظر یات کا پھیلاو اب کشمیر میں کافی وسعت اختیار کرچکا ہے اس لئے اس بات کے امکانات بہت کم ہے کہ ان نظریات کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے ۔ بہرحال پولیس حراست میں ایک استاد کا قتل ہر لحاظ سے ایک قابل مذمت واقعہ ہے ۔ ظاہر ہے کہ تین روز قبل گرفتار کیا گیا نوجوان استاد اپنے آپ ہی دم نہیں توڑ چکا ہوگا ۔ اس بات کے سب سے زیادہ امکانات ہیں کہ اس پر ایسا تشدد کیا جاچکا ہوگا جسے وہ برداشت نہیں کرسکا اور اس کی جان نکل گئی ۔ گوکہ اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم جاری کیا گیا ہے تاہم اس سے پہلے بھی بہت سارے واقعات کی تحقیقات کا حکم جاری کیا گیا تاہم بہت کم واقعات میں تحقیقات کی رپورٹ سامنے آگئی اور ذمہ داروں کو قرار وقعی سزا دی گئی ۔ایسے واقعا ت بہرحال اپنے اثرات چھوڑتے ہیں اور ان کے بدترین نتائج بھی کبھی نہ کبھی سامنے آتے ہی ہیں ۔ایسے اندوہناک واقعات ایک جمہوری حکومت پر بدنما داغ ہی ہوسکتے ہیں ۔اس سے پہلے بھی اس پر کافی مباحث ہوئے ہیں کہ دوران حراست قیدیوں کے ساتھ ایسا تشدد نہیں کیا جانا چاہئے کہ ان کی جان ہی نکل جائے ۔کسی بھی مذہبی یا سیاسی تنظیم کے ساتھ وابستگی کوئی جرم نہیں ہے ۔ جاح بحق استاد کے پورے خاندان کا تعلق جماعت اسلامی سے رہا ہے اور اس کے لئے وہ سب کام کررہے تھے ۔ جماعت کا نیٹ ورک کافی پھیلا ہوا تھا اور اس کے ہزاروں افراد اس کے مختلف اداروں میں جز وقتی یا ہمہ وقتی ارکان کے طور پر کام کررہے تھے ۔ ان میں اکثر جماعت کے تعلیمی اور فلاحی ادارے تھے ۔ ان اداروں کے لئے کام کرنے والے اراکین کا سیاست سے بظاہر کوئی تعلق نہیں تھا لیکن اس کے باوجود بھی ان پر اپنے نظریات کی تبلیغ و تر ویج کا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے۔اس واقعہ نے پوری وادی میں غم و غصے کی لہر پیدا کردی ہے ۔ اس لئے لازمی ہے کہ واقعہ کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے اس کی مکمل تفصیل عوام کے سامنے رکھی جائے اور اگر کسی کو اس واقعہ میں ملوث پایا گیا تو اسے قرار واقعی سزا دی جائے ۔ایسا کرنے سے عوام میں اعتماد پیدا ہوجائے گا اور یہ کشمیر میں بداعتمادی کے طویل دور میں کسی قدر کمی کا باعث بھی ہوسکتا ہے ۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں وہ بداعتمادی اورزیادہ بڑھ جائے گی جس کی وجہ سے حالات اس حد تک پہونچ چکے ہیں 

Uqab News Paper

Enjoy this blog? Please spread the word :)

Follow by Email1k
Facebook
Facebook
Google+
http://dailyuqab.com/editorial">
Twitter
YouTube
LinkedIn