Editorial

۔14 نومبر 2018ء بروز بدھوار 
ہلاکت خیز کاروبار اور گورنر انتظامیہ 
یہ بات اب عیاں ہے کہ کشمیرنقلی ادویات بنانے والوں کے لئے منافعے کا سب سے بڑا بازار ہے جہاں اب اصلی ادویات سے زیادہ نقلی ادویات ہی فروخت ہورہی ہیں ۔ نقلی ادویات دو طرح کی ہوتی ہیں ایک وہ جن کا کوئی نام رکھا گیا ہوتا ہے لیکن وہ دوا نہیں ہوتی بس مٹی کی گولی ہوتی ہے یا ایسا کیپشول ہوتا ہے جس میں مٹی یا کچھ ایسی ہی چیز بھری ہوتی ہے ۔ ان ادویات کے ڈبوں پر کمپنی کا جو نام ہوتا ہے وہ بھی فرضی ہی ہوتاہے اور ایسی کمپنی کو پکڑنا بھی محال ہی ہوتاہے ۔ ان فرضی کمپنیوں کے ایجنٹ ڈاکٹروں سے مل کر انہیں بھاری رقومات ایڈوانس میں ادا کرتے ہیں تاکہ و ہ دوسری ادویات کے ساتھ یہ ادویات بھی مریضوں کے نسخوں میں تجویز کریں چنانچہ ڈاکٹر اصلی ادویات کے ساتھ یہ ادویات بھی نسخے میں لکھ دیتے ہیں ۔ اس طرح ان ادویات کی بکر ی اصل ادویات سے زیادہ ہوتی ہیں ۔ چونکہ مریض کو اصل ادویات سے فایدہ ہوتا ہے اس لئے اسے محسوس بھی نہیں ہوتا ہے کہ ڈاکٹر یا دوا فروش نے اسے دہوکا دیا ۔دوسری اصلی ادویات جو نامور کمپنیاں بناتی ہیں کے نام پر نقلی دوائیاں ہوتی ہیں ۔ ان ادویات کے ساتھ ڈاکٹر کا کوئی ساز باز والا تعلق نہیں ہوتا ہے کیونکہ کوئی ڈاکٹر مریض کو مار ڈالنے کی حد تک گناہ نہیں کرسکتا ہے ۔یہ ادویات فروخت کرنا زیادہ خوفناک جرم ہے جو انسان کی جان لینے کا باعث ہوتا ہے ۔اگر بلڈ پریشر کی گولی نقلی ہو تو مریض یقینی طور پر موت کا شکار ہوسکتا ہے ۔اسی طرح ایسی بہت ساری دوائیاں ہیں جو مریض کو زندہ رکھنے کے لئے لازم ہوتی ہیں ۔اس طرح کی دوائیاں عام طور پر نقلی نہیں بنتی ہیں لیکن اعلےٰ کمپنیوں کی زکام ، کھانسی وغیرہ ایسی بیماریوں کے لئے بنائے جانے والی ادویات کو نقلی کمپنیاں بنا کر اصلی ناموں کی لیبل لگا کر بیچ دیتی ہے ۔یہ کارو بار اب بہت وسعت حاصل کرچکا ہے اور اس کے ساتھ بے شمار لوگوں کا روزگار بھی وابستہ ہوچکا ہے ۔حکومت اور اس کے متعلقہ محکمے اس کاروبار کے بارے میں پہلے سے ہی آگاہ تھے لیکن کچھ فیصلہ ساز لوگوں کو بھی شیشے میں اتارا گیا تھا اس طرح حکومت کی ہی چھتر چھایا میں یہ کاروبار ایک صنعت کی شکل اختیار کرگیا اب جبکہ یہ مسئلہ انسانوں کے لئے بہت خوفناک بن چکا ہے اور اس کی وجہ سے لوگوں کی جانیں بھی جانے لگی ہیں تو حکومت کو احساس ہونے لگا کہ اسے اس معاملے میں کچھ نہ کچھ دکھاوے کے لئے ہی سہی کرنا پڑے گا چنانچہ عام لوگوں کو لگ رہا ہے کہ حکومت اس وباء کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے متحرک ہوچکی ہے ۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت جو کچھ بھی کررہی ہے وہ صرف پبلسٹی اقدامات ہیں اصل میں اس معاملے کو اسمبلی میں زیر بحث لایا جانا چاہئے تھا تاکہ کچھ نقاب بھی الٹ جاتے اور وہ سب باتیں عوام کو بھی معلوم ہوجاتیں جو اس صنعت کے فروغ کی وجہ بنی ہوئی ہیں ۔ماہرین کی ایک کمیٹی بناثی جانی چاہئے تھی جو اس کاروبار کے جال کا پتہ لگا لیتی اور ایک جامع منصوبہ بنایا جاتا تاکہ کشمیر میں نقلی ادویات فروخت کرنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہ پاتی ۔ چند دکانداروں کے خلاف کاروائی کرنے ، انہیں جرمانے کرنے یا ان کے لائسنس منسوخ کرنے سے یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے کیونکہ اس کی جڑیں اب بہت گہری ہوچکی ہیں ۔سیلز ایجنٹوں کا وجود اس کاروبار کے پھیلاو کی سب سے بڑی وجہ ہے یہی لوگ بڑے بڑے آفر لیکر ڈاکٹروں کے پاس جاتے ہیں اور ہسپتال میں بھی اگر ڈاکٹر مریضوں کے ساتھ مصروف ہوتاہے تو یہ بلا روک ٹوک کے اندر گھس کر نئی ادویات کی فہرست پیش کرتے ہیں ۔یہ طریقہ کار اس پیشے میں نامناسب ہے کیونکہ اسی سے گندگی پھیل رہی ہے اس لئے اس طریقہ کار کو تبدیل کرنے یا ختم کرنے پر بھی غور ہونا چاہئے ۔اب گورنر انتظامیہ جو کرپشن اور بدانتظامی کیخلاف بڑے بول بول رہی ہے دیکھنا یہ ہے کہ اس اہم معاملے میں کیا کچھ کیا جاتا ہے ۔

Uqab News Paper

Enjoy this blog? Please spread the word :)

Follow by Email1k
Facebook
Facebook
Google+
http://dailyuqab.com/editorial">
Twitter
YouTube
LinkedIn