NamakParay

سیاست ہی سیاست 
اپنی اس جنت بے نظیر کے فہیم و زیرک فرزندان کسی اورشئے سے محبت کریں نہ کریں سیاست سے محبت ضرورکرتے ہیں ۔کشمیر ی ہوا نہیں پیتاسیاست پیتا ہے ۔ سیاست کھاتا ہے ۔ سیاست جیتا ہے اور سیاست کرتا ہے ۔ دوست کے ساتھ سیاست ‘ بچوں کے ساتھ سیاست ‘ بیوی کے ساتھ سیاست ‘ باپ کے ساتھ سیاست ‘ ماں کے ساتھ سیاست ‘ سرکار کے ساتھ سیاست ‘ مذہب کے ساتھ سیاست ‘ ضمیر کے ساتھ سیاست ‘ ایمان کے ساتھ سیاست ۔ یہاں بھی سیاست وہاں بھی سیاست ۔ ادھر بھی سیاست اُدھر بھی سیاست۔ بیروکریٹ سرکار کے ساتھ سیاست کرتا ہے ۔ ملازم بیروکریسی کے ساتھ سیاست کرتا ہے ۔ دکاندار خریدار کے ساتھ سیاست کرتا ہے اور خریدار دکاندار کے ساتھ سیاست کرتا ہے ۔ دکاندار نقلی دوا ‘ نقلی نمک ‘ نقلی تیل ‘ نقلی مصالحے بیچتا ہے اور خریدار ادھار لیکر ایک روز فرار ہوجاتا ہے ۔ پولیس والا ادھار لیتا ہے اور ایک دن دکاندار کو کسی معاملے میں پھنسا کر سب کچھ وصول کرتا ہے ۔ خدا کا ماننے والا خدا کے ساتھ سیاست کرتا ہے ۔ اللہ کے حضور سربسجود ہونے کے لئے دوڑتا ہے اورجب مسجد سے باہر آتا ہے تو بہت سارے جھوٹ بولتا ہے اور بہت سے دھوکے دیتا ہے۔ جو سرکاری ملازم رشوت کی کمائی پر زندہ ہے وہ جمعہ کے روز دفتر کا ہر کام چھوڑ کر مسجد شریف کی طرف دوڑتا ہے او ر خدا کو خوش کرنے کی سیاست کرتا ہے ۔ کشمیری خدا کے لئے پوری دنیا سے ٹکر لینا چاہتا ہے ۔امریکہ کو نیست و نابود کرنا چاہتا ہے ، اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا ہے لیکن اپنے ہمسائے کو تکلیف میں دیکھ کر اس کی مدد کرنے کے لئے آگے نہیںآتا بلکہ بہانے بناتا ہے۔ کشمیر کا مولوی بھی سیاست چلاتا ہے ۔ مسجد کو آمدنی کا ذریعہ بناتا ہے اورزمینوں پر ناجائز قبضے کراکے شاپنگ کمپلکس تعمیر کراتا ہے ۔ پھر مسجد شریف میں خدا کے رحیم و کریم ہونے کا وعظ فرماتاہے ۔ اب دنیا والوں کو بھی معلوم ہوگیا ہے کہ کشمیر میں کچھ نہیں چلتا سوائے سیاست کے اس لئے وہ بھی سیاست ہی کرتے ہیں ۔ 

Uqab News Paper

Enjoy this blog? Please spread the word :)

Follow by Email1k
Facebook
Facebook
Google+
http://dailyuqab.com/namak">
Twitter
YouTube
LinkedIn