NamakParay

بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا 
اللہ رحم کرے اپنے حال پر اب ہمیں لڑنے کا چسکہ لگ چکا ہے ۔ ہم سڑکوں پر تو لڑتے ہی تھے اب گھروں میں بھی لڑرہے ہیں ۔ دکانوں پر بھی لڑرہے ہیں ۔ دفتروں میں بھی لڑرہے ہیں ۔ تعلیمی اداروں ، سمیناروں اور سیاسی تنظیموں میں بھی ایک دوسرے سے سر بہ گریباں ہوجاتے ہیں ۔وفاداریاں ایک دوسرے سے ٹکرارہی ہیں۔مفادات ایک دوسرے سے جھگڑ رہے ہیں ۔خواب ایک دوسرے سے چھیننے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ خواہشوں اورامیدوں کی بھی چھینا چھپٹی ہورہی ہے ۔اپنی میونسپل کارپوریشن کی ایک میٹنگ ہورہی تھی جس میں کونسلر بھی شامل تھے ۔ مئیر بھی موجود تھے اور ڈپٹی مئیر بھی ۔ کسی بات پر بحث ہورہی تھی ۔ تو تو میں میں ہوئی اور پھر ایک کانگڑی کسی کونسلر نے اپنے ڈپٹی مئیر پر دے ماری ۔ کانگڑی ہی تھی یا کوئی اور چیز ابھی یہ پوری طرح سے معلوم نہیں لیکن چوٹ ایسی لگی کہ ڈپٹی مئیر کو ہسپتال لیجانا پڑا جہاں انہیں ایک کانٹا بھی لگایا گیا ۔ بے چارا سیریس حالت میں ہے ۔ڈپٹی مئیر کانگریس کا ہے جبکہ مئیر پیپلز کانفرنس کا ۔ دونوں میں ذرا بھی نہیں بنتی ۔ مئیر کافی پڑھا لکھا ہے ۔ بے چارا شریف بھی ہے ۔ اس لئے اس سے یہ توقع نہیں کہ دشمنی میں کسی پر کوئی چیز دے مارے ۔ ایک اس کا کوئی حامی ایسا کرے ۔ ڈپٹی مئیر بتہ مالنہ کا ہے ۔ لڑنے جھگڑنے میں ماہر ہے لیکن پھر بھی مات کھاگیا ۔ مات کیا کھاگیا پوری کانگڑی کھا گیا اور وہ بھی چہرے پر ۔ ناک بھی زخمی ہے اور چہرہ بھی ۔ نہ جانے کیوں اور کس نے ایسا کیا ۔جس نے بھی کیا یہ ظاہر کرکے رکھ دیا کہ میونسپل کارپوریشن میں کا حال اب بے حال ہے ۔ میونسپل امور کو بہتر بنانے اور سنبھالنے کی فکر کم اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی فکر زیادہ ہے اور جب ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کونسلر ہی تہیہ کئے ہوئے ہوں تو معاملات پر بحث کیا ہوگی ۔ نئے خیال کہاں سے آئیں گے ۔ نئی تبدیلی کیسے ہوگی ۔ ایک دوسرے پر کانگڑیاں ہی دے ماری جائے گی اور اسی میں وہ مدت پوری ہوگی جس میں شہریوں کے لئے بہت کچھ کیا جاسکتا تھا ۔

Uqab News Paper

Enjoy this blog? Please spread the word :)

Follow by Email1k
Facebook
Facebook
Google+
http://dailyuqab.com/namak">
Twitter
YouTube
LinkedIn