راجوری میں پاک بھارت افواج میں شدید گولہ باری 

پونچھ میں جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد بڑے پیمانے پر آپریشن کا آغاز 
سرینگر؍پاک بھارت افواج کے درمیان راجوری میں شام دیر گئے شدید گولہ باری کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں لوگ گھروں میں سہم کر رہ گئے۔ ادھر عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد سیکورتی فورسز نے مینڈھر پونچھ میں بڑے پیمانے پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق راجوری سیکٹر میں پاک بھارت اواج کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں لو گ گھروں میں سہم کررہ گئے۔ نمائندے کے مطابق راجوری کے نوشہرہ اور کلال سیکٹروں میں پاکستانی رینجرس نے بھارتی چوکیوں کو ہلکے اور باری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ دفاعی ذرائع نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی رینجرس نے ایک دفعہ پھر ناجنگ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گولہ باری کی تاہم مستعد اہلکاروں نے پاکستانی گولہ باری کا سختی کے ساتھ جوا ب دیا۔ ادھر عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد سیکورتی فورسزنے جموں پونچھ شاہراہ کے نزدیکی گاؤں کو پوری طرح سے سیل کرکے بڑے پیمانے پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا۔ معلوم ہوا ہے کہ فوج اور ایس او جی نے کئی علاقوں کو سیل کرکے فرار ہونے کے راستوں پر پہرے بٹھا دئے ہیں۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ پونچھ کے کئی علاقوں میں بندوق برداروں 
کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع موصول ہوئی ہے جس کے بعد نصف درجن کے قریب علاقوں کو محاصرے میں لے لیا گیا ہے۔ آخری اطلاعات موصول ہونے تک تلاشی آپریشن جاری تھا۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ 

Please follow and like us:
1000

پنجاب سے کشمیرتک ہائی الرٹ

مادھو پور پٹھانکوٹ میں بندوق کی نوک پر گاڑی ہائی جیک، سیکورٹی ایجنسیوں کو متحرک رہنے کاحکم 
سرینگر؍مادھو پور پٹھان کوٹ میں بندوق کی نوک پر ٹیکسی کو ہائی جیک کرنے کیساتھ پورے جموں وکشمیر اور پنجاب میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد کوئی بڑی واردات انجام دینے کیلئے گاڑی کو ہائی جیک کر چکے ہیں ۔ا س دوران گاڑی کا سرا غ لگانے کیلئے پولیس اور فورسز کیساتھ ساتھ تمام سراغرساں ایجنسیاں متحرک ہوگئی ہیں۔الفا نیو زسروس کے مطابق اس بات کی پولیس کو اطلاع دی گئی ہے کہ پٹھاکوٹ میں مادھو پور کے قریب ایک ٹیکسی بندوق کی نوک پر ہائی جیک کرلی گئی ہے اور اس میں چار افراد سوار ہوگئے ہیں اور ڈرائیور کو آدھے رستے میں چھوڑ کو چاروں افراد گاڑی کو لیکر فرار ہوچکے ہیں ۔ چنانچہ پولیس نے ابتدائی طور پر تفتیش شروع کر دی ہے جس کے دوران یہ پایا گیا ہ کہ یہ گاڑی سلور رنگ کی انووا گاڑی ہے اور اس کی رجسٹریشن jk02AW-0922کے طور پر ہے اس سلسلے میں گاڑی کے ڈرائیور نے پولیس اسٹیشن میں انکشاف کیا ہے اسلحہ برداروں نے یہ گاڑی ہائی جیک کرلی ہے اور اسے چھوڑ دیا گیا ہے چنانچہ اس سلسلے میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس گاڑیہ کو جموں ریلوے اسٹیشن سے چوری کرلیا گیا ہے اور ریلوے اسٹیشن ٹیکسی یونین کے نائب صدر کے مطابق اس گاڑی کو میجر سروجیت سنگھ کے نام پر بک کیا گیا ہے اور اسے پٹھانکوٹ لے جایا جانا تھا ۔ چنانچہ سی سی ٹی وی نے یہ دیکھایا ہے کہ اس گاڑی میں چار افراد سوار تھے اور ان میں ایک کے سر پر منکی کیپ تھی ، ایسے میں گاڑی سے چھوٹے ڈراؤیر راج کمار نے بتایا کہ چاروں افراد نے اسے تین ہزار پانچ سو پچاس روپے ایڈوانس کے طور پر تھما دیئے اور اس کے بعد کھٹوعہ میں انہوں نے شام کے وقت کھانا گیا اور ان افراد نے کار کو ادھر ہی رکھا ، اس کا کہنا تھا کہ لکھنپور ٹول پوسٹ پر ان چاروں افراد نے خود کو فوجی جتایا اور وہ ٹول ٹیکس سے بچ گئے لیکن جب کار مادھو پور پہنچ گئی تو چاروں مسلح افراد نے اسے دھمکی دیکر اس سے گاڑی بندوق کی نوک پر چھین لی ۔ حالانکہ ڈرائیور کے مطابق ان میں سے ایک نے یہ کہا تھا کہ ہمیں اس ڈرائیور کو بھی جان سے مار دینا چاہئے لیکن بعد میں وہ اس فیصلے پر پہنچ گئے کہ گاڑی کے ڈرائیور کو چھوڑ دیا جائے ۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ فوری طورپرنزدیکی پولیس اسٹیشن پہنچ گیا اور ساری روئیداد پولیس کے سامنے بیان کی ۔اس کا کہنا تھا کہ وہ معجزاتی طو ر پر بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا ، چنانچہ پولیس نے اطلاع ملتے ہیں پٹھانکوٹ ،پنجاب سمیت پورے جموں وکشمیر میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ چاروں مسلح افراد نے گاڑی کو فوجی تنصیبات پر حملے کیلئے استعمال کیا ہو یا پھر وہ عوامی مقامات پر بڑے حملے کو انجام دینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔چنانچہ گاڑی کا سراغ لگانے کیلئے سیکورٹی ایجنسیوں نے تحقیقات شروع کر دی ہے اور ایسے میں پولیس اسٹیشنوں کو بھی ایڈوائزی جاری کر دی گئی کہ پنجاب سے لیکر جموں وکشمیر تک ہائی الرٹ جاری رکھا جائے اور گاڑیوں کی باریک بینی سے نگاہ رکھی جائے تاکہ کسی بھی جگہ سے اس گاڑی کو کشمیر پہنچنے نہ دیا جائے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکورٹی ایجنسیوں نے جگہ جگہ پر ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے اور اس بات کا پتہ لگایا جارہا ہے کہ آخر اس گاڑی کو ہائی جیک کرنے والے جنگجو تو نہیں ہے کہی سرحد پار کے جنگجو بھی اس میں سوار تو نہیں ہوئے ہیں تاہم فی الوقت گاڑی کو پتہ لگانے میں ابھی تک سیکورٹی ایجنسیاں ناکام ہیں ۔

Please follow and like us:
1000

شہروں کے ناموں کی تبدیلی فرقہ پرستی کی بدترین مثال

بھارت کی آزادی اور تعمیر میں مسلمانوں کا رول ناقابل فراموش/فاروق عبداللہ 
سرینگر/ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی پر زبردست تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے صدرِ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ (رکن پارلیمان) نے کہا کہ یہ تعصب پرستی اور مذہبی منافرت کا رجحان ملک کی سالمیت اور آزادی کیلئے خطرہ ثابت ہوگا۔ اس لئے ملک کے تمام جمہوریت پسند، امن پسند اور سیکولر طاقتوں کو فرقہ پرست عناصر کی ناپاک سازشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے متحد ہونا چاہئے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ ملک کے تاریخی اور شہرآفاق شہریوں ،مقامات اور تنصیبات کا نام بھی فرقہ پرستی اور مذہبی بنیادوں پر تبدیل کیا جارہا ہے ، جو دنیا بھر میں ملک کیلئے ہزیمت کا سامانبن رہا ہے۔سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ مرکز کے سنگھاسن پر براجمان حکمران اس سب کا خاموشی سے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ ریاستی حکومتیں خصوصاً اترپردیش حکومت فرقہ پرستی کی تمام حدیں پار کررہی ہے اور نئی دلی اس سب پر قابو پانے میں سرے سے ہی ناکام ہوگئی ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ناموں کی تبدیلی سے تاریخ مسخ نہیں کی جاسکتی۔ملک کی تقسیم کے وقت ہندوستانی مسلمانوں نے ہندوستان کو اپنا وطن اختیار کیا۔ مسلمان صرف ہندوستان کا حصہ نہیں رہے بلکہ آزادی کے حصول کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں دیں اور آزادی کے بعد تعمیر وطن میں گراں قدر حصہ ادا کیا، پھر بھی سنگھ پریوار کو مسلمانوں اور ان کی تاریخی علامات سے نفرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی اور تعمیر میں مسلمانوں کے رول کو کسی بھی صورتحال میں تاریخ سے مسخ نہیں کیا جاسکتا۔اگر مسلمانوں کی نشانیوں کو ہندوستان میں مٹادیا جائے تو پھر جنگل ، پہاڑوں اور ریگستان کے سواء کچھ باقی نہیں رہے گا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ مسلمانوں نے ہندوستان کا نام ہر ایک شعبہ میں روشن کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ بھاجپا نے وکاس کا نعرہ دیا لیکن حقیقت میں فرقہ وارانہ ایجنڈا پر گامزن ہے ۔ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے مذہبی معاملات میں بے جا مداخلت کی جارہی ہے۔ مسلمانوں کے اپنے مسلم پرسنل لاء کو ختم کرنے کیلئے آئے روز نت نئے حربے اپنائے جارہے ہیں۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ بھاجپا نے یوگی ادتیہ ناتھ کو اترپردیش سے ملک کو ہندو راشٹرا میں تبدیل کرنے کا بیڑہ اٹھانے کا کام سونپ دیا ہے۔ رکن پارلیمان نے کہا کہ بھاجپا کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ اگر فوری طور پر فرقہ پرستی کے اس رجحان کی روک تھام نہ کی گئی تو یہ تباہی اور بربادی کا سامان بن سکتا ہے۔ ملک کی موجودہ حالات میں فوری بدلاؤ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ ہندوستان اب وہ ہندوستان نہیں رہا ، جہاں مسلم، سکھ ، ہندو ، عیسائی، بودھ اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو یکساں حقوق اور مذہبی آزادی حاصل تھی، ملک اس وقت مکمل طور پر فرقہ پرستوں کے چنگل میں آچکا ہے۔ اس وقت ہندوستان میں اقلیتوں کا قافیہ حیات تنگ کیا گیاہے، اقلیتوں اور کمزور طبقوں کے لوگوں کو ایک منصوبہ بند سازش کے تحت نشانہ بنایا جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو یہ طرہ امتیاز حاصل تھا کہ یہاں ہر کسی کو مذہبی آزادی حاصل تھی اور آئین ہند میں بھی تمام مذاہب کے لوگوں کے حقوق کو تحفظ دیا گیا تھا لیکن فرقہ پرستوں کے غلبے کے بعد ان اصولوں کو تہس نہس کیا جارہا ہے۔

Please follow and like us:
1000

این سی اور پی ڈی پی موقع پرست جماعتیں : رام مادھو 

کٹھوعہ ، 14نومبر (یو ا ین آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری رام مادھو نے نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو موقع پرست اور مفاد پرست جماعتیں قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دفعہ 35 اے کے نام پر بلدیاتی انتخابات کو روکنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جماعتیں ایک جانب دفعہ 35 اے کے نام پر بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کا بائیکاٹ کرتی ہیں، جبکہ دوسری جانب ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرکے انتخابات کا مطالبہ کررہی ہیں۔ رام مادھو نے گذشتہ شام یہاں ایک پارٹی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’ریاست میں کچھ جماعتیں موقع پرست اور مفاد پرست ہونے کا ثبوت دے رہی ہیں۔ جب ریاست میں بلدیاتی انتخابات ہونے تھے اور لوگوں کو بااختیار بنانا تھا، تب انہیں دفعہ 35 اے یاد آیا۔ کرگل میں ترقیاتی کونسل کے انتخابات کے دوران انہیں دفعہ 35 اے یاد نہیں آیا۔ یہ تب یاد آیا جب ریاست میں بلدیاتی انتخابات ہونے تھے۔ این سی اور پی ڈی پی نے بائیکاٹ کے نام پر بلدیاتی انتخاباتکو روکنے کی ناکام کوشش کی تھی‘۔ انہوں نے کہا ’ریاست کی جنتا نے انہیں اچھی سبق سکھائی ہے۔ یہ موقع پرست جماعتیں ہیں۔ اب جب پنچایتی انتخابات کی تیاریاں ہورہی ہیں ، وہ بھی اپنے کارکنوں کو کہہ رہی ہیں کہ انتخابات میں حصہ لو۔ جمہوریت کی جیت میں ہی ریاست کی ترقی کا راز مضمر ہے۔ سب لوگ آکر انتخابات میں حصہ لیں۔ یہ دوغلہ پن چھوڑیں‘۔ رام مادھو نے کہا کہ یہ جماعتیں ایک جانب دفعہ 35 کے نام پر بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کا بائیکاٹ کرتی ہیں، جبکہ دوسری جانب ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرکے انتخابات کا مطالبہ کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’ایک طرف کہتی ہیں کہ جب تک دفعہ 35 اے کا معاملہ ٹھیک نہیں ہوگا ہم انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔ دوسری طرف کہتی ہیں کہ اسمبلی کو تحلیل کرکے انتخابات کراؤ۔ بھئی یہ تو بتاؤ کہ کل اگر اسمبلی انتخابات ہوتے ہیں، تم بائیکاٹ کرو گے یا لڑو گے۔ لڑو گے تو دفعہ 35 اے کا کیا ہوگا۔ جس کے بہانے تم چاہتے تھے کہ بلدیاتی انتخابات نہ ہوں۔ یہ دو چہرے رکھنے والی جماعتیں ہیں۔ ان کے لئے عوامی مفاد اہم نہیں بلکہ انہیں اپنے مفاد سے مطلب ہے۔ انہیں آنے والے انتخابات میں سبق سکھانا ہوگا‘۔ دریں اثنا رام مادھو نے اجتماع سے خطاب کے بعد نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں اس وقت ترقی اور ملی ٹینسی سے لڑنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا ’جموں وکشمیر میں اس وقت گورنر راج کے تحت ترقی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ ہر طرف اچھا ماحول بنا ہوا ہے۔ ملی ٹینسی کے خلاف لڑنے کا کام بھی جاری ہے۔ یہ کام جاری رہے گا۔ عوام بھی اس بات کو مانتی ہے کہ جب سے یہاں گورنر راج نافذ ہوا ہے، کام کی رفتار میں تیزی آئی ہے۔ ہم اس بات سے مطمئن ہیں۔ اس لئے ہم نے فیصلہ لیا تھا کہ جموں وکشمیر میں گورنر راج کا نفاذ ضروری ہے‘۔ رام مادھو نے کہا کہ ریاست میں گورنر راج دسمبر کے وسط تک جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا ’ریاست میں گورنر راج دسمبر کے وسط تک جاری رہے گا۔ اس کے بعد کیا ہوگا، آپ کو معلوم ہوجائے گا‘۔ رام مادھو نے کہا کہ بی جے پی نے بلدیاتی انتخابات میں مثالی کامیابی حاصل کی ہے اور سری نگر کا میئر بھاجپا کی حمایت سے بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ’ہاں بے شک ریاست میں سیاسی سرگرمیاں زوروں پر ہیں۔ ہم نے بلدیاتی انتخابات میں مثالی کامیابی پائی ہے۔ سری نگر میں میئر کانگریس، این سی اور پی ڈی پی کو ہراکر ہمارا حمایت یافتہ بنا ہے‘۔ انہوں نے کہا ’جن لوگوں نے بی جے پی کو چھوڑا ہے، ہم ان کو واپس لائیں گے۔ لوگ بڑی تعداد میں بھاجپا میں شامل ہورہے ہیں‘۔ بی جے پی جنرل سکریٹری نے دفعہ 35 اے کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا ’دفعہ 35 اے کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔ ہم عدالت کے فیصلے کا انتظار کریں گے‘۔ مادھو نے سرحد پار پاکستان سے ہونے والے سنائپر حملوں پر کہا ’ہمارے سیکورٹی فورسز پاکستان کے کسی بھی چیلنج کا صحیح سے سامنے کرنے کے اہل ہیں۔ ہمارے فورسر کسی بھی شرارت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار ہیں۔ جس کسی کاروائی کی ضرورت پڑے گی، سیکورٹی فورسز وہ کرے گی

Please follow and like us:
1000

گورنر نے التواء میں پڑے پروجیکٹوں کی تکمیل کیلئے ایکشن پلان کا جائیزہ لیا

۔2172 کروڑ روپے لاگت والے التواء میں پڑے1014 پروجیکٹ، جے کے آئی ڈی ایف سی کے ذریعے سے فنڈنگ کیلئے منظور
سرینگر؍گورنر ستیہ پال ملک نے افسروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریاست میں التواء میں پڑے ترقیاتی پروجیکٹوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے متحرک ہوجائیں تا کہ انہیں جلداز جلد عوامی استعمال میں لایا جاسکے۔گورنر آج یہاں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران ریاست میں التواء میں پڑے پروجیکٹوں کو مکمل کرنے کی غرض سے تیار کئے گئے ایکشن پلان کی عمل آوری کا جائزہ لے رہے تھے۔گورنر کے مشیرکے ۔ وِجے کمار اور کیول کرشن شرما کے علاوہ چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرامنیم، گورنر کے پرنسپل سیکرٹری امنگ نرولہ ، پرنسپل سیکرٹری صحت و طبی تعلیم اٹل ڈولو ، پرنسپل سیکرٹری خزانہ نوین کے چودھری ، پرنسپل سیکرٹری منصوبہ ، ترقی اور نگرانی روہت کنسل ، کمشنر سیکرٹری پی ڈبلیو ڈی خورشید احمد شاہ ، سیکرٹری صحت عامہ ،آبپاشی ، فلڈکنٹرول فاروق احمد شاہ ، ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر جے کے آئی ڈی ایف سی ناظم ضیا ء خان اورکئی دیگر افسران اس میٹنگ میں موجود تھے۔گورنر نے اس قدم کو افسروں کو ترجیح دینے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروجیکٹوں کی تکمیل کے لئے8 ہزار کروڑ روپے مختص رکھے گئے ہیں اور یہ پروجیکٹ وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے دہائیوں تک التواء میں پڑے ہوئے تھے۔ گورنر نے کہا کہ التواء میں پڑے پروجیکٹوں کو منظوری دیتے ہوئے سڑک رابطوں، پینے کے پانی، تعلیم، صحت، آبپاشی ، کھیل کود اور دیگر اہم سیکٹروں کی طرف خصوصی ترجیح دی جانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ کافی عرصہ سے التواء میں پڑے پروجیکٹوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جانا چاہئے جیسا کہ اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اُن پروجیکٹوں پر کسی بھی صورت میں اب اضافی اخراجات نہیں ہونے چاہئیں۔گورنر نے مزید کہا کہ عوامی مفادات کو مد نظررکھتے ہوئے ہمیں پوری توجہ اور عزم کے ساتھ ان پروجیکٹوں کو مکمل کرنا چاہیئے ۔ گورنر نے کہا کہ ہر ایک پروجیکٹ کی مالی اور جسمانی پیش رفت سے متعلق تفاصیل متواتر طور پر متعلقہ محکموں کی سرکاری ویب سائٹوں پر اَپ ڈیٹ کی جانی چاہیئے ۔انہوں نے تکمیل کے لئے ہاتھ میں لئے جانے والے تمام التوأ کے پروجیکٹوں کی جیو ٹریگنگ پر بھی زور دیا۔ پرنسپل سیکرٹری خزانہ نوین کے چودھری نے التواء میں پڑے پروجیکٹوں کی تکمیل کے حوالے سے ایکشن پلان کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ اب تک جموں وکشمیر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فائنانس کارپوریشن کی طرف سے2171.91 کروڑ روپے لاگت والے اس طرح کے1014 پروجیکٹ فنڈنگ کے لئے منظور کئے گئے ہیں۔نوین کمار چودھری جو جے کے آئی ڈی ایف سی کے بانی چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ہے نے کہاکہ انتظامی سیکرٹری فائنانس محکمہ کی سربراہی والی اعلیٰ اختیاری کمیٹی جس میں کئی دیگر محکموں کے انتظامی سیکرٹری ممبران کی حیثیت سے کام کرتے ہیں، متواتر طور میٹنگوں کو انعقاد کر کے جے کے آئی ڈی ایف سی کے ذریعے سے فنڈنگ کے لئے ان پروجیکٹوں کو منظور کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب تک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی تین میٹنگوں کے دوران1014 التواء میں پڑے پروجیکٹوں کو فنڈنگ کے لئے منظوری دی گئی ہے اور مختلف سیکٹروں کے ان پروجیکٹوں پر2171.91 کروڑ روپے لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے پروجیکٹوں کی تکمیل کے لئے جے کے آئی ڈی ایف سی نے پہلے ہی 1700کروڑ روپے کے رقومات کا انتظام کیا ہے اور کئی مالی اداروں نے اِن پروجیکٹو ں کے لئے قرضے کی سہولیات دستیاب رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔نوین کمار چودھری نے اب تک منظور کئے گئے التوا کے پروجیکٹوں کی تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ اِن میں پی ایچ ای سیکٹر کے 682.58 کروڑ روپے لاگت والے 423پروجیکٹ، پی ڈبلیو ڈی سیکٹر کے 586.40 کروڑ روپے لاگت والے 312پروجیکٹ ، آبپاشی سیکٹر کے 188.73 کروڑ روپے لاگت والے 76 پروجیکٹ ، صنعت و حرفت سیکٹر کے 230.54 کروڑ روپے لاگت والے 35پروجیکٹ ، محکمہ تعلیم کے 23.75کروڑروپے لاگت والے 39پروجیکٹ ، صحت و طبی تعلیم سیکٹر کے 90.52کروڑ روپے لاگت والے 48پروجیکٹ ، لداخ امور کے 258.60کروڑ روپے لاگت والے 81 پروجیکٹ اور سیاحتی سیکٹر کے 65.38 کروڑ روپے لاگت والے 6پروجیکٹ شامل ہیں۔گورنر کے مشیروں کے ۔وِجے کمار اور کے ۔ کے شرما کے علاوہ چیف سیکرٹری بی و ی آر سبھرامنیم نے بھی اپنی تجاویز اس موقعہ پر سامنے رکھیں کہ کس طرح اس تواریخی عمل کو مزید فعال اور فائدہ بخش بنایا جاسکتا ہے۔

Please follow and like us:
1000

۔17نومبر کو مکمل ہڑتال کی جائے: جے آر ایل

نومبر ودسمبر میں چناؤ کے دوران متعلقہ علاقوں میں احتجاج اور ہڑتال کی اپیل
سرینگر؍مشترکہ مزاحمتی قیادت بشمول سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے نام نہاد میونسپل انتخابات کے بعد پنچایتی انتخابات کا ڈھونگ رچانے پرحریت پسند عوام سے 17نومبر 2018سنیچر کو مکمل ہڑتال کرنے کی اپیل کرتے ہوئے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ انتخابات کے دنوں یعنی 20,24,27,29, نومبر، اور01,4,8 اور 11 دسمبر2018 کو متعلقہ علاقوں میں احتجاجی ہڑتال کرتے ہوئے الیکشن پراسس کو کلی طور پر مسترد کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتخابی ڈرامے کشمیریوں پر ظلم و ستم کی ایک اور داستان بیان کرتے ہیں اور اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اگر پوریقوم حتیٰ کہ مقامی ہند نواز جماعتیں بھی ان انتخابات کا بائیکاٹ کر رہی ہیں اس کے باوجود بھارت عوامی جذبات کی پرواہ کئے بغیرمحض ریاست جموں کشمیر میں اپنے قبضے کو دوام بخشنے کیلئے طاقت کے بل پریہ انتخابات منعقد کرانے کا ڈرامہ رچایا جارہا ہے۔کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قائدین بشمول سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے حکمرانوں کی جانب سے جموں وکشمیر میں جبری طور نام نہاد میونسپل انتخابات کے بعد اب پنچایتی انتخابات کا ڈھونگ رچانے کے آغاز پر مورخہ 17 نومبر2018ء کو حریت پسند عوام سے پورے جموں وکشمیر میں مکمل احتجاجی ہڑتال کی اپیل کرتے ہوئے عوام پر زور دیا ہے کہ انہوں نے جس طرح نام نہاد بلدیاتی انتخابات سے عملاً دور رہ کر اسے کلی طور پر مسترد کردیا ، اسی طرح نام نہادپنچایتی انتخابات کے دنوں یعنی20,24,27,29, نومبر، اور01,4,8 اور 11 دسمبر2018 ء کو جن جن علاقوں میں یہ انتخابات ہو نے جارہے ہیں اس دن اُن اُن علاقوں میں احتجاجی ہڑتال کریں اور ان نام نہاد انتخابات سے عملاً مکمل طور لا تعلقی کا اظہار کرکے انہیں مسترد کریں۔ قائدین نے کہا کہ یہ انتخابی ڈرامے کشمیریوں پر ظلم و ستم کی ایک اور داستان بیان کرتے ہیں اور اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اگر پوری قوم حتیٰ کہ مقامی ہند نواز جماعتیں بھی ان انتخابات کا بائیکاٹ کر رہی ہیں اس کے باوجود بھارت عوامی جذبات کی پرواہ کئے بغیرمحض ریاست جموں کشمیر میں اپنے قبضے کو دوام بخشنے کیلئے طاقت کے بل پریہ انتخابات منعقد کرانے کا ڈرامہ رچایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ فوجی قوت اور طاقت کے بل پر اس طرح کے لاحاصل مشق کا مقصد عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنا ہے کیونکہ جموں وکشمیر میں طاقت کے وحشیانہ استعمال سے عوام کے جملہ سیاسی ، بشری یہاں تک کہ مذہبی حقوق بھی سلب کر لئے گئے ہیں۔قائدین نے کہا کہ دلی کے حکمرانوں کا ایک منصوبہ کے تحت کشمیری عوام کو جبری طور نام نہاد انتخابات کا حصہ بنانااس حکمت عملی کا حصہ ہے کہ یہاں نام نہاد جمہوریت ہے جبکہ حکومت ہند جبر وقہر، قتل و غارتگری پر مبنی انسانیت سوز مظالم سے یہاں کے لوگوں کو حق خود ارادیت کی تحریک سے دور رکھنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہااس حکمت عملی کے تحت’’لوگ ایک حد تک ہی مزاحمت کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ایک کے بعد ایک طریقے سے ان پر دباؤ بنایا جائے۔‘‘ قیادت نے کہا کہ دفعہ 35- A کو زک پہنچانے کانعرہ اس کڑی کا ایک حصہ تھا۔ انہوں نے کہا کشمیری عوام کو معلوم ہے کہ آئین ہند کے تحت کسی بھی قسم کے انتخابی عمل میں حصہ داری اب تک کی دی گئی قربانیوں کے ساتھ دھوکہ اور فریب کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا کشمیر میں جاری تحریک حق خودارادیت کی جدوجہد خون سے سینچی گئی ہے اور دیر سویر یہ قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی۔

Please follow and like us:
1000

مشیر گورنرخورشید گنائی نے سکولی تعلیم محکمہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا

سرکاری سکولوں کا درجہ بڑھانے کے لئے اقدامات میں تیزی لانے کی بھی ہدایت
جموں /گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی نے آج سکولی تعلیمی محکمہ کے افسروں کی ایک میٹنگ منعقد کی اور محکمہ کی طرف سے ریاستی و مرکزی معاونت والی سکیموں کی عمل آوری کا جائزہ لیا۔سیکرٹری سکولی تعلیم اجیت کمار ساہو ، سپیشل سیکرٹری سکولی تعلیم محمد حسین میر ، سکولی تعلیم جموں کے ناظم راکیش کمار سرنگل،ڈائریکٹر پلاننگ سکولی تعلیم ، مشن ڈائریکٹر ایس ایس اے، ڈائریکٹر فائنانس سکولی تعلیم و دیگر متعلقہ افسران میٹنگ میں (بقیہ 
موجود تھے۔میٹنگ کے دوران مشیر موصوف نے ریاست میں تعلیمی منظر نامے سے متعلق تفصیلات طلب کیں اور کہا کہ محکمہ کو سکولوں میں دستیاب سہولیات میں کسی بھی کمی کی نشاندہی انجام دینے چاہیئے اور انہیں دور کرنے کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جانے چاہئیے ۔ مشیر موصوف نے باقی ماندہ سرکاری سکولوں کا درجہ بڑھانے کے سلسلے میں کئے جارہے اقدامات میں تیزی لانے کی بھی ہدایت دی ۔انہوں نے المنٹری سطح پر معقول بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی ۔انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ ٹیچنگ۔ لرننگ عمل کو طلاب کے عین موافق بنانے اور ایکٹیوٹی بیسڈ تعلیم فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی۔انہوں نے ٹیچر ایجوکیشن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام سرکاری سکولوں میں تعلیم کا معیار بہتر بنانا ہوگا ۔انہوں نے متعلقہ افسران پر زور دیا کہ 31؍ مارچ 2019ء تک تمام سکولوں میں بیت الخلاء تعمیر کرنے ، بجلی و پینے کے پانی کی سہولیات فراہم کرنے کو یقینی بنایا جانا چاہیئے۔

Please follow and like us:
1000

خصوصی پوزیشن کیساتھ چھیڑچھاڑناقابل قبول

پیوندکاری اقدامات لاحاصل مشق:محبوبہ مفتی
سرینگر؍ سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے مرکزی سرکارکوخبردارکیاہے کہ جزوقتی یاپیوندکاری اقدامات سے کچھ حاصل نہیں ہوگابلکہ سیاسی اُتھل پُتھل کے چلتے ریاست میں حالات مزیدبگڑجائیں گے ۔انہوں نے ساتھ ہی کہاکہ ریاست کوآئین ہندکی دفعہ370اور35Aکے تحت حاصل خصوصی پوزیشن اورریاستی عوام کی منفردشناخت وحیثیت کیساتھ کسی بھی طرح کی (بقیہ نمبر12
)چھیڑچھاڑکوبرداشت نہیں کیاجائیگا۔کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کوملی تفصیلات کے مطابق اسلام آباداورپہلگام کے پارٹی کارکنوں وذمہ داروں کی ایک میٹنگ میں بولتے ہوئے پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے کہاکہ ہمارامقصدیاہماری منزل صرف اقتدارکی کرسی پربیٹھنانہیں بلکہ ہماری جماعت کااصل وبنیادی مقصداورایجنڈایہ ہے کہ ریاست کوطویل سیاسی افراتفری اورلاکت خیزصورتحال سے نجات دلانے کیساتھ ساتھ کشمیر میں عزت کیساتھ امن قائم کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی اپنے اس ایجنڈے پرکاربندہے اوراس سے منہ پھیرنے کاسوال ہی پیدانہیں ہوتا۔محبوبہ مفتی کاکہناتھاکہ ہرسیاسی پارٹی کااپنایجنڈاہوتاہے اورہماری پارٹی کے ایجنڈے کی بنیادعزت کیساتھ امن کاقیام ہے ،اورہم اس مشن کوآگے بڑھانے کے وعدہ بندہیں ۔سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ اقتداریاکرسی ہی سب کچھ نہیں ہوتی بلکہ اصل بات عوامی اعتمادہوتاہے ،جوکہ پی ڈی پی کااصل ایجنڈارہاہے ۔انہوں ے کہاکہ ریاست میں سیاسی غیریقینیت جسقدرطول پکڑے گی ،اُسی قدریہا ں کے حالات بگڑتے رہیں گے ۔محبوبہ مفتی کاکہناتھاکہ صرف سیاسی عمل سے ہی ہرمسئلے اورہرمعاملے کوسلجھایاجاسکتاہے ۔انہوں نے کہاکہ سیاسی مسائل کیلئے غیرسیاسی اقدامات کبھی کارگرثابت نہیں ہوتے ۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ جزوقتی یاپیوندکاری اقدامات سے بھی کچھ حاصل نہیں ہواہے اورنہ آئندہ چھ حاصل ہوگا۔سابق وزیراعلیٰ کاکہناتھاکہ گزشتہ کچھ برسوں سے ریاست کوحاصل خصوصی پوزیشن کیخلاف مختلف سطحوں پرمہم چھیڑی گئی ہے ۔تاہم انہوں نے واضح کیاکہ ایسی کسی بھی کوشش یاسازش کوقبول نہیں کیاجائیگا۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ ریاستی عوام کسی بھی صورت میں خصوصی پوزیشن کے مخالفین کی سازشوں کاکامیاب ہونے نہیں دیں گے ۔انہوں نے کہاکہ ریاست کوجوآئینی پوزیشن حاصل ہے اورریاستی عوام کوجومنفردشہریت دی گئی ہے ،وہ ایک تاریخی حقیقت اورجائزحق بھی ہے ،اورہم کسی کواس پوزیشن یااس حق کیساتھ چھیڑچھاڑکرنے نہیں دیں گے ۔سابق وزیراعلیٰ کاکہناتھاکہ دفعہ370اور35Aکیخلاف کسی عدالت کادروازہ کھٹکھٹایاجائے یاکہ اس کیلئے کوئی انتظامی نوعیت کی سازش کی جائے ،ریاستی عوام کسی بھی ایسی کوشش یاسازش کونہ ہی قبول کریں گے اورنہ کامیاب ہونے دیں گے ۔انہوں نے کہاکہ ریاستی عوام کااپنااپناسیاسی نقطہ نظرہوسکتاہے لیکن ایک نقطے پرسبھی یک زبان اوریک جٹ ہیں کہ خصوصی پوزیشن کیساتھ کسی کوچھیڑچھاڑکی اجازت نہیں دی جائیگی ۔ریاست میں جاری سیاسی غیریقینی صورتحال پرتبصرہ کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہاکہ جس قدراس صورتحال کوطول دیاجائیگا،اُسی قدرقیام امن کی کوششوں میں رکاؤٹ پیداہوجائیگی ۔انہوں نے کہاکہ صرف سیاسی عمل سے ہی صورتحال کوسنبھالنے کیساتھ ساتھ ریاستی عوام کے اعتمادکوبحال کیاجاسکتاہے ۔محبوبہ مفتی نے واضح کیاکہ سرکاریں یاانتظامیہ بدلنے سے کوئی تبدیلی یابہتری نہیں آسکتی ہے کیونکہ آج تک جب بھی جزوقتی یاپیوندکاری اقدامات کاسہارالیاگیا،اورجب جب سیاسی غیریقینی صورتحال کوطول دیاگیاتب تب ریاست میں حالات بدسے بدترہوتے چلے گئے ۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ پی ڈی پی کااصل مدعاومقصدریاستی عوام کااعتمادحاصل کرنااورریاستی عوام کی جائزبنیادوں پرترجمانی کرناہے ،اورہم اپنے اس مشن کی آبیاری کرتے رہیں گے۔ 

Please follow and like us:
1000

کیرن اور اکھنور سیکٹر میں 3 جنگجوجاں بحق 

ہتھیار اور گولہ بارود برآمد کرنے کادعویٰ ، مزید جنگجوؤں کی موجودگی کاشبہ ،سرحدی ضلع کپواڑہ کے جنگلی علاقوں میں تلاشی آپریشن جاری 
سرینگر؍فوج نے سرحدی ضلع کپواڑہ کے کیرن اور اکھنور سیکٹروں میں جھڑپ کے دوران 3عدم شناخت جنگجوؤں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ۔دفاعی ذرائع نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ کیرن سیکٹر میں سرحد ی علاقوں میں جنگجو مخالف آپریشن جاری ہے۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق کیرن سیکٹر میں فوج نے دراندازی کرنے والے2عسکریت پسندوں کو جاں بحق کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ جنگلی علاقے میں مزید جنگجوؤں کی موجودگی کو خارج از امکان قرار نہیں دیاجاسکتا ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق عسکریت پسندوں کے ایک گروپ نے اس طرف آنے کی کوشش کی ، حفاظت پر مامور اہلکاروں نے جنگجوؤں کو للکارا جس دوران دو بدو گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا۔ دفاعی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان کا فی دیر تک گولیوں کا تبادلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں دو عسکریت پسند جاں بحق ہوئے اور اُن کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ فوج کو اضافی کمک کو طلب کرکے آس پاس جنگلی علاقوں کو فورسز نے پوری طرح سے سیل کرکے فرار ہونے کے راستوں پر پہرے بٹھا دئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ فوج کو شبہ ہے کہ جنگل میں دراندازی کرنے والے عسکریت پسند موجود ہو سکتے ہیں جنہیں مار گرانے کیلئے ہیلی کاپٹروں سے بھی جنگل کی نگرانی کی جارہی ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق کیرن سیکٹر کے سرحدی علاقے میں جنگجو مخالف آپریشن جاری ہے۔ ادھر اکھنور سیکٹر میں بھی فوج نے دراندازی کرنے والے ایک جنگجو کو جاں بحق کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دفاعی ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اکھنور ، کھوری سیکٹروں میں پاک بھارت افواج کے درمیان شدید گولہ باری کے بیچ عسکریت پسندوں کے ایک گروپ نے اس طرف آنے کی کوشش کی جس دوران گولیوں کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک عسکریت پسند جاں بحق ہوا۔ دفاعی ترجمان کے مطابق عسکریت پسند کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود اور قابلِ اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا ہے۔ یو پی آئی نے اس ضمن میں جب فوج کے ایک سینئر آفیسر کے ساتھ رابط قائم کیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ کیرن سیکٹر میں جنگجوؤں اور فوج کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ مذکورہ آفیسر نے بتایا کہ دو جنگجوؤں کو مار گرایا گیا ہے اور اُن کی شناخت کیلئے کارروائی شروع کی گئی ہے۔ فوجی آفیسر کے مطابق کیرن سیکٹر میں تلاشی آپریشن جاری ہے کیونکہ علاقے میں جنگجوؤں کی نقل وحرکت کی اطلاع ملی ہے۔ 

Please follow and like us:
1000

خورشید گنائی نے تکنیکی تعلیم

محکمے کے کام کاج کا جائیزہ لیا 
سرینگر؍گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی نے آج یہاں تکنیکی تعلیم محکمے کے افسروں کی ایک میٹنگ کے دوران مختلف ریاستی اور مرکزی معاونت والی سکیموں کی پیش رفت کجائیزہ لیا ۔ میٹنگ میں سیکرٹری تکنیکی تعلیم اجیت کمار ساہو ، مشن ڈائریکٹر جے کے ایس ڈی ایم ایس ڈاکٹر پیر غلام نبی سہیل ، ڈائریکٹر تکنیکی تعلیم انو ملہوترہ ، سپیشل سیکرٹری تکنیکی تعلیم غظنفر علی بھی میٹنگ میں موجود تھے ۔ میٹنگ کے دوران مختلف پروجیکٹوں کی حصولیابی اور پیش رفت کا تفصیل سے جائیزہ لیا گیا جس میں نئے پال ٹیکنیک اور آئی ٹی آئی قایم کرنا اور پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا شامل ہیں ۔ 16 نئے پال ٹیکنک کالج قایم کرنے کے عمل کا جائیزہ لیتے ہوئے خورشید احمد گنائی نے عمل آوری ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ وہ یہ کام معیاد بند مدت کے اندر مکمل کریں ۔ مشیر موصوف نے کہا کہ تکنیکی تعلیم محکمہ ہنر مندی کو بڑھاوا دینے اور بے روز گاری کے مسئلے پر قابو پانے میں اہم رول ادا کر سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور ہنر مندی سے نوجوانوں کو بااختیار بنایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے متعلقہ افسروں کو ہدایت دی کہ وہ جامع کوششیں کر کے نوجوانوں کو ہر صورت میں بااختیار بنائیں ۔ انہوں نے کہا کہ طلاب کو روز گار پر مبنی کورسوں سے متعلق جانکاری دینے کیلئے ایک وسیع مہم شروع کی جانی چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ طلاب کو اس طور سے تربیت دی جانی چاہئیے تا کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ دیگر لوگوں کیلئے بھی روز گار کے وسائل پیدا کر سکیں ۔ مشیر کو جانکاری دی گئی کہ آئی ٹی آئی اداروں سے فارغ ہونے والے طلاب کو آسانی سے مختلف کمپنیوں میں روز گار حاصل ہوتا ہے ۔ مشیر موصوف نے محکمہ پر زور دیا کہ وہ اپنی حصولیابیوں کو اجاگر کریں ۔ مشیر کو جانکاری دی گئی کہ محکمہ عنقریب ہی طلاب کیلئے ایک روز گار میلے کا انعقاد کر رہا ہے

Please follow and like us:
1000

انتظامیہ موسمی صورتحال سے متعلق جانکاری کیلئے سوشل میڈیا کا بھی استعمال کرے

گورنر کے مشیر وجے کمار نے اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران سرینگر انتظامیہ کی طرف سے برف ہٹانے کی تیاریوں کا جائزہ لیا
سرینگر؍گورنر کے صلاحکار کے۔ وجے کمار نے آج یہاں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران سرینگر میں ساز گار موسمی حالات کے تناظر میں ضلع انتظامیہ کی تیاریوں کا جائیزہ لیا۔میٹنگ میں ڈویثرنل کمشنر کشمیر بصیر احمد خان، آئی جی کشمیر ایس پی پانی، ڈی سی سرینگر سید عابد رشید شاہ، کمشنر ایس ایم سی، جے ڈی اطلاعات محمد اشرف حقاق، چیف انجنئیر پی ڈی ڈی حشمت قاضی، ایس ایس پی سرینگر، ڈائریکٹر ہیلتھ، ڈائریکٹر محکمہ موسمیات سونم لوٹس اور کئی دیگر افسران بھی موجود تھے۔ ڈی سی سرینگر نے مشیر موصوف کو جانکاری دی کہ انہوں نے پچھلی برف باری کے بعد آر اینڈ بی، ایس ایم سی اور بجلی محکمہ کی ایک تفصیلی جائیزہ میٹنگ طلب کی اور متعلقین پر زور دیا کہ وہ اپنی افرادی قوت اور مشینری کو تیاری کی حالت میں رکھیں۔انہوں نے کہا کہ شہر کے لوگوںکے لئے زونل سطحوں پر کنٹرول روم قائم کئے گئے ہیں تا کہ انہیں کسی قسم کی دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مشیر موصوف نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ لوگوں کو موسمی صورتحال سے متعلق جانکاری دینے کے لئے سوشل میڈیا کا بھی استعمال کرے۔ مشیر کو بتایا گیا کہ اس وقت غذائی اجناس اور پیٹرولیم اشیاء کا وافر سٹاک موجود ہے اور پینے کے پانی کی سپلائی کو یقینی بنانے کے لئے42 ٹینکروں کو تیار رکھا گیا ہے۔میٹنگ کے دوران ایس ایم سی کمشنر نے جانکاری دی کہ پانی کی نکاسی کو یقینی بنانے کے لئے115 گشتی پمپ اور118 ڈی واٹرنگ پمپ تیار رکھے گئے ہیں۔افسروں نے مزید کہا کہ سرینگر میں صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے کے لئے اضافی کوڑے دان خریدے جارہے ہیں۔محکمہ موسمیات کے سربراہ سونم لوٹس نے کہا کہ وادی میں موسمی نظام میں 21 نومبر تک کوئی بڑی تبدیلی رونما نہیں ہوگی تا ہم صرف میدانی علاقوں میں کئی مقامات پر بارشیں ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ماہ ہوئی برف باری سے32 برسوں کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔

Please follow and like us:
1000

وادی میں بارشیں اور برف باری ،درجہ حرارت میں کمی 

۔434 کلو میٹر طویل سری نگر لیہہ شاہراہ اور تاریخی مغل روڑ پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل 
سرینگر 13نومبر (یو ا ین آئی) جموں وکشمیر کے میدانی علاقوں میں پیر کی شام سے بارشوں کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے جاری ہے۔ بالائی علاقوں بشمول عالمی شہرت یافتہ سکی ریزارٹ گلمرگ میں تازہ برف باری ہوئی ہے۔دوسرے بالائی علاقوں بشمول قصبہ گریز، وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل میں واقع سونہ مرگ اور جنوبی کشمیر میں واقع مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں بھی برف باری کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے جاری ہے۔ تازہ بارشوں اور برف باری کے سبب ریاست بھر میں رات کے درجہ حرارت میں بہتری جبکہ دن کے درجہ حرارت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان نے یو این آئی کو بتایا کہ ریاست کے بیشتر مقامات پر ہلکی سے درمیانہ درجہ کی بارش یا برف باری کا سلسلہ اگلے 48 گھنٹوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا ’جمعہ کے روز سے موسم میں بہتری آنا شروع ہوگی‘۔ وادی میں تازہ برف باری کے پیش نظر 434 کلو میٹر طویل سری نگر لیہہ شاہراہ اور تاریخی مغل روڑ پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل کردی گئی ہے۔ تاہم 270 کلو میٹر طویل سری نگر جموں قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی یکطرفہ آمدورفت جاری ہے۔ شمالی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مژھل اور کیرن کو ضلع ہیڈکوارٹر سے جوڑنے والی سڑکوں کو تازہ برف باری کے پیش نظر گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند کیا گیا ہے۔ سری نگر کے شمال میں 55 کلو میٹر کی دوری پر واقع عالمی شہرت یافتہ سکی ریزارٹ گلمرگ میں قریب دو انچ تازہ برف کھڑی ہوگئی ہے۔ تازہ برف باری کے نتیجے میں گلمرگ میں موجود سیاحوں اور سکی کھلاڑیوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے ہیں۔ گلمرگ سے ایک ہوٹل مالک نے یو این آئی کو فون پر بتایا ’تازہ برف باری کا سلسلہ گذشتہ شام شروع ہوا۔ منگل کی شام تک قریب دو انچ تازہ برف کھڑی ہوگئی۔ کٹھن موسمی حالات کے باوجود یہاں موجود سیاح اور سکی کھلاڑی سیر سپاٹے میں مصروف ہیں۔ سیاحوں میں بیشتر ایسے ہیں جنہوں نے پہلی بار برف کو گرتے ہوئے دیکھا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ برف باری کے نتیجے میں گلمرگ میں سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوا ہے۔ محکمہ موسمیات کے ترجمان نے بتایا کہ گلمرگ میں گذشتہ رات کم سے کم درجہ حرارت منفی 4 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ سری نگر کے جنوب میں قریب 100 کلو میٹر کی دوری پر واقع مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں گذشتہ رات سے بارشوں اور برف باری کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے جاری ہے۔ پہلگام میں گذشتہ رات کم سے کم درجہ حرارت ایک اعشاریہ ایک ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پہلگام کے بالائی حصوں بشمول چندن واڑی، شیش ناگ، مہاگنس، پسو ٹاپ اور پنج ترنی میں درمیانہ سے بھاری درجہ کی برف باری ہوئی ہے۔ وسطی ضلع گاندربل میں واقع مشہور سیاحتی مقام سونہ مرگ میں برف باری کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے گذشتہ رات سے جاری ہے۔ ادھر گرمائی دارالحکومت سری نگر میں بارشوں کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے گذشتہ شام سے جاری ہے۔ وادی کے دوسرے اضلاع میں بھی بارشوں کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے جاری ہے۔ سری نگر میں گذشتہ رات کم سے کم درجہ حرارت 3 اعشاریہ 2 ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے۔ خطہ لداخ کے لیہہ میں گذشتہ رات کم سے کم درجہ حرارت منفی 5 ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے

Please follow and like us:
1000

بھارت میں ہرطرف فرقہ پرستانہ اور متعصبانہ نعروں کی گونج

پورے ملک میں انصاف اور عوامی خدمت کے سبھی اداروں کو خطرہ لاحق
سرینگر؍سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز کا کہنا ہے کہ ’’یوگی ادتیہ ناتھ کو نہایت ہی قابل اعتراض حد تک اُن شہروں اور اداروں کا نام بدلنے اور ہر قیمت پر اجودھیا میں رام مندر بنانے کا بخار تیز ہو گیا ہے جن کا کسی طرح بھی مسلمانوں یا اسلام سے کوئی تعلق ہو۔کے این این کو بھیجے گئے ایک بیان کے مطابق سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز کا کہنا ہے کہقومی سطح کے انگنت سیاسی مبصرین کو ایک بڑی پریشانی لاحق ہو گئی ہے کہ امیت شاہ ، یوگی ادتیہ ناتھ اور گری راج جیسے کوتاہ اندیش آر ایس ایس ؍بی جے پی لیڈروں کو فرقہ پرستانہ اور انتہاء پسندانہ خیالات اظہار کرنے کا جنون سوار ہو گیا ہے۔ان کا کہناتھا کہ ان مبصرین کا خیال ہے کہ
وہ ایسا وزیر اعظم مودی کے ایما پر ہی کر رہے ہیں کیونکہ اُس کو 2019ء ؁ کا الیکشن ہر قیمت پر جیتنے کا بھوت سوار ہو گیا ہے!آر ایس ایس ؍ بی جے پی ہندوتوا گٹھ جوڑ اب رام مندر کیلئے سپریم کورٹ کو کھلم کھلا للکار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے غیر جانبدار سیاسی مبصرین کو اس بات کی سخت پریشانی ہے کہ ہندوستان کی آزاد اوربے لاگ جمہوریت کو زبردست دھچکا لگنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے!۔پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا کہ یہ نہایت بدقسمتی کی بات ہے کہ نیشنل اپوزیشن سے وابستہ لیڈر ابھی تک خواب خرگوش میں ہیں اور انہوں نے آر ایس ایس ؍ بی جے پی کے فرقہ پرستانہ اور متعصبانہ نعروں کی گونج کی ان سنی کر دی ہے!۔سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ ادھر دوسری طرف مقتدر قانون دان فالی ناریمان اور این رام، ارون شوری ، یشونت سنہا، جنرل ہوڈا اور دوسرے ان گنت آزاد خیال اور جمہوریت نواز دانشوروں کے دل و دماغ میں سخت پریشانی پیدا ہو گئی ہے کہ پورے ملک میں انصاف اور عوامی خدمت کے سبھی اداروں کیلئے جن میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے، زبردست خطراہ پید اہو گیا ہے۔بیان کے مطابق سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز کا کہنا ہے کہ ’’حال ہی میں فالی ناری مان نے دعا کی تھی کہ خدا سپریم کورٹ آف انڈیا کو بچایئے اور میں نے دل سے اس دعا کیلئے آواز ملائی تھی ۔ لیکن آج میرے دل میں اُس سے زیادہ پریشانی پیدا ہو گئی ہے کہ ہندوستان کی آزاد فکر، جمہوری اور سیکولر فضاء کو آر ایس ایس ؍ بی جے پی کے سنگٹھن سے براہ راست خطراہ پیدا ہو گیا ہے۔ ان حالات میں ہندوستان کی سیکولر جمہوریت کو بچانے کیلئے ایک ملک گیر تحریک شروع کی جانی چاہئے۔‘‘

Please follow and like us:
1000

سرحدوں پر تعینات فوجی اہلکاروں کو جدید آلات سے لیس کیا جارہا ہے 

زیر زمین بارودی سرنگوں کا پتہ لگانے کیلئے خصوصی جوتے فراہم کئے جائیں گے
سرینگر ؍وزارت دفاع نے حد متارکہ پر تعینات اہلکاروں کو خصوصی جوتے اور رات کے دوران دیکھنے والے آلات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ خصوصی جوتوں سے زیر زمین بارودی سرنگوں کا پتہ لگانے میں مدد ملے گی۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق سرحدوں پر سنائپر حملوں میں غیر معمولی اضافہ ہونے کے بیچ مرکزی وزارت دفاع نے لائن آف کنٹرول اور حد متارکہ پر تعینات اہلکاروں کو جدید آلات سے لیس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سرحدوں پر تعینات اہلکاروں کو خصوصی جوتے فراہم کئے جار ہے ہیں تاکہ زیر زمین بارودی سرنگوں کا پتہ لگا کر انہیں وقت رہتے ناکارہ بنایا جا سکے۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ خصوصی جوتے خریدنے کیلئے پہلے ہی ٹینڈر اجرا کئے گئے ہیں اور پہلی کھیپ حاصل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سرحدوں پر تعینات اہلکاروں کو دوسرے خصوصی آلات سے بھی لیس کیا جا رہا ہے۔ دفاعی ذرائع نے مزید کہاکہ رات کے دوران دکھائی دینے والے آلات کے ساتھ ساتھ جدید ہتھیاروں بھی اہلکاروں کو فراہم کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے؂
۔ وزارت دفاع کے ایک آفیسر نے بتایا کہ سرحدوں پر فوج کو موسمی حالات کے ساتھ ساتھ دوسرے چیلنجوں کابھی سامنا کرناپڑرہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حد متارکہ پر تعینات اہلکاروں کی جانوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے انہیں جدید آلات سے لیس کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دراندازی کے واقعات کو ختم کرنے کیلئے فوج کی جانب سے اگر چہ دن رات کام کیا جارہا ہے تاہم جدید آلات سے اس ناسور کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مذکورہ آفیسر نے بتایا کہ برفباری کے دوران بھی اس بار عسکریت پسند اس طرف آنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور پچھلے کئی روز سے لائن آف کنٹرول اور حد متارکہ پر پاکستانی رینجرس نے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہاکہ بارڈر سیکورٹی فورسز کا دھیان ہٹانے کیلئے پاکستانی رینجرس سیز فائر معاہدے کی دھجیاں اُڑا رہے ہیں تاکہ عسکریت پسندوں کو اس طرف دھکیلا جاسکے۔ وزارت دفاع آفیسر کا مزید کہنا تھا کہ سنائپر حملوں کے بعد سرحدوں پر تعینات فوج کو چوکس رہنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ 

Please follow and like us:
1000

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے میانمار کی رہنما 

آن سان سوچی سے اعزاز واپس لے لیا
سرینگر؍میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی سے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ’’ضمیر کی سفیر‘‘ کا اعزاز واپس لے لیا۔جے کے این ایس مانٹرنگ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سربراہ کومی نائڈو نے میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی سے ’’ضمیر کی سفیر‘‘ کا اعزاز واپس لیتے ہوئے کہا ہے کہ آنگ سانسوچی روہنگیا مسلمانوں پر مظالم رکوانے میں ناکام رہی ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سربراہ نے کہا کہ آنگ سان سوچی امید، حوصلے اور انسانی حقوق کی علمبردار نہیں رہیں، اس لئے ان کو 2009میں دیا گیا ’’ضمیر کی سفیر‘‘ کا ایوارڈ واپس لے رہے ہیں۔واضح رہے کہ آنگ سان سوچی کو ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے 15سالہ گھریلو نظر بندی کے دوران ’’ضمیر کی سفیر‘‘ کا ایوارڈ دیا گیا تھا تاہم سوچی کو روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کو نظر انداز کرنے اور خاطر خواہ حل پیش نہ کرنے پر یہ اعزاز واپس لے لیا گیا ہے۔

Please follow and like us:
1000

وزیر اعظم انتہا پسندوں سے بات نہیں کرسکتے 

جنگجووں کے پاس دو ہی راستے ہیں سرینڈر یا موت ، فیصلہ انہیں کرنا ہے ۔ فوجی سربراہ جنرل راوت
سرینگر؍بری فوج کے سربراہ جنرل بپن راؤت نے مزاحمتی قیادت کومرکزکی طرف سے نامزد مذاکراتکارکیساتھ بات چیت کاعمل شروع کرنے کامشورہ دیتے ہوئے یہ واضح کردیاہے کہ مرکزی سرکاراورکشمیری علیحدگی پسندوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کاکوئی امکان نہیں ۔انہوں نے دبے الفاظ میں حریت لیڈروں کودہشت گردقراردیتے ہوئے کہاکہ کسی ملک کاحکومتی سربراہ دہشت گردوں کیساتھ خودبات نہیں کرتا۔پٹھانکورٹ کے اپنے دو روزہ دورے کے دوران معذور فوجیوں سے متعلق ایک تقریب کے دوران نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے فوج کے سربراہ نے کہا کہ مرکزی سرکارنے کشمیرکیلئے مذاکراتکارمقررکیاہے ،جوتمام متعلقین کیساتھ بات چیت کررہاہے ۔ مذاکراتکارکادروازہ ہراُس آدمی اورگروپ کیلئے کھلاجومذاکرات کاخواہاں ہو۔ اگرکشمیری علیحدگی پسندمذاکراتکارکیساتھ ہم کلام ہونے کے خواہاں نہ ہوں ،اوروہ اس مذاکراتی عمل میں شامل نہیں ہوناچاہتے ہوں تواس میں کچھ نہیں کیاجاسکتاہے ۔جنرل بپن راؤت نے دبے الفاظ میں کشمیری حریت لیڈروں کودہشت گردگردانتے ہوئے واضح کیاکہ کسی ملک کاحکومتی سربراہ خوددہشت گردوں سے بات نہیں کرتاہے ۔آ۔بری فوج کے سربراہ جنرل بپن راؤت نے کشمیرمیں عسکری محاذپرسرگرم نوجوانوں کوسخت پیغام دیتے ہوئے کہاکہ ہم آپ لوگوں کوسرنڈرکرنے کاموقعہ دیتے ہیں ،ہتھیارچھوڑدؤ،ورنہ بندوق لیکرزیادہ وقت تک زندہ نہیں رہ پاؤگے ۔انہوں نے نوجوانوں کوتشددکاراستہ ترک کرنے کامشورہ دیتے ہوئے کہاکہ بندوق اُٹھاناکوئی سمجھداری والاکام نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایساراستہ ہے ،جس پرچلنے والازیادہ وقت کیلئے جی نہیں پاتا۔آرمی چیف نے جنگجونوجوانوں کوخبردارکیاکہ اگرآپ لوگ تشددکاراستہ ترک کرکے ہتھیارنہیںچھوڑؤگے توہمارے پاس آپ لوگوں کوہلاک کرنے کے سواء کوئی راستہ نہیں ۔ آرمی چیف نے کہا کہ ملی ٹنسی ہمارے لئے مسئلہ نہیں البتہ نوجوانوں کا ملی ٹنسی میں شامل ہونا ضرور ایک مسئلہ ہے اور ہم اسی پر توجہ مرکوزکئے ہوئے ہیں ۔ آرمی چیف نے یہ اندیشہ ظاہرکیاکہ کچھ بیرونی طاقتیں پنجاب میں پھرتشددکوہوادینے کے فراق میں ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پنجاب کی سرکاربھی ایسی اطلاعات سے پریشان ہے ،اوروہاں کے وزیراعلیٰ ذاتی طورپراس صورتحال کی روکتھام کیلئے کوشاں ہیں ،اوراس سلسلے میں ضروری اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں ۔آرمی چیف کاکہناتھاکہ مرکزی سرکارنے بھی ان اطلاعات کوسنجیدگی سے لیکراپنی جانب سے اسکی روکتھام کامنصوبہ بنایاہے ۔انہوں نے پھرکہاکہ کچھ قوتیں پنجاب میں دوبارہ ملی ٹنسی شروع کرانے کیلئے کوشاں ہیں ،اورہم اسبارے میں اپنی جانب سے سبھی ضروری اقدامات اُٹھانے کے پابنداوروعدہ بندبھی ہیں ۔آرمی چیف نے کہاکہ پنجاب میں امن وامان کی صورتحال کافی بہتررہی ہے لیکن اب کچھ طاقتیں پھریہاں بدامنی پھیلانے کی منصوبہ بندی کررہی ہیں ،اورہم اس صورتحال پراپنی آنکھیں بندنہیں رکھ سکتے ۔انہوں نے کہاکہ اگرہماری جانب سے جوابی کارروائی میں تاخیرہوجاتی ہے توکافی دیرہوجائے گی۔’ملک کی اندرونی سلامتی کے بدلتے رنگ‘عنوان کے تحت منعقدہ مباحثے میں اظہارخیال کرتے ہوئے فوج کے سربراہ کامزیدکہناتھاکہ ملک کی سبھی سلامتی ایجنسیوں اورسیکورٹی اداروں کوہمیشہ اسبات کولیکرہوشیاراورخبرداررہناچاہئے کہ بیرونی یاغیرملکی قوتیں اس فراق میں رہتی ہیں کہ کب وہ بھارت کے اندرموجودعناصر کواپنے ساتھ ملاکریہاں تشددکوہوادینے کی کوشش کریں ۔

Please follow and like us:
1000

فوری رہا نہ کیا گیا تو احتجاجی مہم چھیڑ دیں گے: طلبا

سنٹرل یونیورسٹی کے طلبا ء کی گرفتاری پر پریس کالونی میں احتجاج
سرینگر؍ سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر واقع نوگام کے طلبا نے گرفتار ساتھی طلبا کی رہائی کے حق میں زور دار احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ طلبا نے بتایا کہ گرفتار طلبا معصوم ہے اور کسی بھی جنگجوانہ سرگرمی میں ملوث نہیں ہے لیکن پولیس کی طرف سے انہیں بے بنیاد الزامات کی آڑ میں پھنسایا جارہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اگر گرفتار طلبا کو جلد از جلد رہا نہ کیا گیاتو طلبا ریاست گیر احتجاجی مہم چھیڑنے پر مجبور ہوں گے۔ کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر واقع نوگام کے درجنوں طلبا نے سوموار کو پریس کالونی میں جمع ہوکر یہاں گرفتار ساتھی طلبا کی رہائی کے حق میں زور دار احتجاجی مظاہرے کئے۔ احتجاجی طلبا نے ساتھی طلبا کی فوری رہائی کی مانگ کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں جلد از جلد رہا نہ کیا گیا تو طلبا ریاست گیر احتجاجی مہم چھیڑنے پر مجبور ہوں گے۔ احتجاج کررہے طلبا نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر اُٹھارکھے تھے جن پر ’رہائی تک کوئی کلاس نہیں‘ اور انصاف کے حصول سے متعلق نعرے درج تھے۔ انہوں نے بتایاکہ سہیل احمد ساکن شوپیان اور محمد اسماعیل ساکن بارہمولہ جو کہ سنٹرل یونیورسٹی میں شعبہ پولیٹکل سائنس مضامین میں ماسٹرس کی ڈگر ی کررہے ہیں کو فورسزگزشتہ ہفتے دوران شب اپنی عارضی رہاش گاہ واقع نوگام سے گرفتار کرتے ہوئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار طلبا معصوم ہیں اور ان کا کسی بھی جنگجو تنظیم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔طلبا کا کہنا تھا کہ دونوں طلبا یورنیورٹی میں ریگولر کورس کررہے ہیں اور ہر روز یہاں کلاسوں میں حاضر رہتے ہیں لہٰذا اس صورتحال میں یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ ان کا تعلق کسی عسکری تنظیم سے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ معصوم طلبا کو رہا کرنے کے بجائے انتظامیہ نے یورنیورسٹی انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر ہمارے کلاسوں کو فی الحال معطل کردیا ہے تاکہ احتجاجی طلبا فورسز کارروائیوں کے خلاف کوئی آواز نہ اُٹھائے۔ طلبا نے بتایا کہ انتظامیہ کی اس طرح کی حرکتیں ہمیں احتجاج سے دور نہیں رکھ سکتی اور ہمارا احتجاج تب تک جاری و ساری رہے گا جب تک نہ ہمارے ساتھیوں کو رہا کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ طلبا کی رہائی کے حوالے سے ہم متعلقہ ایس ڈی ایم سے بھی ملاقی ہوئے جنہوں نے ہمیں یقین دلایا کہ گرفتار طلبا کو جلد رہا کیا جائے گا تاہم آج اتنے دن گزرنے کے باوجود صورتحال جوں کی توں ہے۔طلبا نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر طلبا کی رہائی فوراً عمل میں نہیں لائی گئی تو اس حوالے سے ریاست گیر احتجاجی مہم چھیڑ دی جائے گی۔یاد رہے سیکورٹی فورسز نے 9اور 10نومبر کی درمیانی شب کو نوگام علاقے سے سنٹرل یونیورسٹی میں زیر تعلیم 2طلبا کوجنگجوؤں کے ساتھ مبینہ روابط رکھنے کی پاداش میں گرفتار کرتے ہوئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

Please follow and like us:
1000

ایل او سی پر سنیپر کا استعمال ،بھارت کا ایک اور سپاہی مارا گیا 

اس ہتھیار کے استعمال سے فوجی ہلاکتوں میں مزید اضافے کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں 
سرینگر؍ حد متارکہ پر پاک بھارت فورسز کے درمیان سنیپر رائفلوں کا بڑھتا ہوا استعمال ہلاکتوں میں مزید اضافے کا باعث بن رہا ہے ۔پاکستان کی طرف سے ان ہلاکت خیز رائفلوں کے استعمال سے بھارت کی فوجوں کو گزشتہ کچھ عرصے سے نقصان اٹھانا پڑرہا ہے ساہم بھارت کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار اس کے پاس بھی ہے اور وہ اپنے جوانوں کو اس کی مار سے بچانے کے لئے سٹریٹجی تیار کرچکے ہیں ۔ آج جموں کے پونچھ ضلعے میں مینڈھر علاقے میں پاکستان کی سنیپر فائرنگ سے بھارت کا ایک سپاہی ہلاک جبکہ ایک شدید طور پر زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لئے ہوائی جہاز کے ذریعے باہر لیجایا گیا ۔کل بھی بھارت کا ایک سپاہی سنیپر رائفل کی گولی لگنے سے مارا گیا ہے ۔ اس سے پہلے بھی کئی فوجی اس کا شکا رہوچکے ہیں ۔اس رائفل کانشانہ نہیں چوکتا ہے اور یہ کافی دور تک مار کرنے والی رائفل ہے ۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ دونوں طرف سے اس رائفل کا استعمال اگر بڑھتا رہا تو فوجی ہلاکتوں میں کافی زیادہ اضافہ بھی ہوگا تاہم تناو کی جو صورتحال آر پار فائرنگ اور گولہ باری کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے وہ پیدا نہیں ہوگی کیونکہ اس سے عام لوگوں کی بستیاں بھی زد میں آجاتی ہیں ۔دونوں ملک عام طور پر ایک دوسرے کی فوجوں کو نقصان پہونچانے کے درپے رہتے ہیں اس لئے اس ہتھیار کے استعمال نے یہ کام ان کے لئے بہت آساں بنادیا ہے ۔ہندوستان کی طرف سے ابھی اس کا زیادہ اور موثر استعمال نہیں ہورہا ہے ۔ 

Please follow and like us:
1000

پیرکی گلی کے نزدیک تازہ برفباری

مغل روڑگاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بند 
شوپیان:سنیچرکے روز8روزبعدگاڑیوں کی آمدورفت کیلئے کھولے جانے کے بعدحکام نے سوموارکی صبح پھرایک مرتبہ 84کلومیٹرمساٖفت والے مغل روڑکوپھربندکردیا۔کے این این کومعلوم ہواکہ اتوارکورات دیرگئے کشمیروادی کوخطہ پیرپنچال سے ملانے والے تاریخی مغل روڑپرپیرکی گلی کے نزدیک ہلکی برفباری ہوئی۔حکام نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ اتوارکوشام دیرگئے شروع ہوئی برفباری کاسلسلہ سوموارکی صبح بھی جاری تھا۔انہوں نے کہاکہ پیرکی گلی اوراسکے نزدیکی علاقوں میں رات بھرہلکی برفباری ہوتی رہی ،جسکے نتیجے میمغل روڑپرکافی پھسلن پیداہوگئی ہے۔حکام نے بتایاکہ تازہ برفباری کے بعداحتیاطی طورپرمغل روڑکوگاڑیوں کی آواجاہی کیلئے بندکردیاگیا۔ایس ڈی ایم سرنکوٹ سلیم احمدنے بتایاکہ تازہ برف باری اورموسمیاتی پیش گوئی کومدنظررکھتے ہوئے مغل روڑکوتین روزکیلئے بندکیاگیا۔انہوں نے تاہم کہاکہ اگرموسمی صورتحال میں بہتری آتی ہے توروڑکوپہلے ہی کھول دیاجائیگا۔اُدھرٹریفک پولیس کے حکام نے بتایاکہ تازہ برفباری ہونے کے بعدبرفانی تودے اورمٹی کے ودے گرآنے کااندیشہ لاحق ہے ،اسلئے مغل روڑکوگاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بندکیاگیا۔انہوں نے کہاکہ حالیہ دنوں میں ہوئی برف باری کے بعدبڑی تعدادمیں گاڑیاں درماندہ ہوگئی تھیں ،اوران گاڑیوں میں سوارافرادکوبچانے کیلئے ہنگامی کارروائی عمل میں لائی گئی تھی۔انہوں نے کہاکہ موسمیاتی ماہرین نے 12تا14نومبربرفباری کی پیشگوئی کی ہے،اسلئے مغل روڑپرگاڑیوں کی آمدورفت جاری رکھناخطرناک ثابت ہوسکتاہے۔خیال رہے مغل روڑکومسلسل 8روزتک بندرکھنے کے بعدسنیچرکی صبح ہی گاڑیوں کیلئے آواجاہی کیلئے کھولاگیاتھا۔

Please follow and like us:
1000

بسنت رتھ کووراٹھ کوہلی کے خلاف بولنا مہنگا پڑا

محکمہ ہوم گارڈ کے ساتھ منسلک، عوامی حلقوں کی ناراضگی،آلوک کمار نئے آئی جی ٹریفک
سرینگر؍ جموں کشمیر پولیس کے ٹریفک ونگ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی )بنست رتھ کو تبدیلاور منسلک کریا دیا گیا اور ان کی جگہ آلوک کمار کو تعینات کر کے جموں کشمیر میں ٹریفک کے آئی جی پی تعینات کرنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں ۔اس دوران ریاستی عوام کاص کر وادی کشمیرکے لوگوں نے انکی تبدیلی پر شدید ناراض گی کا اظہار کرتے ہوئے کہا انہیں ہندوستانی کر کٹروراٹھ کوہلی کے خلاف ٹویٹر پوسٹ پر تبدیل کیا گیا ہے تاہم اس بات کی سرکای سطح پر تصدیق نہیں کی گئی ہے ۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس )مطابق ریاست جموں کشمیر میں تقریباً گزشتہ2سال سے آئی جی پی ٹریفک جموں کشمیرکے عہدے پر تعینات خبروں میں رہنے والے مشہور’بسنت رتھ ‘‘کو سوموار کے روز تبدیلی اور منسلک کر نے کے احکامات کئے گئے ہیں اس دوران آلوک کمار کو ریاست جموں کشمیر کا آئی جی پی ٹریفک تعینات کیا گیا ہے۔ادھر بست رتھ کی تبدیلی پر عوام حلقوں جن میں خاص کر کشمیر وادی کے لوگوں نے سوشل میڈیا پر انکی تبدیلی کے خلاف شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اس دوران عام لوگوں کا خیال ہے بست رتھ کو مشہور ہندوستانی کر کٹروراٹھ کوہلی کے خلاف اور مشہور پاکستانی سابق کر کٹرجاوید میاندادکے حق میں ٹویٹرپوسٹ پر تبدیل کیا گیا گیا ہے جبکہ ایک حلقے کا یہ بھی کہنا سرینگر میو نسپلٹی کے نو منتخبہ مئیر کے ساتھ سوشل میڈیا پر تلخ کلامی ایک وجہ ہے تاہم سرکاری طور اس بات کی وضاحت نہیں ہوئی ہے ۔خیال رہے بست رتھ ریاست جموں کشمیر میں پہلے آئی جی پی ٹریفک تھے جس کی کام کو دونوں صوبوں میں بڑے پیمانے پر سراہاگیا ہے جبکہ وہ ایک آئی جی پی ہونے کے باووجوداپنے ساتھ کسی معمولی انسان کو تصویر کھینچواتا تھا۔وادی میں تعینات رہنے کے دوران اور خراب حالات کے باوجود وہ قلیل سیکوٹی جبکہ چند اوقات کے دوران بنا ء سیکورٹی کے سرینگر کے مصروف ترین بازاروں میں نظر آئے ہیں ۔ادھر چند روز قبل انہوں نے ہندوستان کے معروف کرکٹر وارٹھ کوہلی کے خلاف ایک پوسٹ کر کے پاکستان کے مشہور سابق کر کٹرجاوید میانداد کو اپنا پسندید کر کٹر قرار دیا ہے جسکے نتیجے میں وادی سے باہرجموں سمیت کئی مقامات پرانکے خلاف احتجای جلوس بھی نکالے گئے ہیں ۔جس پر لوگ رائی زنی کر رہے ہیں وہ ہی کمنٹ ان کو مہنگا پڑا ہے ۔

Please follow and like us:
1000