ہفت شیر مال شوپیان میں فورسز اور جنگجووں کے درمیان معرکہ 

۔3 جنگجو جاں بحق ، اہلکار زخمی 
پرتشدد جھڑپیں ، ٹیر گیس اور پیلٹ فائرنگ ،چار صحافیوں سمیت درجنوں مضروب
سری نگر، 22 جنوری (عقاب نیوز ) جنوبی کشمیر کے پہاڑی ضلع شوپیان کے ہفت شرمال علاقے میں فوج اور جنگجوؤں کے مابین گھمسان کی لڑائی میںآئی پی ایس آفیسر کے بھائی سمیت 3مقامی جنگجو جاں بحق جبکہ فوج کا ایک اہلکار طرفین کی فائرنگ میں زخمی ہوگیا۔جاں بحق جنگجووں کی شناخت عامر احمد بٹ عرف ابو حنظلہ ساکن چڑی پورہ شوپیان، ڈاکٹر شمس الحق منگنو عرف برہان ثانی ولد محمد رفیق منگنو ساکن دراگڈ شوپیان اور شعیب شاہ ولد غلام رسول شاہ ساکن شرمال شوپیان کے بطور ہوئی۔ معلوم ہوا کہ جھڑپ کے آغاز کے ساتھ ہی ملحقہ علاقوں سے نوجوانوں اور خواتین کی مختلف ٹولیوں نے جنگجو مخالف آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی غرض سے فوج و فورسز پر سنگ باری کرنے کے علاوہ جائے جھڑپ کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی تاہم فورسز نے مظاہرین کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے درجنوں آنسو گیس کے گولے اور پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 4فوٹو جرنلسٹ زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر مقامی ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔چاروں صحافی سرکردہ میڈیا اداروں کے لئے کام کرتے ہیں ۔ ادھر ضلع بھر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شام دیر گئے تک فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں جاری تھیں۔ اس دوران امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ نے علی الصبح ہی شوپیان کے مضافات میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کردی جبکہ جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی ضلع بھر میں دکانیں اور تجارتی ادارے بند ہوئے ۔ ادھر حزب المجاہدین نے معرکے میں جاں بحق جنگجوؤں کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر شمس الحق سمیت تین عسکریت پسندوں نے ظلم وجبر کے آگے سر جھکانے کے بجائے سر کٹانے کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ شہداء اپنے گرم گرم خون سے تحریک آزادی کی آبیاری کر رہے ہیں اور شہداء کا یہ مقدس لہو انشاء اللہ رنگ لائے گا ۔ منگلوار کی علی الصبح ہفت شیر مال کے میوہ باغ میں فورسز کی بھاری جمعیت نے ایک مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد چھپے بیٹھے جنگجوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی۔ فوج کی44آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی بھاری جمعیت نے وسیع رقبے پر پھیلے میوہ باغ کا محاصرہ کیا۔ فوج اور فورسز کو مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ یہاں میوہ باغ میں 2سے 3جنگجوؤں نے پناہ لے رکھی ہے جس کے بعد فورسز نے تمام راستوں پر فورسز کی اضافی ٹکڑیوں کو تعینات کردیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ محاصرہ اس قدر سخت کیا گیا تھا کہ گاؤں کے اندرون و بیرون راستوں پر فورسز اہلکاروں کے دستوں کو الرٹ رکھا گیا تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ گڑ بڑ کے ساتھ بروقت نپٹا جاسکے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ہیف شرمال کے اندرونی اور بیرونی راستوں پر فوج اور ٹاسک فورس کے اہلکاروں کو جدید ہتھیاروں کے ساتھ تیاری کی حالت میں رکھا گیا تھا جبکہ گاؤں کی تمام گلی کوچوں اور نکڑوں پر کیسپر گاڑیوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ ادھر فورسز نے جونہی گاؤں میں موجود وسیع رقبہ اراضی پر پھیلے میوہ باغات کا محاصروتنگ کیا اور یہاں تلاشی آپریشن کے لیے داخل ہوگئے تو اسی اثنا میں باغ میں موجود جنگجوؤں کی جمعیت نے فورسز پر جدید ہتھیاروں سے سخت فائرنگ کی جس کے بعد فورسز نے بھی جنگجوؤں کی فائرنگ کا جواب دیا۔ معلوم ہوا کہ منگل کو 12بجے تک گاؤں میں وقفے وقفے سے فائرنگ جاری تھی جس دوران جنگجوؤں کی فائرنگ سے ایک اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوا جسے یہاں موجود دیگر فورسز اہلکاروں نے ہسپتال منتقل کردیا جہاں اُس کا علاج و معالجہ جاری ہے۔اس دوران میوہ باغ کے ارد گرد گھیرا تنگ کردیا اور جنگجوؤں کے مشتبہ ٹھکانے پر شدید گولہ باری کرکے اسے تباہ کردیا گیا ۔ بعد میں فورسز اہلکاروں نے جونہی مشتبہ ٹھکانے کے ارد گرد تلاشی کارروائی شروع کی تو یہاں 3جنگجوؤں کی نعشیں برآمد کی گئیں۔ جن کی شناخت عامر احمد بٹ عرف ابو حنظلہ ساکن چڑی پورہ شوپیان، ڈاکٹر شمس الحق منگنو عرف برہان ثانی ولد محمد رفیق منگنو ساکن دراگڈ شوپیان اور شعیب شاہ ولد غلام رسول شاہ ساکن شرمال شوپیان کے بطور ہوئی۔پولیس کے مطابق مارے گئے جنگجوؤں کی تحویل سے اسلحہ و گولہ باروداور قابل اعتراض مواد برآمد کیا گیا۔معلوم ہوا ہے کہ جھڑپ میں جاں بحق جنگجو ڈاکٹر شمس الحق جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہونے سے پہلے گورنمنٹ کالج زکورہ سرینگر سے بی یو ایم ایس کی ڈگری حاصل کررہا تھا۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ مہلوک جنگجو کا بھائی انعام الحق 2012بیچ کے آئی پی ایس آفیسر ہیں جو فی الوقت شمالی ہندوستان میں تعینات ہیں۔ادھر جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی علاقے اور مضافات میں نوجوانوں اور خواتین کی مشترکہ ٹولیوں نے فورسز اہلکاروں پر چہار سو پتھراؤ کیا جس کے ساتھ ہی یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ مظاہرین نے فورسز اہلکاورں پر شدید سنگ باری کرنے کے علاوہ اسلام، آزادی اور جنگجوؤں کے حق میں زور دار نعرے لگانے کے ساتھ ساتھ جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی کرنا چاہی۔ علاقے میں پیدا شدہ صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے کی خاطر آنسو گیس کے درجنوں گولے داغنے کے علاوہ پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں علاقہ بھر میں سراسیمگی کی کیفیت رونما ہوئی۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے والے 4فوٹو جرنلسٹ زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے نزدیکی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ فوٹو جرنلسٹوں کے چہروں پر اُسوقت پیلٹ چھروں کی بارش ہوئی جب وہ جائے جھڑپ کے نزدیک فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی عکس بندی میں مشغول تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے وسیم اندرابی، روزنامہ رائزنگ کشمیر کے نثار الحق، کشمیر ایسنس کے جنید گلزار اور خبررساں ادارے اے این این کے برہان میر شامل ہیں۔ادھر جھڑپ میں مارئے گئے آئی پی ایس آفیسر انعام الحق کے بھائی ڈاکٹر شمس الحق سے متعلق سابق پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے اپنے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ ’’شمس الحق کو مین اسٹریم میں واپس لانے کے لیے اُسکے بھائی ، اہل خانہ اور پولیس کی طرف سے کافی سنجیدہ کوششیں کی گئیں تاہم آج وہ اپنے برے انجام کو پہنچ گیا‘‘۔ادھر جھڑپ کے اختتام پذیر ہونے کے بعد ہی علاقے بھر میں شام دیر گئے تک مظاہرین اور فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں جاری تھیں ۔ ادھر امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور افواہ بازی پر لگام کسنے کے لیے انتظامیہ نے منگل کی صبح سے ہی ضلع بھر میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل رکھا۔ اس دوران جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی ہیف شرمال اور مضافات میں مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں یہاں عوامی، تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ معلوم ہوا ہے کہ احتجاجی ہڑتال کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حمل بھی بری طرح سے متاثر رہی۔ادھر حزب المجاہدین نے جھڑپ میں جاں بحق جنگجوؤں کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر شمس الحق سمیت تین عسکریت پسندوں نے ظلم وجبر کے آگے سر جھکانے کے بجائے سر کٹانے کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ شہداء اپنے گرم گرم خون سے تحریک آزادی کی آبیاری کر رہے ہیں اور شہداء کا یہ مقدس لہو ان شااللہ رنگ لائے گا اور دشمن کشمیر نے عنقریب نکلنے پر مجبور ہوجائے گا۔ حزب سربراہ سید صلاح الدین نے اپنے پیغام میں بتایا کہ شہداء کشمیری قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں اور آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ بھی ہیں جن کی قربانیوں کے ساتھ نہ سودابازی ہوگی اور نہ کسی کو سودا بازی کرنے کی اجازت دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر یوں کی طرف سے دی جانے والی قربانیوں کی ایک لازوال داستان ہے ،یہ قوم صدیوں سے قربانیاں پیش کر رہی ہے اور کشمیر میں آج چوتھی نسل ہے جو بے سروسامانی کے عالم میں ایک بڑی طاقت کا مقابلہ کر کے دشمن کے دانت کھٹے کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان قربانیوں سے آزادی کی منزل قریب ہوگی۔

Please follow and like us:
1000

سی آر پی ایف اہلکار نے نوجوان کو زخمی کیا 

حبہ کدل میں واقعہ کیخلاف غم و غصہ 
سی آر پی ایف ترجمان نے واقعہ کو بدقسمتی قرار دیا 
سری نگر،22 جنوری (یو این آئی) سری نگر کے حبہ کدل علاقے میں منگل کے روز ایک نوجوان اس وقت زخمی ہوا جب ایک سی آر پی ایف اہلکار نے مبینہ طور پر اس کے سر پر ایک پتھر مارا۔ یو این آئی کو مقامی ذرائع ابلاغ سے معلوم ہوا کہ سری نگر کے حبہ کدل علاقے میں منگلوار کو ایک نوجوان اس وقت زخمی ہوا جب ایک سی آر پی ایف اہلکار نے اس کے سر پر پتھر مارا۔ زخمی نوجوان کی شناخت محمد یونس کے بطور ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق محمد یونس کو علاج ومعالجے کے لئے فور طور ایس ایم ایچ ایس ہسپتال سری نگر منتقل کیا گیا۔ ہسپتال میں ڈیو ٹی پر مامور ایک ڈاکٹر نے کہا کہ پتھر لگنے سے یونس کے سر کی دو ہڑیاں ٹوٹ گئی ہیں۔ محمد یونس کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ سبزی خریدنے کے لئے بازار گیا تھا تو ایک سی آر پی ایف اہلکار نے بنکر سے اس پر بلا کسی اشتعال کے پتھر پھینکا۔ یونس کی والدہ کا کہنا ہے کہ یونس پر گھر سے نکلے صرف پانچ ہی منٹ ہوئے تھے کہ ایک سی آر پی ایف اہلکار نے اس پر پتھر پھینکا۔ اس دوران علاقہ میں یہ واقعہ پیش آنے کے بعد شدید احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھے۔ احتجاجی مظاہرین ملوث اہلکار کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ دریں اثنا سی آر پی ایف ترجمان سنجے شرما نے واقعے کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ یو

Please follow and like us:
1000

موسم کا قہر ، جواہر ٹنل کے دونوں ٹیوب بند 

چار افراد زندہ دفن ، دو لاشیں برآمد 
نعرے بازی ، گالم گلوچ اور الزام تراشیاں
سری نگر22 جنوری (عقاب نیوز ) وادی کے بالائی حصوں میں منگل کو مسلسل چوتھے روز محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین مطابق برف باری جبکہ میدانی علاقوں میں شدید بارشوں کا سلسلہ جاری رہا ۔اس دوران وادی کو باقی دنیا سے ملانے والی اہم شاہراہ سرینگر جموں شاہراہ پر جواہر ٹنل پر ایک باری برفانی تودہ گرآیا جس کے نتیجے میں ٹنل کے دونوں ٹیوب بند ہو ئے جس کے نتیجے میں ٹنل کے دونوں اطراف سے ٹریفک کی آوا جاوی متاثرہوگئی۔ ٹریفک حکام نے بتایا کہ ضلع رام بن میں بھی نصف درجن کے قریب مقامات پر تودے گر آنے کے سڑک کا فوری طور پر بحال ہونا ممکن نہیں ہے تاہم انہوں نے بتایا کہ سڑک کو صاف کرنے کی کارروائی جاری ہے۔ادھرخطہ چناب کے رام ضلع میں برفانی تودہ گر آنے کے نتیجے میں کمسن لڑکی سمیت 2افراد موقعے پر ہی جاں بحق ہوئے جبکہ واقعے میں مزید 2افراد لاپتہ ہوئے ہیں جس کی تلاش بڑے پیمانے پر شروع کردی گئی ہیں۔ ادھر ڈپٹی کمشنر رام بن نے واقعے کے فوراً بعد بچاؤ کارروائی کی ٹیموں کو علاقے میں روانہ کیا جہاں آخری اطلاعات ملنے تک برف کے نیچے دبے افراد کی تلاش جاری تھی۔ اس دوران ڈپٹی کمشنر نے جاں بحق افراد کے حق میں 4لاکھ روپے فی کس ایکس گریشیا ریلیف واگذار کیا۔تفصیلات کے مطابق منگل کو وادی،ٹنل کے اس پار اور جموں کے بالائی حصوں میں مسلسل چوتھے روزبھی برف باری جبکہ میدانی علاقوں میں شدید بارشوں کا سلسلہ جاری رہا۔جس کے نتیجے میں میدانی علاقوں میں سڑکیں زیر آب جبکہ اکثر میدانی علاقوں میں برف سے سڑکیں بند ہو ئیں جس کے نتیجے میں مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ادھر وادی کشمیر کو باقی دنیاسے ملانی والی اہم سرینگر جموں شاہراہ پر جواہر ٹنل کے 2اہم ٹیوب پر منگل کے صبح ایک باری برفانی تودہ گرآیا۔جس کے نتیجے میں ٹنل کے دونوں ٹیوب مکمل بند ہوئیں۔ واقعے کے فوراً بعد محکمہ ٹریفک اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے جائے واردات کا جائزہ لے کر بچاو کارروائیوں کا آغاز کیا۔ اس دوران واردات کی جگہ سے فوری طور کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ۔تاہم ٹیوبوں پر برفانی تودہ گرآنے اور دونوں ٹیوب بند ہونے کے نتیجے میں شاہراہ پرٹریفک سروس متاثر ہوئی اور سڑک کے دونوں اطراف سینکڑوں کی تعداد میں مال اور مسافر گاڑیا ں درماندہ ہو کر رہ گئیں ہیں۔ ادھر حکام نے بتایا شاہراہ ضلع رام ن کے متعدد مقامات جن میں رام بن،ڈگڈول،پنتھال ،مارکوٹ ،خونی نالہ کے مقامات پر مٹی کے نصف درجن کے قریب تودے گر آئے ہیں جس کے نتیجے میں سڑک پر ٹریفک کی نقل و حمل متاثر رہے گی۔اور کسی بھی گاڑی کو دونوں اطرف سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی جائیں گی۔ ادھروادی کے جنوبی حصے کے مختلف علاقوں جس میں شوپیان،کولگام ،پہلگام ،کوکر ناگ ، قاضی گنڈ، بجبہاڑہ، ترال، شادی مرگ پلوامہ کے علاوہ متعدد مقامات پر مسلسل منگل کی صبح تک بارشوں کے سلسلے کے بعد اچانک برف باری کا سلسلہ شروع ہوا ،جس کے نتیجے میں مزکورہ علاقوں کی رابطہ سڑکیں برف سے ڈھک گئیں ۔جبکہ بیشتر علاقوں میں سڑکوں پر برف جمع ہونے کے ساتھ ہی بڑے پیمانے پر پھسلن پیدا ہوئی ۔اس دوران مسافرگاڑیوں کے ڈارئیوروں نے مسافروں کے جان مال کی حفاظت بنانے کے لئے اسی جگہ پت گاڑیاں کھڑی کر دی جہاں وہ کھڑے تھے ۔ ادھر ترال کے سرورہ،نارستان، بٹنور ،ستورہ،کہلیل ،ماحچھامہ ،ناگہ بل ،کنگہ لورہ علاقوں کو جانے والی سڑکوں پر برف باری کے بعد ٹریفک سروس میں بڑے پیمانے پر خلل پڑا ہے ۔ جبکہ مزکورہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے نمائندے کو فون پر بتایا کہ یہاں گزشتہ شام2روزبعد2گھنٹوں کے لئے بجلی سپلائی بحال ہونے کے بعد چلی گئی،اور تب سے واپس نہیں آئی جس کے نتیجے میں لوگوں کو بجلی اور پینے کے پانی کے حوالے سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ادھر شمالی کشمیر کے کئی اضلاع سمیت وادی کے بیشتر علاقوں میں منگل کے روز بھی شدید بارشو ں کا سلسلہ جاری رہا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کو عبور و مرور میں سخت مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔ ادھر مسلسل بارشوں کے بعدندی نالوں میں پانی سطح بڑ جانے کے ساتھ ساتھ شہر سرینگر اور وادی کے شمال و جنوب میں رابطہ سڑکیں نکاس آب کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے زیر آب آگئیں ہیں ۔جس کی وجہ سے گاڑیوں کے ساتھ ساتھ راہ گیروں کو عبر و مرور میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران لوگوں نے متعلقہ محکمے کے خلاف شد ید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ خشک موسم میں لوگ محکمہ لوگوں کو بڑے بڑے سپنے دکھا رہا ہے اور ہر بار کی طرح اب کے بار بھی میو نسپل حدود اور یو ای ڈی ڈی کے تحت آنے والے علاقوں میں محکمہ کی پول کھل جاتی ہے ادھر جموں میں بھی گزشتہ شام سے ہی شدید بارشوں کا سلسلہ جاری تھا جبکہ پہاڑوں پر برف باری ہونے کے اطلاعات ہیں ۔ 

Please follow and like us:
1000

فورسز کوہمہ وقت متحرک رہنے کی ہدایت 

یوم جمہوریہ کی تقریبات احسن طریقے پر منعقد کرانے کے انتظامات مکمل (ڈی جی سی آر پی ایف 
سری نگر،21 جنوری // عسکریت پسندوں کے امکانی حملوں کو ناکام بنانے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے سی آر پی ایف کے ڈی آئی جی نے کہاکہ سرینگر میں ہوئے گرنیڈ حملوں کے بعد پورے شہر سرینگر میں سیکورٹی کو متحرک کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یوم جمہوریہ کی تقریبات کے احسن انعقاد کیلئے سیکورٹی ایجنسیاں متحرک ہے ، سی سی ٹی وی اور ڈرون کیمروں کے ذریعے لوگوں پر نگرانی کی جارہی ہے۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق سرینگر میں تقریب کے حاشیہ پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سی آر پی ایف کے ڈی آئی جی ’’ڈی ایس مان ‘‘ نے کہا کہ پورے شہر سرینگر میں سیکورٹی کو الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یوم جمہوریہ کی تقریبات کو احسن طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کی خاطر تمام طرح کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سرگرم عسکریت پسندوں کے خلاف سیکورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا ہے جس کے زمینی سطح پر مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ شہر سرینگر میں ہوئے گرنیڈ حملوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ڈی آئی جی نے کہاکہ ملی ٹینٹوں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی خاطر سیکورٹی فورسز کو چو بیس گھنٹے متحرک رہنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ شہر میں چوکسی بڑھائی گئی ہے اور حساس مقامات پر اضافی اہلکاروں کی تعیناتی بھی عمل میں لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ شہر سرینگر میں سی سی ٹی وی اور ڈرون کیمروں کے ذریعے لوگوں پر نگرانی کی جارہی ہے۔ ڈی آئی جی کے مطابق کسی کو بھی امن و امان میں رخنہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

Please follow and like us:
1000

چار صحافیوں پر پیلٹ کے وار 

بین الاقوامی میڈیا تنظیموں کا اظہار تشویش
گورنر سے فوری تحقیقات کا مطالبہ 
؍ سری نگر22 جنوری (عقاب نیوز ) جنوبی کشمیر کے شوپیان کے ہف شرمال علاقے میں فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان مسلح تصادم کے دوران جھڑپو کی عکس بندی کر رہے 3فوٹو جنرلسٹ اور ایک رپورٹرفورسز کارروائیوں میں پیلیٹ لگنے سے زخمی ہوئے ۔اس دوران صحافیوں کی کئی بین الاقوامی تنظیموں جن میں رپورٹرز بغیر سرحد اور رپورٹرز سینزفرنٹ ائر’آر ایس ایف‘شامل ہیں کے علاوہ مقامی تنظیموں جن میں ایڈیٹرز گلڈ ، کشمیر پریس کلب اور دیگر کئی تنظیمیں شامل ہیں نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے گور نر ستیہ پال ملک اور جموں کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ سے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ادھرکشمیر ویڈیو اورکشمیر پرس فوٹو جرلسٹ ایسو سی ایشن،انجمن اردو صحافت،کے علاوہ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے بھی صحافیوں کے خلاف بے تحاشہ طاقت کے استعمال پر شدید الفاظ میں مذت کی ہے۔ جنوبی کشمیرکے ہف شرمال کے باغات میں فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان مصلح تصادم کے وقت علاقے میں عام نوجوانوں کے درمیان ہو رہی جھڑپوں کی عکس بندی کر رہے فوٹو جنرنلسٹ پیلٹ لگنے کی وجہ سے زخمی ہوئے ۔ مذکورہ چاروں صحافی اپنے پیشہ وارانہ فرائض انجام دے رہے تھے جس دوران فورسز نے اندھا دھند پیلٹ کی بارش کی ہے جس کے نتیجے میں عام نوجوانوں کے ساتھ ساتھ چارصحافی جن میں ایک کی شناخت وسیم اندرانی کے طور ہوئی ہے جو’ ہندوستان ٹائمز’ کے ساتھ وابستہ ہیں۔جس کے چہرے پر کئی چھرے لگے ہیں ۔ادھر واقعے کی خبر منظر عام پر آتے ہیں متعدد سیاسی سماجی اور خاص صجافتی انجمنوں نے واقعے پر شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ادھر صحافیوں کی بین الاقومی تنظیم (آر ایس ایف) واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ہندوساتی انتظامیہ سے شوپیان علاقے میں صحافیوں کے خلاف پیلیٹ چھروں کے استعمال کرنے کے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ کشمیری صحافیوں کے خلاف سرکاری فورسز کی تشدد ناقابل قبول ہے انہوں نے لکھا ہے صحافت کوئی جرم نہیں ہے انہوں نے صحافیوں کی آزادی پر حملے کی ہندواستانی انتظامیہ سے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ادھر واقعے پر متعدد صحافتی انجمنوں جن میں کشمیر ویڈیوں جنرلسٹ ایسو سی ایشن ۔کشمیر پرس فوٹو گرافرس ایسو سی ایشن نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ فوٹو جرلسٹ اپنے پیشہ وارانہ فرائض انجا م دے رہے تھے جس دوران ان پر پیلٹ کے چھروں کی بارش کی گئی ہے ۔انہوں نے واقعے کی مذمت کی ہے ۔ادھر کشمیر ویڈجرلسٹ ایسو سی یشن نے بھی واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے انہوں نے بتایا اس طرح کے کارروائیوں سے ہم اپنے پیشہ وارانہ فرائض انجام دینا نہیں چھوڈ دیں گے۔ادھر’ اردو انجمن صحافت جموں وکشمیر‘ نے بھی ہف شرمال شوپیان میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں پر فورسز کی طرف سے تشدد روا رکھنے کی کڑی الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت قانوانی کاروائی کی مانگ کی ہے ۔ انجمن میں شوپیان واقعے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب پیشہ وارانہ فرائض انجام دینے کے دوران زرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کو پولیس و فورسز کی جانب سے طاقت کے بے تحاشہ استعمال کا سامنا کرنا پڑا ۔انجمن اردو صحافت نے زخمی فوٹو جرنلسٹ اور نامہ نگاروں کے ساتھ مکمل یکجہتی اور ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی۔ادھر جرنلسٹ ایسو سی ایشن ترال نے بھی واقے کی مذمت کرتے ہوئے زخمی صحافیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

Please follow and like us:
1000

یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے (مزاحمتی قیادت  

سری نگر، 22 جنوری// مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے 26 جنوری بھارتی کی یوم جمہوریہ کو جمو ں وکشمیر کے مظلوم عوام کیلئے ہر لحاظ سے یوم سیاہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دن بھارت نے اپنے ملک کو ایک جمہوری مملکت بنانے کا اعلان کیا ، جمہوریت کا مطلب لوگوں کی رائے کا احترام اور انہیں جمہوری حقوق سے سرفراز کرانا ہے اور جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ بھی اسی بھارت کی قیادت نے وعدہ کیا تھا کہ ان کو اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کرنے کا اختیار کیا جائیگا اور یہ وعدہ انہوں نے اقوام متحدہ ، بھارت کی پارلیمنٹ میں ہی نہیں بلکہ سرینگر کے لالچوک میں آکر بھارت کے پہلے وزیراعظم آنجہانی پنڈت جواہر لعل نہرو نے کیا تھا کہ کشمیری عام کو ایک آزادانہ استصواب رائے کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کا حق دیا جائیگا ۔ کے این ایس کو موصولہ بیان میں قائدین نے کہا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ کشمیر کے حدود میں بھارت کی جمہوریت کے معنی یکسر بدل جاتے ہیں اور آج جب بھارتی قیادت سے ان کی جانب سے کئے گئے وعدوں کو وفا کرنے اور ان کے جمہوری حقوق دلانے کا تقاضا کرتے ہیں تو جواب میں ان کو گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے ۔ انہیں جیلوں اور تعذیب خانوں کی زینت بنایا جارہا ہے ، ان کے گھروں کو بارود سے اڑایا جارہا ہے، ان کے باغ اور کھیت کھلیان تباہ کردیئے جاتے ہیں ، ان کی پر امن سرگرمیوں کو فوجی قوت کے بل پر دبایا جاتا ہے اور یہاں کی نوجوان نسل کس پشت بہ دیوار کرکے ان کے جینے کے راستے مسدود کر دیئے جاتے ہیں اور ظلم و جبر کی انتہا کرکے انہیں عسکریت کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ نوجوانوں حتیٰ کہ کمسن بچیوں کو بھی پیلٹ کا نشانہ بنا کر ان سے ان کی آنکھوں کی بینائی چھینی جارہی ہے اور یہ سب ہتھکنڈے اور غیر انسانی حربے یہاں جمہوریت کے نام پر عملائے جارہے ہیں۔قائدین نے کہا کہ کشمیر میں تعینات سات لاکھ سے زائد مسلح افواج کی موجودگی میں ایک مظلوم اور محکوم قوم جس کے تمام سیاسی، انسانی، مذہبی اور سماجی حقوق طاقت کے بل پر سلب کر لئے گئے ہوں اور جن کو روز اپنے عزیزوں کے جنازے اٹھانے پر مجبور کیا جارہا ہو کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منا کر مہذب دنیا کو اپنے اوپر ہو رہے مظالم سے آگاہ کریں اور اپنے احتجاج کے ذریعے عالمی ضمیر کو جھنجوڑنے کی کوشش کریں۔قائدین نے جموں وکشمیر کے حریت پسند عوام سے اپیل کی کہ وہ 26 جنوری سنیچروار کو ایک ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کے ذریعے عالمی برادری پر واضح کریں کہ حق و انصاف سے عبارت جدوجہد میں کشمیری حریت پسند عوام کے جذبہ مزاحمت کو نہ تو توڑا جاسکا ہے اور نہ بھارتی مظالم کیخلاف ان کے صدائے احتجاج کو ختم کیا جاسکتا ہے ۔قائدین نے ہاپت نار چرار شریف میں گزشتہ روز ایک عسکری معرکے کے دوران شہید کئے گئے عسکریت پسندوں شہید زاہد احمد ولد نذیر احمد، شہید توصیف احمد یتو ولد عبدالعزیز یتو اور شہید ربانی ولد سید حسین شاہ اور شوپیاں میں ایک اور عسکری معرکے کے دوران شہید کئے گئے تین عسکریت پسند وں کو ان کی شہادت پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بلند نصب العین کیلئے دی جارہی قربانیاں قیادت اور قوم سے اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ان شہداء کے مشن کو تکمیل کے مرحلے تک لیجانے کیلئے مبنی برحق جدوجہد کو ہر سطح پر جاری و ساری رکھا جائے ۔قائدین نے کہا کہ اس قوم کے کل پر آج اپنی جانیں نچھاور کرنے والے نوجوان ہماری تحریک کا انمول اثاثہ ہے اور ان قربانیوں کو کسی بھی قیمت پر نظر انداز نہیں ہونے دیا جائیگا کیونکہ ان قربانیوں کی بدولت ہی آج کشمیری عوام کی حق و انصاف سے عبارت جدوجہد عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کر چکی ہے۔قائدین نے بدنام زمانہ جیل کورٹ بلوال میں سینکڑوں کی تعداد میں مقید کشمیری سیاسی نظر بندوں کیخلاف پولیس کے چھاپے اور ان قیدیوں کی شدید مارپیٹ اور انہیں پیشہ ور مجرموں کے ساتھ مقید رکھنے کی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خود جیل کے حکام جس طرح جیل قوانین کو پس پشت ڈال کر ان قیدیوں کو جیلوں میں حاصل ضروری حقوق سے محروم کررہے ہیں اور ان کو پیشہ ورمجرموں کے ساتھ قید رکھ کر ان کی زندگیوں کو خطرات کی نذر کررہے ہیں وہ نہ صرف مسلمہ حقوق انسانی کی شدید پامالی اور خلاف ورزی ہے بلکہ جیل قوانین کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے ۔قائدین نے حقوق بشر کے عالمی اداروں کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل ریڈ کراسICRC سے اپیل کی کہ وہ ان قیدیوں کے ساتھ رکھے جارہے غیر انسانی اور غیر جمہوری سلوک اور ان کی حالت زار کا جائزہ لینے کیلئے اپنے وفود روانہ کریں اور ان قیدیوں جیل قوانین کے تحت حاصل سہولیات سے محروم رکھنے کے غیر جمہوری حربوں کا نوٹس لیں۔

Please follow and like us:
1000

بجلی کی آنکھ مچولی کے خلاف غم و غصہ ، کئی علاقوں میں مظاہرے 

سری نگر، 22 جنوری (یو این آئی) چلہ کلان کی بھر پور طاقت آزمائی کے بیچ وادی کشمیر کے یمین ویسار میں بجلی کی عدم فراہمی کے باعث ائے روزلوگ سڑکوں پر نکل کر احتجاج درج کرتے ہیں۔ یو این آئی کو موصولہ اطلاعات کے مطابق منگل کے روز گذشتہ کئی روز سے بجلی سے محروم رہنے سے ‘تنگ آمد بہ جنگ آمد’ کے مصداق سری نگر کے بالائی شہر میں لوگوں نے نٹی پورہ۔ نوگام بائی پاس روڑکو بند کیا جس کی وجہ سے گاڑیوں کی بڑی تعداد درماندہ ہوگئی۔ آزاد بستی نٹی پورہ میں لوگ منگل کے روز سڑکوں پر آگئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گذشتہ دو دنوں سے زائد از دو درجن علاقے بشمول بڈشاہ نگر، پمپوش کالونی اور بسم اللہ کالونی بجلی سے محروم ہیں۔ لوگوں نے نوگام ریلوے اسٹیشن کی طرف جانے والے سڑکوں کوبھی بند کیا جس کی وجہ سے ٹریفک کی آمدو رفت معطل رہی اور متعدد گاڑیاں درماندہ ہوئیں۔ احتجاجی کسی بھی گاڑی کو چلنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ محکمہ بجلی ڈیولپمنٹ کے خلاف زوردار نعرہ بازی کرتے ہوئے احتجاجیوں نے کہا کہ متعلقہ محکمہ کی غفلت شعاری کی وجہ سے انہیں سرد ترین راتوں کے ساتھ ساتھ تاریک راتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو ہفتوں سے انہیں 24 گھنٹوں کے دوران بمشکل ہی 4 گھنٹوں تک بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی متعلقہ گرڈ اسٹیشن سے رابطہ کیا جاتا ہے تو وہ مختلف بہانے بناکر ہماری فریاد نظر اندازز کرتے ہیں۔ احتجاجیوں نے کہا کہ اسٹیشن والے زیادہ تربجلی کی کٹوتی کا ذمہ دار سوچوں کو ٹھہرا کر اپنے آپ کو بری ذمہ کرتے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ محکمہ پر الزام لگایا کہ وہ باب ڈیم سے پرانے سوچوں کو خرید تے ہیں جو غیر معیاری ہوتے ہیں جبکہ وہ اس کے عوض بھاری رقم نکالتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے علاقے کو گھپ اندھیرے میں رکھ کرجو بجلی بچائی جاتی ہے اس کو ان کالونیوں میں فراہم کیا جاتا ہے جہاں بڑے بیوروکریٹ اور اعلیٰ سرکاری افسران رہائش پذیر ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں جب پی ڈی ڈی کے ایک عہدیدار سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتا یا ‘دراصل 11 ہزار کے وی ترسیلی لائن میں کچھ خرابی ہے جس کی وجہ سے بجلی کی فراہمی متاثر رہتی ہے تاہم اس کی مرمت کا کام جاری ہے’۔ تاہم احتجاجیوں نے بعدازں یہ یقین دہانی ملنے کے بعد کہ ‘ان کی بجلی سپلائی کو فوری طور بحال کیا جائے گا’ اپنا احتجاج ختم کیا۔

Please follow and like us:
1000

پلوامہ میں فورسز کی گشتی پارٹی پر حملہ 

سری نگر، 22 جنوری (یو این آئی) جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں منگل کی دوپہر کو جنگجوؤں نے سیکورٹی فورسز کی ایک گشتی پارٹی پر حملہ کیا تاہم حملے میں کوئی بھی جانی یامالی نقصان نہیں ہوا۔ یو این آئی کو سرکاری ذرائع سے معلوم ہوا کہ شمالی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے پہو علاقے میں منگل کی دوپہر کو جنگجوؤں نے سیکورٹی فورسز کی ایک گشتی پارٹی پر گولیاں بر سائیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں ایک مختصر معرکہ آرائی شروع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ تاہم جنگجو جائے واردات سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں کسی بھی جانب کوئی جانی یامالی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا ‘تاہم فوج نے مزید نفری بلا کر علاقے کا محاصرہ کرکے حملہ آوروں کی تلاش شروع کی ہے’۔ دریں اثنا پولیس نے علاقے میں سیکورٹی فورسز کی گشتی پارٹی پرجنگجوؤں کے حملے کو مسترد کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے سیکورٹی فورسز نے علاقے میں مشکوک سرگرمیاں دیکھتے ہوئے ہوا میں فائرنگ کی۔

Please follow and like us:
1000