کشمیریوں کی سیاسی ،اخلاقی اور سفارتی مدد جاری رہیگی ؍ عمران خان 

انسانی حقوق کی پامالیاں تشویشناک ؍ عالمی برداری معاملے کا سنجیدہ نوٹس لے
سرینگر؍انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے وزیراعظم پاکستان عمرا ن خان نے کشمیری عوام کے محبت بھرے پیغام میں اعلان کیا ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کی جائز جدوجہد کے تئیں سیاسی ،سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھے گا تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ کشمیرمیں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر روک لگائی جائے اور یہ کہ عالمی برداری کو کشمیریوں کی مدد کیلئے آگے آنا ہوگا ۔اس دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔الفا نیوز سروس کے مطابق 10دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقعے پر پاکستانی وزیراعظم نے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان تک جو اطلاعات موصول ہورہے ہیں اس میں دس سےلیکر چودہ اور سولہ برس کے نوجوانوں کو بھی انکاونٹر میں مارا جارہا ہے اور بھارتی فوج نے ظلم وبربریت کے تمام ریکارڈ مات کئے ہیں لہذا پاکستان کسی بھی طور پر کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر خاموش نہیں رہ سکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام ستر برس سے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایسے میں پاکستان کشمیریوں کی جائز جدوجہد کی بھر پور حمایت کررہا ہے ۔ انہوں نے کہاہ کشمیر کے اندر کشمیری عوام اپنے بل پر جدوجہد میں مصروف ہے اور بھارت کشمیریوں کی جائز جدوجہد کو دہشت گردی کا لبادہ اوڑ ھ کر اس کو بدنام کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میرا کشمیری عوام کے نام یہ پیغام ہے کہ کشمیریوں کی جائز جدوجہد کی پاکستان سیاسی ،سفارتی اور اقتصادی مدد جاری رکھے گا ۔انہوں نے مزیدکہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے بھی اس سلسلے میں قرارداد منظور کرا دی ہے جس میں کشمیری عوام کی تحریک آزادی کو ہر سطح کی حمایت دینے پر اتفاق رائے کیا ہے ۔الفا نیوز سروس کے مطابق انہوں نے مزید کہاکہ لندن میں پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جائیگا ۔انہوں نے مزید کہاکہ ہم کشمیری بھائیوں کو کبھی نہیں بھولیں گے اور نہ ہی ان کو بھول سکتے ہیں بلکہ ان کی جدوجہد کی ہر سطح پر حمایت کی جائیگی ۔ وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس عزم کا اظہار کررہے ہیں کہ کشمیریوں کی جائز جدوجہد کی ہر سطح پر حمایت جاری رکھیں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پہلے ہی ہومن رائٹس کونسل میں شامل ہے اور ایسے میں بین الاقوامی برداری کو اس جانب توجہ مبذول کرانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے کہ وہ کشمیریوں پر ہورہے ظلم وجبر کو روکنے کی کوشش کرے ۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو کشمیر میں طلم وجبر کوروکنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ عمران خان نے اقوام عالم پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کی نسل کشی روکنے میں مدد کریں ۔ پاکستان کے وزیراعظم نے اپنے اس موقف کوپھردہرا یا کہ بھارت پاکستا ن کے درمیان کشمیر سب سے بڑا مسئلہ ہے اور جب تک نہ بھارت میں پارلیمنٹ کے الیکشن اختتام پذیر یو نگے تب تک مذاکرات کی گنجائش نہیں دکھا ئی دے رہی ہے ۔امریکہ پاکستان کے کاندھوں پربندوق رکھ کرگو لی نہیں چلاسکتا ہے پاکستان امریکہ کی بہت جنگ لڑ چکا ہے اور مزید جنگ لڑ نے کا متحمل نہیں ہے تا ہم پاکستان امریکہ کو افغانستان میں امن قا ئم کرنے اور بات چیت کو یقینی بنانے کیلئے اپنی حیثیت کے مطابق تعاون فراہم کر نے کیلئے تیار ہے ۔ پاکستا ن کے وزیراعظم نے کہا کہ ممبئی حملوں میں ملوث افراد کے خلاف کیس جتنا جلد حل ہوگا وہ پاکستان کے مفاد میں ہے ۔انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامت کا سب کو حترام کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستا ن کے درمیان مسائل حل ہونے چاہئے اور اس کیلئے لازمی ہے کہ اعتمادسازی بحا ل ہونی چا ہئے تا ہم بھارت کوکئی بار مذاکرات کی شروعات کیلئے مدعو کیا گیا ابھی تک بھات کی جانب سے مثبت جواب سا منے نہیںآ یا اور یہ بات اظہرشمس ہے کہ جب تک نہ بھارت میں پارلیمنٹ کے الیکشن اختتام پذیرہونگے نئی حکومت کاقیام عمل میںآ ئے گا تب تک مذاکرات کے امکانات دکھا ئے نہیں دیتے ہے ۔الفا نیوز سروس کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ خطے میں امن تر قی اور خوشحا لی کیلئے پاکستا ن سمیت تمام دوسرے ملکوں کو ٹھو س اقدامات اٹھانے ہونگے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔چین کے معاون وزیر خارجہ مسٹر کونگ زوآن یو نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی جس میں علاقائی سیکورٹی سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس کے علاوہ ملاقات میں خطے کو درپیش مسائل کے حل اور دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے پر اتفاق ہوا۔ملاقات میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی طرف سے پاک چین وزرائے خارجہ اسٹریٹیجک مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور وزیر خارجہ نے سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونزکی جلد تعمیر پر زور بھی دیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کابل میں ہونے والے دوسرے سہ رکنی پاکستان، چین افغانستان مذاکرات میں اپنی شرکت سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام کے لیے چین کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے، بہترین اور دیرپا نتائج کے حصول کے لیے سی پیک منصوبوں کے معاشرتی اور اقتصادی پہلووں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔دوسری جانب ملاقات میں چینی معاون وزیر خارجہ نے کہا کہ چینی وزیر اعظم کے وڑن کے مطابق پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی اور غربت کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کے لیے پر عزم ہیں۔

Please follow and like us:
1000

مودی کاطورطریقہ اوربرتاؤ محمد تغلق سے مختلف نہیں

جہاں موقعہ ملاوہاں وزیراعظم کیخلاف بولوں گا:یشونیت سنہا
سرینگر: سابق مرکزی وزیریشونت سنہانے وزیراعظم نریندرمودی پرحملہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ہمارے وزیراعظم پاگل بادشاہ محمدبن تغلق سے مختلف نہیں ہیں ۔کشمیرنیوزسروس(کے این ایس )مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا نے ترنمول کانگریس کی جانب سے منعقد ایک ٹاک شو ’آئیڈیا آف بنگال‘ میں کہا کہ وزیراعظم نریندرمودی نے ملک کے اہم اداروں کو برباد کر دیا اور وہ بالکل محمد بن تغلق کی طرح برتاؤ 
کرتے ہیں۔ٹاک شو کے دوران یشونت سنہا نے کہا کہ ’’جس طرح سے محمد بن تغلق کبھی اپنی راجدھانی دہلی سے دولت آباد لے جاتا ہے اور کبھی چمڑے کا سکہ چلواتا ہے، اس کی حرکتوں کی وجہ سے اسے تاریخ میں پاگل بادشاہ کا خطاب دیا گیا ہے،اوربقول موصوف ٹھیک اسی طرح کا رویہ ہمارے وزیر اعظم نریندرمودی اختیار کر رہے ہیں‘‘۔ یشونت سنہا نے خود کو اتنے پر ہی نہیں روکا، وہ یہاں تک کہہ گئے کہ مودی حکومت نے مرکزی کابینہ سمیت ملک کے اہم اداروں کو برباد کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں ایسا اس لئے کہہ رہا ہوں کیونکہ کابینہ کو بتائے بغیر کئی اہم فیصلے لیے جا رہے ہیں۔اٹل بہاری واجپئی حکومت میں وزیر مالیات اور وزارت داخلہ کی کارگزاری سنبھال چکے یشونت سنہا نے کہا کہ مودی کے بربریت پر مبنی فیصلے کی دوسری سب سے بڑی مار پارلیمنٹ پر پڑی ہے۔انہوں نے مودی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت نے کئی اہم آرڈیننس کو پاس کرانے کے دوران راجیہ سبھا کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔یشونت سنہا نے کہا کہ مودی حکومت کے اس طرح کے رویہ اور پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے ہی انھوں نے طے کیا ہے کہ اگر کوئی شخص یا ادارہ نریندرمودی کیخلاف بولنے کے لئے مدعو کرے گا تو وہ اسٹیج پر ضرور جائیں گے۔خیال رہے اس سے قبل بی جے پی میں رہتے ہوئے بھی یشونت سنہا نے مودی حکومت اور ان کے فیصلوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی تھی۔ کچھ مہینوں پہلے یشونت سنہا نے بی جے پی سے خود کو الگ کر لیا تھا۔

Please follow and like us:
1000

اقوام متحدہ تحقیقاتی کمیشن قائم کرے 

ریاست میں انسانی حقوق کی پامالیاں روکنے کیلئے مزاحمتی قیادت کا یو این سیکریٹر جنرل کے نام مراسلہ
سرینگر؍مشترکہ مزاحمت قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقعہ پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے نام اپنے ایک مکتوب میں حکومت ہند اور ریاستی حکام کی جانب سے جموں وکشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی بے دریغ پامالیوں ، قتل و غارت ، مار دھاڑاور انسانیت سوز مظالم کی جانب توجہ دلاتے ہوئے موصوف سے ان پامالیوں کے انسداد کی اپیل کی ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ جموں وکشمیر دنیا کا وہ واحد خطہ ہے جہاں جانوروں کے حقوق کے تحفظ کی بات تو کی جاتی ہے لیکن انسانوں کے حقوق جس بے دردی سے پامال کئے جارہے ہیں اور مسلمہ انسانی اور جمہوری قدروں کی بیخ کنی کی جارہی ہے اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ حقوق انسانی کے دن کے حوالے سے مزاحمتی قیادت نے حقوق انسانی ہفتہ 3ے9دسمبر تک منانے کا جو پر امن پروگرام دیا اس کو بھی ناکام بنانے کیلئے حکمرانوں کی جانب سے بیجا طاقت اور تشدد کا استعمال کیا گیا ، مزاحمتی قائدین اور کارکنوں کو گھروں اور تھانوں میں نظر بند کردیا گیا ، زندگی کے مختلف مکاتب فکر سے وابستہ انجمنوں اور تنظیموں کی جانب سے موم بتیاں اور مشعل روشن کرکے پر امن احتجاج کو بھی طاقت کے بل پر ناکام بنا کر مسلمہ جمہوری اور انسانی قدروں کی دھجیاں اڑائی گئیں۔مراسلے میں انکشات کیا گیا کہ سال رواں میں اب تک 150 نہتے شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے جبکہ اس دوران پیلٹ کے وحشیانہ استعمال سے18 ماہ کی کمسن ہبہ نثار سمیت درجنوں افراد کو نشانہ بنا یا گیا۔مکتوب میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ کل ہی جب پوری دنیا انسانی حقوق کے حوالے سے مختلف نوعیت کے پروگرام بنا کر اس دین کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کرنے میں مصروف عمل ہے بھارتی فورسز نے شہر سرینگر کے متصل دو کمسن 14 سالہ مدثر احمد پرے اور 17 سالہ ثاقب شیخ سمیت تین نوجوانوں کو نہ صرف بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا بلکہ 7 رہائشی مکانات کو بم اور بارودی مواد سے اڑا کر کھنڈرات میں تبدیل کردیا۔مراسلے میں مزید کہا گیا کہ کشمیر میں نافذ کالے قوانین کی آڑ میں اور جواب دہی کے کسی بھی تصور سے بالا تر ہوکر بھارتی فورسز اور اسکی مختلف ایجنسیاں یہاں خونین کھیل کھیل رہی ہیں اور پورے کشمیر کو ایک قتل گاہ میں تبدیل کردیا گیا ہے ، آئے روز کشمیریوں کو اپنے معصوموں کا جنازہ اٹھانے پر مجبور کیا جارہاہے۔ قدغنوں، بندشوں ، گرفتاریوں ، ہراسانیوں ، خانہ تلاشیوں اور بلا امتیاز عمر و جنس سرکاری فورسز کی جانب سے ظلم و جبر پر مبنی پْر تشدد کارروائیاں جاری ہیں۔مراسلے میں کہا گیا کہ حکومت ہند گزشتہ سات دہائیوں سے جموں وکشمیر کے عوام کے پیدائشی حق ، حق خودارادیت کی آواز کو دبانے کیلئے طاقت اور تشدد کے بل پر معصوم کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتار رہی ہے اور کالے قوانین کے ذریعے کشمیری عوام پر طاقت کے وحشیانہ استعمال سے بنیادی انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں جو حد درجہ تشویشناک اور قابل مذمت ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی حقوق بشر کی تنظیموں اور اقوام متحدہ جیسے ذمہ دار ادارے کی جانب سے خاموشی کے سبب حکومت ہند کو شہہ مل رہی ہے جس کے سبب نہتے اور مظلوم کشمیریوں پر مظالم ، بربریت اور جارحیت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ خود اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے جموں وکشمیر میں ابتر انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے ضمن میں جو حال ہی میں رپورٹ منظر عام پر لائی گئی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ مذکورہ رپورٹ پر عمل آوری کراکے حکومت ہند کو جموں وکشمیر کے نہتے اور مظلوم عوام کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے موثر اور کارگر اقدامات اٹھائے جائیں۔مراسلے میںیو این سیکریٹری جنرل سے دردمندانہ اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی منصبی اور آئینی ذمہ داریوں کے پیش نظر کشمیری عوام کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کو اپناپیدائشی حق ، حق خودارادیت کو دلوانے میں اپنا موثر اور نتیجہ خیز کردار ادا کریں تاکہ دیرینہ مسئلہ کشمیر کا کشمیری عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق دیرپا حل نکالا جاسکے۔

Please follow and like us:
1000

پاکستان :درپردہ جنگ بھی اور بہتر تعلقات کی خواہش بھی 

اُوڑی میں دو فوجیوں کی ہلاکت پر وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کااظہارِ برہمی 
سرینگر/پاکستانی فوج کی گولہ باری میں دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت پرسخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ ایسی کارروائیاں ناقابل برداشت ہیں اور پاکستان کو اس کا حساب دینا ہوگا۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ ایک طرف پاکستان بھارت کے ساتھ بہترتعلقات قائم کرنے کی باتیں کرتا ہے تو دوسری طرف سرحدوں پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہاہے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق اوڑی سرحدی پٹی پر پاکستانی فوج کی گولہ کے نتیجے میں بھارت کے دو فوجیوں کے ہلاکت ہونے پر مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ایسی کارروائیوں پربھارت خاموش نہیں بیٹھے گا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ بھارتی فوجی سرحدوں پر ملک کی حفاظت کیلئے دن رات اپنے فرائض انجام دیتے ہیں اور قوم کا فرض ہے کہ ان کی فرض شناسی کی قدر کریں ۔ نئی دلی میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں وزیر داخلہ نے پاکستان کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ٹھنڈے پیٹوں ایسی کارروائیوں کو برداشت نہیں کرے گا اور ایسی کسی بھی جارحانہ کاروائی کا بھارت منہ توڑجواب دینے کا اہل ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف پاکستان بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کا ڈنڈورہ پیٹ رہا ہے تو دوسری طرف بھارت کے خلاف درپردہ جنگ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان باربارکہتے ہیں کہ پاکستان بھارت کے ساتھ دوستی کا متمنی ہے لیکن جو سرحدوں پر ہورہا ہے ہمیں نہیں لگتا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات استوار ہوسکتے ہیں ۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت پاکستان اور دیگر ہمسائیہ ممالک کے ساتھ دشمنی نہیں چاہتا لیکن اس کیلئے وہ قومی سلامتی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج پاکستان کے ہر اُس کوشش کو ناکام بنائے گی جس کے پیچھے ان کے کالے منصوبے چھپے ہوں ۔انہوں نے کہا کہ اوڑی میں جو ہمارے دو جوان ہلاک ہوئے ہیں ان کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔ یاد رہے کہ رواں ہفتے کی بدھ وار کے روز اوڑی کے کالا کوٹ سرحدی پٹی پر بھارت اور پاکستان فوج کے مابین گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا جس دوران پاکستان فوج کی گولہ بارے کے نتیجے میں دو فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے ۔تھے جس کے بعد بھارتی فوج نے بھی پاک فوجی چوکیوں کو نشانہ بناکر شدید گولہ باری کی ۔ اس کشیدہ صورتحال پر گذشتہ روز بھارتی وزیر دفاع نرملاسیتا رمن نے بھی پاکستان کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اس کا جواب دیا جائے گا۔ 

Please follow and like us:
1000

پروفیشنل اور کمپٹیٹیو کورسوں کیلئے سپر 50 فری کوچنگ کا آغاز

اساتذہ مشکلات کے باوجود بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں:خورشید گنائی
جموں /گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی اور کے ۔ وِجے کمار نے آج ایس پی ہائیر سکینڈری سکول سری نگر میں کئی پروفیشنل اور کمپیٹیٹو کورسوں کیلئے سپر 50 فری کوچنگ کا آغازکیا۔طلاب ، تعلیمی ماہرین اور فیکلٹی ممبران کے ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی نے کہا کہ اس اہم پروگرام کا آغاز کرنے سے طلاب بڑی حد تک مستفید ہوں گے ۔ اُنہوں نے کہا کہ محنت کا کوئی متبادل نہیں اور طلاب کو چاہیئے کہ وہ اپنے مضامین پر خصوصی توجہدیتے ہوئے اپنے تعلیمی مقاصد کو بہتر طریقے پر حاصل کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ طلاب کے لئے مستقبل میں اور زیادہ چیلنجوں کا مقابلہ کرناہوگااور اس مقصد کے لئے انہیں بڑی ہمت اور حوصلے سے کامیابی حاصل کرنی ہوگی ۔چند سابق بیورو کریٹوں جن میں سشما چودھری ، محمد شفیع پنڈت ، ڈاکٹر ایس ایس بلوریہ ، محمد اقبال کھانڈے، پرویز دیوان ، سی پھنسک ، موتی لال کول ، بی آر کنڈل اور وِجے بقایا کا نام لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان آفیسروں نے ریاست کی ترقی اور خوشحالی کے لئے بہت محنت کی ۔ خورشید گنائی نے کہا کہ انہوں نے ریاست کی پالیسیوں کو مرتب کرنے اور ترقیاتی منظرنامے میں زبر دست خدمات انجام دیں۔ اُنہوں نے طلاب پر زور دیا کہ وہ اپنے کیئریر کو بنانے کے لئے محنت اور مشقت سے کام لیں اور ہر سطح پر اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔مشیر نے مزید کہا کہ ریاست کے تعلیمی منظر نامے کو بڑھاوا دینے کے لئے سکولوں اور کالجوں کو اہم رول ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر سکول بچے کے مستقبل کو روشن بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور یہی بچے کل ملک کی تعمیر میں کلیدی رول اداکرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گورنر انتظامیہ ” Mission on Delivering Governance” پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ریاست جموں وکشمیر کو واپس اپنی شان رفتہ بحال کرنے کی کوششیں کر رہی ہے ۔گورنر کے مشیر کے ۔ وِجے کمار اس موقعہ پر مہمان ذی وقار تھے ۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہاکہ اساتذہ ریاست کے تعلیمی منظرنامے کی ترقی کے لئے تمام مشکلات کے باوجود بہتر کارکردگی کا مظاہر ہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ریاست کے موسمی حالات ، امن و قانون کی صورتحال کے باوجود اساتذہ اپنے فرائض احسن طریقے پر انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے طلاب سے کہا کہ وہ اپنے اساتذہ کی طرف دیکھ کر اُن کے مقد س پیشے کی قدر کرتے ہوئے اپنے مستقبل کو روشن بنانے کے لئے محنت کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ایک سفر ایک چھوٹے قدم سے شروع ہوتا ہے اور اگر انسان چاہیئے تو کسی بھی میدان میں اپنی محنت و مشقت سے نام کما سکتا ہے ۔مشیر وں کے ہمراہ ڈائریکٹر این آئی ٹی سری نگر ڈاکٹر راکیش سہگل اور کلسٹر یونیورسٹی کشمیر کے وائس چانسلر شیخ جاوید بھی تھے۔ بعد میں خورشید گنائی نے متعلقہ افسران کے ہمراہ کیئریر کونسلنگ میلے میں کئی کیئریر کونسلنگ سٹیشنوں کا افتتاح کیا۔ یہ سٹیشن جے اینڈ کے سکل ڈیولپمنٹ مشن ، جے اینڈ کے بینک ، ای ڈی آئی اور آئی ٹی آئی نے قائم کئے تھے۔ اس سے قبل ناظم تعلیم کشمیرڈاکٹر جی این ایتو نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔

Please follow and like us:
1000

عالمی یوم حقوقِ انسانی ‘کشمیریوں کیلئے یوم سیاہ 

مشترکہ مزاحمتی قیادت کی سوموار کو ہڑتال کرنے کی اپیل
سرینگر:سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی اتحاد نے سنیچر کو عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ 10 دسمبر بروزسوموار مکمل اور ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کرکے اس دن کو ’یوم سیاہ‘کے طور پر مناکر عالمی برادری اور حقوق انسانی کے عالمی اداروں کو جموں وکشمیر کے عوام پر بقول اْنکے ڈھائے جارہے مظالم اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کی طرف توجہ دلائیں۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق مشترکہ مزاحمتیقائدین سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروقاور اسیر زندان محمد یاسین ملک نے اپنے مشترکہ بیان میں حقوق انسانی کے عالمی دن کے موقعہ پر بشری حقوق کے عالمی اداروں اور مہذب اقوام سے جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز اور حکمرانوں کی عوام کُش اور بے رحم پالیسیوں کے نتیجے میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری حقوق انسانی کی سنگین پامالیوں کا سنجیدہ نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ 10 دسمبر جو پوری دنیا میں حقوق بشر کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور پوری دنیا میں انسانی حقوق کے تحفظ ، انسانی زندگیوں کے احترام اور حفاظت کی بات کی جاتی ہے اور حقوق انسانی کے تحفظ کی ضرورت اور اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک جموں وکشمیرکا تعلق ہے یہاں کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے انتہائی بدترین اور تکلیف دہ صورتحال سے دوچار ہیں، یہاں کے عوام کے جملہ سیاسی، سماجی اور مذہبی حقوق طاقت کے بل پر سلب کر لئے گئے ہیں ، دنیا کا سب سے بڑا فوجی جماؤ والاخطہ ہونے کے ساتھ ساتھ حقوق انسانی کی بدترین پامالیوں کے ذریعہ یہاں کے عوام سے جینے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے ۔ قتل و غارت ، مار دھاڑ، گرفتاریاں ، بندشیں ، قدغنیں، ہراسانیاں یہاں روز کا معمول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلاشی کے نام پر اسباب خانہ اور مکانوں کی توڑ پھوڑ ، مردوں، عورتوں، بزرگوں، بچوں کی مار پیٹ حتیٰ کہ کمسن بچیوں کو بھی پیلٹ کا نشانہ بنا کر ان کی آنکھوں سے بینائی چھین لینا قابض فورسز نے اپنے فرائض میں چھین لیا اور اس صورتحال کا افسوسناک اور دردناک پہلو یہ ہے کہ حقوق بشر کی عالمی تنظیمیں اور دیگر عالمی برادری کشمیریوں کیخلاف اس بھارتی بربریت پر اپنا ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔قائدین نے کہا کہ جموں وکشمیر دنیا کا وہ واحد خطہ ہے جہاں جانوروں کے حقوق کے تحفظ کی بات تو کی جاتی ہے مگر انسانوں کے حقوق جس بے دردی کے ساتھ پامال کئے جارہے ہیں مسلمہ انسانی اور جمہوری قدروں کی بیخ کنی کی جارہی ہے اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ حقوق انسانی کے دن کے حوالے سے مزاحمتی قیادت نے حقوق انسانی ہفتہ منانے کا جو پر امن پروگرام دیا تھا مگر اس پروگرام کو ناکام بنانے کیلئے جس طرح بیجا طاقت اورتشدد کااستعمال کیا گیا ۔ مزاحمتی قائدین اور کارکنوں کو گھروں اور تھانوں میں نظر بند کیا گیا ۔ زندگی کے مختلف مکاتب فکر سے وابستہ انجمنوں اور تنظیموں کے ذمہ داران کی جانب سے موم بتیاں اور مشعل روشن کرکے پر امن احتجاج کو بھی طاقت کے بل پر ناکام بناکرمسلمہ جمہوری اور انسانی قدروں کی دھجیاں اڑائی گئیں وہ حد درجہ افسوسناک ہے۔قائدین نے کہا کہ کشمیر کے طول و عرض شوپیاں، کولگام، بجبہاڑہ، ترال، اسلام آباد، حاجن، سوپور، بڈگام، کپوارہ، بانڈی پورہ، پلوامہ اور دیگر علاقوں میں نہتے عوام کو تختہ مشق بنا کر ان کی زندگیوں کو اجیرن بنایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے مظلوم عوام کیلئے ہر روز کربلا اور ہر شام شامِ غریباں کا سا منظر پیش کررہی ہے اور جب ان ظلم و زیادتیوں اور انسان کُش پالیسیوں کیخلاف پر امند احتجاج کیا جاتا ہے تو حریت پسند قائدین اور کارکنوں کیلئے زندانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ، ان کے گھروں کو تہس نہس کیا جاتا ہے اور پر امن طور صدائے احتجاج بلند کرنے کی پاداش میں تعذیبوں اور تشدد سے گذارا جاتا ہے ۔قائدین نے کہا کہ ایک ایسے دن پر جب پوری دنیا انسانی حقوق کے تحفظ کا دن منا رہی ہے اور انسانوں کے حقوق کی حفاظت کیلئے پروگرام ،سمینار اور سمپوزیموں کا انعقاد کرکے انسانی حقوق کی حفاظت کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کررہی ہے جموں وکشمیر کے حریت پسند قیادت او ر عوام جن کیلئے اپنے حقوق کی بات کرنا اور ان حقوق کی پامالی کیخلاف پر امن احتجاج کرنا جرم قرار دیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں کہ وہ اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناکر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کریں۔قائدین نے کشمیر کے حریت پسند عوام سے اپیل کی کہ وہ 10 دسمبر 2018 سوموار کو مکمل اور ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کرکے اس دن کو ’’یوم سیاہ‘‘کے طور پر مناکر عالمی برادری اور حقوق انسانی کے عالمی اداروں کو جموں وکشمیر کے عوام پر ڈھائے جارہے مظالم اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کی طرف توج دلائیں۔قائدین نے بشری حقوق کے عالمی اداروں بشمول اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن (UNHCR) ، Amnesty international, Asia Watch, ICRC اور دیگر حقوق البشر کی مستند تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ کشمیر کی انسانی حقوق کے حوالے سے ابتر صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ کشمیریوں کیخلاف جاری ظلم و تشدد اور مار دھاڑ سے عبارت کارروائیوں پر روک لگا دے۔

Please follow and like us:
1000

بلند شہر تشدد: کلیدی مشتبہ ملزم (فوجی) سوپور سے گرفتار 

سرینگر8 دسمبر (یو ا ین آئی) اترپردیش کے ضلع بلند شہر میں ہجومی تشدد کے کلیدی مشتبہ ملزم جو کہ ایک فوجی ہے، کو مبینہ طور پر شمالی کشمیر کے ایپل ٹاون سوپور سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ جتیندر ملک عرف جیتو فوجی نامی اس مشتبہ ملزم کو اترپردیش پولیس کی ایک ٹیم نے سوپور میں اپنے کیمپ سے گرفتار کرلیا ہے۔ واضح رہے کہ بلند شہر میں گزشتہ ہفتے گائے ذبح کرنے کی افواہ کے بعد ہجومی تشدد بھڑک اٹھا جس کے دوران ایک پولیس انسپکٹر سمیت دو لوگ مارے گئے۔ مہلوک انسپکٹر کی شناخت 47 سالہ سبودھ کمار سنگھ کے طور پر ہوئی تھی۔ وہ بلند شہر کے سیانا پولیس تھانے کے انچارج تھے۔ ہجومی تشدد کے اس واقعہ کے حوالے سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں جتیندر ملک نامی فوجی کو کلیدی کردار نبھاتے ہوئے دیکھا گیا۔ مذکورہ فوجی مبینہ طور پرواقعہ کے فوراً بعد کشمیر میں اپنے کیمپ پہنچا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اترپردیش پولیس کی ایک ٹیم جمعہ کو جموں وکشمیر پہنچی اور جتیندر ملک کو گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئی۔ انہوں نے بتایا ’اترپردیش پولیس کی ٹیم جمعہ کو ادھم پور میں قائم فوج کے شمالی کمان ہیڈکوارٹر پہنچی جہاں اس ٹیم میں شامل پولیس افسروں نے فوج کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کی‘۔ انہوں نے بتایا ’فوج کی شمالی کمان سے وابستہ فوجی عہدیداروں نے اترپردیش پولیس ٹیم کو مکمل تعاون فراہم کرنے کا یقین دلایا۔ اس کے بعد پولیس ٹیم سوپور پہنچی جہاں اس نے جتیندر ملک کو فوج کی 22 راشٹریہ رائفلز (آر آر) کیمپ سے اپنی تحویل میں لے لیا‘۔ رپورٹوں کے مطابق جتیندر سنگھ 15 دنوں کی چھٹی پر اپنے آبائی قصبہ بلند 
شہر گیا ہوا تھا۔ اس کو ہجومی تشدد کے حوالے سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں سرگرم کردار ادا کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ پولیس انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کو بلوائیوں نے اس وقت قتل کیا تھا جب وہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے بلند شہر کے چگراوتی گاؤں گئے ہوئے تھے۔

Please follow and like us:
1000

فرنٹ کا سرائے بالا اور لرۂبل خمینی چوک میں مشعل احتجاج

یاسین ملک صورہ ہسپتال سے کوٹھی باغ پولیس تھانہ منتقل
سرینگر؍جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے محبوس و علیل چیئرمین محمد یاسین ملک کو آج صورہ ہسپتال سے رخصت دی گئی ہے اور فوراً بعد پولیس نے اُنہیں ایک بار پھر تھانہ کوٹھی باغ منتقل کردیا ہے۔یاسین صاحب جنہیں ۱۹؍ نومبر ۲۰۱۸ ؁ء کے روز گرفتار کرکے تھانہ مائسمہ میں مقید رکھا گیا تھا کو کمر کی شدید تکلیف کے بعد ۳؍ دسمبر کے روز پولیس حراست میں ہی صورہ ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ آج تک ایڈمٹ تھے۔ آج انہیں ہسپتال سے رخصتی ملی تو پولیس نے انہیں فوراً کوٹھی باغ تھانہ منتقل کیا ہے جہاں وہ اب زیر حراست ہیں۔ درایں اثناء مشترکہ مزاحمتی قیادت کے ہفتۂ احتجاج پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے لبریشن فرنٹ کے قائدین و راکین نے آج مسلسل چھٹے روز ‘ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے ہمراہ سرائے بالا سرینگر اور لرہ بل خمینی چوک بڈگام کے مقامات پر مشعل و شمع بردار احتجاجی مظاہرے منعقد کئے۔لبریشن فرنٹ کے قائدین وراکین زندگی کے دوسرے شعبوں سے وابستہ لوگوں کے ہمراہ آج سرائے بالا سرینگر اور لرہ بل خمینی چوک بڈگام میں جمع ہوگئے اور پولیس کی خوف زدہ کرنے کی کاروائیوں کو درکنار کرتے ہوئے شمعیں اور مشعل جلاکر جموں کشمیر میں جاری بھارتی جبر اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف پرامن احتجاجی مظاہرے منعقد کئے۔ہاتھوں میں جلتی شمعیں اور مشعل تھامے ‘ مظاہرین نے مظاہروں کے دوران بھارتی فورسز اور پولیس کے ہاتھوں کشمیر میں جاری جبر و ظلم کے خلاف فلک شگاف نعرے بلند کئے۔مظاہرین سے لبریشن فرنٹ کے قائدین اور مقامی اکابرین نے بھی خطاب کیا ۔اپنے خطاب میں مقررین نے لبریشن فرنٹ کے علیل چیئرمین کو ہسپتال سے سیدھے پولیس اسٹیشن منتقل کرنے کی پولیسی کاروائی کو سفاکانہ اور متعصبانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ظلم ،جبراور تعدی بھارتی حکمرانوں اور انکی انتظامیہ کا طرۂ امتیاز بن چکا ہے اور یہی سفاک رویہ ہے کہ جو یہاں کے لوگوں کو پشت بہ دیوار لگانے اور تشدد میں گوناگوں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔مقرررین نے وادی میں جاری گرفتاریوں کے چکر، موم بتیاں جلاکر احتجاج کرنے جیسے پرامن پروگراموں پر پابندیوں،شبانی چھاپوں اور دوسرے پولیسی مظالم کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لبریشن فرنٹ کے چیئرمین کو علالت کے باوجود سیدھا ہسپتال سے پولیس تھانے منتقل کرنے کے علاوہ پولیس نے آج فرنٹ کے زونل صدر نور محمد کلوال جو سرینگر سینٹرل جیل میں مقید تھے کو وہاں سے نکال کر کسی نئے فرضی کیس میں تھانہ شیر گڑھی منتقل کردیا ہے جبکہ لبریشن فرنٹ کے نائب چیئرمین شوکت احمد بخشی کوکر بازار کی سماجی شخصیت شبیر احمد ڈبلہ کے ہمراہ کوٹھی باغ تھانے، زونل جنرل سیکریٹری شیخ عبدالرشید تھانہ صفاکدل او ر کوکربازار سے معروف سماجی راہنما شکیل احمد بتکو پولیس چوکی چھانہ پورہ میں مقید رکھے جارہے ہیں۔

Please follow and like us:
1000

’ہفتہ حقوقِ انسانی‘ کا چھٹا دن 

ٹرانسپورٹرس،تاجرو صنعت کارانجمنوں کی احتجاجی ریلیاں برآمد 
سرینگر:’ہفتہ انسانی حقوق‘ کے چھٹے روز سنیچر کو کشمیر وادی مبینہ انسانی حقوق پامالیوں کے خلاف ٹرانسپورٹرس،تاجرو صنعت کاروں نے احتجاجی ریلیاں برآمد کرکے انسانی حقوق کی مبینہ پامالیوں پر فوری روک لگانے پر زور دیا ۔ادھر مزاحمتی کارکنان نے مشعل وشمع بردار احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق ٹرانسپورٹرس کی ایک انجمن نے سنیچر کو سرینگر میں کشمیر کے اندرانسانی حقوق کی پامالیوں کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔’کشمیر ٹرانسپورٹرس ویلفیئر فیڈریشن سرینگر‘ سے وابستہ درجنوں افراد نے پرتاپ پارک میں جمع ہوکر پامالیوں کیخلاف نعرے بازی کی۔مظاہرین نے پلے کارڈ اْٹھارکھے تھے جن پر’سرکاری دہشت گردی بند کرو ،کشمیریوں کا قتل عام بند کرو،انسانی حقوق پامالیاں بند کرو ‘ کے جیسے نعرے درج تھے۔احتجاجی مظاہرین نے بتایا کہ کشمیر وادی میں انسانی حقوق کی پامالیاں ہورہی ہیں ،جن پر فوری طور پر روک لگ جانی چاہئے ۔ان کا کہناتھا کہ اب معصوم بچے بھی انسانی حقوق کی پامالیوں کے شکار ہورہے ہیں ۔اسی طرح کی ایک احتجاجی ریلی تاجروں و صنعت کاروں کی نمائندہ انجمن ’کشمیر چیمبر کامرس اینڈ انڈسٹریز ‘سے وابستہ درجنوں افراد نے صدر دفتر واقع پولو ویو سے برآمد کی اور پریس انکلیو سرینگر تک مارچ کیا ۔احتجاجی ریلی کی قیادت ’کشمیرچیمبر کامرس اینڈ انڈسٹریز ‘کے صدر شیخ عاشق نے کی ۔مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف نعرے درج تھے ۔مظاہرین نے کشمیر کی سب سے چھوٹی پیلٹ متاثرہ 20ماہ کی بچی حبہ نثارکی تصویر بھی اٹھا رکھی تھی ۔جنوبی کشمیر میں حبہ اْس وقت پیلٹ کا شکار بن گئی جب اْن کے گاؤں میں محصور عسکریت پسندوں اور فورسز کے مابین مسلح تصادم آرائی کے دوران عسکریت پسندوں کو بچانے کی خاطر مظاہرین اور فورسز کے مابین دو بدو لڑائی چل رہی تھی۔ سرینگر کے صدر اسپتال میں حبہ کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حبہ کی دائیں آنکھ کی پتلی میں پیلٹ لگا ہے اور اس سے آنکھ کی پتلی کو نقصان پہنچا ہے۔شعبہ امراض چشم میں ڈاکٹروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’’حبہ کی آنکھ کی پتلی کو نقصان پہنچا ہے تاہم پہلی جراحی کرکے آنکھ کی جلد کو ہوئے نقصان کی مرمت کی گئی ہے۔بچی کی آنکھ کو بچانے کیلئے کئی جراحیاں کرنی پڑیں گی مگر ہمیں اْمید ہے کہ ہم اسکی دائیں آنکھ میں چند فیصد روشنی بحال کرنے میں کامیاب ہونگے ‘‘۔ان دونوں احتجاجی ریلیوں کا اہتمام مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی اپیل پرکیا گیا تھا۔مشترکہ مزاحمتی قائدین نے تاجروں اور ٹرانسپورٹرس پر زور دیا تھا کہ وہ 3دسمبرسے10دسمبر تک ’ہفتہ حقوق انسانی‘کے تحت مظاہروں کا اہتمام کریں۔دریں اثناء مزاحمتی کارکنان نے مشعل وشمع بردار احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا ،جس دوران کئی مقامات پر احتجاجی دھرنوں کا اہتمام کیا گیا ۔پولیس نے مزاحمتی لیڈران کے خلاف پہلے کریک ڈاؤن کر رکھا ہے ۔لبریشن فر نٹ چیئرمین محمد یاسین ملک کے علاوہ انجینئر ہلال وار ،جاوید احمد میر سمیت کئی مزاحمتی لیڈران وکارکنان خانہ وتھانہ نظر بند ہیں ۔

Please follow and like us:
1000