0

آوارہ کتے وادی کے طول ارض میں لوگوں کے لئے وبال جان

اداروں کی جانب سے اقدامات نہ اٹھانے کے باعث لوگ مشکلات سے دو چار
سرینگر/29/اکتوبر/اے پی آئی آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد لوگوں کے لئے مسلسل وبالجان جیسی صورتحال رواں برس کے نوماہ کے دوران کشمیر وادی میں آوارہ کتوں نے دو ہزار سے زیادہ افرادکو حملوں کانشانہ بنایااور آئے دن وادی کے طول ارض میں آوارہ کتوں کے حملوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔سرکار کی جانب سے آوارہ کتوں کوقابوکرنے کے لئے اقدامات اٹھانے کایقین تو دلایاجاتاہے تاہم عملی اقدامات اٹھانے کی زحمت گوارہ نہیں کی جاتی ہے۔اے پی آ ئی نیوز کے مطابق وادی کشمیر میں آوارہ کتے اب لوگوں کے لئے وبالجان بنتے جارہے ہیں۔ سرکار کی جانب سے آوارہ کتوں کو قابو کرنے کے لئے باربا ردعوے اور وعدے کئے جاتے ہیں تاہم عملی اقدامات اٹھانے کی کبھی بھی کوشش نہیں کی جسکے وجہ سے وادی کے اطراف واکناف میں لوگ ایسے مشکلات سے دوچارہیں کہ گھروں سے باہرآنے میں خوف بچوں کااسکول جانا کئی علاقوں میں نا ممکن ہوجاتاہے گرمائی دارلخلافہ سرینگر میں لوگوں کاکہناہے کہ سورج ڈھلنے کے بعد آوارہ کتے گلیوں کوچوں میں نمودارہوکرلوگوں کاگھروں سے باہرنکلناتقریباًناممکن بنادیاہے اورکئی لوگوں کاکہناہیں کہ وہ اشیاء کی نماز میں مسجدوں میں اداکرنا چاہتے ہیں تاہم ان کی یہ خواہش اس وقت پوری نہیں ہوتی ہے جب آوارہ کتے گلی کوچوں یاسڑکوں پرموجود رہتے ہے او ران کے حملوں کے پیش نظر یہ گھروں میں رہنا بہترسمجھتے ہیں۔عوامی حلقوں کے مطابق سرکار نے کئی باریہ دعویٰ کیاکہ بلدیاتی ادارے ان آوارہ کتوں کی تعداد کم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے گے تاہم سرکار کے یہ دعوے زمینی سطح پرکبھی بھی صحیح ثابت نہیں ہوئیں۔رواں برس کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کی سینئرلیڈراور ممبرپارلیمنٹ منیکاگاندھی نے وادی کشمیرکے لوگوں کو آوارہ کتوں سے نجات دلانے کے لئے بھی یقین دلایا تاہم ابھی بھی اس سلسلے میں سرینگر میونسپل کارپوریشن شہروں قصبوں میں قایم میونسپل کونسلوں میونسپل کمیٹیوں کی جانب سے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔مختلف اسپتالوں سے جواعدادشمار ملے ہیں ان کے مطابق رواں برس کے دس ماہ کے دوران آوارہ کتوں نے دو ہزار سے زیادہ افراد کوکاٹ کھایا سرکاری اسپتالوں میں اینٹی رائبز ویکسین کی عدم دستیابی کے باعث بھی متاثرہ لوگوں کومشکلوں کاسامنا کرنا پڑتاہے۔لوگوں نے سرکار سے مطالبہ کیاکہ اس مصیبت سے نجات دلانے کے لئے دورجدید میں کئی طرح کے اقدامات عمل میں لانے ہونگے تاہم ان کارروائیوں کووادی کشمیرمیں ازمانے کے لئے اقدامات کیوں نہیں اٹھائے جاتے۔آوارہ کتوں کی تعدادمیں مختلف اعدادشمارظاہرکئے جاتے ہیں کئی ایجنسیوں کاکہناہے کہ یہ تعداد چارلاکھ کے قریب ہے اور اگرسرکار نے ا سپرقابوپانے کی کوشش نہ کی تورواں برس تک یہ تعداد آٹھ لاکھ سے تجاوزکرجائے گی،جب کہ کئی لوگوں کایہ بھی مانناہے کہ 2024کے آخرتک کشمیر وادی میں آوارہ کتوں کی تعداد اسات سے نو لاکھ کے قریب ہوگی۔ماہرین کے مطابق آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعدادلوگوں کے لئے وبالجان بنے گے اور صوبائی حکومت کو چاہئے کہ وہ آوارہ کتوں کی تعداد کوکم کرنے کے لئے بڑے پیمانے پراقدامات اٹھائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں