0

بات بات پر بات ہوتی ہے مگر بات بالکل کوئی نہیں ہوتی

نہ کسی مسئلے پر غور ہوتا ہے ۔ نہ مسئلوں کے حل پر زور ہوتا ہے ۔ ہر ایک مسئلے پر صرف شور ہوتا ہے ۔ اور ہر شور میں ہر اصل مسئلہ درگور ہوتا ہے ۔ سیاست داں اپنی سیاست کو چمکانے کے لئے ہر مسئلے کو مسئلوں کا ہمالیہ پہاڑ بنادیتا ہے جس میں اصل مسئلہ ایسے گم ہوجاتا ہے کہ اس کا پھر کوئی سراغ نہیں ملتا اس طرح سے اس کا اپنا الو سیدھا ہوتو ہو عام خام کا الوکبھی سیدھا نہیں رہتا ۔ ناجائز تجاوزات کا مسئلہ ہو یا راشن گھاٹوں پر غریبوں کے چاول کا کوٹا کم کرنے کا مسئلہ ہو ۔ اصل بات کیا ہے اس پر کہیں کوئی بات نہیں ہوتی ۔ جن لوگوں کے بڑے بڑے سرکاری پلاٹوں کے قبضے ہٹائے جاتے ہیں وہ شور مچاتے ہیں کہ غریبوں کی زمین ہڑپ کی جارہی ہے ۔ سوشل میڈیا پر بیکار ، بے روزگار اور بیمار نہ جانے کیا کیا کہہ جاتے ہیں مگر کوئی کبھی صحیح طور پر اس بات کی نشاندہی نہیں کرتا کہ کہاں پر کیا ہوا ہے ۔ جہاں پر بلڈوزر چلایا گیا وہ وہ کیا تھا اور اس کی اصلیت کیا ہے ۔ عمارت کس کی ملکیت تھی اور کونسی زمین پر پر کیسے اس کو کھڑا کیا گیا تھا ۔ ملکیتی زمین کتنی تھی اور سرکاری احاطہ کتنا تھا ۔ قبضہ کب اور کیسے کیا گیا تھا ۔ یہ تفصیل کسی کے پاس نہیں ہوتی ۔ سرکاری زمینوں پر جن لوگوں نے قبضہ کیا تھا انہوں نے قبضے کے وقت متعلقہ محکموں کے افسران کے ساتھ کیسے سانٹھ گانٹھ کرکے ایسا کیا تھا یہ بہت بڑا مسئلہ ہے اوراس کے ذمے دار جتنے قبضہ کرنے والے ہیں اتنے ہی متعلقہ محکمے کے اس وقت کے اہلکار اور افسر ہیں لیکن ان پر کوئی انگلی نہیں اٹھتی ۔ آبی گزرگاہوں پر دن دھاڑے قبضہ کیا عوام کے ساتھ کھلواڑ نہیں کیونکہ اس وجہ سے شہر کو جو خطرہ درپیش ہوتا ہے اس سے عوام کو ہی نقصان پہونچتا ہے ۔ بارش ذرا زیادہ ہوتی ہے تو ڈرینیج کا سارا نظام بے کار ہوجاتا ہے اور سیلاب کے خطرات بڑھ جاتے ہیں ۔ اس سے نقصان کس کا ہوتا ہے ۔ مٹھی بھر لوگوں کی غلط کاریوں کا خمیازہ بے چارے ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے لیکن اس پر بات کرنے والا کوئی بھی نہیں ۔ کئی شعبوں کے پنشنروں کی پنشن کئی کئی ماہ سے رکی ہوئی ہے کیوں رکی ہوئی ہے کسی کو معلوم نہیں اور اس بات پر کوئی بات کرنا گوارا نہیں کیونکہ یہ کوئی سنسنی خیز معاملہ نہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں