0

اردو زبان کشمیر وادی میں یتیم ہونے کے دہانے پر

سرکاری اداروں میں بھی غائب نئی نسل کو اس سے دلچسپی نہیں زبان کو بچانے کے لئے سنجیدگی کا مظاہراہ نہیں
سرینگر/ 07نومبر/اے پی آئی 9نومبر برصغیر ہندو پاک میں اردو ڈے کے طور پرمنایاجاتا ہے اور اس دن اردو زبان بو لنے والوں لکھنے والوں اور اردو کا فروغ دینے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے تقریبات کا اہتمام کیاجاتاہے جہاں تک جموں وکشمیر کاتعلق ہے اردو زبان اب جموں وکشمیر میں نہ صرف سکڑ رہی ہے بلکہ ا سکے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کی بھی کوششیں عمل میں لائی جارہی ہے۔اسکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلبہ وطالبات کی ایک بڑی تعدد اردو زبان سے ناواقف ہے وہ ضرور زبان کو بولتے ہیں تاہم اردو لکھنے یافروغ دینے وہ اپنے لئے ضرور ی تصور نہیں کرتے ہے۔اے پی آ ئی نیوز کے مطابق نونومبر کو برصغیر میں اردو ڈے کے طور پرمنایاجاتاہے اور اس دن اردو کے مصنفوں داشوروں کی حوصلہ افزائی کرنے اور اردوکوفرغ دینے کی لئے تجدید عہدکرنے کیلئے تقریبات کااہتمام کیاجاتاہے۔وادی کشمیرمیں بھی ا س حوا لے سے تقریبات کااہتمام ہوا کرتاہے اگرچہ ایسی تقریبات منعقد ہونا خوش آئیند ہے تاہم اردو زبان کو تقریبات یاسیممنار منعقد کرنے سے فروغ نہیں دیاجاسکتا۔ادو زبان کوفروغ دینے کیلئے زمینی سطح پر اقدامات اٹھانے کی اشدضرر ت ہے جسکی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے اگر چہ جموں و کشمیرمیں اردو انگریزی ہندی ڈورگری اور پنجابی سرکاری زبانوں کے طور پرتسلیم کی گئی ہے تاہم سرکای اداروں میں اب اردو میں کوئی ریکارڈ آپکودستیاب نہیں ہوگا۔پولیس اور محکمہ مال کے اداروں میں اس زبان کو استعمال کیاجاتاہے لیکن المیہ ا س بات کاہے کہ ان اداروں میں بھی سرکاری ریکارڈ انگریزی میں دستیاب ہوگا او اردو میں کہی بھی آپ کو ریکارڈ دستیاب نہیں ہوگا ستم ظریفی کایہ بھی عالم ہے کہ سرکاری اداروں میں اردو زبان کوا ستعمال کیااس میں ریکارڈ جمع رکھنے کی ضرور ت محسوس کیوں نہیں کی جاتی ہے انگیز ی زبان بھار ت کی زبان نہیں ہے بلکہ فرنگی کی زبان ہے اور جس زبان پرعبور ہو ا سے وقت کاشاہ کہاجاتاہے اگراردو زبان میں کسی کوعبور ہوکوئی اس زبان کواستعمال کرکے لکھنے کی کوشش کرتاہے موجودہ دور میں ا سکی پذ رائے نہیں ہو پارہی ہے اور وادی کشمیرمیں جس تیزی کے ساتھ اردو زبان ختم ہورہی ہے آنے والاکل ہمیں معاف نہیں کریگا اسکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں تیس فیصد کے قریب طلبہ وطالبا ت اردو زبان سے ناوقف ہے انہیں اردو زبان میں لکھنے یااردو زبان میں کوئی کتاب یامکالمہ پڑھنے میں دلچسپی نہیں ہے اور جس تیزی کے ساتھ وادی کشمیرمیں اردو زبان ختم ہورہی ہے اور اس کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کی کوششیں ہورہی ہے وہ دن دور نہیں جب اردو زبان اپنی موت آپ مرگئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں