0

اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی میں شدت آنے کے تناظر میں امریکی صدر جوبائیڈن، اسرائیل کا دورہ کریں گے،

آج صبح سویرے تل ابیب سے امریکہ کے وزیر خارجہ اینٹونی بلینکن نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن کَل اسرائیل کا دورہ کریں گے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے کل کہا کہ حماس سبھی فلسطینیوں کی نمائندگی نہیں کرتی اور اس بات پر زور دیا کہ اس کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جانا چاہیے۔

بائیڈن نے اس بات سے بھی خبردار کیا کہہ غزہ پر اسرائیلی قبضہ ایک بہت بڑی غلطی ہوگی۔ اپنے بیان میں بائیڈن نے کہا کہ وہ غزہ سے لوگوں کو بحفاظت نکالے جانے کے لیے انسانی بنیاد پر ایک کوریڈور بنائے جانے اور خوراک اور پانی سمیت، امدادی سامان کی فراہمی کی حمایت کرتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل جنگ کے اصولوں کے تحت کارروائی کرے گا۔

یہ بیان لڑائی کی شروعات سے ہی اسرائیل کی جانب سے سبھی بین الاقوامی ضابطوں کی خلاف ورزی کے الزامات کے بعد سامنے آیا ہے۔
اس دوران اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی تیز ہونے کے تناظر میں آج امکان ہے کہ یوروپی یونین کے رہنما ایک ہنگامی اجلاس کر سکتے ہیں۔ اس میٹنگ میں سبھی شہریوں کو امداد فراہم کرنے اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے دیگر ملکوں کے ساتھ اشتراک پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی کا آج 11 واں روز ہے اور اس میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔ اس لڑائی میں اسرائیل کے ایک ہزار چار سو اور فلسطین کے دو ہزار 800 سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں جن کے بعد ہلاکتوں کی کُل تعداد تقریباً چار ہزار دو سو ہوگئی ہے۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کو بتایا ہے کہ ماسکو غزہ میں انسانی آفات کو روکنے میں مدد کرنا چاہتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ Kremlin نے کہا ہے کہ جناب پوتن نے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان لڑائی روکنے کیلئے تعاون کرنے کی روس کی خواہش کا اظہار کیا اور وہ سیاسی اور سفارتی ذرائع سے پر امن تصفیے کے خواہشمند ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں