0

امت شاہ نے آج جموں میں ای-بس سروس کا آغاز کیا

نئی دہلی، 25 جنوری (یو این آئی) مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آج جموں میں ای-بس سروس کا افتتاح کیا اور نئی دہلی سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے جموں و کشمیر مشترکہ امتحان-2024 کے ایک ہزار سے زیادہ ہمدردی کی بنیا د پر تقرری کے تقرری نامے تقسیم کئے۔
مسٹر امت شاہ نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ آج کا پروگرام کئی لحاظ سے اہم ہے کیونکہ جموں کے لوگوں کے لیے 100 مکمل ایئر کنڈیشنڈ ای بسوں کا افتتاح کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروجیکٹ 561 کروڑ روپے کی لاگت سے 12 سال تک ان بسوں کے آپریشن اور دیکھ بھال کے ساتھ شروع ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے پوری دنیا میں ماحولیاتی بیداری پھیلائی ہے اور اس سمت میں کئے گئے اقدامات کو ہندوستان میں بہترین طریقے سے نافذ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے پورے ملک میں ای بسوں کی اسکیموں کو نافذ کیا ہے اور اسی کے تحت آج جموں کو 100 ای بسیں مل رہی ہیں۔ ان میں سے 25 بسیں 12 میٹر لمبی اور 75 بسیں 9 میٹر لمبی ہیں۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ جموں کے لوگوں کے لیے قابل بھروسہ ، آرام دہ، اقتصادی اور دیرپا پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت آج سے شروع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بسیں جموں سے کٹرا، کٹھوعہ، ادھم پور اور جموں کے داخلی راستوں پر بھی چلیں گی۔ یہ بسیں آنے والے دنوں میں نہ صرف لوگوں کی سفری مشکلات دور کریں گی بلکہ ماحولیاتی نقطہ نظر سے بھی کارآمد ثابت ہوں گی۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ آج جموں و کشمیر کمبائنڈ ایگزامینیشن-2024 بیچ کے 209 کامیاب امیدواروں کو بھی ان کے تقررینامے موصول ہوئے ہیں۔ ان میں جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس کے 96 افسران، اکاؤنٹ گزٹ سروس کے 63 افسران اور پولیس سروس کے 50 افسران شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج سے ان افسران کی زندگی میں ایک نئی شروعات ہو رہی ہے اور اس وقت ان افسران کی سوچ ان کی پوری زندگی کے لیے راہ ہموار کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔
مسٹر امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کے دور حکومت میں صاف شفاف نظام کی وجہ سے ان افسران کو یہ نوکریاں میرٹ کی بنیاد پر ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی جی کے دور میں ملازمتیں سفارشی پرچی کی بنیاد پر نہیں بلکہ امتحانی پرچے کی بنیاد پر دی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سیاسی سفارش یا کرپشن کے بغیر نوکری ملنا ناممکن تھا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے اور اب یہاں دہشت گردی، بم دھماکوں، فائرنگ، پتھراؤ اور ہڑتالوں کے بجائے یہاں پڑھائی، اسکول، کالج، مختلف ادارے، صنعتیں اور انفراسٹرکچر نظر آرہا ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ آج بھی 885 لوگوں کو ہمدردانہ تقرری کے تحت تقرری نامے موصول ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگست 2019 سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد 34,440 آسامیاں پُر کی گئی ہیں، جن میں سے 24,000 جموں و کشمیر سروس سلیکشن بورڈ، 3900 جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن، 2637 جموں و کشمیر نے پُر کی ہیں۔ جموں و کشمیر بینک کی اورپولیس طرف سے 2436 بھرتی کی گئی ہے۔ مسٹر شاہ نے کہا کہ ان تقرریوں میں بدعنوانی کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ آج قومی ووٹرز کا دن ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک جمہوری نظام سے چلتا ہے اور اس کی سب سے چھوٹی اکائی ملک کا ووٹر ہے۔وزیر داخلہ نے 18 سال سے زیادہ عمر کے تمام نوجوانوں سے ووٹر لسٹ میں اپنے ناموں کا اندراج کرانے کی اپیل کی۔ تاکہ وہ جمہوری عمل کا حصہ بنیں اور ہندوستان اور جموں و کشمیر میں جمہوریت کو مضبوط کرسکیں ۔ مسٹر شاہ نے کہا کہ مسٹر نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سال 2018 میں یہاں پنچایتی انتخابات ہوئے تھے ، جس میں 74 فیصد ووٹنگ ہوئی، بلاک ڈیولپمنٹ کونسل کے انتخابات اکتوبر 2019 میں ہوئے جس میں 98 فیصد ووٹنگ ہوئی اور 3650 سرپنچ منتخب ہوئے۔ 4483 حلقوں میں اس طرح مودی حکومت نے 35000 پنچوں، سرپنچوں اور مقامی اکائیوں کے عوامی نمائندوں کو جمہوریت میں کام کرنے کا موقع دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہاں نئی ​​حد بندی ہو رہی ہے جس میں ریزرویشن کے انتظامات کئے جا رہے ہیں، تاکہ محروم لوگوں کو ان کے حقوق مل سکیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی کوششوں سے جموں و کشمیر میں امن و سلامتی کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کو ہٹائے جانے کے بعد دہشت گردی سے متعلق کل واقعات میں 70 فیصد، عام شہریوں کی اموات میں 81 فیصد اور سیکورٹی فورسز کی اموات میں 48 فیصد کمی آئی ہے، ، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر میں خوشی اور امن کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں