0

امسال دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی میں زبردست کمی سے بجلی کا بہت بڑا خسارہ ہوا محکمہ بجلی

’’ ہم سردیوں میں بجلی کے اضافی کوٹے کو استعمال کریں گے جب طلب عروج پر پہنچ جائے گی‘‘

سرینگر;20اکتوبر;ایس این این ;امسال دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی میں زبردست کمی آئی ہے جس کی وجہ سے بجلی کا بہت بڑا خسارہ ہوا ہے کی بات کرتے ہوئے جموں و کشمیر انتظامیہ نے کہا کہ محکمہ بجلی اب بھی دستیابی کے مقابلے میں 2200 میگاواٹ بجلی فراہم کرتا ہے ۔ 1400 میگاواٹ اور باقی 700 میگاواٹ پاور ایکسچینج کے ذریعے حاصل کی جا رہی ہے ۔ سٹار نیو ز نیٹ ورک کے مطابق راج بھون سرینگر ایک لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محکمہ بجلی کے پرنسپل سیکرٹری ایچ راجیش پرساد نے کہا کہ اس سال جموں و کشمیر میں ندیوں اور ندی نالوں کے پانی کی سطح میں زبردست کمی آئی ہے ۔ جس کے نتیجے میں جموں کشمیر میں مقامی بجلی کی پیداوار میں زبردست کمی واقع ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ پاور ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ بجلی کی شدید قلت کا سامنا کرنے کے باوجود کشمیر صوبے کو 1200 میگاواٹ اور جموں خطے کو 1000 میگاواٹ بجلی فراہم کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا ’’جون جولائی میں ہماری اپنی پیداوار 1000 میگاواٹ سے 1050 میگاواٹ کے درمیان رہے گی ۔ اس سال ستمبر میں ، بجلی کی پیداوار کم ہو کر 750 میگاواٹ رہ گئی اور اکتوبر میں یہ کم ہو کر صرف 250 میگاواٹ رہ گئی ۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ محکمہ بجلی اب بھی صارفین کو رعایتی نرخوں پر فی یونٹ بجلی فراہم کر رہا ہے ۔ میٹر اور بغیر میٹر والے علاقوں میں کٹوتیوں کے بارے میں سیکرٹری پی ڈی ڈی نے کہا کہ سردیوں کے زیادہ موسم میں انہیں اضافی بجلی کا کوٹہ ملے گا اور اس کا بہاوَ شروع ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا ’’ہم سردیوں میں بجلی کے اضافی کوٹے کو استعمال کریں گے جب طلب عروج پر پہنچ جائے گی‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ اگلے تین سے پانچ سالوں میں ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات کو 20 فیصد تک کم کر دیا جائے گا ۔ نظام کو بڑھا دیا گیا ہے اور عمل جاری ہے ۔ ہم اگلے چند سالوں میں بجلی کے ٹی اینڈ ڈی کے نقصانات کو 20 فیصد تک کم کرنے کے قابل ہو جائیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں