0

اننت ناگ سے 40 کلومیٹر دور اہلن ترانجی وایلو بنیادی سہولیات سے محروم ، نہ بجلی ہے اور ناہی پانی کے نل

سرینگر;15اکتوبر ;ایس این این;;جنوبی ضلع اننت ناگ سے 40 کلو میٹر دور اہلن ترانجی، اہلن بالا، ایچھو، بیک ناڑ وایلو جو کہ گجر طبقہ پر مشتمل علاقے ہیں آج کے دور جدید میں بھی سڑکوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے زیادہ تر گھوڑے استعمال کرنے پر مجبور ہیں ۔ اس علاقے کے سکولی بچے اپنے سکولوں تک گھوڑوں پر جاتے ہیں جبکہ ان علاقوں میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے شام کے بعد لوگ آج بھی روشنی کےلئے لالٹین اور لکڑی(لیش) جلاتے ہیں جبکہ اس علاقے میں نل کہیں پر نظر نہیں آرہا ہے ۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق وادی کے دور دراز علاقوں میں بجلی ، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات پہنچانے کے سرکاری اداروں کے دعوے کہاں تک سچ ہے یہ بات ضلع اننت ناگ کے ایک پہاڑی علاقہ سے پتہ چلتا ہے ۔ اننت ناگ سے 40 کلو میٹر دور اہلن ترانجی، اہلن بالا، ایچھو، بیک ناڑ وایلو جو ایک پہاڑی علاقہ ہے تاہم اس علاقہ کی طرف انتظامیہ نے کبھی دھیان دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔ علاقہ میں نہ بجلی ہے نہ ہی پانی دستیاب ہے جبکہ طبی سہولیات اور سڑکوں کی تو بات ہی نہیں ہے ۔ یہاں کے لوگ مزور طبقہ ہیں جہاں کے لوگ مزدوری کےلئے پنجاب اور دیگر شہروں کو جاتے ہیں ۔ ان کے والدین اپنے بچوں کوسمارٹ فون دینے کی سکت نہیں رکھتے ہیں ۔ جبکہ ان علاقوں میں بجلی بھی دستیاب نہیں ہے ۔ جس کے نتیجے میں ان کے پاس جو موبائل ہیں وہ بھی چوبیس گھنٹے چارج نہیں رہتے اور انہیں موبائل چارج کرنے کےلئے بھی کئی کلو میٹر دور دوسرے گاءوں جانا پڑتا ہے ۔ نہ یہاں پر لوگوں کو پینے کا صاف پانی مئیسر ہے ناہی بجلی اور ناہی مواصلاتی سہولیات دستیاب ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں کئی بار حکام سے اپیل کی گئی لیکن کوئی خواطر خواہ کارراوئی نہیں کی گئی ۔ اس دوران مقامی لوگوں نے ایل جی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اس علاقہ کی طرف توجہ مرکوز کریں اور یہاں کے لوگوں کو بجلی ، پانی اور سڑکوں کی سہولیات فراہم کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں