0

’انڈیا‘ اور ’بھارت‘ پر مہا بھارت، اپوزیشن سراپا احتجاج

جی -۲۰؍ کے مندوبین کیلئے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی جانب سے منعقدہ عشائیہ کے دعوت نامہ میں ’انڈیا‘ کی جگہ ’بھارت‘ کے استعمال سے منگل کو ملک میں سیاسی مہا بھارت چھڑ گئی۔ اپوزیشن اتحاد کا نام ’انڈیا‘ رکھے جانے کے بعد سے بی جےپی سرکار کے ’انڈیا‘ پر حملوں کو دیکھتے ہوئے اور اب صدر کے دعوت نامہ میں ’انڈیا‘ کی جگہ’بھارت‘ کے استعمال سے یہ قیاس آرائیاں بھی ہونے لگی ہیں کہ کیا مودی حکومت ملک کا نام بدل کر صرف بھارت کر دے گی۔ یہ ملک کی تاریخ میں پہلا موقع ہے جب صدر جمہوریہ کے دعوت نامہ میں ’پریسیڈنٹ آف انڈیا‘کی جگہ ’پریسیڈنٹ آف بھارت‘ لکھا گیا ہے۔ اپوزیشن نے اس پر بیک زبان صدائے احتجاج بلند کی ہے۔
کانگریس نے اسے وفاق کیلئے بھی خطرہ بتایا
کانگریس نے اسے ملک کی تاریخ کے ساتھ کھلواڑ قراردیا ہے۔ پارٹی کےمیڈیا انچارج اور رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے کہا ہےکہ ’’ (تو) اب آئین کے ’آرٹیکل ایک ‘کو اس طرح پڑھا جا ئےگا کہ – بھارت ، جو انڈیا تھا، ریاستوں کا وفاق ہوگا۔‘ لیکن اب ’ ریاستوں کے اس وفاق‘ پر بھی حملہ ہو رہا ہے۔ ‘‘ کانگریس لیڈر ششی تھرور نے بھی حکومت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’بھارت ان چند ممالک میں سے ایک ہے جس کے ۲؍ سرکاری نام ہیں۔ اسے بھارت کہنے پر آئینی طور پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا، مگر میں امید کرتا ہوں کہ حکومت اتنی بے وقوف نہیں ہوگی کہ وہ ’انڈیا‘ کو پور طرح ترک کردے جس کی صدیوں کی برانڈ ویلیوہے۔ ‘‘
’اگر اپوزیشن اپنا نام بھارت کرلے تو…؟‘
عام آدمی پارٹی (آپ) نے بھی برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی شناخت بی جے پی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اور ’آپ‘ کے کنوینر اروند کیجریوال نے یہ چبھتا ہوا سوال بھی کیا کہ ’’کیا یہ لوگ ( اپوزیشن کے) ’انڈیا‘ اتحاد سے اتنے پریشان ہیں کہ ملک کا نام تک بدل دیں گے؟ اگر کل ہم اپنے اتحاد کا نام ’بھارت‘ رکھ دیں تو کیا وہ ’بھارت‘ کا نام بھی بدل دیں گے؟‘‘ پارٹی لیڈر راگھو چڈھا نے کہا کہ مرکز کے اس فیصلے سے عوامی بحث چھڑ گئی ہے۔ ہماری قومی شناخت بی جے پی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے جسے وہ اپنی مرضی کے مطابق بدل سکتی ہے۔‘‘
’’کیا بی جے پی ملک کا نام بھی بدلے گی؟‘‘
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جی-۲۰؍ کے مندوبین کیلئے صدر جمہوریہ کے دعوت نامہ میں انڈیاکی جگہ بھارت لکھے جانے پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ ملک کا نام اب تبدیل کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’’ اچانک ایسا کیا ہوگیا کہ ہندوستان کو اب صرف بھارت ہی کہا جا رہاہے؟‘‘ انہوں نے مودی سرکار کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا ملک کو انڈیا کے نام سے ہی جانتی ہے۔‘‘
ملک کا نام بدلنے کا حق کسی کو نہیں: پوار
این سی پی سربراہ شرد پوار نے بھی مودی حکومت کی حرکت پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ حکمراں جماعت ملک کے نام کے تعلق سے اتنی پریشان کیوں ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ ملک کا نام بدل دے۔ این سی پی سربراہ نے کہا کہ بدھ کو اپوزیشن اتحاد کی میٹنگ میں اس پر گفتگو کی جائےگی۔

’اپوزیشن اتحاد کے نعرہ میں بھارت بھی ہے‘
آر جے ڈی کے سینئر رکن پارلیمنٹ منوج جھا نے مودی حکومت کو اپوزیشن اتحاد کا نعرہ یاد دلایا جس میں بھارت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اپوزیشن اتحاد کا نام ’انڈیا‘ رکھنے سے بی جےپی اور حکومت اتنی پریشانی ہو جائے گی۔ جھانے کہا کہ ’’انہیں ہماری ٹیگ لائن بھی پڑھ لینی چاہئے جو ’جڑے گا بھارت، جیتے گا انڈیا‘ ہے۔ محبوبہ مفتی نے برہمی کااظہا رکرتے ہوئے کہا کہ ملک کسی کی جاگیر نہیں ہے۔

بی جےپی لیڈروں کا بھارت پر اصرار
اس بیچ بی جے پی لیڈروں نے ’بھارت ‘پر اصرار شروع کردیاہے۔ زعفرانی پارٹی کے رکن پارلیمان ہرناتھ سنگھ نے ملک کے نام ’انڈیا‘ کو انگریزوں کے ذریعہ دی گئی گالی قراردیا۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا شرما نے کانگریس کو نشانہ بنایا کہ ’’ایسا لگتا ہے کہ کانگریس پارٹی کو بھارت سے نفرت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ’انڈیا‘ نام نام جان بوجھ کر بھارت کو شکست دینے کیلئے رکھا گیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں