0

بجلی سپلائی میں مسلسل خلل دستکاری مصنوعات کی پیداوار پر اثر انداز

قالین وشال بافی سمیت دیگر دستکاروں نے حکومت سے مداخلت چاہی

سرینگر;3اکتوبر; ٹی ای این ; وادی میں بجلی کے موجودہ بحران نے دستکاری کے شعبے کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے اور کاریگروں اور ڈیلروں نے پیداوار میں کمی کا دعویٰ کیا ہے ۔ کشمیر اس وقت بجلی کے بحران سے گزر رہا ہے کیونکہ وادی بھر میں صارفین کو مسلسل اور طویل بجلی کی کٹوتیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ٹی این این نے کئی دستکاروں سے بات کی جن کا کہنا ہے کہ اس وقت برآمدات پر کافی فوکس کیا جارہا ہے ۔ انتظامیہ ہر ضلع سے برآمدات کو بڑھاوادینے کیلئے کوشاں ہے لیکن جب بنیادی ڈھانچہ خصوصا بجلی نظام ہی کسی ڈگر پر نہ ہو تو یہاں کی دستکاری مصنوعات کی پیدواریت کیسے بڑھے گی ۔ کانہامہ کے غلام محمد نامی ایک شال باف کا کہنا ہے کہ حکومت بجلی سپلائی نظام کو ٹھیک کرے ۔ یہاں شام کے بعد ہی کاریگر شال بافی اور دیگر دستکاری مصنوعات کے ساتھ کام پر لگ جاتے ہیں لیکن اب گذشتہ کئی دنوں سے بجلی کا حال بے حال ہے اور ہماری پروڈکشن متاثر ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کاریگر عموماً دیررات تک دستکاری پر کام کرتے ہیں ۔ جب بجلی نہیں ہے، تو یہ لازمی طور پر کام کرنے سے ان کی حوصلہ شکنی کرے گا ۔ اس وقت وادی کے ہر حصے سے بجلی کے بارے میں پریشان کن صورتحال ہے ۔ کشمیر میں بجلی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے حکام اس بات پر غور کریں کہ کاریگر اور تاجر، جو اپنی روزی روٹی کے لیے بلاتعطل بجلی پر انحصار کرتے ہیں ، پیداوار میں تاخیر اور فروخت میں کمی سے دوچار ہیں ، جس سے خطے کے امیر ثقافتی ورثے کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے ۔ کشمیر پشمینہ آرگنائزیشنکے ایک رکن کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں بجلی کا بحران کاریگروں اور ڈیلرز کو بھاری نقصان کا باعث بنے گا ۔ انہوں نے کہاکہ مشین کی بْنائی اور کتائی کو چھوڑ دیں ، ہاتھ سے بنے دستکاری سے وابستہ کاریگروں کو بہت نقصان پہنچے گا ۔ موسم خزاں کاریگروں کے لیے بہترین وقت ہوتا ہے کیونکہ وہ شالوں یا دیگر دستکاری کی مصنوعات کو حتمی شکل دیتے ہیں ۔ یہ تہواروں کا موسم قریب آرہا ہے اور ڈیلرز کو ملک کے مختلف حصوں اور بیرون ملک سامان بھیجنے کی ضرورت ہے ۔ بجلی کی موجودہ صورتحال پیداوار میں تاخیر کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے کاریگروں اور ڈیلرز کو بڑا نقصان ہو رہا ہے ۔ پیداواری نظام الاوقات بری طرح متاثر ہو سکتا ہے جس سے آرڈرز کی تکمیل میں تاخیر اور تاجروں اور خریداروں میں مایوسی پھیل سکتی ہے ۔ دریں اثنا، کاریگر وں کا کہنا ہے کہ بجلی کی خراب صورتحال کی وجہ سے ان کے کام کے اوقات کافی کم ہو گئے ہیں ۔ کاریگروں کے علاوہ، کسان بھی ہیں ، جو دن بھر دھان کی کٹائی میں مصروف رہتے ہیں ۔ جب شام کے وقت بجلی نہیں ہوتی تو کاریگر قالین نہیں بْن سکتے تھے ۔ اگرچہ اکتوبر کے آخر تک قالین کو مکمل کرنے کی آخری تاریخ ہے ۔ دستکاری کا شعبہ نہ صرف کشمیر کی ثقافتی شناخت کا ایک لازمی حصہ ہے بلکہ مقامی معیشت میں بھی اہم شراکت دار ہے ۔ ہزاروں خاندان اپنی روزی روٹی کے لیے ان دستکاریوں پر انحصار کرتے ہیں اور حالیہ چیلنجز معاشی مشکلات کا باعث بن رہے ہیں ۔ خزاں اور سردیوں کے موسموں میں کشمیری دستکاری کی بہت زیادہ مانگ ہوتی ہے کیونکہ نئے سال کے علاوہ درگا پوجا، چھٹھ پوجا، کرسمس کے تہوار ان دونوں موسموں میں آتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں