0

بجلی کٹوتی نے وادی کے طول ارض میں سنگین رُخ اختیار کیا چھوٹے کا رخانہ دار تاجر اور صارفین پریشانیوں میں مبتلا

سرینگر/ 03نومبر/اے پی آئی بجلی کٹوتی میں اضافے کاسلسلہ جاری چھوٹے کا رخانہ داروں، تاجروں اور صارفین کی جانب سے پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے خلاف غم وغصے کا اظہار اور لوگوں کوشڈول کے مطابق بجلی فراہم کرنے کاکیامطالبہ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق وادی کے اطراف واکناف میں بجلی کٹوتی پر لوگوں نے مسلسل اپنی ناراضگی کااظہار کیااور عوامی حلقوں کاکہناہے کہ جھاڑے کے موسم میں لوگوں کوبہتربجلی سہولیات فراہم کر کے تمام دعوے ابھی سے کھوکھلے ثابت ہورہے ہیں۔شہرسرینگر او روادی کے دوسرے قصبوں میں چھوٹے کارخانہ داروں نے بجلی کٹوتی پر حیرانگی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ ان کے صنعتی یونٹ تباہی کے دہانے پرپہنچ گئے ہیں۔ بازار سے جوخام مال اٹھالیاہے اس سے ترتیب دینے میں مشکلوں کاسامناکرنا پڑتاہے۔ایک طرف وہ بازار کے قرض دار بنے ہیں اور دوسری جانب کا رخانہ کے بجلی فیس ادا کرنے کے قابل نہیں رہیں۔ٹریڈرس ان منی فیکچرس ایسو سی ایشن کے ساتھ ساتھ صارفین نے بھی بجلی کی کٹوٹی پر شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کارپوریشن کی جانب سے جوشڈول منظرعام پرلایاگیااس پر کہی بھی عمل نہیں ہورہی ہے ایک طرف بجلی کی عدم دستیابی اور دوسری جانب سے بچوں کی پڑھائی مٹاثر ہورہی ہے بیماروں کومشکلوں کاسامنا کرنا پڑرہاہے۔لوگوں کا کہناہے پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کووعدے کے مطابق بجلی کی فراہمی کویقینی بناناچاہئے۔ادھرجن علاقوں میں واٹرسپلائی اسکیمیں تعمیرکی گئی ہے ان علاقوں کے لوگوں کوبجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے پینے کاصاف پانی نہیں مل رہا ہے اورناصاف پانی استعمال کرنے سے بیماریاں پھوٹ پڑنے کاخطرہ پیداہوگیاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں