0

بچہ مزدوری کے خلاف جموں وکشمیر سرکار نے اپنا موقف مزیدسخت کردیا گھریلوں خدمات حاصل کرنے والوں کو15نومبر تک دستاویزات جمع کرنے کی ہدایت

سرینگر/27/اکتوبر/اے پی آئی 14سال سے کم عمر بچوں کی مزدوری پرعائدپابندی کو یقینی بنانے کے لئے لیبر ڈیپارٹمنٹ نے گھریلوں خد مات حاصل کرنے والوں کوہدایت کی کہ 15نومبر تک وہ دستاویزات جمع کرے میعادگزرنے کے بعد کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگااور جہاں کئی بھی بچہ مزدوری میں کسی کوملوث پایاجائیگا دس ہزارکاجرمانہ اور ایک سال قید کی سزا بگھتنی ہوگی۔اے پی آئی نیوز کے مطابق بچہ مزدوری پر عائد پابندی کو من وعن عملانے کے سلسلے میں جموں وکشمیر انتظامی کونسل نے شکایتیں ملنے کے بعد بڑے پیمانے پراقدامات اٹھانے کافیصلہ کیاہے اور ان فیصلوں کوعملی جامہ پہنانے کے خاطر لیبرڈیپارٹمنٹ کواحکامات صادرکئے ہے کسی بھی صورت میں بچہ مزدوری کوقابل قبول نہ کیاجائے اور ایسے لوگوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے جو14سال سے کم عمربچوں کی خدمات حاصل کیاکرتے ہیں۔لیبرڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ کمشنر ارشدقادری کے مطابق اب تک سو فیصد گھریلوں خدمات حاصل کرنے والوں کی رجسٹریشن کرائی گئی ہے تین ایکٹ کے تخت قوائدوضوابط مقررکئے جاتے ہیں۔کنٹریکٹر لیبرایکٹ تین زمروں کے تحت رجسٹریشن کرائی گئی ہے تاکہ بچہ مزدوری کوناممکن بنایاجائے۔ انہوں کہا جن سوفیصد گھریلوں خدمات حاصل کرنے والوں کی رجسٹریشن کی گئے انہیں مختلف ڈیپارٹمنٹوں جن میں چئیلڈویلفیئرکمیٹی پولیس چیئلڈ کمیٹی سے این او سی حاصل کرنی ہوگی اور اگرمزکورہ کنبے یا افراد پندرہ نومبر تک ایسا کرنے میں ناکام رہے تو ان کے خلاف کارروائی عمل میں لانے سے گریز نہیں کیاجائیگا۔بچہ مزدوری کے خلاف سرکار نے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات اٹھانے کافیصلہ کیاہے اور جس کسی گھرفیکٹری کار خانے میں 14سال سے کم عمربچوں کومزدوری کر تے ہوئے پایاگیاتو اس گھرفیکٹری کارخانہ کے مالک کو دس ہزارروپے جرمانہ اور ایک سال کی قید کی سزا بھگتنی ہو گی۔سال2022میں بی بچہ مزدوری کی کئی شکایتیں موصول ہوئی تھی اس وقت بھی لیبرڈیپارٹمنٹ نے کئی افرادکے خلا ف کارروائی عمل میں لائی تھی لیبرڈیپارٹمنٹ کایہ مانناہے کہ تمام پرائیویٹ اداروں کی رجسٹریشن کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور ان اداروں میں کا کرنے والے کا رکنوں کی بھی رجسٹریشن کرائی جائیگی تاکہ جموں و کشمیرمیں لیبرایکٹ کے تحت اقدامات اٹھائے جائیں جوکا رکن مختلف فیکٹریوں اداروں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں کیاان کامستقبل محفوظ ہے یاغیرمحفوظ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں