0

تجارتی انجمن KTMFکے دو بڑے دھڑوں میں اتحاد کا اعلان

انتخابی عمل عدالت میں زیر سماعت،نئی راہیں کیسے متعین ہونگی؟عام تاجروں کا سوال
سرینگر//24اکتوبر/ ٹی ای این / ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے منقسم رہنے والی تاجر انجمن کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینوفیکچررز فیڈریشن کے دوبڑے حصوں نے گذشتہ رو ایک ہونے کا اعلان کیا ہے اوراپنے اختلافات کو فی الحال یک طرف رکھ کر انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا پروگرام بنایا ہے۔سرینگر میں سوموار کوایک ہنگامی میٹنگ کے حاشیئے پر کے ٹی ایم ایف کے دو دھڑوں کے سربراہان حاجی محمد یاسین خان اور بشیر احمد راتھر نے اعلان کیا کہ وہ اپنے اختلافات بھلا کر تاجروں کی بھلائی کیلئے ایک ہورہے ہیں۔اس موقعے پر محمد یاسین خان نے بشیر احمد راتھر اور ان کی ٹیم کو خوش آمدید کہا جبکہ بشیر احمد راتھر نے کہاکہ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ کے ٹی ایم ایف کے ساتھ وابستہ ہورہے ہیں اور خود صدارت کے منصب سے اتر کر محمد یاسین خان کی سربراہی میں اس کاروان کے ساتھ جڑ جائیں گے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ تجارتی انجمن کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچررس فیڈریشن اس وقت ایک عارضی باڈی کے تحت کام کررہی ہے۔گذشتہ تقریباڈیڑھ برس سے مذکورہ تجارتی تنظیم ایڈہاک نظم کے تحت ہیں جس کی سربراہی حاجی محمد یاسین خان کررہے ہیں جبکہ سابق جنرل سیکریٹری بشیر احمد کونگہ پوش اور سابق سینئر نائب صدر منظور احمد بٹ کے علاوہ دیگر کئی ٹریڈ لیڈران اس باڈی کو چلا رہے ہیں۔اس وقت کے ٹی ایم ایف کے چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے سینئر ٹریڈ لیڈر خورشید احمد شاہ ہیں تاہم فیڈریشن کا انتخابی عمل شدید اختلافات کا شکار ہوگیا ہے اور اب معاملہ عدالت میں پہنچ گیا ہے۔عدالت میں تین عرضیاں زیر سماعت ہیں جن میں سابق جنرل سیکریٹری بشیر احمد کونگہ پوش،سابق سینئر نائب صدر منظور احمد ڈار اور سابق ترجمان قاضی توصیف کی عرضیاں شامل ہیں۔ان تینوں تاجر لیڈران نے چیف الیکشن کمیشن کی جانب سے ان کے کاغذات نامزدگیاں رد کرنے اور بالآخر ساری نوٹفکیشن کو رد کرنے کو غیر آئینی قرار دے کر سابقہ نوٹفکیشن کے مطابق ہی انتخابی عمل مکمل کرنے کی درخواست کی ہے۔اس دوران دو گروپوں کے اتحاد نے ایک ڈرامائی صورتحال اختیار کی ہے اور اب سبھی لوگ انتخابی عمل کے خدوخال اور فیڈریشن کے موجودہ تنظیمی ڈھانچے پر بات کررہے ہیں۔لالچوک کے ایک تاجر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اتحاد وغیرہ توٹھیک ہے لیکن ایسا کیا ہوا کہ کوڈ آف کنڈکٹ کے اطلاق کے دوران اتنے بڑے فیصلے لئے گئے۔انہوں نے کہاکہ جب فیڈریشن کے سابق جنرل سیکریٹری و سینئر نائب صدر کے علاوہ دیگر اعلی عہدیدار اپنے چیف الیکشن کمیشن کے خلاف عدالت میں ہیں،تو ایسے میں یہ کیا جلد بازی میں لیا گیا فیصلہ سامنے آیا۔ایک اورسینئر تاجر نے ٹی ای این کو بتایا کہ پہلے گھر کا ڈھانچہ مضبوط بنانے کی کوشش کی جائے۔اس وقت کے ٹی ایم ایف کے نام پر کم ازکم تین الگ الگ گروپ کام کررہے ہیں اور ان تینوں گروپوں میں کسی ایک کے پاس بھی باضابطہ رجسٹریشن نہیں ہے۔ایسے میں عام تاجروں کے علاوہ سرکار بھی کس کو تاجروں کی نمائندہ تنظیم تسلیم کرے۔کہیں سے کوئی بھی پانچ رکنی وفد کے ٹی ایم ایف کے نام سے کوئی بھی بات کرنے اور فیصلہ لینے کا مختار کیسے ہوسکتا ہے۔عمومی طور تاجروں نے حاجی محمد یاسین خان اور بشیر احمد راتھر کے اتحاد کا خیر مقدم کیا تاہم اس بار پر بھی زور دیا کہ اب بنیادی تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کیا جائے نیز سبھی گروپوں کو اعتماد میں لاکر ایک ہی پلیٹ فارم وضع کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں