0

جل جیون مشن کی کامیابی

یہ بات امید افزاء ہے کہ جموں کشمیر کے ستر فیصد دیہی گھرانوں کو پانی کے نل کنکشن مہیا کئے گئے ہیں ۔ اس بات کا انکشاف کل جل جیون مشن نے مشن کے تحت اب تک 18;46;68لاکھ دیہی گھرانوں میں سے 13;46;16لاکھ یعنی ستر فیصد گھرانوں کوپانی کے نل کنکشن مہیا کئے گئے ہیں ۔ جل کیون مشن ایک فلیگ شپ پروگرام ہے جس کا مقصد ہر دیہی علاقے میں ہر گھر کو پانی فراہم کرنے کے نلکے مہیا کرنا ہے ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں کشمیر کے اکثردیہی علاقوں میں پانی کے نل فراہم نہیں کئے گئے تھے اور عام طور پر دیہات کی خواتین کندھوں پر بہت دور دور کے نالوں سے پانی لایا کرتی تھیں اور یہ ان کے لئے ایک بہت بڑا عذاب تھا ۔ اول تو پانی پینے کے لائق نہیں ہوتا تھا اور دوم اسے پینے والے کئی بیماریوں کے شکار ہوتے تھے ۔ یوٹی انتظامیہ نے سب سے پہلے اس اہم ترین مسئلے جس کو اب تک کی کسی بھی حکومت نے قابل اعتنا نہیں سمجھا تھا پر بھرپور توجہ دیکر اسے حل کردیا ۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ پانی انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے ۔ دنیا کے بنانے والے نے انسان کے لئے اس کی ہر ضرورت کا وافر انتظام بھی کردیا ہے ۔ لق و دق صحراوں میں بھی زمین کے اندر پانی موجود ہے اور ایسے خطے بھی دنیا میں موجود ہیں جہاں پانی ہی پانی ہے اور کشمیر انہی خطوں میں سے ایک ہے جہاں کبھی قدم قدم پر چشمے ، نالے ، آبشار ، دریا اور جھیلیں موجود ہوا کرتی تھیں جن کا پانی پینے کے لائق تھا لیکن انسان نے خود پانی کے ان خزانوں کو یا تو ختم کردیا یا انہیں اتنا آلودہ کردیا کہ وہ پینے کے لائق نہیں رہے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پانی کے اس خزانے میں لوگوں کے لئے پینے کے پانی کا قحط پیدا ہوا ۔ کئی دہائیوں سے اکثر علاقوں میں خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں پینے کے پانی کی شدید کمی پیدا ہوتی ہے ۔ خواتین کو پانی کا ایک برتن بھرنے کے لئے دور دور جانا پڑتا ہے ۔ لوگوں کی اس تکلیف کو وقت کی حکومتوں نے جان کر بھی نظر انداز کردیا اورکبھی ایسی منصوبہ بندی نہیں کی گئی کہ عوام کو پینے کے پانی کے لئے مجبور نہ ہونا پڑتا ۔ اس میں شک نہیں کہ کئی بڑے فلٹریشن پلانٹ اس دوران تعمیر کئے گئے لیکن کبھی یہ اندازہ لگانے کی کوشش نہیں کی گئی کہ کہاں کہاں پر کتنے پانی کی ضرورت ہے اور آنے والے دنوں میں ضرورتوں میں کتنا اضافہ ہوسکتا ہے ۔ چنانچہ جتنا پانی مہیا کیا گیا اس سے کئی گنا ضرورتوں میں اضافہ ہوا اس طر ح سے مسئلہ وہی اوروہی رہ گیا ۔ اب اس سلسلے میں امید کی ایک کرن اس وقت پیدا ہوئی جب مرکز کی طرف سے جل جیون مشن کی ایک تحریک کا آغاز کیا گیا ۔ اس کا مقصد مستقل طور پر ہر گھر میں پانی پہونچانا ہے ۔ جموں کشمیر میں یہ عظیم مقصد حاصل کرنے کیلئے جل جیون مشن نے ہر گاوں میں پانی کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا ۔ ان کمیٹیوں کا کام یہ ہے کہ اپنے اپنے علاقوں میں پاءپ کے ذریعے ہر گھر میں پانی پہونچانے کے لئے بنیادی ڈھانچے کو تعمیر کرنا اور ترقی دینا ہے ۔ س کے ذریعے ہر گاوں میں پانی کی فراہمی کے نظام کی منصوبہ بندی ، نفاذ ، انتظام ، آپریشن اور دیکھ بھال میں معاشرے کو شامل کرکے اسے ایک عوامی تحریک بنایاگیا ۔ یہ تصور بہت ہی غیر معمولی اور اس لحاظ سے بہت ہی بامقصد ہے کہ اس میں خود وہ لوگ حصہ لے رہے ہیں جو اس سے پہلے پانی کی کمی کے خلاف مظاہرے کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کرسکتے تھے ۔ اب وہ خود پانی کے حصول کے کام میں اہم کردار ادا کررہے ہیں ۔ اس طرح انہیں ایک تو یہ احساس ہورہا ہے کہ حکومت کا وہ بھی ایک حصہ ہیں اوردوم انہیں پانی کے حصول کے لئے اپنا حصہ ادا کرنے کے بعد اس نظام کے تحفظ کی ذمہ داری بھی نبھانے کے لئے تیار کیا جارہا ہے ۔ وہ اب پانی کی قد ر بھی جان سکیں گے اوراسے ضائع بھی نہیں ہونے دیں گے ۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب کسی ناممکن کام کو بھی دیانت اور خلوص کے ساتھ ہاتھ میں لیا جائے تو اس کے بہت ہی شاندار نتاءج سامنے آسکتے ہیں ۔ جل جیون مشن نے جو کامیابی حاصل کی اس میں کسی خرد بردکا شائبہ بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس میں عوام کو خود شامل کرکے ان سے نگرانی کرائی گئی ۔ چنانچہ لوگ اب وہ سب سمجھ رہے ہیں جو ماضی میں ہوتا رہا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں