0

جموں میں ہزاروں کنال سرکاری اراضی کو فروخت کرنے کا معاملہ :16مقامات پر چھاپہ ماری جاری:اے سی بی

جموں،14جون(یو این آئی)جموں وکشمیر اینٹی کرپشن بیورو(اے سی بی) نے اراضی دھاندلیوں میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرکے جموں ضلع میں ایک اراضی مافیا کو طشت از بام کیا ہے جنہوں نے افسروں کے ساتھ ملی بھگت کرکے کسٹوڈین اراضی پر ناجائز قبضہ کیا ہے۔
اے سی بی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ انہیں مصدقہ اطلاع موصول ہوئی کہ جموں کے اسرون ،مشری والا اور بھلوال میں واقع ہزاروں کنال پر مشتمل کسٹوڈین اراضی کو لینڈ مافیا /غنڈوں نے محکمہ مال اور پولیس آفیسران کے ساتھ ملی بھگت کی اور محکمہ مال کے ریکارڈ میں قلم زنی کرکے زمینیں مختلف افراد کو فروخت کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اے سی بی نے جانچ پڑتال شروع کی جس دوران پایا گیا کہ مجرمانہ سازش کے تحت کئی پاکستانی رفوجیوں سے فارم 3Aکے ساتھ ساتھ پاور آف اٹارنی حاصل کرنے کے بعد انہیں اضافی زمینوں کا لالچ دے کر پانچ ہزار سے پچاس ہزار روپیہ فوری طورپر فراہم کئے گئے۔
ان کے مطابق اس کے بعد محکمہ مال اور کسٹوڈین ڈپارٹمنٹ کے آفیسران کی طرف سے ریونیو ریکارڈ میں اضافہ دکھا جر سرکاری خزانے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا۔
موصوف ترجمان کے مطابق تحقیقات کے دوران ملی بھگت کا معاملہ سامنے آنے کے بعد اے سی بی نے معاملے کی نسبت مختلف دفعات جن میں انسداد بد عنوانی ایکٹ، مجرمانہ سازش ، دھوکہ دہی ، جعلسازی کے تحت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی۔
ان کے مطابق مجاز اتھارٹی سے سرچ وارنٹ حاصل کرنے کے بعد سپیشل جج اینٹی کرپشن بیورو جموں کی ہدایت پر اے سی بی نے آفیسران، آزاد گواہوں ، مجسٹریٹس پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دے کر انہیں سولہ مقامات کی اور روانہ کیا گیا ۔
اس حوالے سے پانچ ایف آئی آر درج کرنے کے علاوہ محکمہ مال، پولیس اور کسٹوڈین محکمہ کے آفیسران اور اہلکاروں کی ملی بھگت سے لینڈ مافیا کے زیر قبضہ اراضی کا پتہ لگانے کی خاطر بھی بڑے پیمانے پر تحقیقات جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں