0

جموں وکشمیر میں امن تعمیروترقی کانیادور شروع ہونے سے پاکستان اور اس کے حمایتی بوکلاہٹ کے شکار گھرمیں گھس کر مارنے کی صلاحیت ہے دراندازی اور ناجنگ معاہدے کی خلاف ورزی قبول نہیں /ڈاکٹرجتندرسنگھ

سرینگر/27/اکتوبر/اے پی آئی جموں کشمیر میں امن ترقی خوشحالی لوٹ آنے سے پاکستان اورپاکستان میں مقیم عسکریت پسندوں کے کمانڈر بوکھلاہٹ کے شکار ہونے کاعندیہ دیتے ہوئے وزیراعظم کے دفتر میں تعینات وزیر مملکت نے کہاکہ بھارت اب دشمن کے گھر میں جاکر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے حدمتارکہ اور بین اقوامی کنٹرول لائن پرناجنگ معاہدے کی خلاف ورزی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی۔جموں وکشمیر اب ایک نئی پرگامزن ہے جہاں تشدد عسکریت سنگبازی ہڑتالوں کانام ونشان بھی کہی پردکھائی نہیں دے رہاہے۔سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں اور کسی کومن مانی کی اجازت نہیں ہوگی۔اے پی آئی نیوز کے مطابق ارنیہ سیکٹر میں پاکستانی ریجرس کی جانب سے ناجنگ معاہدے کی خلاف ورزی اور نصف درجن کے قریب چوکیوں کونشانہ بنانے کی کارروائی پروزیراعظم کے دفتر میں تعینات وزیرمملکت ڈاکٹرجتندر سنگھ نے کہاکہ جموں وکشمیرکا خصوصی درجہ واپس لینے اور مرکزی زیر انتظام علاقے میں امن ترقی خوشحالی کے ایک نئے دور کاآغاز ہونے کے بعد پاکستان اور اس ملک میں مقیم عسکریت پسندوں کے کمانڈر بوکھلاہٹ کے شکار ہوگئے ہیں جسکے نتیجے میں ناجنگ معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے او ردراندازی کے واقعات ہونے کاسلسلہ شروع ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر ترقی کے ایک نئے دور سے گزر رہاہے ماضی کی طرح اب جموں و کشمیرمیں نہ توہڑتالوں کے کیلنڈ رشائع ہوتے ہیں نہ پھتر بازی ہورہی ہے نہ کہی جنازوں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شرکت کررہے ہیں تشددکاخاتمہ ہوچکاہے عسکریت کی کمرٹوٹ گئی ہے نوجوان تعلیم کھیل کود کاروبار جموں وکشمیر اور ملک کی ترقی میں شراکت دار ہورہے ہیں جسکے نتیجے میں پاکستان اور اسکے حمایتی بوکھلاہٹ کاشکار ہوگئے ہے اور وہ جموں کشمیرمیں امن کودرہم برہم کرنے آگ وآہن کے کھیل کوشروع کرنے کی کارروائیاں انجام دیناچاہتے ہے تاہم ان کے خابوں کوشرمندہ تعبیرنہیں ہونے دیاجائیگا۔وزیرمملکت نے کہاکہ بھارت اب کسی بھی کارروائی کا خاموش تماشائی بن کرنہیں رہے گا بلکہ ہم نے دشمن کے گھر میں جاکر اس پرحملہ کرنے کی صلاحیت حاصل کی ہے اب کسی کومعاف نہیں کیاجائیگا اگرچہ بھارت جا رحیت کے عزائم نہیں رکھتاہے تاہم کسی کے جارحیت کوقبول کرنے والانہیں۔وزیرمملکت نے کہا زمینی صورتحال اب تبدیل ہوچکی ہے عسکریت کا حب کہلائے جانے والاجموں وکشمیر اب ٹورازم کامرکز بناہے۔ سال2022میں ایک کروڑ تیس لاکھ اورواں برس کے نو ماہ کے دوران ایک کروڑ سترلاکھ سے زیادہ سیاحوں نے وادی کشمیرکی سیروتفریح کی نئے تعمیروترقی کے ایک نئے دور کاآغاز ہوچکاہے جسکے نتیجے میں پاکستان پریشان ہوچکاہے ا سے امن کوبگاڑنے کے لئے نئے نوجوان بھرتی کے طو رپر نہیں مل رہے ہیں جسکی وجہ سے حدمتارکہ پرجنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی اور دراندازی کے واقعات رونماء ہوتے ہے ان واقعات کوبرداشت نہیں کیاجائیگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں