0

جموں وکشمیر میں پارلیمنٹ الیکشن سے پہلے پہلے سیاسی سرگرمیاں عروج پر

13-15اکتوبر تک آر کے سربراہ موہن باگھوت جموں کے دورہ پررہے گے

سرینگر;اکتوبر;اے پی آئیجموں وکشمیر میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر 13اکتوبر سے 15اکتوبر تک آر ایس ایس کے سربراہ جموں میں قیام کرینگے 2024کے پارلیمنٹ الیکشن سے پہلے آر آیس ایس سربراہ کے دورہ کواہمیت کاحامل سمجھاجارہاہے ۔ اپنے قیام کے دوران وہ سیاسی سماجی اور مزہبی رہنماؤں سے ملاقی ہونگے ،جبکہ بی جے پی کے سینئرلیڈروں کے ساتھ بھی ان کی میٹنگ منعقد ہوگی ۔ اے پی آئی نیوزڈیسک کے مطابق ملک میں 2024کے پارلیمنٹ الیکشن کرانے میں اگرچہ ابھی پانچ سے چھ ماہ کی مدت باقی ہے تاہم ملک کی دوسری ریاستوں مرکزی زیرانتظام علاقوں کی طرح سیاسی سرگرمیاں عروج پرپہنچ گئی ۔ تین اکتوبر کوکل جماعتی میٹنگ اور گیارہ اکتوبر کو حزب اختلاف کی جماعتوں کی لیڈروں کی جانب سے پرُامن احتجاج کے بعد اب 13اکتوبر کو آر ایس ایس کے سربراہ ڈاکٹرموہن بگھوت تین روزہ دورے پرجموں واردہو رہے ہے ۔ آر ایس ایس کے کٹھوعہ جموں میں آر ایس ایس کے پانچ سوکے قریب کا رکنوں کے ساتھ میٹنگ منعقد کرینگے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئرلیڈروں کے ساتھ بھی ملاقی ہونگے اور جموں و کشمیرکی تازہ ترین صورتحال سے جانکاری حاصل کرینگے ۔ آر ایس ایس کے سربراہ اپنے تین روزہ د ورہ کے دوران عوامی ریلی سے بھی خطاب کرینگے اور سیاسی سماجی مزہبی غیرسرکاری تنظیموں کے رہنماوں سے بھی ملاقی ہونگے ۔ آر ایس ایس کے سربراہ دوروزہ کشمیرکو پارلیمنٹ کا الیکشن شروع ہونے سے پہلے کافی اہمیت کاحامل سمجھاجارہاہے اوربھارتیہ جنتا پارٹی کی جیت کوجموں وکشمیر میں کئی معاملات پرتبادلہ خیال کیاجائےگا ۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آرایس ایس کے سربراہ کادورہ جموں و کشمیر اہمیت کاحامل ہے اور سٹیٹ بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف جموں کے لوگوں میں جوغم وغصہ پایاجارہاہے اس سے کم کرنے اور آنے والے الیکشن کے دوران لوگوں کوبھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں ووٹ ڈلوانے کے لئے یہ دورہ اہمیت کاحامل ہے اور جموں و کشمیر میں جوموجودہ صورتحال ہے اس کے سامنے رکھ کر آر ایس ایس کے سربراہ کادورہ سیاسی تجزیہ کاروں سیاسی لیڈروں کے لئے بڑی خبربھی ہے اور اس سے اس دورہ کے حوالے سے مستقبل میں اثرات کابھی سبہی کو بے چینی رہے گی ۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پانچ اگست کوجب مرکزی سرکار نے جموں و کشمیر کاخصوصی درجہ واپس لیا اور تیس اکتوبر2020کوجب ری آرگنائزیشن ایکٹ جموں وکشمیر میں پوری طرح سے لاگوہوا اسے جموں کے لوگوں کو کئی طرح کے مشکلات کاسامناکرنا پڑا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے تئیں لوگوں میں شدیدغم وغصہ پایاجارہاہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں