0

جموں و کشمیر انتظامیہ کے افسر ان نظم و نسق میں “مکمل حکومت” کا طریقہ اپنائیں : ڈاکٹر جتیندر سنگھ

Ll

نئی دہلی، 18 اکتوبر (یو این آئی) مرکزی وزیر مملکت برائے سائنس و ٹکنالوجی، پی ایم او (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج جموں و کشمیر انتظامیہ کے افسران سے کہا کہ وہ گورننس میں “مکمل حکومت” کا طریقہ اختیار کریں، کیونکہ سائلو میں کام کرنے کے دن گزر چکے ہیں۔
وزیر موصوف نے افسران سے کہا کہ وہ ان اسکیموں کی شناخت کریں جن میں یکسانیت ہے اور بہتر کارکردگی اور نتیجہ کے لیے اسکیموں پر عمل آوری کا مربوط طریقہ اختیار کریں تاکہ جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچ سکے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نئی دہلی میں نیشنل سینٹر فار گڈ گورننس کے زیر اہتمام جموں و کشمیر ایڈمنسٹریشن کے افسران کے لیے چھٹے صلاحیت سازی کے پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ دیہی اور دور دراز کے علاقوں میں بھی ٹکنالوجی کی دستیابی اور وسائل کی صحیح تقسیم کی وجہ سے مرکزی اور ریاستی سیول سروسیز کی آبادی میں تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ جڑواں عوامل کی وجہ سے سینٹرل سیول سروسیز میں ٹاپر پنجاب، ہریانہ اور جموں و کشمیر جیسی ریاستوں سے آرہے ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہاکہ وزیر اعظم نریندر مودی گورننس ریفارمز کے لیے خصوصی توجہ رکھتے ہیں اور مئی 2014 میں عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد انتظامیہ کو مزید شفاف، زیادہ جوابدہ بنانے اور شہریوں کی مرکزیت کے لیے ہموار کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے۔ .
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہمارے ملک میں اس وقت عوامی پالیسی کا مقصد حکمرانی میں شفافیت اور جوابدہی کو بڑھانا ہے جس میں مالی وفاقیت، دیہی ہندوستان کو تبدیل کرنا اور عوامی خدمات کی فراہمی کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔
وزیر موصوف نے کہاکہ ہندوستان نے شکایات کے ازالے کے نظام کو بہتربنایا ہے تاکہ انہیں ہمارے زمانے سے زیادہ متعلقہ بنایا جا سکے اور اس نے انتظامی عمل کو آسان بنا کر اور اداروں کو مضبوط بنا کر انتظامی عمل سے پیدا ہونے والی ناانصافی کے کسی بھی دیرینہ احساس کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیجیٹل ترقی نے شہریوں کی شکایات کا ازالہ کرنے کے قابل بنایا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جموں و کشمیر میں کال سینٹر اپروچ کو نافذ کرنے کا بھی وعدہ کیا جو فی الحال مرکز میں نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کی شکایات کا ازالہ کرنے والے افراد کے اطمینان کی سطح کا ذاتی طور پر پتہ لگایا جا سکے۔
ڈیجیٹل انڈیا پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ تین اہم وژن شعبوں پر مرکوز ہے، یعنی ہر شہری کے لیے بنیادی افادیت کے طور پر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، گورننس اور ڈیمانڈ پر خدمات اور شہریوں کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ڈیجیٹل ٹکنالوجیز ہر شہری کی زندگی کو بہتر بنائے، ہندوستان کی ڈیجیٹل معیشت کو وسعت دے اور سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرے اور ہندوستان میں ڈیجیٹل تکنیکی صلاحیتیں پیدا کرے۔
یو این آئی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں