0

جموں کشمیر میں سرگرم ملی ٹنسی کا تعلق بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول سے ہو رہی دراندازی سے جڑی

نوجوانوں کو ملی ٹنسی سے دور کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے بہت سی اسکی میں متعارف کرائی گئی ;223; وزارت داخلہ

جموں و کشمیر میں امن کو خراب کرنے والے عسکریت پسندوں کی کوششوں ختم کرنے کیلئے مختلف جوابی اقدامات بھی اپنائے گئے

سرینگر;10اکتوبر;ایس این این;مرکزی وزارت داخلہ نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ جموں کشمیر میں سرگرم ملی ٹنسی کا تعلق بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول سے ہو رہی دراندازی سے ہیں اور کہا کہ حکومت نوجوانوں کو ملی ٹنسی سے دور کرنے کیلئے بہت سی اسکی میں متعارف کراتی ہے ۔ اس کے علاوہ مغربی پاکستان کے 5764 پناہ گزین خاندانوں کو 5;46;4 لاکھ روپے کی مالی امداد دی جا رہی ہے ۔ سٹار نیوز نیٹ ورک مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق یہ بتاتے ہوئے کہ جموں اور کشمیر میں جاری ملی ٹنسی کا تعلق لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد سے ہور ہی دراندازی سے ہیں اور کہا کہ دراندازی کو روکنے کیلئے کثیر الجہتی طریقہ اختیار کیا گیا ہے ۔ وزارت داخلہ کی جانب سے سال 2022-23کی رپورٹ کے مطابق جموں اور کشمیر تین دہائیوں سے دہشت گردی اور علیحدگی پسندانہ تشدد سے متاثر ہے، جسے سرحد پار سے اسپانسر اور حمایت حاصل ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے ’’جموں و کشمیر میں جاری عسکریت پسندی کا تعلق بین الاقوامی سرحد کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول سے سرحد پار سے دہشت گردوں کی دراندازی سے ہے‘‘ ۔ رپورٹ کے مطابق سال 2017 میں دراندازی کی 419 کوششیں ہوئیں جبکہ 2018 میں 328 ریکارڈ کی گئیں ۔ اسی طرح سے سال 2019 میں دراندازی کی 216 کوششیں ریکارڈ کی گئیں اور 2020 میں دراندازی کی 99 دراندازیاں درج کی گئیں ۔ سال2021 میں ، دراندازی کی 77 کوششیں ریکارڈ کی گئیں اور سال2022 میں ، دراندازی کی 53 کوششیں درج کی گئیں ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سال 2019 میں دراندازی 141 مرتبہ تھی اور 2020 میں ، یہ 51 تھی ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2022 میں 187 ملی ٹنٹ مارے گئے جبکہ 125 ملی ٹنسی کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ۔ اسی طرح سے ’’سال 2022 میں 117 جھڑپیں ہوئی اور 32 سیکورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 31 شہری بھی مارے گئے‘‘ ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت ہند نے جموں و کشمیر کے ساتھ مل کر، سرحد پار سے دراندازی کو روکنے کیلئے ایک کثیر جہتی نقطہ نظراپنایا ہے، جس میں سرحدی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا، بین الاقوامی سرحد ;223; لائن کے ساتھ کثیر سطحی تعیناتی شامل ہے ۔ کنٹرول آف کنٹرول، اور دراندازی کے بدلتے راستوں کے قریب پر پلوں کی تعمیر، بہتر ٹیکنالوجی، سیکورٹی فورسز کیلئے ہتھیار اور آلات، بہتر انٹیلی جنس اور آپریشنل کوآرڈینیشن، بین الاقوامی سرحد پر بارڈر فلڈ لاءٹس کی تنصیب وغیرہ شامل ہے اور جموں و کشمیر کے اندر ملی ٹنٹوں کے خلاف دراندازی اور فعال کارروائی کو روکنے کیلئے انٹیلی جنس کو بھی بڑھا دیا گیا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت نے جموں و کشمیر میں امن کو خراب کرنے والے عسکریت پسندوں کی کوششوں اور صلاحیتوں کو ختم کرنے کیلئے مختلف جوابی اقدامات بھی اپنائے ہیں ۔ حکومت نے نوجوانوں کو عسکریت پسندی سے دور کرنے کیلئے روزگار کے مواقع فراہم کر کے انھیں مرکزی دھارے میں لانے کے لیے پالیسیوں کی بھی حوصلہ افزائی کی ہے ۔ حکومت کی کوشش یہ رہی ہے کہ سرحدوں کی حفاظت کیلئے تمام سیکورٹی فورسز کی جانب سے مناسب اقدامات کیے جائیں ۔ سرحد پار سے ہونے والی ملی ٹنسی پر قابو پانے اور اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ جموں و کشمیر میں طویل عرصے سے عسکریت پسندی کے اثرات کی وجہ سے لوگوں کے سماجی و اقتصادی مسائل سے موَثر طریقے سے نمٹنے کیلئے جمہوری عمل کو برقرار رکھا جائے اور سول انتظامیہ کی بالادستی کو بحال کیا جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں