23

جموں کشمیر میں میونسپل اور پنچایتی انتخابات کے انعقاد کیلئے سرگرمیاں تیز

سٹیٹ الیکشن کمشنر نے اہم قدم آگے بڑھاتے ہوئے حتمی انتخابی فہرستیں شائع کر دی
امرناتھ یاترا کے بعد سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی حمتی فیصلہ لیا جائے گا
سرینگر/30اگست
جموں و کشمیر میں میونسپل اور پنچایتی انتخابات کے انعقاد کیلئے ایک اہم قدم آگے بڑھاتے ہوئے حتمی انتخابی فہرستیں جن کی نظرثانی کا حکم گزشتہ ماہ دیا گیا تھا شائع کر دیا گیا جبکہ اس حوالے سے ریاستی الیکشن کمیشن جلد ہی خصوصی احکامات جاری کرے گا۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ حکومت کی جانب سے سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد انتخابات کے انعقاد کیلئے حمتی فیصلہ لیا جائے گا ۔ سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر میں میونسپل اور پنچایتی انتخابات کے انعقاد کیلئے سرگرمیاں تیز ہو چکی ہے جس کے چلتے ایک اور اہم قدم کے تحت انتخابی فہرستیں شائع کر دی گئی ہے جبکہ چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کی طرف سے حتمی اعداد و شمار جاری کرنا باقی ہیں۔ ذرائع کے مطابق حتمی انتخابی فہرستیں شائع کر دی گئی ہیں کیونکہ آئندہ اربن لوکل باڈیز کے انتخابات کیلئے ووٹران کو شامل کرنےیا حذف کرنے وغیرہ کا کام مقررہ عملے نے مکمل کر لیا ہے۔یو ایل بی کے انتخابات کیلئے اہل رائے دہندگان کی صحیح تعداد ایک یا دو دن میں معلوم ہو جائے گی کیونکہ سی ای او آفس نے ڈیٹا کو پبلک کرنا ابھی باقی ہے۔دریں اثنا، ریاستی الیکشن کمیشن جو جموں و کشمیر میں پنچایتی انتخابات کے انعقاد کیلئے ذمہ دار ہے، پنچایتی انتخابات کیلئے انتخابی فہرستوں کی ایک چھوٹی 15دن کی خصوصی نظر ثانی بھی کرے گی ۔ ریاستی الیکشن کمشنر بی آر شرما نے ایک مقامی روزنامہ کو بتایا کہ
پنچایتوں کی انتخابی فہرستوں کی سمری نظرثانی کی مشق بہت مختصر ہوگی اور صرف ایک پندرہ دن تک چلے گی۔شرما نے کہا ”نئی ووٹر لسٹوں کے اندراج کیلئے یکم جنوری کو اہلیت کی تاریخ کے طور پر لیا جانا چاہیے“۔تاہم انہوں نے کہا کہ ہم بہت جلد اس مشق کا آغاز کریں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی اہل ووٹر پنچایتی انتخابات میں حق رائے دہی استعمال کرنے سے محروم نہ رہے۔ ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ انتخابات کے اعلان سے پہلے جموں و کشمیر حکومت کو پولنگ کیلئے درکار تعیناتیوں سمیت سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت سیکورٹی صورتحال اور دیگر انتظامات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی کہ انتخابات کب کرائے جائیں۔ جبکہ 31 اگست کو امرناتھ یاترا کی تکمیل کے بعد ہی حتمی کال متوقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں