0

جموں کشمیر میں گزشتہ 60برسوں میں 30فیصدی گلیشرز پگھل گئے

ماحولیات توازن کے بگاڑ کی وجہ سے بے وقت برفباری اور بارشیں ہوتی ہیں

سرینگر;16 اکتوبر;وی او آئی;جموں و کشمیر نے 6 دہائیوں میں 30 فیصد گلیشیئر کھو دیے ہیں جبکہ گزشتہ سال ریکارڈ پگھلنے کا عمل دیکھا گیا ہے جس کے نتیجے میں جموں کشمیر میں موسم زیادہ دیر تک خشک رہا تھا اور بے وقت بارش، ژالہ باری اور برفباری اسی کا نتیجہ ہے ۔ جبکہ ماہرین نے کہا ہے کہ اگر گلیشئرز پگھلنے کی رفتار یہی رہی تو اگلے کچھ برسوں میں ہی کافی حد تک قدرتی گلیشروں کی تعداد مزید کم ہوسکتی ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ جموں کشمیر میں گزشتہ 6دہائیوں سے 30فیصدی گلیشئرز یا برفیلے پہاڑ پگھل چکے ہیں جس کی وجہ سے موسمی صورتحال کا توازن بگڑ رہا ہے ۔ ماہرین کے مطابق برفانی پہاڑوں کا اگر پگھلنے کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو اس صدی کے آخر تک 70 فیصد گلیشیئرز کم ہو جائیں گے اور جب تک کاربن کے اخراج میں کمی نہیں ہو جاتی پگھلنا نہیں روکا جا سکتا ۔ ماہرین نے کہا ہے کہ جیسے جیسے کاربن کے اخراج میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جموں و کشمیر میں گلیشیئرز کے پگھلنے میں تیزی آئی ہے جب کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر نے گزشتہ سٹھ سالوں میں تقریباً 30 فیصد گلیشیئرز کو کھو دیا ہے ۔ اور متنبہ کیا کہ اگر موجودہ رفتار جاری رہی تو ان میں سے 70 فیصد اس صدی کے آخر تک برفانی پہاڑ ختم ہوجائےں گے ۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گلیشیئرز کے پگھلنے سے مستقبل قریب میں پانی کی قلت پیدا ہو جائے گی ۔ تاہم ماہرین نے بتایا کہ گلیشیئرز کو محفوظ رکھنے کا واحد حل کاربن نیوٹرل بننا ہے ۔ جموں کشمیر اور لداخ میں 18000 گلیشیئرز ہیں لیکن وہ سب پگھل رہے ہیں ۔ جموں و کشمیر سمیت پورے ہمالیہ میں گلیشیئر پگھل رہے ہیں ۔ پچھلے دو سالوں میں گلیشیئرز کے پگھلنے میں اضافہ ہوا ہے ۔ گزشتہ سال گلیشیئرز کے پگھلنے کا ریکارڈ دیکھا گیا تھا اور اس سال یہ پچھلے سال کے مقابلے میں قدرے کم تھا ۔ ماہرین نے کہا کہ گلیشیئرز کا ریکارڈ پگھلنا سردیوں ، خاص طور پر گرم فروری اور مارچ کے مہینوں میں کم برف باری کا نتیجہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ برف پگھلنے میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ فروری، مارچ میں درجہ حرارت عام طور پر زیادہ رہتا ہے اور اپریل میں گرمی کی لہر شروع ہوتی ہے ۔ گلیشیئرز کے نقصان کا صحیح کہنا مشکل ہو گا کیونکہ گلیشیئر مختلف رفتار سے پگھل رہے ہیں لیکن تحقیق کے مطابق پچھلے 60 سالوں میں ہم 25 سے 30 فیصد گلیشیر کھو چکے ہیں ۔ اگر یہ اسی رفتار سے پگھلتا رہا تو ہم اس صدی کے آخر تک 70 فیصد گلیشیئرز کھو دیں گے کیونکہ گلیشیئرز کے پگھلنے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہہم ہر سال 18;245;20 میٹر گلیشیر کھو رہے ہیں ۔ ایک اور ماہر ڈاکٹر عرفان رشید، جو کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ ارتھ سائنسز میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کام کر رہے ہیں نے کہا کہ ایک تحقیق کی گئی ہے، جس کے مطابق کشمیر کا سب سے بڑا گلیشیئر، کولاہوئی گلیشیر 1960 کی دہائی سے تقریباً 25 فیصد پگھل چکا ہے ۔ 1962;245;2022 تک، یہ تقریباً 25 فیصد پگھل چکا ہے ۔ یہ ہر سال 35 میٹر کم ہو رہا ہے،\;34; انہوں نے کہا کہ کولاہوئی گلیشیر کشمیر کا سب سے بڑا گلیشیئر ہےاور ساتھ ہی ساتھ سب سے تیزی سے پگھلنے والا گلیشیئر بھی ہے ۔ جموں و کشمیر اور لداخ کے دیگر گلیشیئرز بھی پگھل رہے ہیں ۔ تحقیق کے مطابق اس صدی کے آخر تک 4;245;7 ڈگری کا اضافہ ہوگا، اور اس لیے پگھلنے کو روکا نہیں جا سکتا ۔ جب تک ہم کاربن نیوٹرل نہیں ہو جاتے، کوئی بھی گلیشیئرز کے پگھلنے کو نہیں روک سکتا ۔ کاربن کا اخراج بڑھ رہا ہے، عالمی اخراج بھی بہت زیادہ ہے، اور مستقبل میں اس میں مطالعہ کے مطابق اضافہ کیا جائے گا، لیکن کاربن نیوٹرل بننے سے ہی گلیشیئرز کے پگھلنے کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ ماہرین کے مطابق موسمی توازن بگڑ رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم جموں کشمیر میں لمبی خوشک سالی ، بے وقت برفباری اور بارش دیکھ رہے ہیں جو ماحولیاتی توازن کے بگڑ جانے کا ثبوت ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں