0

جنوبی کشمیر کا آخری گاءوں فسلر جہاں کے اکثر بچے ناخواندہ ہیں

سکول کےلئے ایک کمرے پر مشتمل عمارت ، 56طالب علموں کےلئے 2اساتذہ تعینات

سرینگر22اکتوبر;223;وی او آئی :جنوبی کشمیر کے آخری گاءوں میں تعلیمی سہولیات بہتر ڈھنگ سے مئیسر نہ ہونے کی وجہ سے مقامی بچے زیادہ ترناخواندہ ہی رہ جاتے ہیں ۔ جبکہ چالیس برس قبل قائم کیا گیاسکول ابھی اسی نہج پر ہے جہاں ایک کمرہ دواساتذہ دستیاب ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کا آخری گاءو ں فسلر جو کہ پہلگام سے 7کلو میٹر دور میں تعلیمی سہولیات دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اس علاقے کے بچے زیادہ تر ناخواندہ ہی رہ جاتاہے ۔ مقامی لوگوں نے کہاہے کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے بھی کوئی اقدام نہیں اُٹھایا جارہا ہے ۔ اس سلسلے میں وی او آئی کے نمائندے امان ملک نے جب معزز مقامی شخص عبدالسلام شیخ سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ فسلر نامی گاءوں میں 981 میں پرائمری سکول قائم کیا گیا جو کہ اُس وقت کے وزیر اعلیٰ شیخ محمد عبداللہ کی مداخلت کے بعد محکمہ تعلیم نے قائم کیا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ اُس وقت سکول کےلئے ایک ہی کمرے پر مشتمل عمارت بنائی گئی جہاں پر پرائمری سطح یعنی اول سے لیکر چھٹی جماعت تک بچے زیر تعلیم ہیں ۔ جبکہ سکول میں صرف 2اساتذہ تعینات ہیں اور سکول میں بچوں کی تعداد 56ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ 56بچوں کو ایک ہی کمرے میں کیسے پڑھایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بچے اس سردی میں بھی کھلے آسمان تلے پڑھنے پر مجبور ہیں اور جب بارش ہوتی ہے تو اکثر اوقات سکول بندرہتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ علاقہ سرد ترین علاقہ ہے اور یہاں پر زیادہ تر موسم خراب ہی رہتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں کے اکثر بچے ناخواندہ ہی ہے کیوں کہ یہاں پر سکول کےلئے نہ بہتر جگہ دستیاب ہے اور ناہی اساتذہ کی تعداد معقول ہے ۔ مقامی لوگوں نے اس ضمن میں متعلقہ حکام خاص کر ایل جی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور سکول کےلئے نئی عمارت کو منظوری دے کر اساتذہ کی تعداد بھی بڑھائی جائے تاکہ یہاں کے بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات مئیسر ہوں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں