0

حیوان کبھی کبھی انسانی بھیس بھی اختیار کئے ہوتے ہیں

ہوا یوں ہے کہ انسان اب انسان نہیں رہا ہے کچھ اور ہی ہوگیا ہے ۔ گزشتہ روز واتری گام وانی ہامہ اننت ناگ میں نامعلوم مسلح افراد نے دسویں جماعت کے طالب علم ساحل بشیر ڈار پر گولیاں چلا کر انہیں شدید زخمی کیا ۔ اسے ہسپتا ل پہونچایا گیا لیکن ڈاکٹروں کی بے حد کوششوں کے باوجود دوسرے روز وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔ وجہ کچھ بھی ہو ایک معصوم بچے کو اس طرح سے قتل کرنا انسان کا کام نہیں ہوسکتا کیونکہ انسان کے اندر انسانی جذبات اور احساسات بھی ہوتے ہیں کسی دوسرے انسان وہ بھی ایک بچے کو اس طرح سے قتل کرنے کا ارادہ کرتے ہی اس کا وجود کانپ جائے گا ۔ پھر یہ کون ہیں جو اس طرح کے کام کرتے ہیں ۔ دہشت گرد کا لفظ بھی ان کے لئے بہت چھوٹا لفظ ہے کیونکہ جس کو مارا جاتا ہے وہ بھی انسان ہی ہوتا ہے ۔ کسی ما ں کا بیٹا ، کسی بہن کا بھائی اور کسی کا سہارا ہوتا ہے ۔ ایک انسان کی موت ایک خاندان کی موت ہوتی ہے ۔ ایک انسان کی موت پر نہ جانے کب تک کتنے لوگوں کی آنکھیں اشکبا ر رہتی ہیں ۔ جس وقت کوئی بچہ اس طرح سے مارا جاتا ہے اس کی ماں اس کے بعد ایک زندہ لاش بن کر رہ جاتی ہے ۔ اس کا باپ بھی بس تل تل مرتے مرتے جیتا ہے ۔ ایسے واقعات پورے عالم انسانیت کے لئے انتہائی شرمناک واقعات ہے ۔ جن پر انسانی تاریخ ہمیشہ ہی شرمندہ رہتی ہے لیکن افسوس کہ ایسے کم عقل اور احمق انسانوں کی بھی کمی نہیں ہے جو ایسے سانحوں کو انجام دینے والوں کی وکالت بھی کرتے ہیں انہیں یہ معلوم نہیں کہ وہ اس طرح سے ایسے قتل و غارت کے شریک بن جاتے ہیں ۔ وہ اس سے زیادہ بڑے مجرم ہوتے ہیں جو قتل کرنے والا ہوتا ہے ۔ جو بھی انسان اپنے اندر انسانی دل رکھتا ہے اور جو اپنے اندر خدا کا خوف رکھتا ہے وہ کسی بھی حال میں ایسے المناک سانحوں کو انجام دینے والوں کی طرف داری نہیں کرے گا بلکہ انہیں انسان ہی تصور نہیں کرے گا ۔ وہ حیوان ہیں جنہوں نے انسانوں کا حلیہ اختیار کیا ہوا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں