0

دس برسوں کے دوران چھ لاکھ کنال اراضی سے فصلوں کی پیداوار نابود

تیس ہزار ہیکٹئراراضی اب تک رہائشی کالنیوں تجارتی مراکز میں تبدیل موسمیاتی تبدیلی گلوبل وارنٹ ماحولیات کی آلودگی کے خطرات

سرینگر;14اکتوبر;اے پی آئی :جموں وکشمیر میں قابل کاشت اراضی تیزی کے ساتھ ختم ہوتی جارہی ہے شہروں اور قصبوں میں اضافہ ہوتا جارہاہے دس برسوں کے دوران تیس ہزار ہیکٹئراراضی رہائشی کالنیوں تجارتی مراکز میں تبدیل ہوگئی ۔ فصلوں کی پیداوار میں مسلسل کمی آ رہی ہے لہلہاتے کھیت کم ہوتے جارہے ہے گلوبل وارمنگ کے اثرات بڑھ رہے ہے او رماحولیات کی آلودگی میں تیزی آتی جارہی ہے ۔ اے پی آ ئی نیوز کے مطابق مہاراجہ ہری سنگھ کے دو ر میں جموں و کشمیرکی آبادی تیس لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے ۔ مہاراجہ نے اپنے دور اقتدار میں جمو ں وکشمیر میں کئی اہم قوانین لاگوکئے تھے جن میں قاب کاشت آبی اول اراضی جو کسی بھی طرح کی عمارت تعمیرکرنے پرپابندی کی اور جوکوئی بھی قابل کاشت اراضی میں عمارت تعمیر کرنے کی کارروائیاں عمل میں لاتا تھا ا سے جیل کی سزا ہوتی تھی اور عمارت کومنہدم کیاجاتا تھا ۔ تاہم عوامی حکومتوں کاقیام عمل میں آنے کے بعد یہ قانون کسی حدتک بے معنی ہوکر رہ گیا ۔ سرکاری اور غیرسرکاری طوپرجواعدادشمار سامنے آرہے ہیں وہ انتہائی تشویش ناک ہے جس تیزی کے ساتھ جموں و کشمیر میں قابل کاشت اراضی ختم ہوتی جارہی ہے آ نے والے بیس برسوں کے دوران جمو ں وکشمیربالعموم اور وادی کشمیر بالخصوص قابل کاشت اراضی ختم ہوکررہ جائے گی ۔ اعداد شمار کے مطابق دس برسوں کے دوران تیس ہزار ہیکٹئر اراضی جوقابل کاشت تھی رہائشی کالنیوں بازاروں میں تبدیل ہوکر رہ گئے اوراگردس برسوں کے دوران تیس ہزار ہیکٹئراراضی عمارتوں میں تبدیل ہوکررہ گئی توآ نے والے بیس برسوں کے دوران قابل کاشت اراضی اسقدر تجارتی اغراض مقاصداور رہائش کے لئے استعمال کی جائےگی یہ کہنے کی ضرور ت نہیں ہے جس تیزی کے ساتھ نئے علاقے وجود میں آرہے ہےں وہ اس بات کی عکاسی ہے کہ قابل کاشت اراضی کے بغیر لوگوں کواپنے آشیانے تعمیرکرنے کے لئے اور کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے ۔ سرکار دعویٰ کررہی ہے انہدامی کارروائی کے دوران چارلاکھ کنال اراضی سٹیٹ لینڈلوگوں سے چھڑائی گئی تاہم یہ اراضی رہائشی کالنیوں یاتجارتی اغراض مقاصدکے لئے استعمال میں لائی جائے گی اس بارے میں سرکار نے ابھی تک کوئی بھی منصوبہ سامنے نہیں لایاہے اور سرکار کے مطابق ابھی بھی لاکھوں کنال اراضی پرلوگوں نے زبردستی قبضہ جمایاہے جس سے چھڑانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائے گے ۔ قابل کاشت اراضی کے ختم ہونے پروادی کشمیرکے لئے کئی طرح کے خطرات پید اہوگئے فصلوں کی پیداوار میں کمی آگئی ہے غیرمتوقع طور پرموسم میں تبدیلی آ رہی ہے وادی کشمیر میں گلیشر تیزی کے ساتھ ختم ہوتے جارہے ہے گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہورہاہے ماحولیا ت کی آلودگی بڑھ رہی ہے یہ وہ خطرات ہیں جن کے ساتھ آنے والے برسوں کے دوران وادی کشمیرکے لوگوں میں لہلہاتے کھیت نہیں رہے گے کھلی ہوا میں سانس لینے کی مہلت نہیں ہوگی جنگلوں کاہم صفایاکرنے جارہے ہیں آبی پناہ گاہیں سکڑ رہی ہے او راگردس برسوں کے دوران تیس ہیکٹئر اراضی رہائشی کالنیوں میں تبدیل ہو گئی توآنے والے بیس برسوں کے دوران صورتحال کیاہوگی اس بارے میں کچھ کہنا اگرچہ قبل ازوقت ہو گاتاہم ماہرین اس بات پرمتفق ہے کہ ہم ایسی تباہی کی طرف بڑھ رہے ہےں جسے نمٹنامشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوگا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں