0

دنیا کے بلند ترین چناب پل پر دوڑی ریل گاڑی

نئی دہلی، 20 جون : ہندوستانی ریلوے نےآج جموں و کشمیر کی وادی کشمیر کو باقی ہندوستان کے ساتھ ریل لنک کے ذریعے جوڑنے میں ایک اہم سنگ میل حاصل کیا اور سنگلدان سے ریاسی تک تقریباً46 کلومیٹر کے راستے پر میمو ٹرین کا پہلی بار کامیاب تجربہ کیا جس میں دنیا کا سب سے اونچا چناب ریلوے پُل شامل ہے۔

جموں وکشمیر کو ایک متبادل اور قابل اعتماد نقل و حمل کا نظام فراہم کرنے کے مقصد کے تحت مرکزی حکومت کے ذریعہ زیرتعمیر 272 کلومیٹر کی ادھم پور-سری نگر-بارہمولہ ریل لنک پروجیکٹ (یو ایس بی آر ایل) کے تحت ادھم پور سے بارہمولہ تک وادی کشمیر کو ہندوستانی ریلوے نیٹ ورک کے ساتھ جوڑنے والی ایک لمبی ریلوے لائن کا صرف 17 کلومیٹر کا حصہ باقی رہ گیا ہے۔

اس اہم پروجیکٹ میں، بانہال سے سنگلدان تک تقریباً 48 کلومیٹر کے ایک حصے کو اس سال فروری میں کھولا گیا تھا۔

ریلوے بورڈ کے سینئر حکام کی طرف سے چناب پل کے وسیع معائنہ کے بعد، شمالی ریلوے اور کونکن ریلوے نے آج آٹھ بوگیوں والی میموٹرین کا کامیاب مشاہدہ کیا۔میمو ٹرین رامبن ضلع میں سنگلدان اور ریاسی کے درمیان 46 کلومیٹر برقی لائن سیکشن پر 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گزری۔

ٹرین سنگلدان سے 12:35 بجے شروع ہوئی اور 14:05 بجے کامیابی کے ساتھ ریاسی اسٹیشن پہنچی۔ راستے میں یہ نو سرنگوں سے گزری جن کی کل لمبائی 40.787 کلومیٹر ہے اور سب سے لمبی سرنگ ٹی-44 تقریباً 11.13 کلومیٹر ہے۔ دریائے چناب پر دُگہ اور بکّل اسٹیشنوں کے درمیان دنیا کے سب سے اونچے آرچ ریل پُل کو عبور کرنے والی یہ پہلی ٹرین ہے۔ اس ریلوے سیکشن میں، ریاسی، بکل، دگّا اور ساولکوٹے اسٹیشن ریاسی ضلع میں واقع ہیں۔

اس کے ساتھ اب ریاسی اور شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا اسٹیشن کے درمیان تقریباً 17 کلومیٹر کا فاصلہ رہ گیا ہے، جس میں ایک سرنگ کا کام تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ یہ کام بھی تقریباً ایک ماہ میں مکمل ہونے کی امید ہے۔

اس سے پہلے بھی، یو ایس بی آر ایل پروجیکٹ کے 48.1 کلومیٹر طویل بانہال-سنگلدان سیکشن کا افتتاح اس سال 20 فروری کو وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا تھا۔

یہ پروجیکٹ آزادی کے بعد ہندوستانی ریلوے کا سب سے چیلنجنگ ریل پروجیکٹ ہے۔وادی کشمیر کو بغیر کسی رکاوٹ اور پریشانی سے پاک رابطہ فراہم کرنے میں یو ایس بی آر ایل پروجیکٹ کی اہمیت کے پیش نظر، اسے سال 2002 میں ایک “قومی پروجیکٹ” قرار دیا گیا تھا۔

یواین آئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں