0

دہشت گردی، منشیات کا جلد خاتمہ کیا جائے گا، ڈی جی پی

(جموں کشمیر) :’’جلد ہی جموں و کشمیر کو دہشت گردی سے پوری طرح صاف ہو جائے گا۔ کشمیر میں ’گیلانی، برہان، موسی‘ وغیرہ کے نعرے اب محض تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ سوپور علاقہ جو ایک زمانے میں دہشت گردی میں سب سے آگے تھا، آج یہاں دہشت گردی نا کے برابر ہے۔‘‘ ان باتوں کا اظہار جموں و کشمیر پولیس سربراہ (ڈی جی پی) دلباغ سنگھ نے شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے سوپور علاقے کے دورے کے دوران پولیس اہلکاروں سے خطاب کے دوران کیا۔

دلباغ سنگھ نے پولیس اہلکاروں سے خطاب کے بعد میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا: ’’ایک زمانے میں سوپور قصبہ میں دہشت گردی عروج پر تھی، لیکن اب دہشت گردوں کی تعداد انہتائی کم ہو چکی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’دہشت گردی کی باقیات کو ختم کرنے کے لیے کام کرنا اور منشیات کے استعمال کا خاتمہ اگلا بڑا چیلنج ہے۔ سوپور جو کبھی دہشت گردی کا گڑھ ہوا کرتا تھا اب اس وقت پر امن علاقہ ہے۔‘‘جموں و کشمیر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) دلباغ سنگھ نے مزید کہا کہ ’’یو ٹی ’دہشت گردی سے پاک خطہ‘ بننے کی طرف بڑھ رہی ہے اور پولیس اب منشیات کے چیلنج کا مقابلہ کرے گی۔ منشیات کا پوری طرح خاتمہ سیکورٹی ایجنسیز کے لیے ایک چیلنج ہے۔‘‘ تقریب کے حاشیہ پر صحافیوں سے بات چیت کے دوران دلباغ سنگھ نے کہا: ’’پولیس اب منشیات کی بدعت کا مقابلہ کرنے کے لئے لگاتار کوششیں کر رہی ہے اور جموں و کشمیر سے منشیات کے استعمال اور منشیات کی اسمگلنگ کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے گا۔‘‘

شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور جنوبی کشمیر کے ترال علاقے میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے دو افراد کی پر اسرار طور لاشیں برآمد ہونے کے حوالہ سے ڈی جی پی نے کہا: ’’ایسے واقعات قابل افسوس ہیں اور ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہے۔ پولیس نے دونوں واقعات کا نوٹس لیا ہے اور ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے، تحقیقات جاری ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’بارہمولہ میں سکھ برادری کے رکن کی موت کا معاملہ کرائم برانچ کے سپرد کر دیا گیا ہے اور جلد ہی قاتل کو دھر لیا جائے گا۔‘‘ دریں اثناء، پنچایتی انتخابات کی تیاریوں کے بارے میں ڈی جی پی نے کہا کہ ’’تمام انتظامات مکمل ہیں اور پولیس انتخابات کے پر امن انعقاد کو یقینی بنائے گی۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں