0

دیلگام ،براکپورہ سڑک کی خستہ حالی سے عوام پریشان

سکولی بچے اور عمر رسیدہ افراد کےلئے سڑک پر پیدل چلنا دشوار

سرینگر;14 اکتوبر;وی او آئی;اننت ناگ کے دیلگام علاقے کی سڑک انتہائی خستہ ہونے کی وجہ سے اس سڑک پر لوگوں کا عبور ومرور دشوار بن چکا ہے جبکہ سڑک پر جگہ جگہ گہرے گڑھے بن گئے ہیں جو باعث پریشان ہے ۔ سڑک کی خستہ حالی پر لوگوں نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سڑک کی مرمت کےلئے فوری اقدامات اُٹھائیں ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق سڑکوں کی خستہ حالی ان دنوں دیلگام کے باشندوں کیلئے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے ۔ جنوبی ضلع اننت ناگ کے دیلگام سے براکپورہ سڑک کے راستے میں اس قدر گڑھے ہیں کہ راہ گیروں کا یہاں سے گزر نا مشکل ہو گیا ہے ۔ بارش کے دنوں میں ان گڑھوں میں پانی بھرا رہتا ہے ۔ جبکہ یہاں سے اسکولی طلبہ، خواتین اور معمر افراد کا گزر ہوتا رہتا ہے ۔ عوام کی شکایت ہے کہ علاقے میں سڑک کی خستہ حالی پر کسی کی توجہ نہیں ہے ۔ نہ ہی محکمہ تعمیرات عامہ کو ان راستوں کے تعلق سے کوئی فکر ہے ۔ یاد رہے دیلگام علاقے کے ایک طرف پانچ تو دوسری طرف دو اسکول ہیں جہاں ہزاروں بچے پڑھتے ہیں ۔ اسرار انصاری یہیں رہتے ہیں ۔ ان کی شکایت ہے کہ ’’ اس علاقے میں محکمہ تعمیرات عامہ کو اس راستے کی حالت دکھائی نہیں دیتی ۔ ویسے وہ اپنے کاموں کا خوب ڈھونڈورا پیٹتے ہیں ۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’اس راستے پر طلبہ یا خواتین کے ساتھ کبھی بھی کوئی حادثہ پیش آسکتا ہے ۔ ‘ جہاں انہوں نے اتنا کام کیا ہے تو وہ ذرا اس سڑک کی طرف بھی توجہ دیں ۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ طلبہ کو ہونے والی پریشانی دور کرنے کی غرض سے سڑک کی مرمت ضروری ہے ۔ ‘‘ ایک مقامی باشندے ہلال احمد بٹ نے وائس آف انڈیا کے نمائندے امان ملک کو بتایا کہ محکمہ تعمیرات عامہ اس وقت بے حسی کی چادر اوڑھے سو رہی ہیں کہ ’’ کیا یہ سب اس سڑک پر کسی طالب علم کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آنے کے بعد ہی جاگیں گے;238;‘‘وانہامہ گاؤں کے لوگوں نے کہا یہاں زمین سڑک پر پڑے گڑھوں میں پودے اگا کر محکمہ تعمیرات عامہ کے خلاف احتجاج کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سڑکیں آمدو رفت کیلئے نہیں بلکہ پیڑ پودے اگانے کیلئے ہیں کیونکہ یہاں گڑھے ہی گڑھے ہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد محکمہ تعمیرات عامہ ان گڑھوں کو بھرنے کا اقدام کرے ورنہ مجبوراً انہیں بڑے پیمانے پرا حتجاج کیلئے سڑک پر اترنا پڑے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں