0

دیوسر کولگام کے لوگ سالوں سے پی ایچ سی کی نئی عمارت کی تکمیل کے منتظر

معمولی سی بیماری کےلئے لوگ کئی کلومیٹر سفر کرنے پر مجبور، لوگوں نے ایل جی انتظامیہ سے مداخلت کی اپیل کی

سرینگر;13اکتوبر;وی او آئی;جنوبی کشمیر کے دیوسر کولگام میں لوگوں کو طبی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے علاج و معالجہ کےلئے کئی کلومیٹر طے کرکے اننت ناگ آناپڑتا ہے جس کی وجہ سے انہیں شدید ذہنی کوفت برداشت کرنی پڑتی ہے جبکہ علاقے میں پرائمری ہیلتھ سنٹر کی نئی عمارت کا اگرچہ سنگ بنیاد رکھا گیا تھا تاہم اس کے آگے کوئی کام نہیں ہوا جس کی وجہ سے لکڑی سے بنے پرائمری ہیلتھ سنٹر میں ہی کام چلایا جارہاہے جہاں پر نہ کوئی بہتر طبی سہولیات مئیسر ہے اور ناہی عملہ معقول ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق دو دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعدبھی ضلع کولگام کے دیوسر تحصیل ہیڈکوارٹر میں پرائمری ہیلتھ سنٹر (;807267;) لکڑی کی پرانی عمارت میں بدستور کام کر رہی ہیں جب کہ اس کے لیے منظور کردہ نئی عمارت کی تعمیر ہونا باقی ہے ۔ سرکاری کی جانب سے ایک نئے ہیلتھ سنٹر کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے تاہم فیصلے کے باوجود ہے ابھی تک اس پر عملی طور پر کوئی اقدام نہیں اُٹھایا گیا ۔ علاقے کے تین درجن سے زیادہ گاؤں اس پی ایچ سی پر منحصر ہیں ۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس پریمری ہیلتھ سنٹر نے 1985 میں کام شروع کیا تھا لیکن اس کی نئی عمارت ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی ۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں جدید عمارت اور انفراسٹرکچر کا فقدان ہے ۔ ایک نئی عمارت کی بنیاد 2008 میں رکھی گئی تھی لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو اسے مکمل کرنے میں مزید دو دہائیاں لگیں گی ۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ ہمارے پاس ایسا کوئی نمائندہ نہیں ہے جو اس کی تعمیر کے لیے دباوَ ڈال سکے ۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ تقریباً 40 گاؤں اس مرکز صحت پر منحصر ہیں ۔ ان کا الزام ہے کہ اس علاقے کو سابق حکمرانوں نے نظر انداز کیا ہوا ہے اور لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کا بھی یہی رویہ ہے ۔ مقامی لوگوں نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ، ڈپٹی کمشنر کولگام اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے اس معاملے کو دیکھنے اور اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی اپیل کی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں