0

راجوری میں فوجیوں پر گولی چلانے والے فوجی افسر کو عدالتی تفتیش کا سامنا کرنا پڑے گا

جس نے غلطی کی ہے اس کو فوجی تعزات کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا ۔ فوجی ذراءع

سرینگر ;6اکتوبر ;223; ایس این این ;فوج نے ایک میجر رینک کے افسر کے خلاف کورٹ آف انکوائری شروع کی ہے جس نے جموں و کشمیر کے راجوری ضلع میں ایک کیمپ کے اندر مبینہ طور پر اپنے ساتھیوں پر گولی چلائی اور گرینیڈ پھینکا تھا حکام نے جمعہ کو بتایاکہ کسی بھی صورت میں فوج میں نظم شکنی کی اجازت نہیں ہوگی ۔ اور جس نے غلطی کی ہوگی اسے سزا ملے گی ۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق تھانہ منڈی کے قریب نیلی پوسٹ پر جمعرات کے واقعے میں تین اہلکاروں سمیت کم از کم پانچ اہلکار زخمی ہوئے ۔ حکام نے جمعہ کو کہا کہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے فوجی افسران جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ۔ حکام نے بتایا کہ غلطی کرنے والے افسر کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے کی کورٹ آف انکوائری کا حکم دیا گیا ہے ۔ کیمپ میں کشیدہ صورتحال تقریباً آٹھ گھنٹے تک جاری رہی جب کہ جمعرات کی شام دیر گئے اس افسر کو اسلحہ خانے کے اندر قابو کر لیا گیا ۔ فوج نے نے جمعرات کی رات دیر گئے ;88; پر ایک پوسٹ کے ساتھ یہ دعوی کیا کہ راجوری میں ایک چوکی پر ممکنہ گرینیڈ حادثے میں ایک اہلکار زخمی ہوا ہے ۔ انہوں نے لکھا تھا کہ \;34;05 اکتوبر 23 کو راجوری سیکٹر میں ایک چوکی پر ممکنہ گرینیڈ حادثے میں ایک اہلکار زخمی ہوا ۔ افسر کو نکالا گیا اور واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے،‘‘ فوج کی واءٹ ناءٹ کور نے ایکس پر پوسٹ کیاتھا ۔ ادھر سرکاری ذراءع نے بتایا کہ کیمپ میں گزشتہ کئی دنوں سے فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا اور ملزم افسر نے جمعرات کی دوپہر بغیر کسی اشتعال کے اپنے ساتھیوں اور ماتحتوں پر فائرنگ شروع کردی ۔ ذراءع نے بتایا کہ بعد میں اس نے کیمپ کے اسلحہ خانے کے اندر پناہ لی اور اس وقت دستی بم پھینکا جب کمانڈنگ آفیسر اپنے نائب اور میڈیکل آفیسر کے ساتھ اسے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنے کی کوشش میں عمارت کے قریب پہنچا ۔ انہوں نے بتایا کہ تینوں اہلکار اس وقت زخمی ہوئے جب ملزمان کی طرف سے پھینکا گیا ایک گرینیڈ ان کے قریب پھٹ گیا ۔ ذراءع نے بتایا کہ ملزم کی اندھا دھند فائرنگ میں دو دیگر فوجی بھی زخمی ہو گئے ۔ اس واقعے پر جموں میں مقیم دفاعی پی آر او لیفٹیننٹ کرنل سنیل بارٹوال نے ایک پیغام میں کہاکہ مجھے جنرل ایریا راجوری میں فوجی کیمپ پر فائرنگ;223;دہشت گردانہ حملے کے بارے میں کال موصول ہوئی ہیں ۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ کوئی دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا ہے، یہ کیمپ کا ایک اندرونی واقعہ ہے اور اس جرم میں ملوث افسر کو فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں