0

رواں سال کے آخرتک جموں وکشمیر میں بلدیاتی انتخابات کرائے جانے کاقومی امکان

2میونسپل کارپوریشنوں، 75میونسپل کونسلوں اورمیونسپل کمیٹیوں میں وارڈوں کی حد بندی کےلئے جاری مشق 10اضلاع میں مکمل
اعتراضات کےلئے حدبندی کی مشق عوامی ڈومین میں رکھی جائے گی،پھرتقریباً6سال بعد میونسپل انتخابات کے انعقاد کےلئے دیگر اقدامات :حکام
سری نگر:۳، جولائی: جموں وکشمیرمیں تمام اربن لوکل باڈیز (شہری بلدیاتی اداروں) بشمول میونسپل کارپوریشنوں، کونسلوں اور کمیٹیوں میں وارڈوں کی حد بندی کےلئے ایک مشق جاری ہے تاکہ تمام وارڈوں میں متوازن آبادی کو یقینی بنایا جا سکے، خاص طور پر جموں اور سری نگر میونسپل کارپوریشنوں میں جہاں ووٹروں کی تعداد میں بڑے پیمانے پر فرق ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق ڈپٹی کمشنروں کے ذریعہ عمل میں لایا جانے والی یہ مشق کچھ اضلاع میں مکمل ہو چکی ہے اور جلد ہی پورے جموں وکشمیر میں مکمل ہو جائے گا اور اعتراضات کےلئے عوامی ڈومین میں رکھی جائے گی۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ میونسپل کارپوریشن اور میونسپل کمیٹی ایکٹ کے تحت وارڈوں کی حد بندی کا عمل ریاستی الیکشن کمیشن نے شروع کیا ہے جسے حکومت نے یو ایل بی اور پنچایتوں کے انتخابات کرانے کے لیے نامزد کیا ہے۔ جموں وکشمیر میں تمام 20 ڈپٹی کمشنروں کو میونسپل کارپوریشنوں، کونسلوں اور کمیٹیوں کے وارڈوں کی حد بندی کا کام سونپا گیا ہے۔حکام نے بتایاکہ سری نگر میونسپل کارپوریشن اورجموں میونسپل کارپوریشن میں وارڈوں کی حد بندی کی ضرورت تھی کیونکہ کچھ وارڈوں میں آبادی کا کافی فرق تھا۔ میونسپل کارپوریشن اور میونسپل کمیٹی ایکٹ کے مطابق، ایک کارپوریشن وارڈ اوسطاً7500 آبادی پر مبنی ہونا چاہیے۔ تاہم، جموں میونسپل کارپوریشن میں، بعض وارڈوں کی آبادی 6000 تھی جبکہ دیگر وارڈوںکی آبادی27ہزار تھی۔ سری نگر میونسپل کارپوریشن کے کچھ وارڈوں میں بھی ایسا ہی ہے۔عہدیداروں نے بتایاکہ میونسپل وارڈوںمیں ناہموار آبادی کے مسائل زیادہ تر سری نگر میونسپل کارپوریشن اورجموں میونسپل کارپوریشن تک محدود ہیں جبکہ میونسپل کونسلوں اور کمیٹیوں کے پاس ایسا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ تاہم، کونسلوں اور کمیٹیوں کےلئے بھی میونسپل وارڈوں کی حد بندی کا حکم دیا گیا ہے، جہاں وارڈز تقریباً مساوی آبادی کی بنیاد پر ہونے چاہیں۔ریاستی الیکشن کمشنر بی آر شرما نے حال ہی میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے تمام 20 ڈپٹی کمشنروں کی ایک میٹنگ کی صدارت کی اور انہیں ہدایت دی کہ وہ وارڈوں کی حد بندی کے عمل کو تیز کریں اور کام کو حتمی شکل دینے سے پہلے اعتراضات کے لیے عوامی ڈومین میں رکھیں۔ذرائع کے مطابق، تقریباً10 اضلاع سے توقع ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار کے تحت شہری بلدیاتی اداروں میں وارڈوں کی حد بندی کا کام جلد ہی مکمل کریں گے جبکہ 10 دیگراضلاع بھی کچھ دنوں کے بعد مسودہ تجاویز کے ساتھ آئیں گے۔ذرائع نے مزید بتایاکہ ایک بار وارڈوں کی حد بندی کو حتمی شکل دینے کے بعد، جموں و کشمیر میں میونسپل انتخابات کے انعقاد کےلئے دیگر اقدامات کیے جائیں گے۔بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے پہلے اہم کام دیگر پسماندہ طبقات (OBC) کے لیے وارڈوں کا ریزرویشن ہے، جنہیں فروری2024 میں مرکزی حکومت نے پنچایتوں اور بلدیات میں ریزرویشن دیا تھا۔جموں وکشمیرکی حکومت نے پنچایتوں اور میونسپلٹیوں میں دیگر پسماندہ طبقات (OBC) کودئیے جانے والے فیصد کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک کمیشن قائم کیا ہے۔ کمیشن کو رپورٹ دینے کے لیے45 دن کا وقت دیا گیا ہے۔جموں و کشمیر میں میونسپل اور پنچایتی انتخابات ان کی5 سالہ مدت پوری ہونے کے بعد اکتوبر نومبر2023 میں ہونے والے تھے۔ تاہم، ان میں تاخیر ہوئی کیونکہ جموں وکشمیر اور مرکزی حکومتوں نے دونوں اداروں میں دیگر پسماندہ طبقات (OBC) کو ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا۔ پارلیمنٹ نے اس سال فروری میں اس سلسلے میں ایک بل منظور کیا تھا۔جموں وکشمیرمیں آخری مرتبہ میونسپل یا بلدیاتی انتخابات اکتوبرنومبر 2018 میں ہوئے تھے جبکہ پنچایتی انتخابات نومبردسمبر 2018 میں کرائے گئے تھے۔(ایجنسیاں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں