0

ریاسی بس حملہ: دہشت گردوں کا مقامی گائیڈ گرفتار، ابھی تک 150مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا :ایس ایس پی

جموں،19جون(یو این آئی) جموں وکشمیر پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ 9جون کو ریاسی میں یاترا گاڑی پر ہوئے حملے میں ملوث ایک ہارڈ کورملی ٹینٹ معاون کو دھر دبوچ کر سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاسی ضلع میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران 150مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
ریاسی میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران ایس ایس پی موہتا شرما نے کہا کہ 9جون کو شیو کھوری مندر سے واپسی کے دوران دہشت گردوں نے یاترا بس پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں دس یاتری جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہاکہ پولیس نے معاملے کی نسبت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی جس دوران متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کی گئی۔
ایس ایس پی نے کہاکہ پولیس کو کل اس وقت ایک بڑی کامیابی ملی جب حملہ آوروں کی مدد و اعانت کرنے والے شخص حکیم الدین ولد ایم اے خان ساکن سائدہ نالہ راجوری کو حراست میں لیا گیا ۔
انہوں نے بتایا کہ دوران پوچھ گچھ گرفتار ملی ٹینٹ اعانت کار نے قبول کیا اس نے ریاسی حملے میں ملوث دہشت گردوں کو کئی روز تک اپنے گھر میں رکھا اور انہیں نہ صر ف کھانے پینے کی اشیاءفراہم کی بلکہ جائے وقوع تک بھی پہنچایا۔
ایس ایس پی نے کہاکہ گرفتار ملی ٹینٹ اعانت کار نے بطور گائیڈ کام اور دہشت گردوں کو علاقے کے بارے میں مکمل جانکاری فراہم کی ۔
ان کے مطابق ریاسی بس حملے میں حکیم الدین نے کلیدی کردا ر ادا کیا اور اسکی گرفتاری سیکورٹی فورسز کے لئے بہت بڑی کامیابی ہے۔
ایس ایس پی سے جب سوال کیا گیا کہ حملے کے بعد کتنے افراد کو گرفتار کیا گیا تو اس نے بتایا کہ ابھی تک 150مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ حملہ میں کتنے دہشت گرد ملوث ہیں کے جواب میں ایس ایس پی نے کہاکہ تین ملی ٹینٹوں نے اس حملے کو انجام دیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ریاسی ضلع میں اس وقت ہائی الرٹ جاری کیا گیا اور شیو کھوری مندر پر ملک کی مختلف ریاستوں سے یاتریوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
گرفتار اعانت کار کے قبضے سے برآمدگی کے بارے میں پوچھے گئے ایک اور سوال کے جواب میں ایس ایس پی نے کہاکہ اس کے قبضے سے کوئی قابل اعتراض شئے یا اسلحہ وگولہ بارود برآمد نہیں تاہم چھ ہزار روپیہ ضبط کئے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معاملے کی باریک بینی سے تحقیقات جاری ہے اور مزید گرفتاریوں کو خارج از امکان قرار نہیں دیاجاسکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں