0

سالانہ امرناتھ یاترا کو آسان بنانے اور خراب موسمی صورتحال میں یاترا کو بنا کسی خلل جاری رکھنے کیلئے اقدامات

جی ایس آئی نے پہلگام کے ساتھ ساتھ بال تل کے راستوں پر روپ وے اور ایک سرنگ بنانے کی سفارش کی
حکومت کو متعدد سفارشات پیش کی گئی، جن پر اب ترقیاتی منصوبوں کو عمل میں لاتے ہوئے غور کیا جا رہا ہے
سرینگر/26اکتوبر/ایس این این// سالانہ امرناتھ یاترا کو آسان بنانے اور خراب موسمی صورتحال میں بھی یاترا کو بنا کسی خلل جاری رکھنے کیلئے جیولوجیکل سروے آف انڈیا (جی ایس آئی) نے پہلگام کے ساتھ ساتھ بال تل کے راستوں پر روپ وے اور ایک سرنگ بنانے کی سفارش کی ہے۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق سالانہ امرناتھ یاترا کے دوران یاتریوں کیلئے یاترا کو آسان بنانے کیلئے جیولوجیکل سروے آف انڈیا (جی ایس آئی) نے پہلگام کے ساتھ ساتھ بال تل کے راستوں پر روپ وے اور ایک سرنگ کی سفارش کی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ جیولوجیکل سروے آف انڈیا کے جموں و کشمیر اور لداخ یونٹ نے حال ہی میں حکومت جموں و کشمیر کو کچھ رپورٹیں پیش کی ہیں جو لینڈ سلائیڈ کے شکار علاقوں میں کئے گئے تفصیلی مطالعات پر مبنی ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ اس رپورٹ میں لینڈ سلائیڈ کے شکار علاقوں کی نشاندہی کرنے کے علاوہ، جی ایس آئی نے حکومت کو متعدد سفارشات پیش کی ہیں، جن پر اب ترقیاتی منصوبوں کو عمل میں لاتے ہوئے غور کیا جا رہا ہے۔ ان سفارشات میں جموں سرینگر شاہراہ، مغل روڈ اور امرناتھ یاترا کے دونوں راستوں وغیرہ شامل ہے۔ جہاں تک امرناتھ یاترا کے راستوں کا تعلق ہے، جی ایس آئی نے کئی مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں یاترا کو آسان بنانے اور موسم کی خرابیوں کی وجہ سے رکاوٹوں سے بچنے کیلئے تکنیکی مداخلت کی ضرورت ہے۔گزشتہ سال امرناتھ گھپا کے قریب آنے والے تباہ کن سیلاب کو مدنظر رکھتے ہوئے جیولوجیکل سروے آف انڈیا نے شرائن بورڈ کو مستقبل میں ندی کے کنارے کسی بھی قسم کا بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کے خلاف خبردار کیا ہے۔ ذرائع نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ GSI نے اسی علاقے میں مناسب جگہ کی نشاندہی کی ہے جہاں عارضی طور پر اس کے ساتھ ساتھ مستقل انفراسٹرکچر بھی سیلاب کے خوف کے بغیر بنایا جا سکتا ہے۔ذرائع نے بتایا ”اگلے سال کی امرناتھ یاترا کے دوران اس بات کا امکان ہے کہ شرائن بورڈ ہر طرح کے بنیادی ڈھانچے کی تخلیق کیلئے اس جگہ کو ترجیح دے گا کیونکہ یہ سخت پتھروں کے ساتھ فلیٹ سطح مرتفع ہے“۔ جہاں تک پہلگام یاترا کے راستے کا تعلق ہے، جی ایس آئی نے یاتریوں کی سہولت کیلئے چندنواری اور پسو ٹاپ کے درمیان مسافر روپ وے تجویز کیا ہے۔ اس حصے کو مشکل سمجھا جاتا ہے کیونکہ پسو ٹاپ سطح سمندر سے 11500 فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور چندنواری سے کافی بلندی پر ہے۔اس کے علاوہ، جیولوجیکل سروے آف انڈیا نے پہلگام امرناتھ روٹ پر مہاگنش ٹاپ اور پوش پاتھری کے درمیان سرنگ اور گنیش ٹاپ کے علاقے میں بیٹری سے چلنے والی کاروں یا کارٹس کو چلانے کی سفارش کی ہے۔بالتل یاترا کے راستے کے بارے میں، جی ایس آئی نے برائنارہ اور سنگم اور اس طرح کے دیگر مقامات کے درمیان روپ ویز کی سفارش کی ہے ذرائع نے مزید بتایاکہ اگر حکومت ان سفارشات پر غور کرتی ہے تو یاترا ہموار ہو جائے گی۔ کیونکہ زیادہ تر مسائل والے علاقوں کو نظرانداز کر دیا جائے گا۔جہاں تک جموں سرینگر شاہراہ کا تعلق ہے، جیولوجیکل سروے آف انڈیا کے تجویز کردہ لینڈ سلائیڈ مینجمنٹ پلان کے ایک حصے کے طور پر مروگ اور بانہال کے درمیان پوری سیدھ کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں