0

سب انسپیکٹر جے ای جل شکتی تحریری امتحان کے سلسلے میں جموں و کشمیر انتظامی کونسل کی کارروائی رپورٹ کاجائزہ لینے کے بعد ریزلٹ شائع کرنے یانہ کرنے کی ہدایت

سرینگر/ 03نومبر/اے پی آئی جموں وکشمیر سرکار نے سروس سلیکشن بورڈ کو جموں وکشمیر پولیس سب انسپیکٹرجے ای جل شکتی امتحانی لسٹ کو رپورٹ کاجائزہ لینے کے بعد شائع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے جموں وکشمیر پولیس سب انسپیکٹر اور جل شکتی محکمہ میں رُکے پڑے ریزلٹ کامعاملہ سروس سلیکشن بورڈ کے میں ڈالااب متعلقہ ادارے کو امتحانی ریزلٹ شائع کرنے کی ذمہ داری ہے۔اے پی آئی نیوز کے مطابق جموں وکشمیر پولیس سب انسپیکٹر فا ئنانس اکاونٹس اسسٹنٹوں اور جل شکتی محکمہ جونیرانجینئروں کی امتحانی لسٹ کاریزلٹ شائع کرنے کی یہ کہتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی کاجائزہ لینے کے بعد اگرسروس سلیکشن بورڈکو یہ لگتاہے کہ لئے گئے امتحان میں کسی بھی طرح کی بے ضابطگی بدعنوانی نہیں ہوئی ہے تو ریزلٹ سامنے لائے تاکہ بھرتی عمل کو یقینی بنایاجاسکے۔سرکار نے سروس سلیکشن بورڈ کو اس بات کی بھی جانکاری فراہم کی کہ تحقیقاتی رپورٹ کاجائزہ یا جائے اور اس کے بعد اقدامات اٹھائے جائے۔تحقیقاتی رپورٹ چند ماہ پہلے جموں کشمیرکے چیف سیکریٹری ڈاکٹرارون کمار مہتا کوروانہ کی گئی جنہوں نے تحقیقاتی رپورٹ کا جائزہ لیااور اپنی سفارشا ت سے بھی سروس سلیکشن بورڈ کو اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی اب یہ سروس سلیکشن بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ جموں و کشمیر پولیس کے سب انسپیکٹراسامیوں او جل شکتی محکمہ کے جونئر انجینئروں کے امتحانی ریزلٹ کوشائع کرنے یا کمپنی کی جانب سے لئے گئے امتحان کوقلع دم قرار دے۔جموں وکشمیر پولیس کے لئے جون 2021مین نوٹفلیشن اجراء کی جاتی ہے کی 8سو کے قریب سب انسپیکٹروں کی بھرتی عمل میں لانے ہے اور پھر ان اسامیوا کوبارہ سو تک بڑھادیاگیا۔اکتوبر 2021میں ایک او رنوٹس اجراء کی جاتی ہے جسکے تحت امیدواروں نے اپنے دستاویزات ڈال کئے۔27مارچ 2022کو پولیس اسب انسپیکٹرامتحانی لسٹ امتحان لیاجاتاہے تاہم لسٹ شائع ہونے کے بعد ہنگامہ برپاہوا کہ جموں و کشمیر سب انسپیکٹربھرتی لسٹ میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں عمل میں لائی گئی ہے۔ سرکار نے فوری طور پر ایڈشنل چیف سیکریٹری کی سربراہی میں تین نفری کمیٹی قائم کی جس نے ایک ماہ کے اندراندر اپنی رپورٹ سرکار کو پیش کی اور امتحان میں بے ضابطگیوں کاعندیہ دیتے ہوئے سی بی آئی کے زریعے تحقیقات کرنے کی سفارش بھی کی۔ سی بی آئی کی جانب سے چھاپوں اور تلاشی کارروائیوں کاسلسلہ شروع کیاگیا کئی افراد کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئی تحقیقاتی ادارے نے چارج شیٹ بھی داخل کیئے او رسرکار کواپنی رپورٹ پیش کی۔ سرکار نے کئی ماہ کی تاخیر کے بعد اب سروس سلیکشن بورڈ کوہدایت کی کہ وہ تحقیقاتی رپورٹ کاجائزہے اور اگر ادارے کو لگتا ہے کہ اس میں کوئی خامی بے ضابطگی نہیں ہے تو امحتانی ریزلٹ کو شائع کرے اب یہ سرو سلیکشن بورڈکی ذمہ داری ہے کہ وہ امتحانی ریزلٹ شائع کرے یا تحریری امتحان کو قلعدم قرار دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں