0

سرحد پار مقیم دہشت گردوں کی جائیداد ضبط کی جائے گی، ڈی جی پی

’’پاکستان میں مقیم دہشت گردوں کی جائیدادیں – جو یونین ٹیریٹری جموں کشمیر مختلف حصوں میں ہیں – ضبط کی جا رہی ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ہمارے پاس اُن دہشت گردوں، جو کشمیر ترک کرکے پاکستان میں رہائش پذیر ہیں، کی فہرست ہے۔‘‘ ان باتوں کا اظہار جموں و کشمیر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) دلباغ سنگھ نے بدھ کو صوبہ جموں کے سرحدی ضلع راجوری میں کیا۔

ڈی جی پی نے راجوری میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان دہشت گردوں، جو کشمیر ترک کرکے پاکستان میں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں، کی جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں اور یہ عمل مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا: ’’ان دہشت گردوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ وہ کنٹرول لائن کے اس پار بیٹھ کر دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔‘‘ دلباغ سنگھ نے مزید کہا: ’’ہمارے پاس دہشت گردوں کی ایک فہرست بھی ہے جو جموں و کشمیر کے باشندے ہیں اور یونین ٹیریٹری کے مختلف حصوں میں کام کر رہے تھے اور بعد ازاں پاکستان فرار ہو گئے۔‘‘دلباغ سنگھ نے دہشت گردوں کے متعلق زیرو ٹالرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’’ان پر کوئی رحم نہیں کیا جائے گا۔ اگر وہ واپس آنے کی کوشش کریں گے تو انہیں مار دیا جائے گا۔ یہ لوگ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کو بحال کرنے کی کوششوں کے پیچھے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’راجوری پونچھ میں 9-12 دہشت گرد (سرگرم) ہیں جن میں سے زیادہ تر غیر ملکی ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ وہ جنوبی کشمیر کے کولگام اور شوپیاں اضلاع سے راجوری – پونچھ رینج کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے، جن میں سے تین مارے گئے ہیں اور دوسروں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ ڈی جی پی کے مطابق ’’ایک دہشت گرد، جو شاید پہاڑوں سے پھسل گیا تھا، ریاسی میں مردہ پایا گیا۔ ایک اور راجوری انکاؤنٹر میں مارا گیا اور تیسرا ریاسی انکاؤنٹر میں مارا گیا جہاں آپریشن ابھی جاری ہے۔‘‘
راجوری پونچھ رینج میں کامیاب کارروائیوں پر پولیس، فوج اور سی آر پی ایف سمیت سیکورٹی فورسز کو مبارکباد دیتے ہوئے ڈی جی پی نے کہا: ’’باقی دہشت گردوں کا سراغ لگانے کے لئے آپریشن جاری رہے گا۔‘‘ کیا راجوری – پونچھ اضلاع میں دہشت گردی دوبارہ شروع ہو رہی ہے؟ اس سوال کے جواب میں ڈی جی پی نے کہا: ’’ہم کنٹرول لائن کے پار سے راجوری پونچھ رینج میں دہشت گردی کو بحال کرنے کی کوششوں کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں