0

سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر مریضوں کو غیر ضروری ادویات تفویض کرتے ہیں

دواساز کمپنیوں سے بیش قیمتی تحاءف حاصل کرنے کے چکر میں غریب مریضوں کا خون چوسا جارہا ہے

سرینگر;17اکتوبر;ایس این این;وادی کے ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹر صاحبان مریضوں کو 80فیصدی ادویات غیر ضروری تفویض کرتے ہیں کیوں کہ معالجین کو دواساز کمپنیوں کی ادویات کی سیل بڑھانی مطلوب ہوتا ہے تاکہ کمپنیوں کی طرف سے ڈاکٹروں کو مہنگے تحاءف مل سکیں ۔ تاہم غریب مریضوں کو خون پسینے کی کمائی دوا فروشوں کے حوالے کرنی پڑرہی ہے ۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق وادی کشمیر جو جعلی اور غیر میعاری ادویات کی منڈی کے بطورجانی جاتی ہے میں قائم ہسپتالوں میں ڈاکٹر مریضوں کو مرض کےلئے ضروری ادویات کے علاوہ کئی دوائیاں تفویض کرتے ہیں ۔ نزلہ زکام وسردرد جیسی معمولی بیماروں کے کئی اقسام کی ادویات تفویض کرتے ہیں جن میں توانائی بخش ادویات (ٹانک )بھی ہوتے ہیں ۔ ہسپتالوں کے باہر قائم ادویات کی دکانیں وہی دوائی رکھتے ہیں جو اند ر سے ڈاکٹر مریض کےلئے لکھتے ہیں ۔ سرکاری ہستالوں میں اکثر ایسے مریض علاج و معالجہ کےلئے آتے ہیں جن کی مالی حالت بہتر نہیں ہوتی ۔ اور جب ڈاکٹر ان کو مہنگی دوائیاں بازاروں سے خریدنے کی صلاح دیتے ہیں تو یہ ان کےلئے باعث پریشانی بن جاتا ہے کیوں کہ ہسپتالوں میں علاج و معالجہ کرانے کے بعد بھی ان کو دوائیوں پر خطیر رقم خرچ کرنی پڑرہی ہے ۔ ذراءع کے مطابق اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹر جو دوائی بازاروں سے خریدنے کےلئے لکھتے ہیں ان کو مریضوں کو خریدنے کے بعد دکھانے کےلئے کہا جاتا ہے تاکہ ڈاکٹر وں کو یہ اطمینان رہے کہ ادویات کمپنیوں کے نمائندوں نے جو دوائی لکھنے کےلئے کہا ہے یہ دوائی وہی ہے کہ نہیں ۔ اس طرح سے ڈاکٹر دواساز کمپنیوں کے مال کو زیادہ سے زیادہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ دواساز کمپنیوں سے مہنگے تحاءف حاصل کئے جاسکیں ۔ دواساز کمپنیوں کی جانب سے ڈاکٹر وں کو ایل سی ڈی، فریج، واشنگ مشنین، اعلیٰ قسم کے سمارٹ فون و دیگر چیزوں کے علاوہ دوائیاں زیادہ نکالنے کے عوض بیرون ملک و بیرون ریاست سیر سپاٹے کےلئے ہوٹل کی ٹکٹیں اور ہوائی سفر کی ٹکٹیں بھی دی جاتی ہے ۔ ایسے ڈاکٹر صاحبان ایسے غریب مریضوں کے خون پسینے کی کمائی سے اپنے لئے عیش و عشرت کا سامان حاصل کرتے ہیں ۔ ذراءع کے مطابق ایسے ڈاکٹر ایسی ہی کمپنیو ں کی دوائیاں تفویض کرتے ہیں جن کا منافع بہت زیادہ ہوتا ہے اس سے دکانداروں کو بھی فائدہ ملتا ہے اور دواساز کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں کی بھی چاندی ہوتی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں