0

سرکای اسکولوں میں سہولیات بہم پہنچانے تعلیم غبارے سے ہوا نکل گئی

سرینگر میں 175کے قریب اسکول اب بھی کرایہ پرچل رہے ہیں بیشتراسکولوں میں بجلی پانی او رلیبرریاں دستیاب نہیں
سرینگر/ 03نومبر/اے پی آئی سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم طاب کو بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کرنے کے محکمہ تعلیم کے غبارے سے اس وقت ہوا نکل گئی جب آر ٹی آئی کے تحت فراہم کی گئی جانکاری کے مطابق گرمائی دارلخلافہ سرینگر میں 175کے قریب اسکول کرایہ کے کمروں میں چل رہے ہیں۔سو سے زیادہ اسکولوں میں پینے کے پانی بجلی کی قلت یادستیاب ہی نہیں اور دو سو کے قریب اسکولوں میں لیبریاں بھی دستیاب نہیں ہے۔اے پی آئی نیوز کے مطابق جموں وکشمیر سرکار سرکاری اسکولوں میں زیرتعلیم طلاب پر ہر دن دو سو پچاس روپے سے زیادہ خرچ کرنے کادعویٰ کرتی ہے تاہم سرکاری اسکولوں کی حالت کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ سرکاری اسکولوں کی پچھلے کئی برسوں سے بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لئے اگرچہ اقدامات اٹھانا شروع کئے ہے تا ہم اب بھی وادی کے اطراف واکناف میں اسے اسکوں کی موجودگی پائی جاتی ہے جہاں نہ توسڑک رابطہ ہے اور نہ زیرتعلیم طلبہ وطالبات کوپینے کا پانی بجلی میسر ہے آر ٹی آئی کے تحت محکمہ تعلیم میں ایک شہری نے عرضی دائرکی تھی اور محکمہ تعلیم سے سرینگر میں سرکاری اسکولوں کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کامطالبہ کیااور مزکورہ شہری کو جوجانکاری فراہم کی گئی ان سے انسان کے روگھنٹے کھڑے کھڑے ہوتے ہے۔ گرمائی دارلخلافہ سرینگر میں 175کے قریب اسکول اب بھی کرایہ کے کمروں میں چل رہے ہیں 150کے قریب ہائرسکنڈریوں شہرسرینگر میں قائم ہے تاہم اطلاعات کے مطابق دوسوکے قریب ہائرسیکنڈری مڈل اور پرائمری اسکول بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔حق اطلاعات کے تحت چیف ایجوکیشن افسر سرینگر نے واجب الادا کرایہ کے بارے میں جانکاری فراہم کرنے سے تومعذرت ظاہرکی تاہم ا س بات کابھی انکشاف ہوا کہ ڈاون ٹاون سرینگر کے ٹاکن واری عیدگاہ کرن نگر ایسے علاقوں میں جوسرکاری اسکول قائم کئے گئے ہے وہاں پینے کے پانی کی قلت ہے اور بجلی بھی دستیاب نہیں ہے۔اطلاعات کے مطابق دو سوکے قریب ہائرسیکنڈریا ہائی اسکول اور دیگر اسکول لیبرریوں سے محروم ہیں۔محکمہ تعلیم کی جانب سے دی گئی جانکاری پر عوامی حلقوں نے حیرانگی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ ستم ظریفی یہ ہے کہ سرکار نے چار لاکھ کنال اراضی پر زبردستی قبضہ چھڑانے کادعویٰ کیاہے کیاان علاقوں میں ایسے کوئی اراضیٰ نہیں جہاں سرکاری اسکول تعمیر کئے جا ئے لوگوں کویہ بھی کہناہے کہ سرکاری اسکولوں میں اگرپینے کاپانی دستیا ب نہ ہواور بجلی کی فراہمی نہ ہو تو تعلیم کے ڈائریکٹراسکول ایجویشن کایہ دعویٰ کس حد تک صحیح ہے کہ ہم سردیوں کے ایام میں طلبہ کو گرمی کے انتظامات فراہم کرسکتے ہیں۔اگرمحکمہ تعلیم ایک اسکول کابجلی فیس اداکرنے کے قابل نہیں ہے توکیاایک سرنڈر جسکی قیمت ایک ہزار کے قریب ہے اور اسکول میں دس کمرے ہو کیا وہاں دس ہزا رروپے ہرماہ محکمہ تعلیم خرچ کرنے کے قابل ہے۔عوامی حلقوں کاکہناہے روس جاپان امریکہ یادوسرے ممالک میں وادی کشمیر سے زیادہ برف گرتی ہے جو لوگوں کے لئے وبالجان بھی بنتی ہے تاہم وادی کشمیرمیں برفباری روس جاپان چین اور دوسرے ممالک کے مقابلے میں کم گرتی ہے۔جن ممالک میں کشمیرکے مقابلے میں زیادہ بر ف گرتے ہے وہاں اسکول بند نہیں ہوا کرتے تعطیلات کااعلان نہیں کیاجاتا وہاں سال بھراسکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں درس وتدریس کاکام جاری رہا ہے دنیامیں کشمیر ایسی واحدجگہ ہے جہاں گرمیوں میں بھی تعطیلات سردیوں میں بھبی چھٹیاں منائی جاتی ہے ایک سرکاری اسکول کااستاد پچاس ہزار سے زیادہ کی تنخواہ حاصل کرتاہے اسے سردیوں کے ایام میں تین ماہ اور گرمیوں کے ایام میں تین ماہ گھربیٹھے تنخواہ دی جاتی ہے اور طلاب کو120 دن تعطیلات کے جب کہ 48اتوار دس سے پندرہ چھٹیاں ایسی ہوتی ہے جومقدس ایام یوم جمہوریہ یوم آزادی کے طور پربھی منائے جاتے ہے ا و راس طرح ایک سال میں چھ ماہ چھٹیوں کے تحت گزر جاتے ہے او رچھ ماہ میں سرکاری اسکولوں میں سیلبس مکمل کرنے کی تلقین کی جاتی ہے حالانکہ اسکولوں میں تدریسی عملہ اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیامحکمہ تعلیم کوچاہئے کہ ایک منصوبہ بنا ئے یااخراجات پرنظردوڑائی اورسہولیات کے لئے اقداما تااٹھائے تاکہ بیلنس برقرار ر ہے خیالی پلاؤپکانے کے بجائے اگرعملی اقدامات اٹھائے جائے تووہ بہترہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں