0

سرینگر کے معروف سنڈے مارکیٹ میں لوگوں کا بھاری رش

لوگوں کی بڑی تعداد نے گرم ملبوسات کے ساتھ ساتھ دےگر اشےائے ضرورےہ کی خرےداری کی

سرینگر ;223;08اکتوبر ; ایس این این ;;سرینگر کے سنڈے مارکیٹ میں لوگوں کی بھاری رش دیکھنے کو ملا اور سخت گہما گہمی کے دوران لوگوں نے اشیاء خوردنی کے ساتھ ساتھ ملبوسات اور دےگر سازوسامان کی خرےدوفروخت کی ۔ اسی دوران ناجائیز منافع خوروں کی طرف سے چھوٹ کے نام پر لوٹ کا بازار گرم تھا اور لوگوں کو دو دو ہاتھوں لوٹنے کی کوئی بھی کثر باقی نہیں چھوڑی گئی ۔ ایس این این سٹی رپورٹر نے اس ضمن میں مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ شہر سرینگر کے مشہور سنڈے مارکیٹ میں غےر معمولی رش دےکھنے کو ملا جس دوران لوگوں کی بڑی تعداد نے آج بھی ملبوسات کے ساتھ ساتھ دےگر اشےائے ضرورےہ کی خرےداری کی ۔ بھاری عوامی رش کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سرینگر کے لالچوک، گھنٹہ گھر، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، اوت پولو گرونڈ کے علاوہ دیگر علاقوں کے بازاروں میں لوگوں کی بھاری بھیڑ تھی ۔ سڑکوں پر جگہ جگہ پرچھاپڑی فروشوں نے چھاپڑی لگائی تھی جن پر ملبوسات کے ساتھ ساتھ کھلونے کی چےزےں سجائی گئی تھی ۔ لالچوک میں لوگوں صبح سے ہی خریداری کرنے میں مصروف رہے تاہم منافع خوری عروج پر تھی اور محکمہ امور صارفین کے چیکنگ سکارڈ وں کا کوئی اتہ پتہ نہیں چل تھا ۔ سنڈے مارکیٹ میں لوگوں کی آمدصبح سے شروع ہو گئی اور اس سلسلے میں لالچوک میں دن بھر لوگ خریداری میں مصروف دکھائی دئے ۔ چنانچہ دن گزرنے کیساتھ ساتھ شہر سرینگر کے بازاروں میں رش بڑھتا گیا اورلوگ خریداری میں مصروف تھے ۔ لوگ جن مےں خواتےن کی بڑی تعداد شامل تھی ،اشےائے ضرورےہ اور خوردنوشی کے دےگر چےزوں کی خرےداری مےں مصروف تھے ۔ بھاری رش کی وجہ سے سڑکوں پر ٹرےفک جام کے مناظر دےکھنے کو ملے جس کی وجہ سے لوگوں کو چلنے پھرنے مےں دشوارےوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ اسی دوران ناجائیز منافع خوروں کی طرف سے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا تھا اور چھوٹ کے نام پر لوٹ کا بازار گرم کیا گیا تھا ۔ سٹی رپورٹر کے مطابق منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کی طرف سے چیزوں پر نقلی لیبل لاگر لوگوں کو بے قوف بنانے اور ان کو لوٹنے کے لئے کاروائیاں دن بھر عروج پر تھی اور اس کے لئے چیکنگ اسکاڈ کا کئی نام و نشان موجود نہیں تھا ۔ ادھرپوری وادی میں مہنگائی اور مافیا ازم کو تقویت پہنچائی جار ہی ہے غریب لوگوں کا جینا ناممکن ہو کر رہ گیا ہے اور انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو راحت پہنچانے کے ضمن میں صرف دعوئے اوروعدئے کئے جا رہے ہیں جنہیں حقیقت کے ساتھ کوئی واسط نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں