0

سری نگرمیںجی 20 ٹورازم ورکنگ گروپ میٹنگ کے بعد غیر ملکی سیاحوں کی جموں وکشمیر آمدمیں350 فیصد اضافہ: لیفٹیننٹ گورنر

پتھراﺅ اور ہڑتال قصہ پارینہ،90 فیصد لوگ مطمئن
حکومت کو 86ہزارکروڑ روپے کی تجاویز موصول،ششمائی دربارمﺅروایت ختم ہونے سے خزانہ عامر ہ کو کروڑوں کے بوجھ سے ملی نجات
کشمیری تارکین وطن کی بحالی جاری،6000 ملازمتوں اور6000 مکانات کی منظوری،23 کے بغیر تمام آسامیوں پ ±ر :منوج سنہا
سری نگر:۶، نومبر: جے کے این ایس : جموں وکشمیرکے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیرکوکہا کہ اس سال مئی میں سری نگر میں جی 20 ٹورازم ورکنگ گروپ کی میٹنگ کے بعد کشمیر آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں 350فیصد اضافہ ہوا ہے۔انہوںنے زور دے کر کہا کہ کشمیر وادی میں پتھراو ¿ تاریخ کا حصہ بن گیااوراب لوگ بند کال وغیرہ کی کوئی ڈکٹیشن کے بعد اپنی مرضی سے زندگی بسر کررہے ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق نئی دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ جموں میں امرناتھ جی یاتریوں کے لئے مزید3 بھون تعمیر کئے جائیں گے جس کےلئے لوگوں نے 200 کروڑ روپے دئیے ہیں جبکہ سری نگر کے پانتھ چوک میں 3.5 ایکڑ اراضی میں ایک اور بھون تعمیر کیا جا رہا ہے۔کشمیری تارکین وطن(مہاجرین ) کے لئے بحالی کی اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے،منوج سنہا نے کہا کہ کشمیر میں ان کے لیے2مرحلوں میں 6000 ملازمتیں اور6000 مکانات کی منظوری دی گئی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ23 آسامیوں کو چھوڑ کر، تمام آسامیاں پ ±ر کر دی گئی ہیں اور یہ23 آسامیاں بھی جلد دی جائیں گی۔انہوںنے کہاکہ اس سے پہلے صرف665 مکانات بنتے تھے لیکن اب ہم نے1665 مکانات دئیے ہیں۔ مزید 1789 گھر اگلے مارچ سے پہلے تیار ہو جائیں گے جبکہ تمام گھر 2024 میں مکمل ہو جائیں گے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے مزید کہا کہ وہ کشمیری تارکین وطن اور باقی اقلیتوں کےساتھ ان کی صورتحال پر مسلسل رابطے میں ہیں۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ صورتحال بدل گئی ہے اور 90 فیصد لوگ مطمئن ہیں،منوج سنہا نے کہا کہ کشمیر میں رات کی زندگی، موسیقی اور سنیما لوٹ آئے ہیں اور اگلی نسل اعتماد سے بھری ہوئی ہے۔انہوںنے کہاکہ پتھراو ¿ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ پاکستان اور ان کے سازشیوں کی طرف سے ہڑتال کی کالوں سے وادی میں اب کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہاکہ تعلیمی ادارے اور کاروبار خوش اسلوبی سے چل رہے ہیں۔ لوگ کسی حکم کی پیروی نہیں کرتے ہیں اور اپنی مرضی سے زندگی گزار رہے ہیں۔منوج سنہا نے مزید کہا کہ حکومت ہند نے اس صورتحال میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مخالف کی طرف سے منفی کوششوں کے باوجود بابا امرناتھ اور ماتا ویشنو دیوی کے آشیرواد سے اس سال مئی میں کشمیر میں جی 20 ٹی ڈبلیو جی کا اجلاس کامیابی سے منعقد ہوا،اورسب کچھ ٹھیک رہا۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے مزید کہا کہ گزشتہ برس سیاحوں کی تعداد جو پچھلے سال 1.86 کروڑ تھی، اس سال 2.25 کروڑ تک پہنچنے کی امید ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جی 20 کے اثرات کی وجہ سے غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں 350 فیصد اضافہ ہوا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر میں شری امرناتھ جی یاتریوں کے لیے آنے والی سہولیات کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ یاتریوں کےلئے سری نگر شہر کے پانتھا چوک میں3.5 ایکڑ اراضی میں ایک بھون تعمیر کیا جا رہا ہے جو اگلے سال یاترا شروع ہونے سے پہلے مکمل ہو جائے گا اور یاتری وہاں قیام کر سکیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں میں بھون کے اندر بابا امرناتھ جی کی نقل اور ایک مندر بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔منوجسنہا نے کہا، ایک بھون مکمل ہو چکا ہے جبکہ تین مزید تعمیر کیے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ ان بھونوں کے لیے فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہے کیونکہ لوگوں نے 200 کروڑ روپے دیے ہیں۔ہم بھونوں کو جلد از جلد تعمیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ 54سے55 سرکاری ملازمین کو ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر خدمات سے برخاست کر دیا گیا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا اور جن لوگوں نے ملی ٹنٹوں کی مدد کی ہے اُنہیں سرکاری رقم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کا نام لیے بغیرمنوج سنہا نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے تھے کہ کشمیر میں ہندوستانی جھنڈا اٹھانے والا کوئی نہیں ہوگا لیکن اب صورتحال ایسی ہے کہ پلوامہ اور شوپیاں اضلاع میں بھی جھنڈوں کی کمی ہے۔صنعتی سرمایہ کاری کے بارے میں، انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد سے، جموں و کشمیر کو 14ہزار کروڑ سے 15ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری حاصل ہوئی ہے لیکن مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی کوششوں سے نئی صنعتی ترقی کی اسکیم کے آغاز کے بعد، یوٹی حکومت کو 86ہزارکروڑ روپے کی تجاویز موصول ہوئی ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ 30ہزار کروڑ روپے کی تجاویز زمین پر ہیں اور یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔انہوں نے جموں و کشمیر میں2سالہ دربار موروایت کے خاتمے کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فائلوں سے لدے 700 ٹرک ہر 6 ماہ بعد منتقل ہوتے تھے جبکہ سری نگر میں900 کمرے اور جموں میں 700کمرے کرائے پر لئے جاتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے اس روایت کو ختم کر دیا اور اب تمام دفاتر کو ای دفاتر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں