0

سونہ مرگ پہلگام گلمرگ جھیل ڈل کے لئے عدالتی احکامات واضح پویتر غفا تک سڑک تعمیرکرنا عدالتی احکامات کی سرہن خلاف ورزی /عمرعبداللہ

سرینگر/ 07نومبر/اے پی آئی ماحولیات امر ناتھ غفا تک باوڈر روڑ آرگنائزیشن کی سڑک نکالنے کی کارروا ئی کو عدالتی احکامات کی سر ہن خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ اور این سی کے نائب صدر نے کہاکہ ماحولیات کوتحفظ فراہم کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے سرکار ایک مقدس جگہ کو خود نقصان پہنچانے کے در پرہے جھیل ڈل پہلگام گلمرگ سونہ مرگ کے بارے میں عدالت کے احکامات واضح ہے اور یہ کس طرح سے ممکن ہوا کہ امرناتھ شرائن بورڈ جموں وکشمیر انتظامیہ نے پویتر غفا تک سڑ ک لے جانے کی کارروا ئی انجام دی۔اے پی آئی نیوز کے مطابق نوا ئے صبح کمپلیکس میں پارٹی کا رکنوں لیڈروں کے ساتھ میٹنگ کے بعد زررائع ابلاغ کے سوالوں کاجواب دیتے ہوئے این سی کے نائب صدر اور جموں و کشمیرکے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے باڈر وڑآرگنائزیشن میں بالتل سے غفاتک سڑک تعمیرکرنے کی کارروائی کوعدالتی احکامات کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہاکہ پہلگام سونہ مرگ گلمرگ جھیل ڈل کے بارے میں عدالت کے احکامات واضح ہے کہ ان علاقوں میں کسی بھی طرح کی تعمیرات پر پابندی عائد ہے پھر یہ کیسے ممکن ہوا کہ سرکا ر امرناتھ غفا تک گاڑی لے جانے کی کوشش کررہی ہے۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا ہم نے ماحولیات کوآلودگی سے بچانا ہے اسمیں کوئی سیاست نہیں اگر پہلگام یاجھیل ڈل کے ارد گرد لوگوں کو اپنے پرانے مکانوں کی مرمت کرنے کی ہاوس بوٹوں کی اس سر نو مرمت کی اجازت نہیں ہے تو پھر سونہ مرگ میں کس طرح سے ا سکی طرح کی کارروا ئی عمل میں لائی گئی۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ ماحولیات کاہے سطح سمندر سے ہزاروں فٹ بلند علاقے میں پویتر غفا ہے اور ماحولیات کی آلودگی سے اس سے نقصان پہنچے کااحتمال خارج نہیں کیاجاسکتا۔ سرکار نے اسکی اجازت کیسے دے دی۔انہوں نے ایل جی سے مطالبہ کیا اس معاملے پرنظرثانی کی جانی چائیے و راقدامات کوالتواء میں ڈالاجائے۔سابق وزیراعلی نے سرکاری ملازمین کواحتجاج کرنے اور اپنے مطالبا ت منوانے پراجازت نہ دینے پر فکر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا اگرسرکار چاہتی ہے کہ ملازمین سڑکوں نکل ناآئے تو ایسا لائحہ عمل ہوناچا ہئیے کہ ملاز مین کے مسائل حل ہواو رسرکار تک اپنی آوازپہنچ سکے۔سابق وزیر اعلیٰ نے انڈیااتحاد میں بھی سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہ ہونے کاانکشاف کرتے ہوئے کہا اسمبلی الیکشن شروع ہونے کے بعد سماج وادی پارٹی کانگریس اور جے ڈی یو کے مابین اختلافات سامنے پیشن آنے کے بعد اس پر تبادلہ خیال کیاجائیگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں