0

سکم میں بادل پھٹنے کے بعد دریائے تیستا میں اچانک سیلاب کی وجہ سے ہر سو تباہی کا منظر

14 افراد ہلاک ،22 فوجی اہلکاروں سمیت 102 افراد لاپتہ ، بچاءو آپریشن ہنگامی بنیادوں پر جاری

سرینگر ;223;05اکتوبر ; ایس این این ;سکم میں بادل پھٹنے کے بعد دریائے تیستا میں اچانک سیلاب کی وجہ سے ہر سو تباہی کا منظر ہے ۔ جس دوران 14 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ 22 فوجی اہلکاروں سمیت 102 افراد لاپتہ ہیں ۔ خیال رہے کہ گزشتہ سیلاب کے دوران 23 فوجی اہلکار لاپتہ ہوئے تھے لیکن ایک فوجی کو بچا لیا گیا تھا، اس کا علاج جاری ہے اور اس کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے ۔ ایس این این مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق سکم میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جس دوران 22 جوانوں سمیت 102 افراد لاپتہ جبکہ 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں ۔ بادل پھٹنے سے آنے والے سیلاب کی وجہ سے گنگٹوک میں 3 افراد ہلاک، 22 افراد لاپتہ اور 5 افراد زخمی ہیں ۔ منگن میں 4 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور 16 افراد کا کوئی سراغ نہیں مل رہا ۔ پاکیونگ میں 7 افراد ہلاک اور 59 افراد اور 23 فوجی اہلکار لاپتہ ہیں اور 21 افراد زخمی ہیں ۔ نامچی میں سیلاب کی وجہ سے کسی کی موت نہیں ہوئی اور 5 افراد لاپتہ ہیں ۔ خیال رہے کہ شمالی سکم میں لوناک جھیل پر منگل کی رات اچانک بادل پھٹنے کی وجہ سے دریائے تیستا میں اچانک سیلاب آ گیا تھا ۔ تیستا سیلاب کے باعث لوناک جھیل کا تقریباً 65 فیصد حصہ بہہ گیا ۔ دریا کے کنارے بنایا گیا آرمی کیمپ بھی سیلاب کی زد میں آ گیا جس کے باعث فوجی جوان بھی پانی میں بہہ گئے ۔ یہاں کھڑی تقریباً 41 گاڑیاں بھی پانی میں ڈوب گئیں ۔ دوسری طرف کابینہ سکریٹری راجیو گوبا کی صدارت میں نیشنل کرائسز مینجمنٹ کمیٹی (این سی ایم سی) نے بدھ کو میٹنگ کی اور سکم کی صورتحال کا جائزہ لیا ۔ سکم کے چیف سکریٹری نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے میٹنگ میں شرکت کی اور کمیٹی کو ریاست کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا ۔ انہوں نے کمیٹی کو راحت اور بچاوَ کے اقدامات کرنے میں ریاستی حکومت کی کوششوں کے بارے میں بھی بتایا ۔ ہوم سکریٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت داخلہ کے دونوں کنٹرول روم صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہر ممکن مدد فراہم کی جارہی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں