0

سیگریٹ تمباکوں نوشی کے خلاف چلائی جانے والی مہم سردخانے کی نظر

عوامی جگہوں،اسکولوں،ہائرسیکنڈریوں کے ارد گرد تمباکوں سے بنی مصنوعات کی خرید فروخت میں اضافہ
سرینگر/ 2نومبر/اے پی آئی جموں وکشمیر میں سیگریٹ تمباکوں نوشی کے بعد ناکام عوامی جگہوں اسکولوں کے قریب تمباکوں سے بنی مصنوعات کی خرید فروخت جاری،ملک میں تمباکوں اور سیگریٹ نوشی میں جموں وکشمیر چھٹے درجے پر ملک میں ہماچل پردیش ایسا واحد ریاست ہے جہاں سب سے کم تمباکوں اور سیگریٹ نوشی میں لوگ عادی ہیں۔اے پی آئی نیوز کے مطابق سیگریٹ اور تمباکوں نوشی کے خلاف سرکار این جی اوز اور دوسرے رضاکار اداروں کی جانب سے چلائی جانے والی مہم بے معنیٰ ہوکررہ گئی ہے اور وادی کشمیرمیں بالخصوص تمباکوں اور سیگریٹ نوشی میں دن بدن اضافہ ہوتاجارہاہے۔ سرحدی ضلع کپوارہ اور جنوبی کشمیر کاپہاڑی ضلع سیگریٹ اور تمباکوں نوشی سے سر فہرست وادی کشمیرمیں 31%لوگ سیگریٹ اور تمباکوں نوشی کے عادی ہے جہاں تک عوامی جگہوں پرتمباکوں سے بنی مصنوعات کی خرید فروخت پرپابندی عائد کرنے کاتعلق ہے وہ بھی کھوکھلاثابت ہورہاہے۔ کالجوں اسکولوں ہائرسیکنڈریوں کے دو سو گزکے دائرے میں اگرچہ ایسے مصنوعات فراخت کرنے پرپابندی ہے تاہم جہاں تک وادی کشمیرکوتعلق ہے تمباکوسے بنی مصنوعات کھلم کھلافروخت بھی کی جاتی ہے او رخریدی بھی جاتی ہے۔ کپوارہ میں 50-55%آبادی شوپیاں میں 50-52%اننت ناگ بانڈی پورہ میں 39%گاندربل میں 42%سرینگر میں 38%لوگ سیگریٹ اور تمباکوں نوشی کے عادی ہے مجموعی طور پروادی کشمیرمیں 35.2%مرد اور 5%خواتین تمباکوں سیگریٹ نوشی کی عادی ہیں۔صوبہ جموں میں 42%لوگ اس لت میں مبتلاہے۔جہاں تک تمباکوں سے بنی مصنوعات سیگریٹ اور تمباکوں نوشی پرپابندی عائدکرنے کے خلاف مہم چلانے کاتعلق ہے وہ سرد پڑگئی ہے۔ مختلف مکتب ہائی فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا مانناہے کہ سرکار سیگریٹ تمباکوں سے بنی مصنوعا ت کی خرید فروخت کواس لئے یقینی بناتی ہے کہ ا سے سرکاری خزانے اورپانچ سے سات فیصد ٹیکس کی صورت میں امدانی حاصل ہوتی ہے او رسرکار کروڑوں روپے کی امدنی سے سرکاری خزانے کومحروم نہیں کرسکتی ہیں۔جموں و کشمیر ملک کی واحدایسی ریاست ہے جوپسماندہ ہے جہاں امدانی کے وسائل محدودہے اور غریب لوگ زیادہ تر تمباکوں اور سیگریٹ نوشی کی طرف مائل ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جب سرکاری امدانی سے محروم ہونے کے لیے تیار نہیں ہے اور پبلک مقاما ت پراس طرح کی مصنوعات فروخت کرنے پرپابندی بے معنی ہوکر رہ جائے گی تو طلبہ طالبا ت دیکھادیکھی میں وہ سب کچھ کرتے ہے جسکی ممانیت ہے صورتحال اسقدر بگڑچکی ہے ہائرسیکنڈریوں میں زیرتعلیم سومیں سے چالیس فیصد طلبہ وطالبات سیگریٹ نوشی کے عادی ہوچکیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں