0

شہتوت اخروٹ چنار کے بعد اب کسانوں کو سیب کے درختوں پر کاٹنے کی پابندی

معاملہ لازمی ہونے کے بعد درختوں کوکاٹنے کی اجازت تحصیلدار سے اجازت حاصل کرنا ضروری
سرینگر/ 07نومبر/اے پی آئی کسانوں کے لئے سرکار کی جانب سے ایک اور حکم نامہ بغیر اجازت کے کوئی بھی کسان اپنے سیب کے درخیوں کاصفایانہیں کریگا تحصیلد ار کی اجازت لازمی۔ا ے پی آ ئی نیوز ڈیسک کے مطابق وادی کشمیرمیں مہاراجہ ہری سنگھ کے دور میں شہتوت،اخروٹ،چنار کے درختوں کوکاٹنے پرپابندی تھی مہاراجہ نے اپنے وقت میں ایسا فیصلہ کیوں لیتا تھا اسکے پس منظر میں جائے بغیر اب سرکار نے فیصلہ لیاہے کہ کوئی بھی کسان اپنے سیب کے درختوں کو اس وقت تک نہیں کاٹے گاجب تک نہ وہ متعلقہ تحصیلدار سے اس کی اجازت حاصل کریگا۔وادی کے طول ارض میں باغ مالکان اپنے سیب کے درختوں کوکاٹ کران کی جگہ ہائی ڈنسٹی سیب کے درختوں کو لگانے کی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔باغ مالکان کی اس کارروائی سے جہاں سیب کی پیداوار متاثر ہونے کے خطرات پیدا ہوگئے ہے وہی ماحولیات بھی آلودہ ہونے کے امکانات کوخارج نہیں کیاجا سکتا۔اب سرکار نے فیصلہ کیاہے کہ سیب کی پیداوارکوبرقرار رکھنے ماحولیات کوآلودگی سے پاک رکھنے کے لئے باغ مالکان کو سیب کے درختوں کوکاٹنے کی اجازت نہیں ہوگی تاہم اگرایسا کرنا ضروری ہوگا تو وہ متعلقہ تحصیلدا رکے دفتر میں درخواست جمع کریگے۔ محکمہ مال باغبانی او رزراعت کی ٹیمیں باغ مالکان کے سیب کے باغ کامعائنہ کریگے کہ آیایہ درخت بوسیدہ ہو چکے ہے اور ان درختوں سے فصل کی پیداوار ممکن نہیں یایہ لوگوں کے لئے وبا لجان ہے اگرایسی کوئی صورتحال ہوگی تو سیب کے درختوں کوکاٹنے کی اجازت ہوگی اوراس طرح کی کوئی صورتحال نہیں ہوگی تو سیب کے درختوں کو کاٹنے پر پابندی عائد ہوگی تاہم باغ مالکان پرانے درختوں کے ساتھ ساتھ ہائی ڈائنسٹی سیب کے درختوں کو لگانے کی اجازت ہوگی اس کے لئے انہیں پرانے درختوں کوکاٹنے کی ضرورت نہیں پڑیگی اس کے لئے انہیں محکمہ باغ بانی سے باضابطہ طورپر تربیت اور جانکاری بھی دی جائیگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں