0

ضلع اننت ناگ میں سرکاری دفاتر کرایہ کے کمروں میں چالئے جاتے ہیں

قدیم ضلع ہونے کے باوجود منی سیکٹریٹ نہ ہونے سے آج ایک جگہ تو کل دوسری جگہ کام چلایاجاتا ہے
سرینگر/29اکتوبر/وی او آئی//ضلع اننت ناگ میں مختلف سرکاری دفاترکرایہ کی عمارتوں میں کام کاج چلاتے ہیں جبکہ کچھ عرصہ بعددفاتردوسروں پرائیویٹ کرایہ کے کمروں میں منتقل کردیئے جاتے ہیں اس طرح سے ایک جگہ دفاترنہ ہونے کی وجہ سے عام لوگوں کومشکلات کاسامنارہتا ہے۔لوگوں کامطالبہ ہے کہ ضلع میں منی سیکٹریٹ قائم کیاجائے جہاں پر تمام ضلع دفاتر ایک ہی جگہ رہ سکیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کا اننت ناگ سب سے پُرانا ضلع ہے ضلع اننت ناگ جواہر ٹنل سے پانپور تک تھا۔اور،پلوامہ، کولگام اور شوپیاں اسی ضلع سے اعلیحدہ ہوا ہے اور یہ اضلاع بعدمیں وجود میں آنے کے باوجود بھی ہرسہولیت سے لیس ہیں۔جہاں کولگام، پلوامہ اور شوپیاں میں منی سیکٹریٹ موجود ہیں وہیں ضلع اننت ناگ میں کوئی بھی منی سیکٹریٹ موجود نہیں ہے۔ سرکاری دفاتر کل ایک کرایہ کی بلڈنگ میں ہوتے ہیں دوسرے دن دوسری جگہ منتقل ہوت ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ ذرائع کے مطابق سی ایم او آفس، فنڈ آفس، اے آر ٹو او، بلاک، ایکسائز وغیرہ دفاتر پرائیویٹ بلڈنگوں میں کرایہ کی عمارتوں میں ہوتی ہے اور کچھ عرصہ بعد دوسری جگہ کرایہ کے کمروں پر ہوتے ہیں۔اس طرح سے لوگ آئے روز دوسری دوسری جگہوں پر ان دفاتر کو ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ دوسری سب سے اہم بات ان پرائیویٹ عمارتوں کے باہر کوئی بھی پارکنگ کی سہولیت نہیں ہوتی ہے جس کے باعث سرکاری افسران، ملازمین اور عام لوگ اپنی گاڑیاں کئی کئی کلو میٹر دور پارک کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اگر منی سیکٹریٹ قائم گیاہوتاتووہاں پارکنگ سہولیت بھی ہوتی دوسرا لوگوں کو بھی ایک ہی جگہ جانا پڑتا۔لوگوں کا مطالبہ لے کہ ضلع میں منی سیکٹریٹ قائم کیاجائے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ضلع میں اس کیلئے اراضی بھی موجود ہے اور کسی بھی موزون جگہ کی نشاندہی کرکے اس پر کام چالو کیا جائے۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ضمن سابقہ سرکاروں،وزراء اور دیگر لوگوں کے ساتھ بھی بات کی گئی تھی لیکن خالی یقین دہانیاں کی گئیں لیکن زمینی سطح پر کوئی اقدام نہیں اُٹھایا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں